ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 82

کَلَّا ؕ سَیَکۡفُرُوۡنَ بِعِبَادَتِہِمۡ وَ یَکُوۡنُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ ضِدًّا ﴿٪۸۲﴾
ہرگز ایسا نہ ہوگا، عنقریب وہ ان کی عبادت کا انکار کر دیں گے اور ان کے خلاف مد مقابل ہوں گے۔ En
ہرگز نہیں وہ (معبودان باطل) ان کی پرستش سے انکار کریں گے اور ان کے دشمن (ومخالف) ہوں گے
En
لیکن ایسا ہرگز ہونا نہیں۔ وه تو ان کی پوجا سے منکر ہو جائیں گے، اور الٹے ان کے دشمن بن جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 82) ➊ { كَلَّا سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ:} انکار اس معنی میں کریں گے کہ وہ کہیں گے، ہم نے کبھی ان سے نہیں کہا تھا کہ ہماری عبادت کرو، یا ہمیں مصیبت کے وقت پکارو اور نہ ہمیں یہ خبر تھی کہ وہ ہماری عبادت کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کئی جگہ بیان فرمائی ہے۔ دیکھیے سورۂ یونس (۲۸، ۲۹)، نحل (۸۶)، قصص (۶۳)، فاطر (۱۳، ۱۴) اور احقاف (۵، ۶) اسی طرح کفار بھی اپنے معبودوں کی عبادت سے مکر جائیں گے اور ان کے خلاف ہو جائیں گے، بلکہ قسم کھا کر کہیں گے کہ اللہ کی قسم! ہم مشرک نہیں تھے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۲۳) بلکہ وہ اور ان کے معبود ایک دوسرے کو لعنت کریں گے۔ دیکھیے عنکبوت (۲۵) اور سورۂ بقرہ (۱۶۶، ۱۶۷)۔
➋ {وَ يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا: } یعنی بجائے اس کے کہ وہ ان کے لیے بچاؤ یا عزت کا سبب بنیں، الٹا ان کی پکڑ کا سبب بنیں گے اور قیامت کے دن ان کے شدید مخالف اور ان کے لیے باعث حسرت ہوں گے۔ بے شمار معبودوں کے لیے { ضِدًّا } واحد کا لفظ استعمال فرمایا، کیونکہ { ضِدًّا } کا لفظ مصدر ہے، جو واحد و جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ ان پوجنے والوں کے خلاف ان کے معبودوں کے اتحاد و اتفاق کی وجہ سے ان کو {شَيْءٌ وَاحِدٌ} (ایک ہی چیز) فرض کرکے واحد کا صیغہ لایا گیا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسلمانوں کے متعلق فرمایا: [وَ هُمْ يَدٌ عَلٰی مَنْ سِوَاهُمْ] [أبوداوٗد، الدیات، باب أیُقاد المسلم من الکافر؟: ۴۵۳۰۔ نسائی: ۴۷۳۸۔ صحیح الجامع: ۶۶۶۶] وہ اپنے سوا سب کے مقابلے میں ایک ہاتھ ہوتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

82۔ 1 عِزًّا کا مطلب ہے یہ معبود ان کے لئے عزت کا باعث اور مددگار ہوں گے اور ضِدًّا کے معنی ہیں، دشمن، جھٹلانے والے اور ان کے خلاف دوسروں کے مددگار۔ یعنی یہ معبود ان کے گمان کے برعکس ان کے حمایتی ہونے کی بجائے، ان کے دشمن، ان کو جھٹلانے والے اور ان کے خلاف ہونگے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

82۔ ایسا ہرگز نہ ہو گا وہ معبود تو ان کی عبادت [75] سے ہی انکار کر دیں گے بلکہ الٹا ان کے مخالف بن جائیں گے۔
[75] یعنی وہ کہہ دیں گے کہ ہم نے ان سے کب کہا تھا کہ وہ ہماری عبادت کیا کریں۔ نیز ہمیں تو آج تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ ہماری عبادت کرتے بھی رہے ہیں یا نہیں؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ تعالٰی کے سوا معبود ٭٭
کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی و مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے۔ ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہو جائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔
جیسے فرمایا، «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:5،6]‏‏‏‏ ’ ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں، ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں ‘۔
«كَلَّا» کی دوسری قرأت «کُلٌ» بھی ہے۔ خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ سب عابد و معبود جہنمی ہوں گے، ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ وہ اس پر، یہ اس پر لعنت و پھٹکار کرے گا، ہر ایک دوسرے پر ڈالے گا، ایک دوسرے کو برا کہے گا، سخت تر جھگڑے پڑیں گے، سارے تعلقات کٹ جائیں گے، ایک دوسرے کے کھلے دشمن ہو جائیں گے۔ مدد تو کہاں مروت تک نہ ہو گی۔ معبود عابدوں کے لیے اور عابد معبودوں کے لیے بلائے بیدرماں حسرت بے پایاں ہو جائیں گے۔
کیا تجھے نہیں معلوم کہ ان کافروں کو ہر وقت شیاطین نافرمانیوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں، مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے ہیں، آرزو میں بڑھاتے رہتے ہیں، طغیان اور سرکشی میں آگے کرتے رہتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» ۱؎ [43-الزخرف:36]‏‏‏‏ ’ ذکر رحمان سے منہ موڑنے والے شیطان کے حوالے ہو جاتے ہیں ‘۔
’ تو جلدی نہ کر، ان کے لیے کوئی بد دعا نہ کر، ہم نے خود عمداً انہیں ڈھیل دے رکھی ہے انہیں بڑھتا رہنے دے آخر وقت مقررہ پر دبوچ لیے جائیں گے ‘۔
«وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42]‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے، انہیں تو کچھ یونہی سی ڈھیل ہے جس میں یہ اپنے گناہوں میں بڑھے چلے جار ہے ہیں، آخر سخت عذابوں کی طرف بے بس ی کے ساتھ جا پڑیں گے۔ تم فائدہ حاصل کر لو لیکن یاد رکھو کہ تمہارا اصلی ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔ ہم ان کے سال، مہینے، دن اور وقت شمار کر رہے ہیں ان کے سانس بھی ہمارے گنے ہوئے ہیں۔ مقررہ وقت پورا ہوتے ہی عذابوں میں پھنس جائیں گے ‘۔