تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِلَّا خَآئِفِيْنَ:} یعنی ایسے ظالم لوگوں کا اللہ کی مساجد کا متولی ہونا تو درکنار ان کا تو داخلہ بھی ڈرتے ہوئے ہونا چاہیے کہ انھوں نے کوئی شرارت کی تو سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ ان کے لیے دنیا ہی میں ایک رسوائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سچ ثابت ہوا، یہودو نصاریٰ اور مشرکین تینوں نے اپنے کیے کی سزا پائی، کعبہ اور بیت المقدس کی تولیت مسلمانوں کے قبضے میں آ گئی۔ چونکہ مسجدیں اللہ کی ہیں اور حق یہ ہے کہ ان میں صرف اللہ کا نام لیا جائے، اس لیے تمام مشرکین کو مسجد حرام کے قریب آنے سے روک دیا گیا، خواہ وہ بت پرست ہوں یا عزیر و مسیح پرست، کیونکہ وہ اکیلے اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ اب مسلمانوں میں وہی پہلی قوموں والے مشرکانہ عقائد و اعمال پھیل گئے اور وہ بدعمل ہو کر جہاد چھوڑ بیٹھے، تو بیت المقدس پھر ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دوبارہ توحید و سنت اور جہاد فی سبیل اللہ پر گامزن فرمائے اور بیت المقدس کی تولیت کا شرف عطا فرمائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابن زید رحمہ اللہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا قول بھی یہی ہے اور اس بات کو بھی نہ بھولنا چاہیئے کہ جب نصرانیوں نے یہودیوں کو بیت المقدس سے روکا تھا اس وقت یہودی بھی محض بےدین ہو چکے تھے ان پر تو داؤد اور عیسیٰ بن مریم علیہم السلام کی زبانی لعنتیں نازل ہو چکی تھیں وہ نافرمان اور حد سے متجاوز ہو چکے تھے اور نصرانی مسیح کے دین پر تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے مراد مشرکین مکہ ہیں اور یہ بھی ایک وجہ ہے کہ اوپر یہود و نصاریٰ کی مذمت بیان ہوئی تھی اور یہاں مشرکین عرب کی اس بدخصلت کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیوں کو مسجد الحرام سے روکا مکہ سے نکالا پھر حج وغیرہ سے بھی روک دیا۔
پس جب وہ مسلمان ہستیں جن سے مسجدوں کی آبادی حقیقی معنی میں ہے وہ ہی روک دیئے گئے تو مسجدوں کے اجاڑنے میں کون سی کمی رہ گئی؟ مسجدوں کی آبادی صرف ظاہری زیب و زینت رنگ و روغن سے نہیں ہوتی بلکہ اس میں ذکر اللہ ہونا اس میں شریعت کا قائم رہنا اور شرک اور ظاہری میل کچیل سے پاک رکھنا یہ ان کی حقیقی آبادی ہے پھر فرمایا کہ انہیں لائق نہیں کہ بے خوف ہو کر یہ مسجد میں آئیں۔ مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو انہیں بے خوفی اور بے باکی کے ساتھ بیت اللہ میں آنے دو ہم تمھیں غالب کر دیں گے اس وقت یہی کرنا چنانچہ جب مکہ فتح ہو گیا اگلے سال ۹ہجری اعلان کرا دیا کہ اس سال کے بعد حج میں کوئی مشرک نہ آنے پائے اور بیت اللہ شریف کا طواف کوئی ننگا ہو کر نہ کرے جن لوگوں کے درمیان صلح کی کوئی مدت مقرر ہوئی ہے وہ قائم ہے۔ [صحیح بخاری:365] یہ حکم دراصل تصدیق اور عمل ہے اس آیت پر آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـٰذَا» [9۔ التوبہ: 28] یعنی مشرک لوگ نجس ہیں اس سال کے بعد انہیں مسجد الحرام میں نہ آنے دو اور یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ چاہیئے تو یہ تھا کہ یہ مشرک کانپتے ہوئے اور خوف زدہ مسجد میں آئیں لیکن برخلاف اس کے الٹے یہ مسلمانوں کو روک رہے ہیں یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو بشارت دیتا ہے کہ عنقریب میں تمہیں غلبہ دوں گا اور یہ مشرک اس مسجد کی طرف رخ کرنے سے بھی کپکپانے لگیں گے چنانچہ یہی ہوا اور حضور علیہ السلام نے وصیت کی کہ جزیرہ عرب میں دو دین باقی نہ رہنے پائیں اور یہود و نصاریٰ کو وہاں سے نکال دیا جائے۔[مؤطا:کتاب الجامع892/2:مرسل]
اور اگر اس سے مراد نصرانی لیے جائیں تو بھی ظاہر ہے کہ انہوں نے بھی بیت المقدس کی بے حرمتی کی تھی، بالخصوص اس صخرہ [پتھر] کی جس کی طرف یہود نماز پڑھتے تھے، اسی طرح جب یہودیوں نے بھی نصرانیوں سے بہت زیادہ ہتک کی اور تو ان پر ذلت بھی اس وجہ سے زیادہ نازل ہوئی دنیا کی رسوائی سے مراد امام مہدی کے زمانہ کی رسوائی بھی ہے اور جزیہ کی ادائیگی بھی ہے حدیث شریف میں ایک دعا وارد ہوئی ہے۔ دعا «اَللّٰھُمَّ اَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِیْ الْاُمُوْرِ کُلِّھَا وَاَجِرْ نَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْآخِرَۃِ» اے اللہ تو ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا کر اور دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے نجات دے۔ [مسند احمد:181/4:ضعیف] یہ حدیث حسن ہے مسند احمد میں موجود ہے صحاح ستہ میں نہیں اس کے راوی بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ بن ارطاۃ صحابی ہیں۔ ان سے ایک تو یہ حدیث مروی ہے دوسری وہ حدیث مروی ہے جس میں ہے کہ غزوے اور جنگ کے موقعہ پر ہاتھ نہ کاٹے جائیں۔ [سنن ابوداود:4408، قال الشيخ الألباني:صحیح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: لا أحد أظلم وأشد جرماً ممن منع مساجد الله عن ذكر الله فيها وإقامة الصلاة وغيرها من [أنواع] الطاعات، {وسعى}؛ أي: اجتهد وبذل وسعه، {في خرابها}؛ الحسي والمعنوي، فالخراب الحسي هدمها وتخريبها وتقذيرها، والخراب المعنوي منع الذاكرين لاسم الله فيها، وهذا عام لكل من اتصف بهذه الصفة فيدخل في ذلك أصحاب الفيل وقريش حين صدوا رسول الله عنها عام الحديبية، والنصارى حين أخربوا بيت المقدس، وغيرهم من أنواع الظلمة الساعين في خرابها محادّة لله ومشاقة، فجازاهم الله بأن منعهم دخولها شرعاً وقدراً إلا خائفين ذليلين، فلما أخافوا عباد الله أخافهم الله، فالمشركون الذين صدوا رسوله لم يلبث رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إلا يسيراً حتى أذن الله له في فتح مكة ومنع المشركين من قربان بيته فقال تعالى: {يا أيها الذين آمنوا إنما المشركون نجس فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا}؛ وأصحاب الفيل قد ذكر الله ما جرى عليهم، والنصارى سلط الله عليهم المؤمنين فأجلوهم [عنه]، وهكذا كل من اتصف بوصفهم فلا بد أن يناله قسطه، وهذا من الآيات العظيمة أخبر بها الباري قبل وقوعها فوقعت كما أخبر، واستدل العلماء بالآية الكريمة على أنه لا يجوز تمكين الكفار من دخول المساجد {لهم في الدنيا خزي}؛ [أي]: فضيحة؛ كما تقدم {ولهم في الآخرة عذاب عظيم}؛ وإذا كان لا أظلم ممن منع مساجد الله أن يذكر فيها اسمه، فلا أعظم إيماناً ممن سعى في عمارة المساجد بالعمارة الحسية والمعنوية؛ كما قال تعالى: {إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر}؛ بل قد أمر الله تعالى برفع بيوته وتعظيمها وتكريمها فقال تعالى: {في بيوت أذن الله أن ترفع ويذكر فيها اسمه}.
وللمساجد أحكام كثيرة يرجع حاصلها إلى مضمون هذه الآيات الكريمة.