ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 68

فَوَ رَبِّکَ لَنَحۡشُرَنَّہُمۡ وَ الشَّیٰطِیۡنَ ثُمَّ لَنُحۡضِرَنَّہُمۡ حَوۡلَ جَہَنَّمَ جِثِیًّا ﴿ۚ۶۸﴾
تو قسم ہے تیرے رب کی! بے شک ہم ان کو اور شیطانوں کو ضرور اکٹھا کریں گے، پھر بے شک ہم انھیں جہنم کے گرد ضرور گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کریں گے۔ En
تمہارے پروردگار کی قسم! ہم ان کو جمع کریں گے اور شیطانوں کو بھی۔ پھر ان سب کو جہنم کے گرد حاضر کریں گے (اور وہ) گھٹنوں پر گرے ہوئے (ہوں گے)
En
تیرے پروردگار کی قسم! ہم انہیں اور شیطانوں کو جمع کر کے ضرور ضرور جہنم کے اردگرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کر دیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 68) ➊ {فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ …: جِثِيًّا جَثَا يَجْثُوْ جُثُوًّا} اور {جَثَي يَجْثِيْ جُثِيًا} (ن، ض) سے اسم فاعل {جَاثٍ} ({اَلْجَاثِيْ}) کی جمع ہے، گھٹنوں کے بل گرنے والے۔ قیامت کے منکروں کو اس کا یقین دلانے کے لیے قسم اٹھا کر فرمایا کہ تیرے رب کی قسم ہے کہ ہم انھیں اور ان کو گمراہ کرنے والے شیطانوں کو ضرور اکٹھا کریں گے۔ شیطانوں میں قرین بھی شامل ہیں (دیکھیے سورۂ ق: ۲۳) اور ابلیس کی اولاد اور انسانوںمیں سے گمراہ کرنے والے شیطان بھی۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۱۲) جہنم کے گرد ان کی حاضری کی تصویر دکھانے کے لیے فرمایا کہ وہ جہنم کے گرد نہایت ذلیل و خوار اور خوف زدہ ہو کر گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے اور ان میں کھڑا ہونے کی طاقت نہیں ہوگی۔ دیکھیے سورۂ جاثیہ (۲۸)۔
تیرے رب کی قسم اس میں دو فائدے حاصل ہو رہے ہیں، ایک تو قسم کی وجہ سے بات کی تاکید، دوسرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کی رفعت، جیسا کہ سورۂ ذاریات کی آیت (۲۳): «‏‏‏‏{فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ ‏‏‏‏ سے آسمان و زمین کی عظمت ظاہر ہو رہی ہے۔ (طنطاوی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

68۔ 1 جثیی، جاث کی جمع ہے جثا یجثو سے۔ جَاثٍ گھٹنوں کے بل گرنے والے کو کہتے ہیں۔ یہ حال ہے یعنی ہم دوبارہ انھیں کو نہیں بلکہ ان شیاطین کو بھی زندہ کردیں گے جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا یا جن کی وہ عبادت کرتے تھے پھر ان سب کو اس حال میں جہنم کے گرد جمع کردیں گے کہ یہ محشر کی ہولناکیوں اور حساب کے خوف سے گھٹنوں کے بل بیٹھے ہونگے، میرے لئے پہلی مرتبہ پیدا کرنا دوسری مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں ہے (یعنی مشکل اگر ہے تو پہلی مرتبہ پیدا کرنا نہ کہ دوسری مرتبہ) اور اس کا مجھے ایذا پہنچانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے میری اولاد ہے، حالانکہ میں ایک ہوں، بےنیاز ہوں نہ میں نے کسی کو جنا اور نہ خود جنا گیا ہوں میرا کوئی ہمسر نہیں ہے (صحیح بخاری۔ تفسیر سورة اخلاص)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

68۔ آپ کے پروردگار کی قسم! ہم انھیں اور ان کے ساتھ شیطانوں کو ضرور جمع کر لائیں گے۔ پھر ان سب کو گھٹنوں کے بل جہنم کے ارد گرد حاضر کر دیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔