ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 124

وَ اِذِ ابۡتَلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ ؕ قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ؕ قَالَ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَہۡدِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾
اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں کے ساتھ آزمایا تو اس نے انھیں پورا کر دیا۔ فرمایا بے شک میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ کہا اور میری اولاد میں سے بھی؟ فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔ En
اور جب پروردگار نے چند باتوں میں ابراہیم کی آزمائش کی تو ان میں پورے اترے۔ خدا نے کہا کہ میں تم کو لوگوں کا پیشوا بناؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ (پروردگار) میری اولاد میں سے بھی (پیشوا بنائیو) ۔ خدا نے فرمایا کہ ہمارا اقرار ظالموں کے لیے نہیں ہوا کرتا
En
جب ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں سے آزمایا اور انہوں نے سب کو پورا کردیا تو اللہ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنا دوں گا، عرض کرنے لگے: اور میری اوﻻد کو، فرمایا میرا وعده ﻇالموں سے نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 124) ➊ {بِكَلِمٰتٍ:} بعض مفسرین نے ان باتوں سے مراد والد، قوم اور بادشاہ کو توحید کی دعوت، بت پرستی، ستارہ پرستی اور شاہ پرستی کی تردید، آگ میں پھینکے جانے پر صبر، پھر ہجرت، مصر کے جبار بادشاہ کی دست درازی کے باوجود استقامت، بیوی بچے کو وادی غیر ذی ذرع میں چھوڑنا اور اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنے پر مکمل آمادگی کو لیا ہے۔ بعض نے آگے آنے والی آیات میں مذکور بیت اللہ کی تعمیر و تطہیر اور حج کے مناسک اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {اَسْلِمْ} (فرماں بردار ہو جا) پر فرماں بردار ہونے کے اقرار، پھر اس کے عملی ثبوت کو مراد لیا ہے۔ [ابن أبی شیبۃ عن مجاہد] تفسیر عبد الرزاق میں صحیح سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش طہارت کے احکام کے ساتھ کی، جن میں سے پانچ سر سے متعلق اور پانچ باقی جسم سے متعلق تھے۔ سر سے متعلق مونچھیں کترنا، کلی کرنا، ناک کی پانی سے صفائی کرنا، مسواک کرنا، سر کی مانگ نکالنا تھا اور جسم کے متعلق ناخن کاٹنا، زیرِ ناف بال مونڈنا، ختنہ کرنا، بغلوں کے بال اکھیڑنا اور پیشاب و پاخانے کے نشان کو پانی سے دھونا تھا۔ صحیح بخاری(۵۸۸۹)، مسلم (۲۵۷) اور ابوداؤد(۴۱۹۸) وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان امور کو فطرت میں سے شمار فرمایا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش میں یہ سب چیزیں شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انھیں جو بھی حکم دیا انھوں نے وہ پورا کر دکھایا، بڑھاپے میں بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تو پورا کر دیا، اسّی (۸۰) سال کی عمر میں اپنا ختنہ کرنے کا حکم ہوا تو وہ بھی کر دیا۔ [بخاری، الاستئذان، باب الختان بعد الکبر …: ۶۲۹۷]
➋ { قَالَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ......: } جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو تمام لوگوں کا امام بنا دیا تو انھوں نے اپنی بعض اولاد کے حق میں امامت کی دعا کی، سب کے حق میں نہیں کی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا، تو یہ دعا کیوں کی جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی، مگر اس کے ساتھ ہی انھیں بتا دیا کہ تمھاری اولاد میں سے ظالم لوگ اس نعمت سے سرفراز نہیں ہوں گے۔ اس سے بنی اسرائیل کے گمراہ لوگوں اور بنی اسماعیل کے مشرکین کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ ان کے عقائد و اعمال خراب ہو چکے ہیں، محض ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہونا کافی نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

124۔ 1 کلمات سے مراد احکام شریعت، مناسک حج، ذبح پسر، ہجرت نار نمرود وغیرہ وہ تمام آزمائشیں ہیں، جن سے حضرت ابراہیم ؑ گزارے گئے اور ہر آزمائش میں کامیاب اور کامران رہے، جس کے صلے میں امام الناس کے منصب پر فائز کئے گئے، چناچہ مسلمان ہی نہیں، یہودی، عیسائی حتٰی کہ مشرکین عرب سب ہی میں ان کی شخصیت محترم اور پیشوا مانی جاتی ہے۔ 24۔ 2 اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی اس خواہش کو پورا فرمایا، جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے، ہم نے نبوت اور کتاب کو اس کی اولاد میں کردیا، پس ہر نبی جسے اللہ نے مبعوث کیا اور ہر کتاب جو ابراہیم ؑ کے بعد نازل فرمائی، اولاد ابراہیم ہی میں یہ سلسلہ رہا (ابن کثیر) اس کے ساتھ ہی یہ فرما کر کہ میرا وعدہ ظالموں سے نہیں اس امر کی وضاحت فرمادی کہ ابراہیم کی اتنی اونچی شان اور عنداللہ منزلت کے باوجود اولاد ابراہیم میں سے جو ناخلف اور ظالم و مشرک ہوں گے۔ ان کی شقاوت و محرومی کو دور کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں پیمبر زادگی کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اگر ایمان و عمل صالح نہیں، تو پیرزادگی اور صاحبزادگی کی بارگاہ الٰہی میں کیا حیثیت ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے (من بطا بہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ) صحیح مسلم۔ (جس کو اس کا عمل پیچھے چھوڑ گیا اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

124۔ اور جب ابراہیمؑ کو ان کے پروردگار نے کئی باتوں [149] میں آزمایا تو انہوں نے ان سب باتوں کو پورا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں تمہیں سب لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔“ حضرت ابراہیمؑ نے پوچھا: ”کیا میری اولاد سے (بھی یہی وعدہ ہے؟) “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ظالموں سے [150] میرا یہ وعدہ نہیں۔“
[149] سیدنا ابراہیمؑ کا امتحان کن کن باتوں میں ہوا:۔
حضرت ابراہیمؑ کو تمام دنیا کی امامت ایسے ہی نہیں مل گئی تھی بلکہ آپ کی سن شعور سے لے کر مرنے تک پوری زندگی قربانی ہی قربانی تھی۔ دنیا میں انسان جن چیزوں سے محبت کرتا ہے ان میں کوئی چیز بھی ایسی نہ تھی جسے حضرت ابراہیمؑ نے حق کی خاطر قربان نہ کیا ہو اور ان کی خاطر مصائب نہ جھیلے ہوں جن میں سے چند ایک یہ ہیں:
1۔ آپ ایک بت گر اور بت فروش کے گھر پیدا ہوئے۔ باپ چاہتا تھا کہ بیٹا اس کام میں ان کا ہاتھ بٹائے۔ لیکن آپؑ نے الٹا احسن انداز میں سمجھانا شروع کر دیا۔ جب باپ آپؑ کی طرف سے مایوس ہو گیا تو گھر سے نکال دینے کی دھمکی دے دی۔ آپؑ نے حق کی خاطر جلا وطنی کی صعوبتیں قبول کیں۔
2۔ قومی میلہ کے موقع پر بتوں کو پاش پاش کیا جس کے نتیجہ میں آپؑ کو آگ میں جلا دینے کا فیصلہ ہوا۔ آپؑ نے بخوشی اس میں کودنا منظور کیا۔
3۔ آپؑ نے اپنی بیوی ہاجرہ علیہا السلام اور دودھ پیتے بچے کو اللہ کے حکم کے مطابق ایک بے آب و گیاہ میدان میں جا چھوڑا۔ جہاں کھانے پینے کا کوئی بندوبست نہ تھا اور نہ ہی دور دور تک کسی آبادی کے آثار نظر آتے تھے۔
4۔ بوڑھی عمر میں ملے ہوئے بچے اسماعیلؑ جب ذرا جوان ہوئے تو ان کو قربان کر دینے کا حکم ہوا تو آپ بے دریغ اور بلا تامل اس پر آمادہ ہو گئے۔ غرض آپ کی قربانیوں اور آزمائشوں کی فہرست خاصی طویل ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے خود یہ سرٹیفکیٹ عطا کر دیا کہ ہم نے ابراہیمؑ کی کئی باتوں سے آزمائش کی تو وہ ہر امتحان میں پورے اترے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان امتحانوں کے نتیجہ میں آپ کو دنیا جہان کا امام بنا دیا، اور آئندہ قیامت تک کے لیے سلسلہ نبوت کو آپؑ ہی کی اولاد سے منسلک کر دیا اور دنیا کے اکثر و بیشتر مذاہب اپنے مذہب کی آپؑ کی طرف نسبت کرنا باعث عزت و افتخار سمجھتے ہیں۔
[150] تمام لوگوں کے امام:۔
یعنی امامت کا وعدہ صرف تمہاری اس اولاد سے تعلق رکھتا ہے جو صالح ہو گی۔ ظالموں اور گنہگاروں کے لیے ایسا کوئی وعدہ نہیں۔ یہیں سے یہود کے اس غلط عقیدہ کی تردید ہو گئی جو وہ سمجھتے تھے کہ ہم چونکہ پیغمبروں کی اولاد ہیں اس لیے ہمیں عذاب اخروی نہ ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

امام توحید ٭٭
اس آیت میں خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کی بزرگی کا بیان ہو رہا ہے جو توحید میں دنیا کے امام ہیں انہوں نے تکالیف پر صبر کر کے اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری میں ثابت قدمی اور جوان مردی دکھائی. فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان مشرکین اور اہل کتاب کو جو ملت ابراہیم کے دعویدار ہیں ذرا ابراہیم علیہ السلام کی فرماں برداری اور اطاعت گزاری کے واقعات تو سناؤ تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ دین حنیف پر اسوۂٕٕ ابراہیمی پر کون قائم ہے وہ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم؟ قرآن کریم کا ارشاد ہے آیت «وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ» [53۔ النجم: 37]‏‏‏‏ ابراہیم وہ ہیں انہوں نے پوری وفاداری دکھائی اور فرمایا آیت «اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل: 120، 123]‏‏‏‏ ابراہیم لوگوں کے پیشوا اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار مخلص اور نعمت کے شکر گزار تھے جنہیں اللہ عزوجل نے پسند فرما کر راہ راست پر لگا دیا تھا جنہیں ہم نے دنیا میں بھلائی دی تھی اور آخرت میں بھی صالح اور نیک انجام کار بنایا تھا۔ «قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [6-الانعام: 161]‏‏‏‏ پھر ہم نے تیری طرف اے نبی وحی کی کہ تو بھی ابراہیم حنیف کی ملت کی پیروی کر جو مشرکین میں سے نہ تھے۔ اور جگہ ارشاد ہے کہ «مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّـهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ» [3-آل عمران: 67، 68]‏‏‏‏ ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی تھے نہ مشرک تھے بلکہ خالص مسلمان تھے ان سے قربت اور نزدیکی والا وہ شخص ہے جو ان کی تعلیم کا تابع ہو اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان والے ان ایمان والوں کا دوست اللہ تعالیٰ خود ہے۔
ابتلاء کے معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں۔ کلمات سے مراد شریعت حکم اور ممانعت وغیرہ ہے کلمات سے مراد کلمات تقدیریہ بھی ہوتی ہے جیسے مریم علیہما السلام کی بابت ارشاد ہے صدقت بکلمات ربھا یعنی انہوں نے اپنے رب کے کلمات کی تصدیق کی۔ کلمات سے مراد کلمات شرعیہ بھی ہوتی ہے۔ آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [6۔ الانعام: 115]‏‏‏‏ یعنی اللہ تعالیٰ کے شرعی کلمات سے سچائی اور عدل کے ساتھ پورے ہوئے یہ کلمات یا تو سچی خبریں ہیں یا طلب عدل ہے غرض ان کلمات کو پورا کرنے کی جزا میں انہیں امامت کا درجہ ملا، ان کلمات کی نسبت بہت سے اقوال ہیں مثلاً احکام حج، مونچھوں کو کم کرنا، کلی کرنا، ناک صاف کرنا، مسواک کرنا، سر کے بال منڈوانا یا رکھوانا تو مانگ نکالنا، ناخن کاٹنا، زیر ناف کے بال کاٹنا، ختنہ کرانا، بغل کے بال کاٹنا، پیشاب پاخانہ کے بعد استنجاء کرنا، جمعہ کے دن غسل کرنا، طواف کرنا، صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا، رمی جمار کرنا، طواف افاضہ کرنا۔
مکمل اسلام ٭٭
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد پورا اسلام ہے جس کے تیس حصے ہیں دس کا بیان سورہ براءت میں ہے «التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّـهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ» [9-التوبة:112]‏‏‏‏ یعنی ’ توبہ کرنا، عبادت کرنا، حمد کرنا، اللہ کی راہ میں پھرنا، رکوع کرنا، سجدہ کرنا، بھلائی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، اللہ کی حدود کی حفاظت کرنا، ایمان لانا ‘۔
دس کا بیان «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ» * «الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ» * «إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ» * «فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ» * «أُولَـٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ» [23-سورةالمؤمنون:1-10]‏‏‏‏ «يُحَافِظُونَ» تک ہے۔
اور سورۃ المعارج میں ہے یعنی نماز کو خشوع خضوع سے ادا کرنا لغو اور فضول باتوں اور کاموں سے منہ پھیر لینا، زکوٰۃ دیتے رہا کرنا، شرمگاہ کی حفاظت کرنا، امانت داری کرنا، وعدہ وفائی کرنا، نماز پر ہمیشگی اور حفاظت کرنا قیامت کو سچا جاننا، عذابوں سے ڈرتے رہنا سچی شہادت پر قائم رہنا۔
اور دس کا بیان سورۃ الاحزاب میں آیت «إِنَّ ٱلْمُسْلِمِينَ وَٱلْمُسْلِمَٰتِ وَٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ وَٱلْقَٰنِتِينَ وَٱلْقَٰنِتَٰتِ وَٱلصَّٰدِقِينَ وَٱلصَّٰدِقَٰتِ وَٱلصَّٰبِرِينَ وَٱلصَّٰبِرَٰتِ وَٱلْخَٰشِعِينَ وَٱلْخَٰشِعَٰتِ وَٱلْمُتَصَدِّقِينَ وَٱلْمُتَصَدِّقَٰتِ وَٱلصَّٰٓئِمِينَ وَٱلصَّٰٓئِمَٰتِ وَٱلْحَٰفِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَٱلْحَٰفِظَٰتِ وَٱلذَّٰكِرِينَ ٱللَّهَ كَثِيرًا وَٱلذَّٰكِرَٰتِ أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا» [33۔الاحزاب:35]‏‏‏‏ تک ہے یعنی اسلام لانا، ایمان رکھنا، قرآن پڑھنا، سچ بولنا، صبر کرنا، عاجزی کرنا، خیرات دینا، روزہ رکھنا، بدکاری سے بچنا، اللہ تعالیٰ کا ہر وقت بکثرت ذکر کرنا، ان تینوں احکام کا جو عامل ہو وہ پورے اسلام کا پابند ہے اور اللہ کے عذابوں سے بری ہے۔
کلمات ابراہیمی میں اپنی قوم سے علیحدگی کرنا بادشاہ وقت سے نڈر ہو کر اسے بھی تبلیغ کرنا پھر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو مصیبت آئے اس پر صبر کرنا سہنا پھر وطن اور گھربار کو اللہ کی راہ میں چھوڑ کر ہجرت کرنا مہمانداری کرنا اللہ کی راہ میں جانی اور مالی مصیبت راہ اللہ برداشت کرنا یہاں تک کہ بچہ کو اللہ کی راہ قربان کرنا اور وہ بھی اپنے ہی ہاتھ سے یہ کل احکام خلیل الرحمن علیہ السلام بجا لائے۔ سورج چاند اور ستاروں سے بھی آپ علیہ السلام کی آزمائش ہوئی امامت کے ساتھ بیت اللہ بنانے کے حکم کے ساتھ حج کے حکم اور مقام ابراہیم کے ساتھ بیت اللہ کے رہنے والوں کی روزیوں کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ علیہ السلام کے دین پر بھیجنے کے ساتھ بھی آزمائش ہوئی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے خلیل میں تمہیں آزماتا ہوں دیکھتا ہوں تم کیا ہو؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا مجھے لوگوں کا امام بنا دے، اس کعبہ کو لوگوں کے ثواب اور اجتماع کا مرکز بنا دے، یہاں والوں کو پھلوں کی روزیاں دے یہ تمام باتیں اللہ عزوجل نے پوری کر دیں اور یہ سب نعمتیں آپ علیہ السلام کو عطا ہوئیں صرف ایک آرزو پوری نہ ہوئی وہ یہ کہ میری اولاد کو بھی امامت ملے تو جواب ملا ظالموں کو میرا عہد نہیں پہنچتا کلمات سے مراد اس کے ساتھ کی آیتیں بھی ہیں۔
موطا وغیرہ میں ہے کہ سب سے پہلے ختنہ کرانے والے سب سے پہلے مہمان نوازی کرنے والے سب سے پہلے ناخن کٹوانے والے سب سے پہلے مونچھیں پست کرنے والے سب سے پہلے سفید بال دیکھنے والے ابراہیم ہی ہیں علیہ السلام سفید بال دیکھ کر پوچھا کہ اے اللہ یہ کیا ہے؟ جواب ملا وقار و عزت ہے کہنے لگے پھر تو اے اللہ اسے اور زیادہ کر۔ [مؤطا:کتاب صفة النبی922/2:مقطوع]‏‏‏‏ سب سے پہل منبر پر خطبہ کہنے والے، سب سے پہلے قاصد، بھیجنے والے، سب سے پہلے تلوار چلانے والے، سب سے پہلے مسواک کرنے والے سب سے پہلے پانی کے ساتھ استنجاء کرنے والے، سب سے پہلے پاجامہ پہننے والے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہیں۔ ایک غیر ثابت حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں منبر بناؤں تو میرے باپ ابراہیم علیہ السلام نے بھی بنایا تھا اور اگر میں لکڑی ہاتھ میں رکھوں تو یہ بھی میرے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ [بزار:633:منکر و ضعیف]‏‏‏‏ مختلف بزرگوں سے کلمات کی تفسیر میں جو کچھ ہم نے نقل کر دیا اور ٹھیک بھی یہی ہے کہ یہ سب باتیں ان کلمات میں تھیں کسی خاص تخصیص کی کوئی وجہ ہمیں نہیں ملی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صحیح مسلم شریف میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے دس باتیں فطرت کی اور اصل دین کی ہیں مونچھیں کم کرنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی دینا، ناخن لینا، پوریان دھونی، بغل کے بال لینا، زیر ناف کے بال لینا، استنجاء کرنا راوی کہتا ہے میں دسویں بات بھول گیا شاید کلی کرنا تھی۔ [صحیح مسلم:261]‏‏‏‏
صحین میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پانچ باتیں فطرت کی ہیں ختنہ کرانا، موئے [بال]‏‏‏‏ زہار لینا، مونچھیں کم کرنا، ناخن لینا، بغل کے بال لینا۔ [صحیح بخاری:5889]‏‏‏‏ ایک حدیث میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو وفا کرنے والا اس لیے فرمایا ہے کہ وہ ہر صبح کے وقت پڑھتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ يُخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْـحَيِّ وَيُـحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَكَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ» [30۔ الروم: 17]‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ ہر دن چار رکعتیں پڑھتے تھے۔[تفسیر ابن جریر الطبری:15/3:ضعیف جدا]‏‏‏‏ لیکن یہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں اور ان میں کئی کئی راوی ضعیف ہیں اور ضعف کی بہت سی وجوہات ہیں بلکہ ان کا بیان بھی بیبیان ضعف جائز نہیں متن بھی ضعف پر دلالت کرتا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی امت کی خوشخبری سن کر اپنی اولاد کے لیے بھی یہی دعا کرتے تھے جو قبول تو کی جاتی ہے لیکن ساتھ ہی خبر کر دی جاتی ہے کہ آپ کی اولاد میں ظالم بھی ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ کا عہد نہ پہنچے گا وہ امام نہ بنائے جائیں گے نہ ان کی اقتدار اور پیروی کی جائے گی سورۃ العنکبوت کی آیت میں اس مطلب کو واضح کر دیا گیا ہے کہ خلیل اللہ کی یہ دعا بھی قبول ہوئی وہاں ہے آیت «وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا» [29۔ العنکبوت: 27]‏‏‏‏ یعنی ہم نے ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھ دی۔ ابراہیم علیہ السلام کے بعد جتنے انبیاء اور رسول آئے وہ سب آپ علیہ السلام ہی کی اولاد میں تھے اور جتنی کتابیں نازل ہوئیں سب آپ علیہ السلام ہی کی اولاد میں ہوئی دعا «صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین»
یہاں یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں ظلم کرنے والے بھی ہوں گے، ظالم سے مرد بعض نے مشرک بھی لیا ہے عہد سے مراد امر ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ظالم کو کسی چیز کا والی اور بڑا نہ بنانا چاہیئے گو وہ اولاد ابراہیم علیہ السلام میں سے ہو، خلیل اللہ کی دعا ان کی نیک اولاد کے حق میں قبول ہوئی ہے یہ بھی معنی کئے گئے ہیں کہ ظالم سے کوئی عہد نہیں کہ اس کی اطاعت کی جائے اس کا عہد توڑ دیا جائے پورا نہ کیا جائے اور یہ بھی مطلب ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے اسے کچھ دینے کا عہد نہیں کیا دنیا میں تو کھا پی رہا ہے اور عیش و عشرت کر رہا ہے۔ بس یہی ہے عہد سے مراد دین بھی ہے یعنی تیری کل اولاد دیندار نہیں جیسے اور جگہ ہے آیت «ووَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ مُبِينٌ» [37۔ الصافات: 113]‏‏‏‏ یعنی ان کی اولاد میں بھلے بھی ہیں اور برے بھی اطاعت کے معنی بھی کئے گئے ہیں یعنی اطاعت صرف معروف اور بھلائی میں ہی ہو گی اور عہد کے معنی نبوت کے بھی آئے ہیں ابن خویز منذاذ مالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ظالم شخص نہ تو خلیفہ بن سکتا ہے نہ حاکم نہ مفتی نہ گواہ نہ راوی۔