ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 61

جَنّٰتِ عَدۡنِۣ الَّتِیۡ وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ عِبَادَہٗ بِالۡغَیۡبِ ؕ اِنَّہٗ کَانَ وَعۡدُہٗ مَاۡتِیًّا ﴿۶۱﴾
ہمیشگی کے باغات میں، جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے (ان کے) بن دیکھے وعدہ کیا ہے۔ بلاشبہ حقیقت یہ ہے کہ اس کا وعدہ ہمیشہ سے پورا ہو کر رہنے والا ہے۔ En
(یعنی) بہشت جاودانی (میں) جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے (اور جو ان کی آنکھوں سے) پوشیدہ (ہے) ۔ بےشک اس کا وعدہ (نیکوکاروں کے سامنے) آنے والا ہے
En
ہمیشگی والی جنتوں میں جن کا غائبانہ وعده اللہ مہربان نے اپنے بندوں سے کیا ہے۔ بیشک اس کا وعده پورا ہونے واﻻ ہی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 61){جَنّٰتِ عَدْنٍ الَّتِيْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ …:} ہمیشگی کی جنتوں کا وعدہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے اپنے رحمان ہونے اور بندوں کو اپنا بندہ کہنے کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی رحمت کس قدر بے حساب و بے کنار ہے اور فرماں بردار بندوں سے اس کا تعلق کتنا گہرا اور پیارا ہے۔ بن دیکھے کا مطلب یہ ہے کہ بندوں سے اس رحمان نے وعدہ کیا ہے جس رحمان کو انھوں نے نہیں دیکھا، یعنی بن دیکھے اس پر ایمان لائے ہیں۔ دوسرا معنی ہے کہ رحمان نے ان سے ایسی جنتوں کا وعدہ کیا ہے جو انھوں نے دیکھی نہیں مگر انھیں دیکھے بغیر ہی ان کے ملنے کا یقین ہے، کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ رحمان کا وعدہ ہمیشہ پورا ہو کر رہنے والا ہے۔ {اِنَّ} تعلیل کے لیے ہے۔ { مَاْتِيًّا أَتَي يَأْتِيْ} سے اسم مفعول ہے۔ اللہ کا وعدہ جنت ہے اور اس کے بندے یقینا اس میں آنے والے ہیں، یہ بات اس لیے فرمائی کہ عموماً لوگ ان دیکھی چیزوں کے کیے ہوئے وعدے پورے نہیں کرتے۔ (بقاعی) اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہنے پر مشتمل آیات کے لیے دیکھیے سورۂ رعد (۳۱)، آل عمران (۱۹۴، ۱۹۵)، بنی اسرائیل (۱۰۸)، مزمل (۱۷، ۱۸) اور فرقان (۱۵، ۱۶)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

61۔ 1 یعنی یہ ان کے ایمان و یقین کی پختگی ہے کہ انہوں نے جنت کو دیکھا بھی نہیں، صرف اللہ کے غائبانہ وعدے پر ہی اس کے حصول کے لئے ایمان وتقویٰ کا راستہ اختیار کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

61۔ وہ جنت ایسے ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے وعدہ کر رکھا ہے اور انھیں کسی نے دیکھا نہیں۔ بلا شبہ اس کا وعدہ پیش آکے رہے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ تعالٰی کے وعدے برحق ہیں ٭٭
جن جنتوں میں گناہوں سے توبہ کرنے والے داخل ہوں گے، یہ جنتیں ہمیشہ والی ہوں گی جن کا غائبانہ وعدہ ان سے ان کا رب کر چکا ہے۔ ان جنتوں کو انہوں نے دیکھا نہیں لیکن تاہم دیکھنے سے بھی زیادہ انہیں ان پر یقین و ایمان ہے۔ بات بھی یہی ہے کہ اللہ کے وعدے اٹل ہوتے ہیں «وَعْدُهُ مَفْعُولًا» ۱؎ [73-المزمل:18]‏‏‏‏ ’ وہ حقائق ہیں جو سامنے آ کر ہی رہیں گے ‘۔ نہ اللہ وعدہ خلافی کرے نہ وعدے کو بدلے، یہ لوگ وہاں ضرور پہنچائے جائیں گے اور اسے ضرور پائیں گے۔
«مَأْتِيًّا» کے معنی «اَتِیًا» کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ جہاں ہم جائیں، وہ ہمارے پاس آ ہی گیا۔ جیسے کہتے ہیں، مجھ پر پچاس سال آئے یا میں پچاس سال کو پہنچا۔ مطلب دونوں جملوں کا ایک ہی ہوتا ہے۔ ناممکن ہے کہ ان جنتوں میں کوئی لغو اور ناپسندیدہ کلام ان کے کانوں میں پڑے۔ صرف مبارک سلامت کی دھوم ہو گی۔ چاروں طرف سے اور خصوصاً فرشتوں کی پاک زبانی یہی مبارک صدائیں کان میں گونجتی رہیں گی۔
جیسے سورۃ الواقعہ میں ہے «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا» ۱؎ [56-الواقعة:26،25]‏‏‏‏ ’ وہاں کوئی بے ہودہ اور خلاف طبع سخن نہ سنیں گے بجز سلام اور سلامتی کے ‘۔ یہ استثنا منقطع ہے۔ صبح شام پاک، طیب، عمدہ، خوش ذائقہ روزیاں بلا تکلف و تکلیف بے مشقت و زحمت چلی آئیں گی۔ لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ جنت میں بھی دن رات ہونگے، نہیں، بلکہ ان انوار سے ان وقتوں کو جنتی پہچان لیں گے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں۔
چنانچہ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے روشن اور نورانی ہوں گے۔ نہ وہاں انہیں تھوک آئے گا نہ ناک آئے گی نہ پیشاب پاخانہ۔ ان کے برتن اور فرنیچر سونے کے ہوں گے، ان کا بخور خوشبودار اگر ہو گا، ان کے پسینے مشک بو ہوں گے۔ ہر ایک جنتی مرد کی دو بیویاں تو ایسی ہوں گی کہ ان کے پنڈے کی صفائی سے ان کی پنڈلیوں کی نلی کا گودا تک باہر سے نظر آئے۔ ان سب جنتوں میں نہ تو کسی کو کسی سے عداوت ہو گی نہ بغض، سب ایک دل ہوں گے۔ کوئی اختلاف باہم دیگر نہ ہو گا۔ صبح شام اللہ کی تسبیح میں گزریں گے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3245]‏‏‏‏
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، شہید لوگ اس وقت جنت کی ایک نہر کے کنارے جنت کے دروازے کے پاس سرخ رنگ قبوں میں ہیں۔ صبح شام روزی پہنچائے جاتے ہیں } [مسند احمد:266/1:حسن]‏‏‏‏
پس صبح و شام بااعتبار دنیا کے ہے، وہاں رات نہیں بلکہ ہروقت نور کا سماں ہے، پردے گر جانے اور دروازے بند ہو جانے سے اہل جنت وقت شام کو اور اسی طرح پردوں کے ہٹ جانے اور دروازوں کے کھل جانے سے صبح کے وقت کو جان لیں گے۔ ان دروازوں کا کھلنا بند ہونا بھی جنتیوں کے اشاروں اور حکموں پر ہوگا۔ یہ دروازے بھی اس قدر صاف شفاف آئینہ نما ہیں کہ باہر کی چیزیں اندر سے نظر آئیں۔ چونکہ دنیا میں دن رات کی عادت تھی، اس لیے جو وقت جب چاہیں گے پائیں گے۔
چونکہ عرب صبح شام ہی کھانا کھانے کے عادی تھے، اس لیے جنتی رزق کا وقت بھی وہی بتایا گیا ہے ورنہ جنتی جو چاہیں جب چاہیں موجود پائیں گے۔ چنانچہ ایک غریب منکر حدیث میں ہے کہ { صبح شام کا کیا ٹھیکہ ہے، رزق تو بے شمار ہر وقت موجود ہے لیکن اللہ کے دوستوں کے پاس ان اوقات میں حوریں آئیں گی جن میں ادنی درجے کی وہ ہوں گی جو صرف زعفران سے پیدا کی گئی ہیں }۔ ۱؎ [الکامل لا بن عدی:239/6:ضعیف]‏‏‏‏
یہ نعمتوں والی جنتیں انہیں ملیں گی جو ظاہر باطن اللہ کے فرمانبردار تھے، جو غصہ پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے تھے، جن کی صفتیں «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» سے «هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» تک [23-المؤمنون:11-1]‏‏‏‏ کے شروع میں بیان ہوئی ہیں اور فرمایا گیا ہے کہ ’ یہی وارث فردوس بریں ہیں جن کے لیے دوامی طور پر جنت الفردوس اللہ نے لکھ دی ہے ‘۔ (‏‏‏‏اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ ہمیں بھی تو اپنی رحمت کاملہ سے فردوس بریں میں پہنچا، آمین)

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ جنت جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے عام باغات کی مانند نہیں بلکہ وہ تو ﴿ جَنّٰتِ عَدْنٍ ہمیشہ قیام والی جنتیں ہیں جہاں نازل ہونے والے کبھی کوچ کریں گے نہ کہیں اور منتقل ہوں گے اور نہ ان کی نعمتیں زائل ہوں گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ یہ جنتیں بہت وسیع ہوں گی اور ان میں بے شمار نعمتیں، مسرتیں، رونقیں اور خوش کن چیزیں ہوں گی۔
﴿الَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ یعنی جس کا رحمان نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنت کو اپنے اسم مبارک (الرحمان) کی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ ان میں ایسی رحمتیں اور ایسا حسن سلوک ہو گا کہ ان کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور میں کبھی ان کا گزر ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنت کو اپنی رحمت سے موسوم فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿وَاَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَ٘فِیْ رَحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰؔلِدُوْنَ (آل عمران:3؍107) اور جن کے چہرے سفید اور روشن ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ نیز اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف ان کی اضافت، ان کی مسرتوں کے دوام پر دلالت کرتی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بقاء کے ساتھ یہ بھی باقی رہیں گی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار اور اس کی موجبات میں شمار ہوتی ہیں۔
اس آیت کریمہ میں (عباد) سے مراد اس کی الوہیت کے معتقد وہ بندے ہیں جو اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کی شریعت کا التزام کرتے ہیں۔ پس عبودیت ان کا وصف بن جاتی ہے، مثلاً: (عباد الرحمن) وغیرہ بخلاف ان بندوں کے جو ملک کے اعتبار سے تو اس کے بندے ہیں مگر اس کی عبادت نہیں کرتے۔ یہ بندے اگرچہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے بندے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا، وہ ان کو رزق عطا کرتا ہے اور ان کی تدبیر کرتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کے بندے نہیں اور اس کی عبودیت اختیاری کے تحت نہیں آتے جس کو اختیار کرنے والا قابل مدح ہے۔ ان کی عبودیت تو عبودیت اضطراری ہے جو قابل مدح نہیں۔
ارشاد مقدس ﴿بِالْغَیْبِ میں یہ احتمال ہے کہ ﴿وَعَدَ الرَّحْمٰنُ سے متعلق ہو تب اس احتمال کی صورت میں یہ معنیٰ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ ان جنتوں کا غائبانہ وعدہ کیا ہے جن کا انھوں نے مشاہدہ کیا ہے نہ ان کو دیکھا ہے، وہ ان پر ایمان لائے، غائبانہ ان کی تصدیق کی اور ان کے حصول کے لیے کوشاں رہے، حالانکہ انھوں نے ان کو دیکھا ہی نہیں اور اگر وہ ان کو دیکھ لیتے تب ان کا کیا حال ہوتا، اس صورت میں ان کی شدید طلب رکھتے ہیں، ان میں بہت زیادہ رغبت رکھتے اور ان کے حصول کے لیے سخت کوشش کرتے۔ اس میں ان کے ایمان بالغیب کی بنا پر ان کی مدح ہے، یہی وہ ایمان ہے جو فائدہ دیتا ہے، نیز اس امر کا احتمال بھی ہے کہ (بالغیب) (عبادہ) سے متعلق ہو یعنی وہ لوگ جنھوں نے حالت غیب میں اور اللہ تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس کی عبادت کی۔ ان کی عبادت کا یہ حال ہے حالانکہ انھوں نے اس کو دیکھا نہیں اگر وہ اس کو دیکھ لیتے تو وہ اس کی بہت زیادہ عبادت کرتے اور اس کی طرف بہت زیادہ رجوع کرتے اور اللہ تعالیٰ کے لیے ان کے اندر بہت زیادہ محبت اور اشتیاق ہوتا۔
اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ یہ جنتیں، جن کا رحمٰن نے اپنے بندوں کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے، ان کا تعلق ایسے امور کے ساتھ ہے جو اوصاف کے دائرۂ ادراک سے باہر ہیں۔ جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔پس اس آیت کریمہ میں جنت کے لیے شوق ابھارا گیا ہے، نیز آیت کریمہ میں بیان کردہ مجمل وصف نفوس کو اس کے حصول اور ساکن کو اس کی طلب میں متحرک کرتا ہے اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَ٘فْ٘سٌ مَّاۤ اُخْ٘فِیَ لَهُمْ مِّنْ قُ٘رَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (السجدۃ:32؍17) کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے اعمال کے صلے میں ان کے لیے آنکھوں کی کون سی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔ مذکورہ تمام معانی صحیح اور ثابت ہیں۔ البتہ پہلا احتمال زیادہ صحیح ہے اوراس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا بے شک اس کا وعدہ آنے والا ہے۔ یعنی یہ ضرور ہوکر رہے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ وہ سب سے زیادہ سچی ہستی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر أنَّ الجنَّة التي وعدهم بدخولها ليست كسائر الجنات، وإنما هي {جَنَّاتِ عدنٍ}؛ أي: جنات إقامةٍ لا ظعن فيها ولا حِوَل ولا زوال، وذلك لسعتها وكثرة ما فيها من الخيرات والسرور والبهجة والحبور. {التي وَعَدَ الرحمن عباده بالغيب}؛ أي: التي وَعَدَها الرحمن، أضافها إلى اسمه الرحمن؛ لأنَّها فيها من الرحمة والإحسان ما لا عينٌ رأت ولا أذنٌ سمعت ولا خَطَرَ على قلب بشر، وسماها تعالى رَحْمَتَهُ، فقال: {وأمَّا الذين ابيضَّت وجوهُهم ففي رحمةِ الله هم فيها خالدونَ}. وأيضاً؛ ففي إضافتها إلى رحمته ما يدلُّ على استمرار سرورها، وأنَّها باقيةٌ ببقاء رحمتِهِ التي هي أثرُها وموجَبُها.

والعبادُ في هذه الآية المرادُ عبادُ إلهيَّته، الذين عَبَدوه والتزموا شرائِعَه، فصارت العبوديَّة وصفاً لهم؛ كقوله: {وعبادُ الرحمن}، ونحوه؛ بخلاف عباده المماليك فقط، الذين لم يعبُدوه؛ فهؤلاء وإنْ كانوا عبيداً لربوبيَّته لأنَّه خلقهم ورزقهم ودبَّرهم؛ فليسوا داخلين في عبيد إلهيَّته، العبوديَّة الاختيارية التي يُمْدَحُ صاحبها، وإنَّما عبوديَّتهم عبوديَّة اضطرارٍ لا مدح لهم فيها.

وقوله: {بالغيب}: يُحتمل أن تكون متعلِّقة بوعد الرحمن، فيكون المعنى على هذا: أنَّ الله وَعَدَهم إيَّاها وعداً غائباً لم يشاهِدوه، ولم يَرَوْه فآمنوا بها، وصدَّقوا غيبها، وسَعَوا لها سَعْيها مع أنَّهم لم يَرَوْها؛ فكيف لو رأوها؛ لكانوا أشدَّ لها طَلَباً وأعظم فيها رغبةً وأكثر لها سعياً، ويكون في هذا مدحٌ لهم بإيمانهم بالغيبِ، الذي هو الإيمان النافع.

ويُحتمل أن تكونَ متعلِّقة بعبادِهِ؛ أي: الذين عبدوه في حال غيبهم وعدم رؤيتهم إيَّاه؛ فهذه عبادتُهم ولم يروه؛ فلو رأوه؛ لكانوا أشدَّ له عبادةً وأعظم إنابةً وأكثر حبًّا وأجلَّ شوقاً.

ويحتمل أيضاً أنَّ المعنى: هذه الجناتُ التي وَعَدَها الرحمن عبادَه من الأمورِ التي لا تدرِكُها الأوصاف ولا يعلمُها أحدٌ إلاَّ الله؛ ففيه من التشويق لها والوصف المجمل ما يهيجُ النفوسَ، ويزعِجُ الساكن إلى طلبها، فيكون هذا مثل قوله: {فلا تعلم نفسٌ ما أخْفِيَ لهم من قُرَّةِ أعيُنٍ جزاءً بما كانوا يعملون}.

والمعاني كلُّها صحيحةٌ ثابتةٌ، ولكن الاحتمال الأوَّل أولى؛ بدليل قوله: {إنَّه كان وعدُهُ مأتِيًّا}: لا بدَّ من وقوعه؛ فإنَّه لا يُخْلِفُ الميعاد، وهو أصدق القائلين.