رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا فَاعۡبُدۡہُ وَ اصۡطَبِرۡ لِعِبَادَتِہٖ ؕ ہَلۡ تَعۡلَمُ لَہٗ سَمِیًّا ﴿٪۶۵﴾
جو آسمانوں کا اور زمین کا اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کا رب ہے، سو اس کی عبادت کر اور اس کی عبادت پر خوب صابر رہ ۔ کیا تو اس کا کوئی ہم نام جانتا ہے؟
En
(یعنی) آسمان اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے۔ تو اسی کی عبادت کرو اور اسی کی عبادت پر ثابت قدم رہو۔ بھلا تم کوئی اس کا ہم نام جانتے ہو
En
آسمانوں کا، زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب وہی ہے تو اسی کی بندگی کر اور اس کی عبادت پر جم جا۔ کیا تیرے علم میں اس کا ہمنام ہم پلہ کوئی اور بھی ہے؟
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس آیت کی تفسیر آیت 64 میں تا آیت 66 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
65۔ 1 یعنی نہیں ہے، جب اس کی مثل کوئی اور نہیں تو پھر عبادت بھی کسی اور کی جائز نہیں
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
65۔ وہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب چیزوں کا مالک ہے لہذا اسی کی بندگی کیجئے اور اسی کی بندگی پر ڈٹ [61] جائے کیا آپ (کوئی اور بھی) اس کا ہم نام [62] جانتے ہیں۔
[61] اس کا ایک مطلب تو ترجمہ میں بیان ہوا ہے کہ پورے عزم و استقلال سے اس کی عبادت کرتے رہئے اور اس کے احکام بجا لاتے رہئے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرنے کی راہ میں جو مشکلات پیش آئیں انھیں صبر و استقلال اور ثابت قدمی سے برداشت کیجئے۔ [62] کوئی چیز اللہ کی ہم نام نہیں:۔
یعنی اللہ کسی دوسری ہستی یا چیز کا نام نہیں۔ اللہ صرف اس ہستی کا نام ہے جو خالق و مالک ارض و سماوات ہے۔ کوئی دوسرا اس کا ہم نام نہیں اور اگر لفظ اسم کو صفت کے معنی میں لیا جائے جیسے کہ: ﴿ولله الاسماء الحسنيٰ﴾ میں لیا جا سکتا ہے اور اللہ کے جتنے اچھے اچھے نام ہیں وہ ایک دو کے سوا سب صفاتی ہی ہیں تو اس صورت میں اس کا معنی اس کا ”ہم پلہ“ یا ”ہم پایہ“ یا ”جوڑ کا“ ہو گا۔ یعنی کوئی دوسری ایسی ہستی موجود نہیں جس میں اللہ کی سی صفات پائی جاتی ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جبرائیل علیہ السلام کی آمد میں تاخیر کیوں؟ ٭٭
صحیح بخاری شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: { آپ جتنا آتے ہیں، اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے؟ } } اس کے جواب میں یہ آیت اتری ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3218]
یہ بھی مروی ہے کہ { ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں بہت تاخیر ہو گئی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہوئے۔ پھر آپ علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23807:ضعیف]
روایت ہے کہ { بارہ دن یا اس سے کچھ کم تک نہیں آئے تھے۔ جب آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، { اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ } مشرکین تو کچھ اور ہی اڑانے لگے تھے اس پر یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23811:ضعیف] پس گویا یہ آیت سورۃ والضحی کی آیت جیسی ہے۔
کہتے ہیں کہ { چالیس دن تک ملاقات نہ ہوئی تھی جب ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرا شوق تو بہت ہی بے چین کئے ہوئے تھا }۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا، ”اس سے کسی قدر زیادہ شوق خود مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کا تھا لیکن میں اللہ کے حکم کا مامور اور پابند ہوں وہاں سے جب بھیجا جاؤں تب ہی آسکتا ہوں ورنہ نہیں، اسی وقت یہ وحی نازل ہوئی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:103/16:ضعیف] لیکن یہ روایت غریب ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام نے آنے میں دیر لگائی پھر جب آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رک جانے کی وجہ دریافت کی، آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ جب لوگ ناخن نہ کتروائیں، انگلیاں اور پوریاں صاف نہ رکھیں، مونچھیں پست نہ کرائیں، مسواک نہ کریں تو ہم کیسے آسکتے ہیں؟ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [الواحدی:607:ضعیف]
یہ بھی مروی ہے کہ { ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں بہت تاخیر ہو گئی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہوئے۔ پھر آپ علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23807:ضعیف]
روایت ہے کہ { بارہ دن یا اس سے کچھ کم تک نہیں آئے تھے۔ جب آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، { اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ } مشرکین تو کچھ اور ہی اڑانے لگے تھے اس پر یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23811:ضعیف] پس گویا یہ آیت سورۃ والضحی کی آیت جیسی ہے۔
کہتے ہیں کہ { چالیس دن تک ملاقات نہ ہوئی تھی جب ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرا شوق تو بہت ہی بے چین کئے ہوئے تھا }۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا، ”اس سے کسی قدر زیادہ شوق خود مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کا تھا لیکن میں اللہ کے حکم کا مامور اور پابند ہوں وہاں سے جب بھیجا جاؤں تب ہی آسکتا ہوں ورنہ نہیں، اسی وقت یہ وحی نازل ہوئی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:103/16:ضعیف] لیکن یہ روایت غریب ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام نے آنے میں دیر لگائی پھر جب آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رک جانے کی وجہ دریافت کی، آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ جب لوگ ناخن نہ کتروائیں، انگلیاں اور پوریاں صاف نہ رکھیں، مونچھیں پست نہ کرائیں، مسواک نہ کریں تو ہم کیسے آسکتے ہیں؟ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [الواحدی:607:ضعیف]
مسند امام احمد میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا { مجلس درست اور ٹھیک ٹھاک کر لو آج وہ فرشتہ آ رہا ہے جو آج سے پہلے زمین پر کبھی نہیں آیا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:296/6:ضعیف]
ہمارے آگے پیچھے کی تمام چیزیں اسی اللہ کی ہیں یعنی دنیا اور آخرت اور اس کے درمیان کی یعنی دونوں نفخوں کے درمیان کی چیزیں بھی اسی کی تملیک کی ہیں۔ آنے والے امور آخرت اور گزر چکے ہوئے امور دنیا اور دنیا آخرت کے درمیان کے امور سب اسی کے قبضے میں ہیں۔ تیرا رب بھولنے والا نہیں اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی یاد سے فراموش نہیں کیا۔ نہ اس کی یہ صفت۔ جیسے فرمان «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:3-1] ’ قسم ہے چاشت کے وقت کی اور رات کی جب وہ ڈھانپ لے نہ تو تیرا رب تجھ سے دستبردار ہے نہ ناخوش ‘۔
ہمارے آگے پیچھے کی تمام چیزیں اسی اللہ کی ہیں یعنی دنیا اور آخرت اور اس کے درمیان کی یعنی دونوں نفخوں کے درمیان کی چیزیں بھی اسی کی تملیک کی ہیں۔ آنے والے امور آخرت اور گزر چکے ہوئے امور دنیا اور دنیا آخرت کے درمیان کے امور سب اسی کے قبضے میں ہیں۔ تیرا رب بھولنے والا نہیں اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی یاد سے فراموش نہیں کیا۔ نہ اس کی یہ صفت۔ جیسے فرمان «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:3-1] ’ قسم ہے چاشت کے وقت کی اور رات کی جب وہ ڈھانپ لے نہ تو تیرا رب تجھ سے دستبردار ہے نہ ناخوش ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو کچھ اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کر دیا وہ حلال ہے اور جو حرام کر دیا حرام ہے اور جس سے خاموش رہا وہ عافیت ہے تم اللہ کی عافیت کو قبول کر لو، اللہ کسی چیز کا بھولنے والا نہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جملہ تلاوت فرمایا } }۔ ۱؎ [فتح الباری:266/13:قال الشيخ الألباني:حسن]
آسمان و زمین اور ساری مخلوق کا خالق، مالک، مدبر، متصرف وہی ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے کسی حکم کو ٹال سکے۔ تو اسی کی عبادتیں کئے چلا جا اور اسی پر جما رہ۔ اس کے مثیل، شبیہ، ہم نام، ہم پلہ کوئی نہیں۔ وہ با برکت ہے وہ بلندیوں والا ہے اس کے نام میں تمام خوبیاں ہیں جل جلالہ۔
آسمان و زمین اور ساری مخلوق کا خالق، مالک، مدبر، متصرف وہی ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے کسی حکم کو ٹال سکے۔ تو اسی کی عبادتیں کئے چلا جا اور اسی پر جما رہ۔ اس کے مثیل، شبیہ، ہم نام، ہم پلہ کوئی نہیں۔ وہ با برکت ہے وہ بلندیوں والا ہے اس کے نام میں تمام خوبیاں ہیں جل جلالہ۔