تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ بھی مروی ہے کہ { ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں بہت تاخیر ہو گئی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہوئے۔ پھر آپ علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23807:ضعیف]
روایت ہے کہ { بارہ دن یا اس سے کچھ کم تک نہیں آئے تھے۔ جب آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، { اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ } مشرکین تو کچھ اور ہی اڑانے لگے تھے اس پر یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23811:ضعیف] پس گویا یہ آیت سورۃ والضحی کی آیت جیسی ہے۔
کہتے ہیں کہ { چالیس دن تک ملاقات نہ ہوئی تھی جب ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرا شوق تو بہت ہی بے چین کئے ہوئے تھا }۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا، ”اس سے کسی قدر زیادہ شوق خود مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کا تھا لیکن میں اللہ کے حکم کا مامور اور پابند ہوں وہاں سے جب بھیجا جاؤں تب ہی آسکتا ہوں ورنہ نہیں، اسی وقت یہ وحی نازل ہوئی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:103/16:ضعیف] لیکن یہ روایت غریب ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام نے آنے میں دیر لگائی پھر جب آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رک جانے کی وجہ دریافت کی، آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ جب لوگ ناخن نہ کتروائیں، انگلیاں اور پوریاں صاف نہ رکھیں، مونچھیں پست نہ کرائیں، مسواک نہ کریں تو ہم کیسے آسکتے ہیں؟ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [الواحدی:607:ضعیف]
ہمارے آگے پیچھے کی تمام چیزیں اسی اللہ کی ہیں یعنی دنیا اور آخرت اور اس کے درمیان کی یعنی دونوں نفخوں کے درمیان کی چیزیں بھی اسی کی تملیک کی ہیں۔ آنے والے امور آخرت اور گزر چکے ہوئے امور دنیا اور دنیا آخرت کے درمیان کے امور سب اسی کے قبضے میں ہیں۔ تیرا رب بھولنے والا نہیں اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی یاد سے فراموش نہیں کیا۔ نہ اس کی یہ صفت۔ جیسے فرمان «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:3-1] ’ قسم ہے چاشت کے وقت کی اور رات کی جب وہ ڈھانپ لے نہ تو تیرا رب تجھ سے دستبردار ہے نہ ناخوش ‘۔
آسمان و زمین اور ساری مخلوق کا خالق، مالک، مدبر، متصرف وہی ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے کسی حکم کو ٹال سکے۔ تو اسی کی عبادتیں کئے چلا جا اور اسی پر جما رہ۔ اس کے مثیل، شبیہ، ہم نام، ہم پلہ کوئی نہیں۔ وہ با برکت ہے وہ بلندیوں والا ہے اس کے نام میں تمام خوبیاں ہیں جل جلالہ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم علَّل إحاطة علمه وعدم نسيانه بأنه {رب السمواتِ والأرض}: فربوبيَّتُهُ للسماواتِ والأرض، وكونهما على أحسن نظام وأكمله، ليس فيه غفلةٌ ولا إهمالٌ ولا سدىً ولا باطلٌ: برهانٌ قاطعٌ على علمه الشامل؛ فلا تَشْغَلْ نفسَك بذلك، بل اشغَلْها بما ينفعُك ويعود عليك طائلُه، وهو عبادته وحدَه لا شريك له، {واصطَبِرْ لعبادتِهِ}؛ أي: اصبر نفسَك عليها، وجاهِدْها، وقُم عليها أتمَّ القيام وأكمله بحسب قدرتك، وفي الاشتغال بعبادة الله تسليةٌ للعابد عن جميع التعلُّقات والمشتهيات؛ كما قال تعالى: {ولا تَمُدَّنَّ عينيكَ إلى ما متَّعْنا به أزواجاً منهم زهرةَ الحياة الدُّنيا لنفتِنَهم فيه ... } إلى أن قال: {وأمُرْ أهلكَ بالصَّلاةِ واصطبِرْ عليها ... } الآية.
{هل تعلم له سَمِيًّا}؛ أي: هل تعلم لله مسامياً ومشابهاً ومماثلاً من المخلوقين؟ وهذا استفهامٌ بمعنى النفي المعلوم بالعقل؛ أي: لا تعلم له مسامياً ولا مشابهاً؛ لأنَّه الربُّ وغيره مربوبٌ، الخالق وغيره مخلوقٌ، الغنيُّ من جميع الوجوه، وغيره فقيرٌ بالذات من كلِّ وجه، الكامل الذي له الكمال المطلق من جميع الوجوه، وغيره ناقصٌ ليس فيه من الكمال إلاَّ ما أعطاه الله تعالى؛ فهذا برهانٌ قاطعٌ على أنَّ الّلهَ هو المستحقُّ لإفرادِهِ بالعبوديَّة، وأنَّ عبادته حقٌّ، وعبادةُ ما سواه باطلٌ؛ فلهذا أمر بعبادِتِه وحدَه والاصطبارِ لها، وعلَّل [ذلك] بكماله وانفرادِهِ بالعظمة والأسماء الحسنى.