ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 74

وَ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ہُمۡ اَحۡسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءۡیًا ﴿۷۴﴾
اور ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانوں کے لوگ ہلاک کردیے جو سازوسامان میں اور دیکھنے میں کہیں اچھے تھے۔ En
اور ہم نے ان سے پہلے بہت سی اُمتیں ہلاک کردیں۔ وہ لوگ (ان سے) ٹھاٹھ اور نمود میں کہیں اچھے تھے
En
ہم تو ان سے پہلے بہت سی جماعتوں کو غارت کر چکے ہیں جو ساز وسامان اور نام ونمود میں ان سے بڑھ چڑھ کر تھیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 74){وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ …: اَثَاثًا } گھر کا سازو سامان جس میں اونٹ، گھوڑے، بھیڑ بکریاں اور غلام وغیرہ بھی شامل ہیں۔ { رِءْيًا رَأَيَ يَرَي } (ف) کا مصدر ہے، بمعنی مفعول یعنی دیکھنے کی چیزیں۔ مصدری معنی بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ ترجمہ میں کیا گیا ہے۔ یعنی جب نافرمانی کے بعد ان سے کہیں بڑھ کر سازو سامان اور شان و شوکت والوں کو ان کی دنیوی خوش حالی ہمارے عذاب سے نہ بچا سکی تو یہ بے چارے کس شمار و قطار میں ہیں؟ حقیقت میں دنیا کے ٹھاٹھ باٹ اور جاہ و جلال پر پھولنا اور نادار مسلمانوں کو حقیر جاننا پرلے درجے کی حماقت ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

74۔ 1 اللہ تعالیٰ نے فرمایا، دنیا کی یہ چیزیں ایسی نہیں ہیں کہ ان پر فخر اور ناز کیا جائے، یا ان کو دیکھ کر حق وباطل کا فیصلہ کیا جائے۔ یہ چیزیں تو تم سے پہلی امتوں کے پاس تھیں، لیکن تکذیب حق کی پاداش میں انھیں ہلاک کردیا گیا، دنیا کا یہ مال و اسباب انھیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

74۔ حالانکہ ہم ان سے پہلے کئی ایسی قومیں ہلاک کر چکے ہیں جو ساز و سامان اور ظاہری [66] شان و شوکت کے لحاظ سے ان سے بہتر تھیں۔
[66] مال و دولت کے پیمانوں سے دوسروں کی قدرو قیمت متعین کرنا۔ مال و دولت کی فراوانی اللہ کی رضا کی دلیل نہیں:۔
یوم آخرت کا انکار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے کسی مقام پر تو کافر قرار دیا ہے اور کسی پر مشرک، مشرکین مکہ بھی آخرت کے منکر تھے۔ اس قسم کے منکروں اور دنیا دار لوگوں کا عمومی نظریہ یہی رہا ہے کہ اس دنیا میں مال و دولت کا مہیا ہونا اللہ تعالیٰ کی مہربانی کی دلیل ہے اور اسی مال و دولت اور جاہ کے پیمانوں سے لوگوں کی قیمت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ اپنا بھی اور دوسروں کا بھی۔ مشرکین مکہ کا بھی یہی انداز فکر تھا۔ انھیں جب ان کے انجام سے مطلع کیا جاتا تو ان کا یہ جواب ہوتا تھا کہ ہمارے مکانات، فرنیچر، طرز بودو باش اور ہماری مجالس تم لوگوں سے بہتر نہیں؟ اور اگر ہم باطل پر ہوتے جیسا کہ تم ہمیں کہتے ہو تو ہم تم سے ہر لحاظ سے بہتر کیسے ہو سکتے تھے؟ ان لوگوں کے اس نظریہ کو رد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ معیار ہی غلط ہے۔ اس لئے کہ جو قومیں تم سے پہلے ہم نے تباہ کی ہیں وہ تم سے شان و شوکت اور ساز و سامان غرض ہر لحاظ سے بہتر تھیں اور ان پر عذاب الٰہی کا نزول ہی اس بات کی دلیل ہے کہ سازو سامان کی بہتری کے باوجود اللہ تعالیٰ ان سے ناراض تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کثرت مال فریب زندگی ٭٭
اللہ کی صاف صریح آیتوں سے پروردگار کے دلیل و برہان والے کلام سے کفار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، وہ ان سے منہ موڑ لیتے ہیں، دیدے پھیر لیتے ہیں اور اپنی ظاہری شان و شوکت سے انہیں مرعوب کرنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں بتاؤ کس کے مکانات پرتکلف ہیں اور کس کی بیٹھکیں سجی ہوئی ہیں اور آباد اور بارونق ہیں؟
پس ہم جو کہ مال و دولت، شان و شوکت، عزت و آبرو میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں، ہم اللہ کے پیارے ہیں؟ یا یہ جو کہ چھپے پھرتے ہیں؟ کھانے پینے کو نہیں پاتے۔ کہیں ارقم بن ابو ارقم کے گھر چھپتے ہیں، کہیں اور، ادھر ادھر بھاگتے پھرتے ہیں۔
جیسے اور آیت میں ہے، کافروں نے کہا «لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ وَاِذْ لَمْ يَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَيَقُوْلُوْنَ ھٰذَآ اِفْكٌ قَدِيْمٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:11]‏‏‏‏ ’ اگر یہ دین بہتر ہوتا تو اسے پہلے ہم مانتے یا یہ؟ ‘
نوح علیہ السلام کی قوم نے بھی یہی کہا تھا کہ «قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:111]‏‏‏‏ ’ تیرے ماننے والے تو سب غریب محتاج لوگ ہیں ہم تیرے تابعدارنہیں بن سکتے ‘۔
اور آیت میں ہے کہ «وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لِّيَقُولُوا أَهَـٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:53]‏‏‏‏ ’ اسی طرح انہیں دھوکہ لگ رہا ہے اور کہہ اٹھتے ہیں کہ کیا یہی وہ اللہ کے پیارے بندے ہیں جنہیں اللہ نے ہم پر فضیلت دی ہے؟ ‘
پھر ان کے اس مغالطے کا جواب دیا کہ ’ ان سے پہلے ان سے بھی ظاہر داری میں بڑھے ہوئے اور مالداری میں آگے نکلے ہوئے لوگ تھے لیکن ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ہم نے انہیں تہس نہس کر دیا ‘۔ ان کی مجلسیں، ان کے مکانات، ان کی قوتیں، ان کی مالداریاں ان سے سوا تھیں۔ شان و شوکت میں، ٹیپ ٹاپ میں، تکلفات میں، امارت اور شرافت میں ان سے کہیں زیادہ تھے۔ ’ ان کے تکبر اور عناد کی وجہ سے ہم نے ان کا بھس اڑا دیا۔ غارت اور برباد کر دیا۔ فرعونیوں کو دیکھ لو، ان کے باغات، ان کی نہریں، ان کی کھیتیاں، ان کے شاندار مکانات اور عالیشان محلات اب تک موجود ہیں اور وہ غارت کر دیے گئے مچھلیوں کا لقمہ بن گئے ‘۔
مقام سے مراد مسکن اور نعمتیں ہیں۔ ندی سے مراد مجلسیں اور بیٹھکیں ہیں۔ عرب میں بیٹھکوں اور لوگوں کے جمع ہونے کی جگہوں کو نادی اور ندی کہتے ہیں۔
جیسے آیت «وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنكَرَ» ۱؎ [29-العنكبوت:29]‏‏‏‏ میں ہے۔ یہی ان مشرکین کا قول تھا کہ ہم بہ اعتبار دنیا تم سے بہت بڑھے ہوئے ہیں، لباس میں، مال میں، متاع میں، صورت شکل میں ہم تم سے افضل ہیں۔