(آیت 69) { ثُمَّلَنَنْزِعَنَّمِنْكُلِّشِيْعَةٍ …: ”عِتِيًّا“”عَتَايَعْتُوْ“ } سے {”عُتُوًّا“} کی طرح مصدر ہے، تکبر، سرکشی، حد سے گزرنا۔ {”شِيْعَةٍ“} وہ گروہ جو ایک ہی قسم کا ہو، یعنی پھر ہم ہر باغی گروہ میں سے اس کے سب سے بڑے سرکش اور پیشوا کو، جس نے انھیں کفر و شرک میں پھنسایا اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی کی راہ دکھائی، نکال کر الگ کھڑا کریں گے اور ایسے لوگوں کو سب سے پہلے جہنم میں جھونکیں گے، کیونکہ انھوں نے دو جرم کیے، خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا، پھر درجہ بدرجہ ان کے پیروکاروں کی باری آئے گی۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۳۸، ۳۹)، نحل (۲۵) اور عنکبوت (۱۳)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
69۔ 1 مطلب یہ ہے کہ ہر گمراہ فرقے کے بڑے بڑے سرکشوں اور لیڈروں کو ہم الگ کرلیں گے اور ان کو اکٹھا کر کے جہنم میں پھینک دیں گے۔ کیونکہ یہ قائدین دوسرے جہنمیوں کے مقابلے میں سزا و عقوبت کے زیادہ سزا وار ہیں، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
69۔ پھر ہر گروہ میں سے ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ پر سخت سرکش بنے ہوئے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے ارشاد فرمایا: ﴿ثُمَّلَنَنْ٘زِعَنَّمِنْكُ٘لِّشِیْعَةٍاَیُّهُمْاَشَدُّعَلَىالرَّحْمٰنِعِتِیًّا ﴾ یعنی ہم ہر گروہ اور ہر فرقے سے ظالموں کو نکال لیں گے جو ظلم، کفر اور سرکشی میں اشتراک رکھتے ہیں اور (عُتُوّ) وہ شخص ہے جو ان میں سے سب سے زیادہ سرکش، سب سے بڑا ظالم اور سب سے بڑا کافر ہے۔ پس اس کو عذاب کی طرف ان سب میں مقدم کیا جائے گا، پھر اسی طرح عذاب کی طرف اس کو مقدم کیا جائے گا جو گناہ میں اس سے کم تر ہو گا پھر اسے جو اس سے کم تر ہوگا علیٰ ہذا القیاس۔ اور وہ اس حال میں ایک دوسرے پر لعنت بھیج رہے ہوں گے۔ ان میں سے آخری گروہ اولین گروہ سے کہے گا: ﴿ رَبَّنَاهٰۤؤُلَآءِاَضَلُّوْنَافَاٰتِهِمْعَذَابً٘اضِعْفًامِّنَالنَّارِ ﴾(الاعراف:7؍38) ”اے ہمارے رب! یہی لوگ تھے جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا پس انھیں جہنم کا دوگنا عذاب دے۔“ اور فرمایا: ﴿ وَقَالَتْاُوْلٰ٘ىهُمْلِاُخْرٰؔىهُمْفَمَاكَانَلَكُمْعَلَیْنَامِنْفَضْلٍ ﴾ (الاعراف:7؍39) ”پہلا گروہ آخری گروہ سے کہے گا تمھیں ہم پر کچھ بھی فضیلت حاصل نہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا ذكر حكمه فيهم، فقال: {ثم لَنَنزِعَنَّ مِن كلِّ شيعةٍ أيُّهم أشدُّ على الرحمن عِتِيًّا}؛ أي: ثم لننزعنَّ من كلِّ طائفةٍ وفرقةٍ من الظالمين المشتركين في الظُّلم والكفر والعتوِّ أشدَّهم عتوًّا وأعظمهم ظلماً وأكبرهم كفراً، فيقدِّمهم إلى العذاب، ثم هكذا يقدِّم إلى العذاب الأغلظ إثماً فالأغلظ، وهم في تلك الحال متلاعِنون؛ يلعنُ بعضُهم بعضاً، ويقولُ أخراهم لأولاهم: {ربَّنا هؤلاء أضَلُّونا فآتِهِم عذاباً ضِعْفاً من النار [قال لكل ضعف ولكن لا تعلمون] وقالتْ أولاهم لأُخْراهم فما كان لَكُمْ علينا من فضلٍ ... }.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔