ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 83

اَلَمۡ تَرَ اَنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا الشَّیٰطِیۡنَ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ تَؤُزُّہُمۡ اَزًّا ﴿ۙ۸۳﴾
کیا تونے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے، وہ انھیں ابھارتے ہیں، خوب ابھارنا۔ En
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ ان کو برانگیختہ کرتے رہتے ہیں
En
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ ہم کافروں کے پاس شیطانوں کو بھیجتے ہیں جو انہیں خوب اکساتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 83){ اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ …: اَزًّا } قاموس میں ہے:{ أَزَّ يَئِزُّ } اور { اَزَّ يَؤُزُّ اَزًّا } (ض، ن){ أَزَّ الشَّيْءَ } اس نے کسی چیز کو سخت حرکت دی۔ { اَزَّ النَّارَ } اس نے آگ کو بھڑکایا۔ { اَزَّتِ الْقِدْرُ } ہانڈی سخت ابلنے لگی۔ {أَزِيْزٌ كَأَزِيْزِ الْمِرْجَلِ} ہانڈی ابلنے جیسی آواز۔ یعنی کیا تمھیں معلوم نہیں کہ کافر لوگ جنھوں نے طے کر رکھا ہے کہ انھوں نے کسی صورت حق کو تسلیم نہیں کرنا، ہم نے ان پر شیاطین کو مسلط کر دیا ہے، جو انھیں برائی پر شدت سے ابھارتے رہتے ہیں اور انھیں گناہوں کی آگ میں اس طرح مسلسل جھونکے رکھتے ہیں کہ وہ اسی پیچ و تاب میں ہانڈی کی طرح ابلتے اور شعلوں کی طرح بھڑکتے رہتے ہیں۔ (بقاعی) اس آیت کی ہم معنی اور وضاحت کرنے والی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ زخرف (۳۶، ۳۷)، حم السجدہ (۲۵)، اعراف (۲۰۲) اور بنی اسرائیل (۶۴)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

83۔ 1 یعنی گمراہ کرتے، بہکاتے اور گناہ کی طرف کھینچ کرلے جاتے ہیں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

83۔ آپ دیکھتے نہیں کہ ہم نے کافروں پر شیطان چھوڑ رکھے ہیں جو انھیں ہر وقت (مخالفت حق پر) اکساتے رہتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ کفار کی سزا ہے، اس لیے کہ جب انھوں نے اللہ کے حکموں کو نہیں مانا اور نہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا بلکہ اس کے برعکس انھوں نے شرک کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں یعنی شیاطین کے ساتھ موالات رکھی تو اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو ان پر مسلط کر دیا اور شیاطین نے ان کو ورغلا کر گناہوں پر آمادہ کرنا شروع کر دیا۔ وہ انھیں کفر کی ترغیب دیتے ہیں، انھیں وسوسوں میں مبتلا کرتے ہیں، ان پر القا کرتے ہیں اور ان کے سامنے باطل کو مزین کر کے اور حق کو بدنما بنا کر پیش کرتے ہیں۔ پس باطل کی محبت ان کے دلوں میں داخل ہو کر جاگزیں ہو جاتی ہے، وہ باطل کی خاطر اسی طرح کوشش کرتا ہے جس طرح حق پرست حق کے لیے جدوجہد کرتا ہے،وہ اپنی کوشش اورسعی سے باطل کی مدد کرتا ہے اور باطل کے راستے میں حق کے خلاف جدوجہد کرتا ہے اور یہ سب کچھ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے حقیقی دوست اور سرپرست سے منہ موڑ کر اپنے دشمن کو دوست بنا لیا اور اپنے آپ کو اس کے تسلط میں دے دیا۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آتا اور اس پر بھروسہ کرتا تو شیطان اس پر کبھی تسلط قائم نہ کر سکتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّهٗ لَ٘یْسَ لَهٗ سُلْطٰ٘نٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَؔكَّلُوْنَ۰۰اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَالَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْ٘رِكُوْن (النحل:16؍99-100) اسے ان لوگوں پر کوئی اختیار حاصل نہیں جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اس کا بس تو صرف انھی لوگوں پر چلتا ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں اور ان پر جو اس (کے گمراہ کرنے) کی وجہ سے شرک کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا من عقوبة الكافرين: أنَّهم لمَّا لم يعتصِموا بالله ولم يتمسَّكوا بحبل الّله، بل أشركوا به ووالوا أعداءه من الشياطين؛ سلَّطهم عليهم وقيَّضهم، فجعلت الشياطينُ تؤزُّهم إلى المعاصي أزًّا، وتزعِجُهم إلى الكفر إزعاجاً، فيوسوسون لهم، ويوحون إليهم، ويزيِّنون لهم الباطل، ويقبِّحون لهم الحقَّ، فيدخل حبُّ الباطل في قلوبهم ويتشرَّبها، فيسعى فيه سعي المحقِّ في حقِّه، فينصره بجهده، ويحارب عنه، ويجاهد أهل الحق في سبيل الباطل، وهذا كلُّه جزاءً له على تولِّيه من وليِّه وتولِّيه لعدوِّه؛ جَعَلَ له عليه سلطاناً، وإلاَّ؛ فلو آمن بالله وتوكَّل عليه؛ لم يكنْ له عليه سلطانٌ؛ كما قال تعالى: {إنَّه ليس له سلطانٌ على الذين آمنوا وعلى ربِّهم يتوكَّلون. إنَّما سلطانُهُ على الذين يَتَوَلَّوْنَه والذين هم به مشركونَ}.