(آیت 70){ثُمَّلَنَحْنُاَعْلَمُبِالَّذِيْنَهُمْ …: ”صِلِيًّا“”صَلِيَيَصْلٰي“} بروزن {”رَضِيَيَرْضَي“} کا مصدر ہے، آگ میں داخل ہو کر اس کی تپش کی تکلیف اٹھانا، یعنی پھر ہمیں خوب معلوم ہے کہ اس جہنم میں جھونکے جانے کے زیادہ لائق کون ہے اور وہ گمراہ کرنے والے اور گمراہ ہونے والے دونوں ہیں، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «{ قَالَلِكُلٍّضِعْفٌوَّلٰكِنْلَّاتَعْلَمُوْنَ }»[الأعراف: ۳۸]”اللہ فرمائے گا سبھی کے لیے دگنا (عذاب)ہے اور لیکن تم نہیں جانتے۔“ کیونکہ گمراہ ہونے والوں نے بھی کئی لوگوں کو گمراہ کیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
70۔ 1 یعنی جہنم میں داخل ہونے اور اس میں جلنے کے کون زیادہ مستحق ہیں، ہم ان کو خوب جانتے ہیں
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
70۔ پھر ہم ان لوگوں کو بھی خوب جانتے ہیں جو جہنم میں پہلے داخل ہونے کے زیادہ [64] مستحق ہیں۔
[64] یعنی ان شیطانوں میں سے بھی ان کے سرغنوں اور لیڈروں کو الگ نکال لیں گے اور انھیں سب سے پہلے جہنم رسید کریں گے اور زیادہ سزا دیں گے۔ کیونکہ انہوں نے خود گمراہ ہونے کے علاوہ دوسروں کو بھی گمراہ کیا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔