ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 62

لَا یَسۡمَعُوۡنَ فِیۡہَا لَغۡوًا اِلَّا سَلٰمًا ؕ وَ لَہُمۡ رِزۡقُہُمۡ فِیۡہَا بُکۡرَۃً وَّ عَشِیًّا ﴿۶۲﴾
وہ اس میں کوئی لغو بات نہ سنیں گے مگر سلام اور ان کے لیے اس میں ان کا رزق صبح و شام ہوگا۔ En
وہ اس میں سلام کے سوا کوئی بیہودہ کلام نہ سنیں گے، اور ان کے لئے صبح وشام کا کھانا تیار ہوگا
En
وه لوگ وہاں کوئی لغو بات نہ سنیں گے صرف سلام ہی سلام سنیں گے، ان کے لئے وہاں صبح شام ان کا رزق ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 62) ➊ { لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا:} اہل ایمان کے لیے دنیا میں ایک شدید تکلیف لغو کلام سننا ہے، جسے وہ سننا نہیں چاہتے۔ اس تکلیف کا اندازہ اور اس سے بچے رہنے کی نعمت کی قدر صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جنھیں اس سے سابقہ پڑا ہو۔ جنت میں انھیں ایسی باتوں کے بجائے ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا فرشتوں کی طرف سے یا ایک دوسرے کی طرف سے سلام کی آواز آئے گی۔ دیکھیے سورۂ یس (۵۸) اور سورۂ رعد (۲۳، ۲۴) یا ایسی بات سنائی دے گی جو ہر طرح کی تکلیف سے پاک اور سراسر سلامتی والی ہو گی، یعنی کوئی لغو یا تکلیف دہ بات ان کے کانوں میں نہیں پڑے گی۔
➋ { بُكْرَةً وَّ عَشِيًّا:} بظاہر معنی یہ ہے کہ اتنی دیر کے بعد جتنی دیر کے بعد دنیا میں صبح سے شام ہوتی ہے مگر یہ معنی راجح نہیں، کیونکہ اتنی دیر تو دنیا میں کھانے پینے سے صبر کرنا مشکل ہے، تو وہ جنت ہی کیا ہوئی جس میں صرف صبح و شام راشن ملے۔ اس لیے اس کا معنی ہر وقت اور ہمیشہ ہے، یعنی ہر وقت جب بھی انھیں کھانے کی یا لذت کی کسی بھی چیز کی خواہش ہو گی، کیونکہ جنت میں دنیا کی طرح کا نہ دن ہو گا اور نہ رات۔ صبح شام بول کر ہمیشگی مراد لینا صرف عربی ہی نہیں ہر زبان کا عام محاورہ ہے۔ خصوصاً اس لیے کہ جنتیوں کو ہر وہ چیز ملے گی جس کی انھیں خواہش ہو گی، خواہ کسی وقت خواہش ہو۔ دیکھیے سورۂ زخرف (۷۱)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

62۔ 1 یعنی فرشتے بھی انھیں ہر طرف سے سلام کریں گے اور اہل جنت بھی آپس میں ایک دوسرے کو کثرت سے سلام کیا کریں گے۔ 62۔ 2 امام احمد نے اس کی تفسیر میں کہا کہ جنت میں رات اور دن نہیں ہونگے، صرف اجالا ہی اجالا اور روشی ہی روشنی ہوگی۔ حدیث میں ہے۔ جنت میں داخل ہونے والے پہلے گروہ کی شکلیں چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی، وہاں انھیں تھوک آئے گا نہ رینٹ اور بول وبزاز۔ ان کے برتن اور کنگھیاں سونے کی ہونگی، ان کا بخور، خوشبودار (لکڑی) ہوگی۔ ان کا پسینہ کستوری (کی طرح) ہوگا۔ ہر جنتی کی دو بیویاں ہوں گی، ان کی پنڈلیوں کا گودا ان کے گوشت کے پیچھے نظر آئے گا، ان کے حسن جمال کی وجہ سے۔ ان میں باہم بغض اور اختلاف نہیں ہوگا، ان کے دل، ایک دل کی طرح ہوں گے، صبح شام اللہ کی تسبیح کریں گے (صحیح بخاری)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ اس جنت میں وہ امن اور سلامتی کی باتوں کے علاوہ کوئی بیہودہ بات [57] نہ سنیں گے اور وہاں انھیں صبح و شام [58] ان کا رزق ملتا رہے گا۔
[57] لغو سے مراد:۔
بیہودہ بات سے مراد جھوٹی بات، غیبت، چغلی، تمسخر، فتنہ و فساد، یا شرارت کی بات، بے معنی بات یا گندی اور شہوانیت کی بات اور گالی گلوچ سب کچھ شامل ہے۔ گویا جنت کا معاشرہ ایسا پاکیزہ معاشرہ ہو گا کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی وہاں نہ پائی جائے گی اور لفظ سلٰما کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ میں مذکور ہے۔ اور اس لفظ کا دوسرا مطلب لفظ لغو کی ضد کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ یعنی اہل جنت آپس میں ایسے پیار، محبت اور خلوص سے رہیں گے جو ہر طرح کے معاشرتی عیوب و نقائص سے پاک ہو گا۔ اور ایسے پاکیزہ معاشرہ کی قدر و قیمت صرف وہ آدمی جان سکتا ہے جو خود تو پاکیزہ خصلت ہو لیکن اسے کسی گندے معاشرے میں رہنا پڑا ہو۔
[58] یعنی روحانی غذائیں بھی جیسے تسبیح و تہلیل اور ذکر و اذکار اور جسمانی بھی اور ان دونوں طرح کی غذاؤں کا ذکر کتاب و سنت میں بکثرت موجود ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ تعالٰی کے وعدے برحق ہیں ٭٭
جن جنتوں میں گناہوں سے توبہ کرنے والے داخل ہوں گے، یہ جنتیں ہمیشہ والی ہوں گی جن کا غائبانہ وعدہ ان سے ان کا رب کر چکا ہے۔ ان جنتوں کو انہوں نے دیکھا نہیں لیکن تاہم دیکھنے سے بھی زیادہ انہیں ان پر یقین و ایمان ہے۔ بات بھی یہی ہے کہ اللہ کے وعدے اٹل ہوتے ہیں «وَعْدُهُ مَفْعُولًا» ۱؎ [73-المزمل:18]‏‏‏‏ ’ وہ حقائق ہیں جو سامنے آ کر ہی رہیں گے ‘۔ نہ اللہ وعدہ خلافی کرے نہ وعدے کو بدلے، یہ لوگ وہاں ضرور پہنچائے جائیں گے اور اسے ضرور پائیں گے۔
«مَأْتِيًّا» کے معنی «اَتِیًا» کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ جہاں ہم جائیں، وہ ہمارے پاس آ ہی گیا۔ جیسے کہتے ہیں، مجھ پر پچاس سال آئے یا میں پچاس سال کو پہنچا۔ مطلب دونوں جملوں کا ایک ہی ہوتا ہے۔ ناممکن ہے کہ ان جنتوں میں کوئی لغو اور ناپسندیدہ کلام ان کے کانوں میں پڑے۔ صرف مبارک سلامت کی دھوم ہو گی۔ چاروں طرف سے اور خصوصاً فرشتوں کی پاک زبانی یہی مبارک صدائیں کان میں گونجتی رہیں گی۔
جیسے سورۃ الواقعہ میں ہے «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا» ۱؎ [56-الواقعة:26،25]‏‏‏‏ ’ وہاں کوئی بے ہودہ اور خلاف طبع سخن نہ سنیں گے بجز سلام اور سلامتی کے ‘۔ یہ استثنا منقطع ہے۔ صبح شام پاک، طیب، عمدہ، خوش ذائقہ روزیاں بلا تکلف و تکلیف بے مشقت و زحمت چلی آئیں گی۔ لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ جنت میں بھی دن رات ہونگے، نہیں، بلکہ ان انوار سے ان وقتوں کو جنتی پہچان لیں گے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں۔
چنانچہ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے روشن اور نورانی ہوں گے۔ نہ وہاں انہیں تھوک آئے گا نہ ناک آئے گی نہ پیشاب پاخانہ۔ ان کے برتن اور فرنیچر سونے کے ہوں گے، ان کا بخور خوشبودار اگر ہو گا، ان کے پسینے مشک بو ہوں گے۔ ہر ایک جنتی مرد کی دو بیویاں تو ایسی ہوں گی کہ ان کے پنڈے کی صفائی سے ان کی پنڈلیوں کی نلی کا گودا تک باہر سے نظر آئے۔ ان سب جنتوں میں نہ تو کسی کو کسی سے عداوت ہو گی نہ بغض، سب ایک دل ہوں گے۔ کوئی اختلاف باہم دیگر نہ ہو گا۔ صبح شام اللہ کی تسبیح میں گزریں گے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3245]‏‏‏‏
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، شہید لوگ اس وقت جنت کی ایک نہر کے کنارے جنت کے دروازے کے پاس سرخ رنگ قبوں میں ہیں۔ صبح شام روزی پہنچائے جاتے ہیں } [مسند احمد:266/1:حسن]‏‏‏‏
پس صبح و شام بااعتبار دنیا کے ہے، وہاں رات نہیں بلکہ ہروقت نور کا سماں ہے، پردے گر جانے اور دروازے بند ہو جانے سے اہل جنت وقت شام کو اور اسی طرح پردوں کے ہٹ جانے اور دروازوں کے کھل جانے سے صبح کے وقت کو جان لیں گے۔ ان دروازوں کا کھلنا بند ہونا بھی جنتیوں کے اشاروں اور حکموں پر ہوگا۔ یہ دروازے بھی اس قدر صاف شفاف آئینہ نما ہیں کہ باہر کی چیزیں اندر سے نظر آئیں۔ چونکہ دنیا میں دن رات کی عادت تھی، اس لیے جو وقت جب چاہیں گے پائیں گے۔
چونکہ عرب صبح شام ہی کھانا کھانے کے عادی تھے، اس لیے جنتی رزق کا وقت بھی وہی بتایا گیا ہے ورنہ جنتی جو چاہیں جب چاہیں موجود پائیں گے۔ چنانچہ ایک غریب منکر حدیث میں ہے کہ { صبح شام کا کیا ٹھیکہ ہے، رزق تو بے شمار ہر وقت موجود ہے لیکن اللہ کے دوستوں کے پاس ان اوقات میں حوریں آئیں گی جن میں ادنی درجے کی وہ ہوں گی جو صرف زعفران سے پیدا کی گئی ہیں }۔ ۱؎ [الکامل لا بن عدی:239/6:ضعیف]‏‏‏‏
یہ نعمتوں والی جنتیں انہیں ملیں گی جو ظاہر باطن اللہ کے فرمانبردار تھے، جو غصہ پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے تھے، جن کی صفتیں «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» سے «هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» تک [23-المؤمنون:11-1]‏‏‏‏ کے شروع میں بیان ہوئی ہیں اور فرمایا گیا ہے کہ ’ یہی وارث فردوس بریں ہیں جن کے لیے دوامی طور پر جنت الفردوس اللہ نے لکھ دی ہے ‘۔ (‏‏‏‏اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ ہمیں بھی تو اپنی رحمت کاملہ سے فردوس بریں میں پہنچا، آمین)