وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمۡرِ رَبِّکَ ۚ لَہٗ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡنَا وَ مَا خَلۡفَنَا وَ مَا بَیۡنَ ذٰلِکَ ۚ وَ مَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا ﴿ۚ۶۴﴾
اور ہم نہیں اترتے مگر تیرے رب کے حکم کے ساتھ۔ اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو اس کے درمیان ہے اور تیرا رب کبھی کسی طرح بھولنے والا نہیں۔
En
اور (فرشتوں نے پیغمبر کو جواب دیا کہ) ہم تمہارے پروردگار کے حکم سوا اُتر نہیں سکتے۔ جو کچھ ہمارے آگے ہے اور پیچھے ہے اور جو ان کے درمیان ہے سب اسی کا ہے اور تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں
En
ہم بغیر تیرے رب کے حکم کے اتر نہیں سکتے، ہمارے آگے پیچھے اور ان کے درمیان کی کل چیزیں اسی کی ملکیت میں ہیں، تیرا پروردگار بھولنے واﻻ نہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 65،64) ➊ {وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ: ”نَنْزِلُ“} کے بجائے {” نَتَنَزَّلُ “} اس لیے فرمایا کہ باب تفعّل میں ٹھہر ٹھہر کر کام کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ ہم وقفے وقفے سے، ٹھہر ٹھہر کر تیرے رب ہی کے حکم سے اترتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: [قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيْلَ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُوْرُنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُوْرُنَا فَنَزَلَتْ: «{ وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ لَهٗ مَا بَيْنَ اَيْدِيْنَا وَ مَا خَلْفَنَا }» ] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «وما نتنزل إلا بأمر ربک…» : ۴۷۳۱]”ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے کہا: ”آپ ہماری ملاقات کے لیے جتنا آتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے؟“ تو یہ آیت اتری: «{ وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ }» “ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے یہ کلام سکھایا جبریل علیہ السلام کو کہ جواب میں یوں کہو۔ سو یہ کلام ہے اللہ کا جبریل کی طرف سے، جیسا کہ {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “} ہم کو سکھایا۔
➋ { لَهٗ مَا بَيْنَ اَيْدِيْنَا …:} یعنی صرف یہی نہیں کہ ہم اپنی مرضی سے اترنے کا اختیار نہیں رکھتے، بلکہ ہم اپنی مرضی سے کسی کام کا اختیار بھی نہیں رکھتے، کیونکہ جو کچھ ہمارے آگے ہے، یا ہمارے پیچھے ہے، یا اس کے درمیان ہے، یعنی دائیں اور بائیں ہے، چاروں جہتوں کی ہر چیز کا مالک صرف اللہ ہے۔ اگلی آیت میں فرمایا کہ آسمان و زمین اور ان کے مابین اشیاء کا رب بھی وہی ہے۔ اس میں اوپر نیچے کی جہتیں اور ان کے درمیان کی ہر چیز بھی آ گئی، اس کے علاوہ جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اس میں ماضی، حال اور مستقبل تینوں زمانے بھی آ گئے، یعنی جس ہستی کا قبضہ، ملکیت اور ربوبیت اتنی مستحکم اور وسیع ہے کہ زمان و مکان میں سے کوئی چیز اس سے باہر نہیں، تو اس کی مرضی کے بغیر زمین پر اترنا تو کجا ہم کوئی حرکت بھی نہیں کر سکتے۔
➌ { وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا: ” نَسِيًّا “ ”فَعِيْلٌ“} کے وزن پر مبالغہ ہے، بہت بھولنے والا۔ اس کا معنی یہ نہیں کہ وہ بہت بھولنے والا تو نہیں مگر کم بھولتا ہے، بلکہ اس طرح مبالغے کا لفظ آئے تو مبالغے کی نفی مراد نہیں ہوتی بلکہ نفی میں مبالغہ مراد ہوتا ہے، اس لیے معنی یہ ہو گا کہ تیرا رب کبھی کسی طرح بھولنے والا نہیں۔ کبھی کا مفہوم {” كَانَ “} سے واضح ہو رہا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ }» دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۸۲) اور انفال (۵۱) کی تفسیر۔ یہاں رب تعالیٰ سے بھولنے کی نفی کا مطلب یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام اگر دیر سے اتریں تو یہ مطلب نہیں کہ آپ کے رب نے آپ کو بھلا دیا ہے، جیسا کہ یہ مشرکین باتیں بنا رہے ہیں، وہاں بھولنے کا تو کسی طرح سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کی حکمت کا تقاضا جبریل علیہ السلام کا اجازت کے ساتھ وقفے سے آنا ہی ہے۔ مزید وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ ضحی کی تفسیر۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا أَحَلَّ اللّٰهُ فِيْ كِتَابِهِ فَهُوَ حَلاَلٌ وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَافِيَةٌ فَاقْبَلُوٓا مِنَ اللّٰهِ الْعَافِيَةَ فَإِنَّ اللّٰهَ لَمْ يَكُنْ نَسِيًّا، ثُمَّ تَلَا هٰذِهِ الْآيَةَ: «{ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا }» ] [مستدرک حاکم: 375/2، ح: ۳۴۱۹ و سندہ حسن ({حكمت بن بشير})]”اللہ نے جو کچھ اپنی کتاب میں حلال کیا وہ حلال ہے اور جسے حرام کیا وہ حرام ہے اور جس سے خاموشی اختیار فرمائی وہ معاف ہے، کیونکہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ کوئی چیز بھول جائے۔“ پھر یہ آیت پڑھی: «{ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا }» ۔“
➍ {” وَ اصْطَبِرْ “ ”صَبَرَ يَصْبِرُ“} سے باب افتعال کا فعل امر ہے۔ ”تاء“ کو ”طاء“ کر دیا اور حرف زیادہ ہونے سے معنی زیادہ ہو گیا، خوب صابر رہ، یعنی اس کی بندگی کرتے رہیے اور اس راہ میں جو مصائب و مشکلات پیش آئیں ان کا پورے صبر کے ساتھ مقابلہ کیجیے، اگر ہماری طرف سے کبھی یاد فرمائی یا مدد یا تسلی دینے میں کچھ تاخیر ہو جائے تو گھبرانے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
➎ {هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا:} وہ دو شخص جن کا نام ایک ہو ایک دوسرے کے {”سَمِيٌّ“} (ہم نام)کہلاتے ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کے جتنے نام ہیں سب اس کی صفت ہیں، یعنی کوئی ہے اس کی صفت کا؟“(موضح) یہاں {” سَمِيًّا “} کا معنی ”نظیر“ اور ”مثیل“ ہے۔ گویا اس آیت اور دوسری آیت: «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ» [الشوریٰ: ۱۱] کا معنی ایک ہی ہے، یعنی جب اس جیسا آپ کسی کو نہیں سمجھتے تو پھر اس کے سوا چارہ کیا ہے کہ اس کے راستے پر چلتے رہیے۔
➏ { ” وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ “} کے ربط کے لیے دیکھیے سورۂ قیامہ کی آیت (۱۶): «{ لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ }» کی تفسیر۔
➋ { لَهٗ مَا بَيْنَ اَيْدِيْنَا …:} یعنی صرف یہی نہیں کہ ہم اپنی مرضی سے اترنے کا اختیار نہیں رکھتے، بلکہ ہم اپنی مرضی سے کسی کام کا اختیار بھی نہیں رکھتے، کیونکہ جو کچھ ہمارے آگے ہے، یا ہمارے پیچھے ہے، یا اس کے درمیان ہے، یعنی دائیں اور بائیں ہے، چاروں جہتوں کی ہر چیز کا مالک صرف اللہ ہے۔ اگلی آیت میں فرمایا کہ آسمان و زمین اور ان کے مابین اشیاء کا رب بھی وہی ہے۔ اس میں اوپر نیچے کی جہتیں اور ان کے درمیان کی ہر چیز بھی آ گئی، اس کے علاوہ جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اس میں ماضی، حال اور مستقبل تینوں زمانے بھی آ گئے، یعنی جس ہستی کا قبضہ، ملکیت اور ربوبیت اتنی مستحکم اور وسیع ہے کہ زمان و مکان میں سے کوئی چیز اس سے باہر نہیں، تو اس کی مرضی کے بغیر زمین پر اترنا تو کجا ہم کوئی حرکت بھی نہیں کر سکتے۔
➌ { وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا: ” نَسِيًّا “ ”فَعِيْلٌ“} کے وزن پر مبالغہ ہے، بہت بھولنے والا۔ اس کا معنی یہ نہیں کہ وہ بہت بھولنے والا تو نہیں مگر کم بھولتا ہے، بلکہ اس طرح مبالغے کا لفظ آئے تو مبالغے کی نفی مراد نہیں ہوتی بلکہ نفی میں مبالغہ مراد ہوتا ہے، اس لیے معنی یہ ہو گا کہ تیرا رب کبھی کسی طرح بھولنے والا نہیں۔ کبھی کا مفہوم {” كَانَ “} سے واضح ہو رہا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ }» دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۸۲) اور انفال (۵۱) کی تفسیر۔ یہاں رب تعالیٰ سے بھولنے کی نفی کا مطلب یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام اگر دیر سے اتریں تو یہ مطلب نہیں کہ آپ کے رب نے آپ کو بھلا دیا ہے، جیسا کہ یہ مشرکین باتیں بنا رہے ہیں، وہاں بھولنے کا تو کسی طرح سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کی حکمت کا تقاضا جبریل علیہ السلام کا اجازت کے ساتھ وقفے سے آنا ہی ہے۔ مزید وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ ضحی کی تفسیر۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا أَحَلَّ اللّٰهُ فِيْ كِتَابِهِ فَهُوَ حَلاَلٌ وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَافِيَةٌ فَاقْبَلُوٓا مِنَ اللّٰهِ الْعَافِيَةَ فَإِنَّ اللّٰهَ لَمْ يَكُنْ نَسِيًّا، ثُمَّ تَلَا هٰذِهِ الْآيَةَ: «{ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا }» ] [مستدرک حاکم: 375/2، ح: ۳۴۱۹ و سندہ حسن ({حكمت بن بشير})]”اللہ نے جو کچھ اپنی کتاب میں حلال کیا وہ حلال ہے اور جسے حرام کیا وہ حرام ہے اور جس سے خاموشی اختیار فرمائی وہ معاف ہے، کیونکہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ کوئی چیز بھول جائے۔“ پھر یہ آیت پڑھی: «{ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا }» ۔“
➍ {” وَ اصْطَبِرْ “ ”صَبَرَ يَصْبِرُ“} سے باب افتعال کا فعل امر ہے۔ ”تاء“ کو ”طاء“ کر دیا اور حرف زیادہ ہونے سے معنی زیادہ ہو گیا، خوب صابر رہ، یعنی اس کی بندگی کرتے رہیے اور اس راہ میں جو مصائب و مشکلات پیش آئیں ان کا پورے صبر کے ساتھ مقابلہ کیجیے، اگر ہماری طرف سے کبھی یاد فرمائی یا مدد یا تسلی دینے میں کچھ تاخیر ہو جائے تو گھبرانے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
➎ {هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا:} وہ دو شخص جن کا نام ایک ہو ایک دوسرے کے {”سَمِيٌّ“} (ہم نام)کہلاتے ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کے جتنے نام ہیں سب اس کی صفت ہیں، یعنی کوئی ہے اس کی صفت کا؟“(موضح) یہاں {” سَمِيًّا “} کا معنی ”نظیر“ اور ”مثیل“ ہے۔ گویا اس آیت اور دوسری آیت: «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ» [الشوریٰ: ۱۱] کا معنی ایک ہی ہے، یعنی جب اس جیسا آپ کسی کو نہیں سمجھتے تو پھر اس کے سوا چارہ کیا ہے کہ اس کے راستے پر چلتے رہیے۔
➏ { ” وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ “} کے ربط کے لیے دیکھیے سورۂ قیامہ کی آیت (۱۶): «{ لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ }» کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
64۔ 1 نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ جبرائیل ؑ سے زیادہ اور جلدی جلدی ملاقات کی خواہش ظاہر فرمائی جس پر یہ آیت اتری (صحیح بخاری)، تفسیر سورة مریم)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
64۔ اور (اے نبی!) ہم (فرشتے) آپ کے پروردگار کے حکم کے بغیر نازل [60] نہیں ہوا کرتے۔ جو کچھ ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو ان کے درمیان ہے سب اسی کا ہے اور آپ کا پروردگار بھولنے والا نہیں ہے۔
[60] فرشتوں کا نزول اللہ کے حکم کے تحت:۔
اس آیت کے شان نزول اور تفسیر کے لئے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمایئے:
(1) سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل ؑسے پوچھا: ”تم ہمارے پاس جیسے آیا کرتے ہو اس سے زیادہ دفعہ کیوں نہیں آتے؟“ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ ﴿وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ﴾ [بخاري، كتاب التفسير، ترمذي، ابواب التفسير]
(2)
(1) سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل ؑسے پوچھا: ”تم ہمارے پاس جیسے آیا کرتے ہو اس سے زیادہ دفعہ کیوں نہیں آتے؟“ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ ﴿وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ﴾ [بخاري، كتاب التفسير، ترمذي، ابواب التفسير]
(2)
اللہ سے کوئی بات بھولی ہوئی نہیں:۔
سیدنا ابو درداءؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کر دی وہ حلال ہے اور جو حرام کی وہ حرام ہے اور جس سے سکوت اختیار کیا وہ معاف ہے۔ لہٰذا تم اللہ کی دی ہوئی معافی قبول کرو۔ کیونکہ اللہ بھولنے والا نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا﴾ [المستدرك للحاكم، سنده صحيح ج 2 ص 375]
(3) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے کچھ فرائض مقرر کئے ہیں انھیں ضائع نہ کرو اور کچھ چیزوں سے روکا ہے، ان کی اہانت نہ کرو اور کچھ چیزوں سے تم سے درگزر کیا ہے، بھول کی بنا پر نہیں لہٰذا تم ان میں چھان پھٹک نہ کرو۔“ [دارقطنی، بحوالہ الموافقات للشاطبی مترجم ج 1 ص 219]
ہوا یہ تھا کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو اللہ کی طرف سے حالات کے مطابق احکام و ہدایت کی شدید ضرورت تھی۔ پھر جب کافی دیر بعد جبریلؑ متعلقہ ہدایات و احکام لے کر آئے تو بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریلؑ سے ضمناً یہ بات بھی کہہ دی۔ جس کے جواب میں جبریلؑ نے یہ وضاحت فرما دی کہ ہم کوئی با اختیار شخصیت نہیں ہیں بلکہ اللہ کے حکم کے بندے ہیں جب ہمیں حکم ملے تب ہی آ سکتے ہیں اور آپ کا پروردگار سب کچھ دیکھ رہا ہے وہ بھولنے والا نہیں، بلکہ اس دیر میں بھی اس کی مصلحتیں مضمر ہوتی ہیں۔
(3) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے کچھ فرائض مقرر کئے ہیں انھیں ضائع نہ کرو اور کچھ چیزوں سے روکا ہے، ان کی اہانت نہ کرو اور کچھ چیزوں سے تم سے درگزر کیا ہے، بھول کی بنا پر نہیں لہٰذا تم ان میں چھان پھٹک نہ کرو۔“ [دارقطنی، بحوالہ الموافقات للشاطبی مترجم ج 1 ص 219]
ہوا یہ تھا کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو اللہ کی طرف سے حالات کے مطابق احکام و ہدایت کی شدید ضرورت تھی۔ پھر جب کافی دیر بعد جبریلؑ متعلقہ ہدایات و احکام لے کر آئے تو بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریلؑ سے ضمناً یہ بات بھی کہہ دی۔ جس کے جواب میں جبریلؑ نے یہ وضاحت فرما دی کہ ہم کوئی با اختیار شخصیت نہیں ہیں بلکہ اللہ کے حکم کے بندے ہیں جب ہمیں حکم ملے تب ہی آ سکتے ہیں اور آپ کا پروردگار سب کچھ دیکھ رہا ہے وہ بھولنے والا نہیں، بلکہ اس دیر میں بھی اس کی مصلحتیں مضمر ہوتی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جبرائیل علیہ السلام کی آمد میں تاخیر کیوں؟ ٭٭
صحیح بخاری شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: { آپ جتنا آتے ہیں، اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے؟ } } اس کے جواب میں یہ آیت اتری ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3218]
یہ بھی مروی ہے کہ { ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں بہت تاخیر ہو گئی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہوئے۔ پھر آپ علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23807:ضعیف]
روایت ہے کہ { بارہ دن یا اس سے کچھ کم تک نہیں آئے تھے۔ جب آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، { اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ } مشرکین تو کچھ اور ہی اڑانے لگے تھے اس پر یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23811:ضعیف] پس گویا یہ آیت سورۃ والضحی کی آیت جیسی ہے۔
کہتے ہیں کہ { چالیس دن تک ملاقات نہ ہوئی تھی جب ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرا شوق تو بہت ہی بے چین کئے ہوئے تھا }۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا، ”اس سے کسی قدر زیادہ شوق خود مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کا تھا لیکن میں اللہ کے حکم کا مامور اور پابند ہوں وہاں سے جب بھیجا جاؤں تب ہی آسکتا ہوں ورنہ نہیں، اسی وقت یہ وحی نازل ہوئی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:103/16:ضعیف] لیکن یہ روایت غریب ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام نے آنے میں دیر لگائی پھر جب آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رک جانے کی وجہ دریافت کی، آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ جب لوگ ناخن نہ کتروائیں، انگلیاں اور پوریاں صاف نہ رکھیں، مونچھیں پست نہ کرائیں، مسواک نہ کریں تو ہم کیسے آسکتے ہیں؟ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [الواحدی:607:ضعیف]
یہ بھی مروی ہے کہ { ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں بہت تاخیر ہو گئی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہوئے۔ پھر آپ علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23807:ضعیف]
روایت ہے کہ { بارہ دن یا اس سے کچھ کم تک نہیں آئے تھے۔ جب آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، { اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ } مشرکین تو کچھ اور ہی اڑانے لگے تھے اس پر یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23811:ضعیف] پس گویا یہ آیت سورۃ والضحی کی آیت جیسی ہے۔
کہتے ہیں کہ { چالیس دن تک ملاقات نہ ہوئی تھی جب ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرا شوق تو بہت ہی بے چین کئے ہوئے تھا }۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا، ”اس سے کسی قدر زیادہ شوق خود مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کا تھا لیکن میں اللہ کے حکم کا مامور اور پابند ہوں وہاں سے جب بھیجا جاؤں تب ہی آسکتا ہوں ورنہ نہیں، اسی وقت یہ وحی نازل ہوئی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:103/16:ضعیف] لیکن یہ روایت غریب ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام نے آنے میں دیر لگائی پھر جب آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رک جانے کی وجہ دریافت کی، آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ جب لوگ ناخن نہ کتروائیں، انگلیاں اور پوریاں صاف نہ رکھیں، مونچھیں پست نہ کرائیں، مسواک نہ کریں تو ہم کیسے آسکتے ہیں؟ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [الواحدی:607:ضعیف]
مسند امام احمد میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا { مجلس درست اور ٹھیک ٹھاک کر لو آج وہ فرشتہ آ رہا ہے جو آج سے پہلے زمین پر کبھی نہیں آیا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:296/6:ضعیف]
ہمارے آگے پیچھے کی تمام چیزیں اسی اللہ کی ہیں یعنی دنیا اور آخرت اور اس کے درمیان کی یعنی دونوں نفخوں کے درمیان کی چیزیں بھی اسی کی تملیک کی ہیں۔ آنے والے امور آخرت اور گزر چکے ہوئے امور دنیا اور دنیا آخرت کے درمیان کے امور سب اسی کے قبضے میں ہیں۔ تیرا رب بھولنے والا نہیں اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی یاد سے فراموش نہیں کیا۔ نہ اس کی یہ صفت۔ جیسے فرمان «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:3-1] ’ قسم ہے چاشت کے وقت کی اور رات کی جب وہ ڈھانپ لے نہ تو تیرا رب تجھ سے دستبردار ہے نہ ناخوش ‘۔
ہمارے آگے پیچھے کی تمام چیزیں اسی اللہ کی ہیں یعنی دنیا اور آخرت اور اس کے درمیان کی یعنی دونوں نفخوں کے درمیان کی چیزیں بھی اسی کی تملیک کی ہیں۔ آنے والے امور آخرت اور گزر چکے ہوئے امور دنیا اور دنیا آخرت کے درمیان کے امور سب اسی کے قبضے میں ہیں۔ تیرا رب بھولنے والا نہیں اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی یاد سے فراموش نہیں کیا۔ نہ اس کی یہ صفت۔ جیسے فرمان «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:3-1] ’ قسم ہے چاشت کے وقت کی اور رات کی جب وہ ڈھانپ لے نہ تو تیرا رب تجھ سے دستبردار ہے نہ ناخوش ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو کچھ اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کر دیا وہ حلال ہے اور جو حرام کر دیا حرام ہے اور جس سے خاموش رہا وہ عافیت ہے تم اللہ کی عافیت کو قبول کر لو، اللہ کسی چیز کا بھولنے والا نہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جملہ تلاوت فرمایا } }۔ ۱؎ [فتح الباری:266/13:قال الشيخ الألباني:حسن]
آسمان و زمین اور ساری مخلوق کا خالق، مالک، مدبر، متصرف وہی ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے کسی حکم کو ٹال سکے۔ تو اسی کی عبادتیں کئے چلا جا اور اسی پر جما رہ۔ اس کے مثیل، شبیہ، ہم نام، ہم پلہ کوئی نہیں۔ وہ با برکت ہے وہ بلندیوں والا ہے اس کے نام میں تمام خوبیاں ہیں جل جلالہ۔
آسمان و زمین اور ساری مخلوق کا خالق، مالک، مدبر، متصرف وہی ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے کسی حکم کو ٹال سکے۔ تو اسی کی عبادتیں کئے چلا جا اور اسی پر جما رہ۔ اس کے مثیل، شبیہ، ہم نام، ہم پلہ کوئی نہیں۔ وہ با برکت ہے وہ بلندیوں والا ہے اس کے نام میں تمام خوبیاں ہیں جل جلالہ۔