تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«مَأْتِيًّا» کے معنی «اَتِیًا» کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ جہاں ہم جائیں، وہ ہمارے پاس آ ہی گیا۔ جیسے کہتے ہیں، مجھ پر پچاس سال آئے یا میں پچاس سال کو پہنچا۔ مطلب دونوں جملوں کا ایک ہی ہوتا ہے۔ ناممکن ہے کہ ان جنتوں میں کوئی لغو اور ناپسندیدہ کلام ان کے کانوں میں پڑے۔ صرف مبارک سلامت کی دھوم ہو گی۔ چاروں طرف سے اور خصوصاً فرشتوں کی پاک زبانی یہی مبارک صدائیں کان میں گونجتی رہیں گی۔
جیسے سورۃ الواقعہ میں ہے «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا» ۱؎ [56-الواقعة:26،25] ’ وہاں کوئی بے ہودہ اور خلاف طبع سخن نہ سنیں گے بجز سلام اور سلامتی کے ‘۔ یہ استثنا منقطع ہے۔ صبح شام پاک، طیب، عمدہ، خوش ذائقہ روزیاں بلا تکلف و تکلیف بے مشقت و زحمت چلی آئیں گی۔ لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ جنت میں بھی دن رات ہونگے، نہیں، بلکہ ان انوار سے ان وقتوں کو جنتی پہچان لیں گے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، شہید لوگ اس وقت جنت کی ایک نہر کے کنارے جنت کے دروازے کے پاس سرخ رنگ قبوں میں ہیں۔ صبح شام روزی پہنچائے جاتے ہیں } [مسند احمد:266/1:حسن]
پس صبح و شام بااعتبار دنیا کے ہے، وہاں رات نہیں بلکہ ہروقت نور کا سماں ہے، پردے گر جانے اور دروازے بند ہو جانے سے اہل جنت وقت شام کو اور اسی طرح پردوں کے ہٹ جانے اور دروازوں کے کھل جانے سے صبح کے وقت کو جان لیں گے۔ ان دروازوں کا کھلنا بند ہونا بھی جنتیوں کے اشاروں اور حکموں پر ہوگا۔ یہ دروازے بھی اس قدر صاف شفاف آئینہ نما ہیں کہ باہر کی چیزیں اندر سے نظر آئیں۔ چونکہ دنیا میں دن رات کی عادت تھی، اس لیے جو وقت جب چاہیں گے پائیں گے۔
چونکہ عرب صبح شام ہی کھانا کھانے کے عادی تھے، اس لیے جنتی رزق کا وقت بھی وہی بتایا گیا ہے ورنہ جنتی جو چاہیں جب چاہیں موجود پائیں گے۔ چنانچہ ایک غریب منکر حدیث میں ہے کہ { صبح شام کا کیا ٹھیکہ ہے، رزق تو بے شمار ہر وقت موجود ہے لیکن اللہ کے دوستوں کے پاس ان اوقات میں حوریں آئیں گی جن میں ادنی درجے کی وہ ہوں گی جو صرف زعفران سے پیدا کی گئی ہیں }۔ ۱؎ [الکامل لا بن عدی:239/6:ضعیف]
یہ نعمتوں والی جنتیں انہیں ملیں گی جو ظاہر باطن اللہ کے فرمانبردار تھے، جو غصہ پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے تھے، جن کی صفتیں «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» سے «هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» تک [23-المؤمنون:11-1] کے شروع میں بیان ہوئی ہیں اور فرمایا گیا ہے کہ ’ یہی وارث فردوس بریں ہیں جن کے لیے دوامی طور پر جنت الفردوس اللہ نے لکھ دی ہے ‘۔ (اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ ہمیں بھی تو اپنی رحمت کاملہ سے فردوس بریں میں پہنچا، آمین)
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر أنَّ الجنَّة التي وعدهم بدخولها ليست كسائر الجنات، وإنما هي {جَنَّاتِ عدنٍ}؛ أي: جنات إقامةٍ لا ظعن فيها ولا حِوَل ولا زوال، وذلك لسعتها وكثرة ما فيها من الخيرات والسرور والبهجة والحبور. {التي وَعَدَ الرحمن عباده بالغيب}؛ أي: التي وَعَدَها الرحمن، أضافها إلى اسمه الرحمن؛ لأنَّها فيها من الرحمة والإحسان ما لا عينٌ رأت ولا أذنٌ سمعت ولا خَطَرَ على قلب بشر، وسماها تعالى رَحْمَتَهُ، فقال: {وأمَّا الذين ابيضَّت وجوهُهم ففي رحمةِ الله هم فيها خالدونَ}. وأيضاً؛ ففي إضافتها إلى رحمته ما يدلُّ على استمرار سرورها، وأنَّها باقيةٌ ببقاء رحمتِهِ التي هي أثرُها وموجَبُها.
والعبادُ في هذه الآية المرادُ عبادُ إلهيَّته، الذين عَبَدوه والتزموا شرائِعَه، فصارت العبوديَّة وصفاً لهم؛ كقوله: {وعبادُ الرحمن}، ونحوه؛ بخلاف عباده المماليك فقط، الذين لم يعبُدوه؛ فهؤلاء وإنْ كانوا عبيداً لربوبيَّته لأنَّه خلقهم ورزقهم ودبَّرهم؛ فليسوا داخلين في عبيد إلهيَّته، العبوديَّة الاختيارية التي يُمْدَحُ صاحبها، وإنَّما عبوديَّتهم عبوديَّة اضطرارٍ لا مدح لهم فيها.
وقوله: {بالغيب}: يُحتمل أن تكون متعلِّقة بوعد الرحمن، فيكون المعنى على هذا: أنَّ الله وَعَدَهم إيَّاها وعداً غائباً لم يشاهِدوه، ولم يَرَوْه فآمنوا بها، وصدَّقوا غيبها، وسَعَوا لها سَعْيها مع أنَّهم لم يَرَوْها؛ فكيف لو رأوها؛ لكانوا أشدَّ لها طَلَباً وأعظم فيها رغبةً وأكثر لها سعياً، ويكون في هذا مدحٌ لهم بإيمانهم بالغيبِ، الذي هو الإيمان النافع.
ويُحتمل أن تكونَ متعلِّقة بعبادِهِ؛ أي: الذين عبدوه في حال غيبهم وعدم رؤيتهم إيَّاه؛ فهذه عبادتُهم ولم يروه؛ فلو رأوه؛ لكانوا أشدَّ له عبادةً وأعظم إنابةً وأكثر حبًّا وأجلَّ شوقاً.
ويحتمل أيضاً أنَّ المعنى: هذه الجناتُ التي وَعَدَها الرحمن عبادَه من الأمورِ التي لا تدرِكُها الأوصاف ولا يعلمُها أحدٌ إلاَّ الله؛ ففيه من التشويق لها والوصف المجمل ما يهيجُ النفوسَ، ويزعِجُ الساكن إلى طلبها، فيكون هذا مثل قوله: {فلا تعلم نفسٌ ما أخْفِيَ لهم من قُرَّةِ أعيُنٍ جزاءً بما كانوا يعملون}.
والمعاني كلُّها صحيحةٌ ثابتةٌ، ولكن الاحتمال الأوَّل أولى؛ بدليل قوله: {إنَّه كان وعدُهُ مأتِيًّا}: لا بدَّ من وقوعه؛ فإنَّه لا يُخْلِفُ الميعاد، وهو أصدق القائلين.