وَ لِلّٰہِ الۡمَشۡرِقُ وَ الۡمَغۡرِبُ ٭ فَاَیۡنَمَا تُوَلُّوۡا فَثَمَّ وَجۡہُ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۱۵﴾
اور اللہ ہی کے لیے مشرق و مغرب ہے، تو تم جس طرف رخ کرو، سو وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔ بے شک اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
En
اور مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ تو جدھر تم رخ کرو۔ ادھر خدا کی ذات ہے۔ بے شک خدا صاحبِ وسعت اور باخبر ہے
En
اور مشرق اور مغرب کا مالک اللہ ہی ہے۔ تم جدھر بھی منھ کرو ادھر ہی اللہ کا منھ ہے، اللہ تعالیٰ کشادگی اور وسعت واﻻ اور بڑے علم واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 115) اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ نماز میں قبلہ کی طرف رخ کرنا ضروری نہیں، بلکہ مراد خاص صورتوں میں قبلہ کی پابندی ختم کرنا ہے، کیونکہ اس سے پہلے ان ظالموں کا ذکر ہے جو اللہ کی مسجدوں سے روکتے ہیں، یعنی ان ظالموں کی اللہ کی مسجدوں سے روکنے اور انھیں ویران کرنے کی کوشش اللہ تعالیٰ کی عبادت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ مشرق و مغرب کا مالک اللہ ہی ہے، سو انسان کو قبلہ کی طرف رخ کرنے میں اگر کوئی دشواری ہو، دشمن کا خوف ہو یا قبلہ معلوم نہ ہو سکے تو جس طرف منہ کرکے نماز پڑھ لے درست ہے۔ سنن ابی داؤد {” كِتَابُ صَلٰوةِ السَّفَرِ:۱۲۴۹“} میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ وہ خالد بن سفیان کو قتل کر دیں، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لیے فوج جمع کر رہا تھا۔ وہ انھیں عرنہ یا عرفات میں نظر آ گیا (جہاں عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کا چہرہ کعبہ کی مخالف سمت تھا)، ادھر عصر کا وقت ہو گیا تو انھوں نے نماز فوت ہونے کے خدشے کے پیش نظر دشمن کی طرف چلتے چلتے نماز پڑھ لی، پھر جا کر اسے قتل کر دیا۔ سفر کی حالت میں نفل نماز کے متعلق اجازت ہے کہ وہ سواری پر پڑھ لی جائے، خواہ رخ کسی بھی جانب ہو۔ چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ مکہ سے مدینہ کی طرف آتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر (نفل) نماز پڑھتے رہتے تھے، اس کا رخ جدھر بھی ہوتا۔ فرماتے ہیں، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری: «{ فَاَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ }» [مسلم، صلوۃ المسافرین، باب جواز النافلۃ: ۳۳؍۷۰۰] { ”فَاَيْنَمَا تُوَلُّوْا“ } کا ایک معنی {”حَيْثُمَا تُوَلُّوْا“ } (جہاں بھی تم رخ کر لو) بھی کیا گیا ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ (طبری) اس صورت میں بھی اس کا تعلق پہلی آیت سے ہے، یعنی اگر تمھیں اللہ کی مسجدوں سے روک دیا جائے تو تم جس جگہ بھی ہو نمازپڑھ لو۔ (التسہیل)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
115۔ ہجرت کے بعد جب مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے تو مسلمانوں کو اس کا رنج تھا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جب بیت المقدس سے پھر خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ہوا تو یہودیوں نے طرح طرح کی باتیں بنائیں، بعض کے نزدیک اس کے نزول کا سبب سفر میں سواری پر نفل نماز پڑھنے کی اجازت ہے کہ سواری کا منہ کدھر بھی ہو، نماز پڑھ سکتے ہو۔ کبھی چند اسباب جمع ہوجاتے ہیں اور ان سب کے حکم کے لئے ایک ہی آیت نازل ہوجاتی ہے۔ ایسی آیتوں کی شان نزول میں متعدد روایات مروی ہوتی ہیں، کسی روایت میں ایک سبب نزول کا بیان ہوتا ہے اور کسی میں دوسرے کا۔ یہ آیت بھی اسی قسم کی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
115۔ مشرق اور مغرب سب اللہ ہی کے ہیں۔ تم جدھر بھی رخ کرو گے ادھر ہی [135] اللہ کا رخ ہے۔ بلا شبہ اللہ بہت وسعت [136] والا اور سب کچھ جاننے والا ہے
[135] نماز میں قبلہ رخ ہونا:۔
حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نفل ادا کر رہے تھے اور سواری کسی بھی سمت کو رخ کر لیتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مکہ سے مدینہ آرہے تھے۔ پھر حضرت عمرؓ نے یہی آیت پڑھی اور فرمایا کہ یہ آیت اسی باب میں ہے [ترمذي ابواب التفسير زير آيت بالا]
ایک روایت میں یہ ہے کہ ایک سفر میں صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ رات اندھیری تھی ہر ایک کو قبلہ جدھر معلوم ہوا نماز ادا کر لی اور نشان کے طور پر پتھر رکھ لیے صبح کو معلوم ہوا وہ بعض لوگوں نے غلط سمت میں نماز ادا کی ہے۔ ان کو تردد ہوا تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اس کی ناسخ ﴿فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ ہے۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير زير آيت بالا] واضح رہے کہ وحدت الوجود کے قائل صوفی حضرات اس آیت کو وحدت الوجود کی صحت پر دلیل کے طور پر پیش فرمایا کرتے ہیں۔ چنانچہ خواجہ حسن سنجری فرماتے ہیں کہ کافراں سجدہ کہ بروئے بتاں مے کردند ہمہ اوسوئے تو بود و ہمہ سو روئے تو بود یعنی کافر جو بتوں کو سجدہ کرتے ہیں تو ان کا منہ در اصل تیری ہی طرف ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر طرف تیرا ہی چہرہ ہوتا ہے۔ اس آیت کے نزول کا سبب اور اس کے منسوخ ہونے کے متعلق ہم اوپر لکھ چکے ہیں۔
اس کے باوجود اگر ان حضرات کے اس نظریہ کو درست سمجھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر تحویل قبلہ کی آخر کیا ضرورت اور اہمیت تھی جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسی سورۃ بقرہ میں 9 آیات نازل فرمائیں؟ سنجری صاحب کے اس شعر سے یہ ضرور معلوم ہو جاتا ہے کہ جب انسان پہلے سے ذہن میں ایک نظریہ قائم کر کے پھر سے قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کس حد تک کج فکری سے کام لے سکتا ہے۔ چنانچہ سنجری صاحب نے بت پرستوں کو بت پرستی کے فعل کی بھی تحسین فرما کر اسے درست قرار دے دیا۔
[136] یعنی اللہ تعالیٰ تنگ نظر اور تنگ دل نہیں، بلکہ اس کی خدائی بھی وسیع، زاویہ نظر بھی وسیع اور دائرہ فیض بھی وسیع ہے۔ لہٰذا اگر قبلہ کی تلاش میں خطا ہو بھی جائے تو وہ قابل گرفت نہیں وہ خوب جانتا ہے کہ اس کا فلاں بندہ کہاں، کس وقت اور کس نیت سے یاد کر رہا ہے۔
ایک روایت میں یہ ہے کہ ایک سفر میں صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ رات اندھیری تھی ہر ایک کو قبلہ جدھر معلوم ہوا نماز ادا کر لی اور نشان کے طور پر پتھر رکھ لیے صبح کو معلوم ہوا وہ بعض لوگوں نے غلط سمت میں نماز ادا کی ہے۔ ان کو تردد ہوا تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اس کی ناسخ ﴿فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ ہے۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير زير آيت بالا] واضح رہے کہ وحدت الوجود کے قائل صوفی حضرات اس آیت کو وحدت الوجود کی صحت پر دلیل کے طور پر پیش فرمایا کرتے ہیں۔ چنانچہ خواجہ حسن سنجری فرماتے ہیں کہ کافراں سجدہ کہ بروئے بتاں مے کردند ہمہ اوسوئے تو بود و ہمہ سو روئے تو بود یعنی کافر جو بتوں کو سجدہ کرتے ہیں تو ان کا منہ در اصل تیری ہی طرف ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر طرف تیرا ہی چہرہ ہوتا ہے۔ اس آیت کے نزول کا سبب اور اس کے منسوخ ہونے کے متعلق ہم اوپر لکھ چکے ہیں۔
اس کے باوجود اگر ان حضرات کے اس نظریہ کو درست سمجھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر تحویل قبلہ کی آخر کیا ضرورت اور اہمیت تھی جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسی سورۃ بقرہ میں 9 آیات نازل فرمائیں؟ سنجری صاحب کے اس شعر سے یہ ضرور معلوم ہو جاتا ہے کہ جب انسان پہلے سے ذہن میں ایک نظریہ قائم کر کے پھر سے قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کس حد تک کج فکری سے کام لے سکتا ہے۔ چنانچہ سنجری صاحب نے بت پرستوں کو بت پرستی کے فعل کی بھی تحسین فرما کر اسے درست قرار دے دیا۔
[136] یعنی اللہ تعالیٰ تنگ نظر اور تنگ دل نہیں، بلکہ اس کی خدائی بھی وسیع، زاویہ نظر بھی وسیع اور دائرہ فیض بھی وسیع ہے۔ لہٰذا اگر قبلہ کی تلاش میں خطا ہو بھی جائے تو وہ قابل گرفت نہیں وہ خوب جانتا ہے کہ اس کا فلاں بندہ کہاں، کس وقت اور کس نیت سے یاد کر رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کعبہ صرف علامت وحدت و سمت ہے اللہ کا جمال و جلال غیر محدود ہے ٭٭
اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اصحاب رضی اللہ عنہم کو تسلی دی جاری ہے جو مکہ سے نکالے گئے اور اپنی مسجد سے روکے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف میں نماز بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھتے تو کعبۃ اللہ بھی سامنے ہی ہوتا تھا جب مدینہ تشریف لائے تو سولہ سترہ ماہ تک تو ادھر ہی نماز پڑھتے رہے مگر پھر اللہ تعالیٰ نے کعبۃ اللہ کی طرف متوجہ ہونے کا حکم دیا۔ [صحیح بخاری:399] امام ابوعبیدہ قاسم بن سلام رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ناسخ منسوخ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ سے روایت کی ہے کہ قرآن میں سب سے پہلا منسوخ حکم یہی قبلہ کا حکم ہے «وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ» والی آیت نازل ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھنے لگے پھر آیت «وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» [2۔ البقرہ: 149] نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف متوجہ ہو کر نماز ادا کرنی شروع کی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:346/1]
مدینہ میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے لگے تو یہود بہت خوش ہوئے لیکن جب یہ حکم چند ماہ کے بعد منسوخ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی چاہت، دعا اور انتظار کے مطابق کعبۃ اللہ کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا تو ان یہودیوں نے طعنے دینے شروع کر دیئے کہ اب اس قبلہ سے کیوں ہٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ مشرق و مغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر یہ اعتراض کیا؟ جدھر اس کا حکم ہو پھر جانا چاہیئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:1835:ضعیف و منقطع] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مشرق مغرب میں جہاں کہیں بھی ہو منہ کعبہ کی طرف کرو، بعض بزرگوں کا بیان ہے کہ یہ آیت کعبہ کی طرف متوجہ ہونے کے حکم سے پہلے اتری ہے اور مطلب یہ ہے کہ مشرق مغرب جدھر چاہو منہ پھیرو سب جہتیں اللہ کی ہیں اور سب طرف اللہ موجود ہے اس سے کوئی جگہ خالی نہیں جیسے فرمایا آیت «وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا» [58۔ المجادلہ: 7] تھوڑے بہت جو بھی ہوں اللہ ان کے ساتھ ہے۔
پھر یہ حکم منسوخ ہو کر کعبۃ اللہ کی طرف متوجہ ہونا فرض ہوا۔ اس قول میں جو یہ لفظ ہیں کہ اللہ سے کوئی جگہ خالی نہیں اگر اس سے مراد علم اللہ ہو تو صحیح ہے کوئی مکان اللہ کے علم سے خالی نہیں اور اگر ذات باری مراد ہو تو ٹھیک نہیں اللہ تعالیٰ کی پاک ذات اس سے بہت بلند و بالا ہے کہ وہ اپنی مخلوق میں سے کسی چیز میں محصور ہو ایک مطلب آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ آیت سفر اور راہ روی اور خوف کے وقت کے لیے ہے کہ ان وقتوں میں نفل نماز کو جس طرف منہ ہو ادا کر لیا کرو۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان کی اونٹنی کا منہ جس طرح ہوتا تھا نماز پڑھ لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہی تھا اور اس آیت کا مطلب بھی یہی ہے آیت کا ذکر کئے بغیر یہ حدیث مسلم ترمذی نسائی ابن ابی حاتم ابن مردویہ وغیرہ میں مروی ہے اور اصل اس کی صحیح بخاری صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔ [صحیح بخاری:1096] صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے جب نماز خوف کے بارے میں پوچھا جاتا تو نماز خوف کو بیان فرماتے اور کہتے کہ جب اس سے بھی زیادہ خوف ہو تو پیدل اور سوار کھڑے پڑھ لیا کرو منہ خواہ قبلہ کی جانب ہو خواہ نہ ہو نافع رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میرے خیال سے اسے مرفوع بیان کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:4535] امام شافعی رحمہ اللہ کا مشہور فرمان اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ سفر خواہ پر امن ہو خواہ خوف ڈر اور لڑائی کا ہو سواری پر نفل ادا کر لینے جائز ہیں امام مالک رحمہ اللہ اور آپ رحمہ اللہ کی جماعت اس کے خلاف ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور ابوسعید اصطخری بغیر سفر کے بھی اسے جائز کہتے ہیں۔ سیدنا انس سے بھی یہ روایت ہے امام ابو جعفر طبری رحمہ اللہ بھی اسے پسند فرماتے ہیں یہاں تک کہ وہ تو پیدل چلنے والے کو بھی رخصت دیتے ہیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان کی اونٹنی کا منہ جس طرح ہوتا تھا نماز پڑھ لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہی تھا اور اس آیت کا مطلب بھی یہی ہے آیت کا ذکر کئے بغیر یہ حدیث مسلم ترمذی نسائی ابن ابی حاتم ابن مردویہ وغیرہ میں مروی ہے اور اصل اس کی صحیح بخاری صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔ [صحیح بخاری:1096] صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے جب نماز خوف کے بارے میں پوچھا جاتا تو نماز خوف کو بیان فرماتے اور کہتے کہ جب اس سے بھی زیادہ خوف ہو تو پیدل اور سوار کھڑے پڑھ لیا کرو منہ خواہ قبلہ کی جانب ہو خواہ نہ ہو نافع رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میرے خیال سے اسے مرفوع بیان کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:4535] امام شافعی رحمہ اللہ کا مشہور فرمان اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ سفر خواہ پر امن ہو خواہ خوف ڈر اور لڑائی کا ہو سواری پر نفل ادا کر لینے جائز ہیں امام مالک رحمہ اللہ اور آپ رحمہ اللہ کی جماعت اس کے خلاف ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور ابوسعید اصطخری بغیر سفر کے بھی اسے جائز کہتے ہیں۔ سیدنا انس سے بھی یہ روایت ہے امام ابو جعفر طبری رحمہ اللہ بھی اسے پسند فرماتے ہیں یہاں تک کہ وہ تو پیدل چلنے والے کو بھی رخصت دیتے ہیں۔
بعض اور مفسرین کے نزدیک یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہیں قبلہ معلوم نہ ہو سکا اور انہوں نے قیاس سے مختلف جہتوں کی طرف نماز پڑھی جس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان کی وہ نماز ادا شدہ بتائی گئی سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ایک منزل پر اترے رات اندھیری تھی لوگوں نے پتھر لے لے کر بطور نشان کے قبلہ رخ رکھ کر نماز پڑھنی شروع کر دی صبح اٹھ کر روشنی میں دیکھا تو نماز قبلہ کی طرف ادا نہیں ہوئی تھی، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی، یہ حدیث ترمذی شریف میں ہے۔[سنن ترمذي:345،قال الشيخ الألباني:حسن] امام صاحب نے اسے حسن کہا ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا اور ہم نے نماز پڑھ کر اپنے اپنے سامنے خط کھینچ دیئے تھے تاکہ صبح روشنی میں معلوم ہو جائے کہ نماز قبلہ کی طرف ادا ہوئی یا نہیں؟ صبح معلوم ہوا کہ قبلہ جاننے میں ہم نے غلطی کی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وہ نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا اور یہ آیت نازل ہوئی اس روایت کے بھی دو راوی ضعیف ہیں یہ روایت دارقطنی وغیرہ میں موجود ہے۔[دار قطنی:271/1:ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ ان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ تھے یہ بھی سنداً ضعیف ہے ایسی نماز کے لوٹانے کے بارے میں علماء کے دو قول میں سے ٹھیک قول یہی ہے کہ دوہرائی نہ جائے اور اسی قول کی تائید کرنے والی یہ حدیثیں ہیں جو اوپر بیان ہوئیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے نازل ہونے کا باعث نجاشی ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موت کی خبر دی اور کہا ان کے جنازہ کی غائبانہ نماز پڑھو تو بعض نے کہا کہ وہ تو مسلمان نہ تھا نصرانی تھا اس پر آیت نازل ہوئی کہ آیت «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ ثَمَنًا قَلِيلًا» [3-آل عمران: 199] یعنی بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر اور اس چیز پر جو اے مسلمانو تمہاری طرف نازل ہوئی اور اس چیز پر جو ان پر نازل کی گئی ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری:1846:ضعیف و مرسل] صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم وہ قبلہ کی طرف تو نماز نہیں پڑھتا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن یہ روایت غریب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ بیت المقدس کی طرف اس لیے نمازیں پڑھتے رہے کہ انہیں اس کے منسوخ ہو جانے کا علم نہیں ہوا تھا، قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے جنازے کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی اور یہ دلیل ہے کہ جنازے کی نماز غائبانہ ادا کرنی چاہیئے۔
اور اس کے نہ ماننے والے اس حکم کو مخصوص جانتے ہیں اور اس کی تین تاویلیں کرتے ہیں ایک تو یہ کہ آپ نے اس کے جنازے کو دیکھ لیا زمین آپ کے لیے سمیٹ لی گئی تھی، دوسری یہ کہ چونکہ وہاں ان کے پاس ان کے جنازہ کی نماز پڑھنے والا اور کوئی نہ تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں غائبانہ ادا کی ابن عربی اسی جواب کو پسند کرتے ہیں قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے کہ ایک بادشاہ مسلمان ہو اور اس کی قوم کا کوئی شخص اس کے پاس مسلمان نہ ہو، ابن عربی اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ شاید ان کے نزدیک جنازے کی نماز ان کی شریعت میں نہ ہو، یہ جواب بہت اچھا ہے، تیسری یہ کہ نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے ادا کی کہ دوسرے لوگوں کی رغبت کا سبب ہو اور اس جیسے دوسرے بادشاہ بھی دین اسلام کی طرف مائل ہوں۔
ایک روایت میں ہے کہ ان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ تھے یہ بھی سنداً ضعیف ہے ایسی نماز کے لوٹانے کے بارے میں علماء کے دو قول میں سے ٹھیک قول یہی ہے کہ دوہرائی نہ جائے اور اسی قول کی تائید کرنے والی یہ حدیثیں ہیں جو اوپر بیان ہوئیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے نازل ہونے کا باعث نجاشی ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موت کی خبر دی اور کہا ان کے جنازہ کی غائبانہ نماز پڑھو تو بعض نے کہا کہ وہ تو مسلمان نہ تھا نصرانی تھا اس پر آیت نازل ہوئی کہ آیت «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ ثَمَنًا قَلِيلًا» [3-آل عمران: 199] یعنی بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر اور اس چیز پر جو اے مسلمانو تمہاری طرف نازل ہوئی اور اس چیز پر جو ان پر نازل کی گئی ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری:1846:ضعیف و مرسل] صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم وہ قبلہ کی طرف تو نماز نہیں پڑھتا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن یہ روایت غریب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ بیت المقدس کی طرف اس لیے نمازیں پڑھتے رہے کہ انہیں اس کے منسوخ ہو جانے کا علم نہیں ہوا تھا، قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے جنازے کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی اور یہ دلیل ہے کہ جنازے کی نماز غائبانہ ادا کرنی چاہیئے۔
اور اس کے نہ ماننے والے اس حکم کو مخصوص جانتے ہیں اور اس کی تین تاویلیں کرتے ہیں ایک تو یہ کہ آپ نے اس کے جنازے کو دیکھ لیا زمین آپ کے لیے سمیٹ لی گئی تھی، دوسری یہ کہ چونکہ وہاں ان کے پاس ان کے جنازہ کی نماز پڑھنے والا اور کوئی نہ تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں غائبانہ ادا کی ابن عربی اسی جواب کو پسند کرتے ہیں قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے کہ ایک بادشاہ مسلمان ہو اور اس کی قوم کا کوئی شخص اس کے پاس مسلمان نہ ہو، ابن عربی اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ شاید ان کے نزدیک جنازے کی نماز ان کی شریعت میں نہ ہو، یہ جواب بہت اچھا ہے، تیسری یہ کہ نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے ادا کی کہ دوسرے لوگوں کی رغبت کا سبب ہو اور اس جیسے دوسرے بادشاہ بھی دین اسلام کی طرف مائل ہوں۔
[لیکن یہ تینوں تاویلیں ظاہر کے خلاف ہونے کے علاوہ صرف احتمالات کی بنا پر ہیں اور انہیں مان لینے کے بعد بھی مسئلہ وہیں رہتا ہے کیا جنازہ غائبانہ پڑھنا چاہیئے کیونکہ گو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جنازے کا مشاہدہ کر لیا لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کی نماز تو غائبانہ ہی رہی۔ اگر ہم دوسرا جواب مان لیں تو بھی جنازہ تو غائبانہ نہ ہی ہوا جو لوگ سرے سے نماز جنازہ غائبانہ کے قائل ہی نہیں وہ تو اس صورت میں بھی قائل نہیں ہیں اور یہ بات تو دل کو لگتی ہی نہیں کہ ان کے نزدیک نماز جنازہ شروع نہ ہو شریعت ان کی بھی اسلام ہی تھی نہ کہ کوئی اور تیسرا جواب بھی کچھ ایسا ہی ہے اور برتقدیر تسلیم اب بھی وہ وجہ باقی ہے کہ جنازہ غائبانہ ادا کیا کریں تاکہ دوسرے لوگوں کی رغبت اسلام کا باعث ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم]
ابن مردویہ میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اہل مدینہ اہل شام اہل عراق کا قبلہ مشرق و مغرب کے درمیان ہے۔ [سنن ترمذي:342، قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ روایت ترمذی میں بھی دوسرے الفاظ سے مروی ہے اور اس کے ایک راوی ابومعشر کے حافظہ پر بعض اہل علم نے کلام کیا ہے امام ترمذی نے اسے ایک اور سند سے بھی وارد کیا ہے اور اسے حسن صحیح کہا ہے۔ [سنن ترمذي:344، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ابن ابوطالب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب تو مغرب کو اپنی دائیں جانب اور مشرق کو بائیں جانب کر لے تو تیرے سامنے کی جہت قبلہ ہو جائے گا عمر سے بھی اوپر کی طرح حدیث مروی ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے [سنن ترمذي:344] ملاحظہ ہو دارقطنی بیہقی وغیرہ [دار قطنی:270/1]امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مطلب بھی اس آیت کا ہو سکتا ہے کہ تم مجھ سے دعائیں مانگنے میں اپنا منہ جس طرف بھی کرو میرا منہ بھی اسی طرف پاؤ گے اور میں تمہاری دعاؤں کو قبول فرماؤں گا، مجاہد سے مروی ہے کہ جب یہ آیت «ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ» [40۔ غافر: 60] مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا اتری تو لوگوں نے کہا کس طرف رخ کر کے دعا کریں اس کے جواب میں آیت «فَاَيْنَـمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ» [2۔ البقرہ: 115] نازل ہوئی پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام وسعتوں پر غالب، گنجائش والا اور علم والا ہے جس کی کفایت سخاوت اور فضل و کرم نے تمام مخلوق کا احاطہٰ کر کھا ہے وہ سب چیزوں کو جانتا بھی ہے کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس کے علم سے باہر نہیں بلکہ وہ تمام چیزوں کا عالم ہے۔