تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
رہا ادریس علیہ السلام کا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹے کے بجائے بھائی کہنا، تو یہ تواضع سے بھی ہو سکتا ہے اور امام بخاری کا حدیث معراج کو لانا {” وَ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا “} کی تفسیر کے طور پر بھی ہو سکتا ہے اور جو ادریس اور الیاس علیھما السلام کو ایک قرار دینا ہے تو صحابہ کرام اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کریں تو وہ بات یقینی ہے، ورنہ وحی الٰہی کے بغیر ہزاروں سال پہلے کے متعلق ان کی بات یقینی کیسے ہو سکتی ہے؟ خصوصاً جب یہ بھی امکان ہو کہ وہ بات اہل کتاب میں سے کسی سے سن کر بیان ہوئی ہے۔ اس لیے امام بخاری کا ادریس علیہ السلام کو جزم کے ساتھ نوح علیہ السلام کے والد کا دادا قرار دینا ہی راجح معلوم ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم)
➋ {وَ مِمَّنْ هَدَيْنَا وَ اجْتَبَيْنَا …:} چند انبیاء علیھم السلام کے نام ذکر کرنے کے بعد ان الفاظ کے ساتھ تمام انبیاء کو بھی شامل فرما دیا، جیسا کہ سورۂ انعام کی آیت (۸۷) میں ہے۔ اس آیت میں جو فرمایا: «{ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْاسُجَّدًا وَّ بُكِيًّا }» اس میں صراحت فرمائی کہ ان انبیاء کے سامنے جب رحمان کی آیات پڑھی جاتیں تو وہ روتے ہوئے سجدے میں گر جاتے۔ {”بُكِيًّا “ ”بَكَي يَبْكِيْ بُكَاءً“} (ض) سے اسم فاعل {”بَاكٍ“} کی جمع ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ اہل علم کا اجماع ہے کہ انبیاء کی اقتدا میں یہاں سجدہ کرنا مشروع ہے۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے ذکر فرمایا: [قَرَأَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سُوْرَةَ مَرْيَمَ فَسَجَدَ وَقَالَ هٰذَا السُّجُوْدُ فَأَيْنَ الْبُكِيُّ؟] ”عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سورۂ مریم پڑھی تو سجدہ کیا اور فرمایا: ”یہ تو سجدہ ہوا مگر رونے والے کہاں ہیں؟“ حکمت بن بشیر نے اسے صحیح کہا ہے۔ آیاتِ الٰہی سن کر رونا، دل کا ڈر جانا، رونگٹے کھڑے ہونا اور روتے ہوئے سجدے میں گر جانا، یہ صفات اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی اور نیک بندوں کی بیان کی ہیں۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۰۷ تا ۱۰۹)، مائدہ (۸۳)، انفال (۲) اور زمر (۲۳) وغیرہ۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہی قول ہے سدی رحمۃاللہ علیہ اور ابن جریر رحمہ اللہ کا، اسی لیے ان کے نسب جداگانہ بیان فرمائے گئے کہ گو اولاد آدم میں سب ہیں مگر ان میں بعض وہ بھی ہیں جو ان بزرگوں کی نسل سے نہیں جو نوح علیہ السلام کے ساتھ تھے کیونکہ ادریس تو نوح علیہ السلام کے دادا تھے۔ میں کہتا ہوں، بظاہر یہی ٹھیک ہے کہ نوح علیہ السلام کے اوپر کے نسب میں اللہ کے پیغمبر ادریس علیہ السلام ہیں۔ ہاں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ادریس علیہ السلام بنی اسرائیلی نبی ہیں۔
مروی ہے کہ ادریس علیہ السلام نوح علیہ السلام سے پہلے کے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے قائل اور معتقد بن جاؤ پھر جو چاہو کرو لیکن انہوں نے اس کا انکار کیا اللہ عزوجل نے ان سب کو ہلاک کر دیا۔ ہم نے اس آیت کو جنس انبیاء کے لیے قرار دیا ہے۔ اس کی دلیل سورۃ الانعام کی وہ آیتیں ہیں جن میں ابراہیم علیہ السلام، اسحاق علیہ السلام، یعقوب علیہ السلام، نوح علیہ السلام، داؤد علیہ السلام، سلیمان علیہ السلام، ایوب علیہ السلام، یوسف علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، ہارون علیہ السلام، زکریا علیہ السلام، یحییٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، الیاس علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، یونس علیہ السلام وغیرہ کا ذکر اور تعریف کرنے کے بعد فرمایا «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ قُلْ لَّآ اَسْــــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰي لِلْعٰلَمِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:90] ’ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی۔ تو ابھی ان کی ہدایت کی اقتداء کر ‘۔
اور یہ بھی فرمایا ہے کہ نبیوں میں سے بعض کے واقعات ہم نے بیان کر دیے ہیں اور بعض کے واقعات تم تک پہنچے ہی نہیں۔
فرمان ہے کہ ’ ان پیغمبروں کے سامنے جب کلام اللہ شریف کی آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تو اس کے دلائل و براہین کو سن کر خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان مانتے ہوئے روتے گڑگڑاتے سجدے میں گر پڑتے تھے ‘۔ اسی لیے اس آیت پر سجدہ کرنے کا حکم علماء کا متفق علیہ مسئلہ ہے تاکہ ان پیغمبروں کی اتباع اور اقتداء ہو جائے۔
امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا نے سورۃ مریم کی تلاوت کی اور جب اس آیت پر پہنچے تو سجدہ کیا پھر فرمایا ”سجدہ تو کیا لیکن وہ رونا کہاں سے لائیں“؟ [ابن ابی حاتم اور ابن جریر]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذَكَرَ هؤلاء الأنبياء المُكْرَمين وخواصَّ المرسلين وذَكَرَ فضائِلَهم ومراتبهم؛ قال: {أولئك الذين أنعم الله عليهم من النبيِّين}؛ أي: أنعم الله عليهم نعمةً لا تُلحق ومنَّةً لا تُسْبَق؛ من النبوَّة والرسالة، وهم الذين أمِرْنا أن ندعُو الله أن يهدِيَنا صراط الذين أنعم عليهم، وأنَّ مَن أطاع الله كان {مع الذين أنعمَ الله عليهِمْ من النبيِّين ... } الآية، وأنَّ بعضهم {من ذُرِّيَّة آدم وممَّن حملنا مع نوح}؛ أي: من ذرِّيَّته. {ومن ذُرِّيَّة إبراهيم وإسرائيل}: فهذه خير بيوت العالم، اصطفاهم الله واختارهم واجتباهم، وكان حالهم عند تلاوة آيات الرحمن عليهم، المتضمِّنة للإخبار بالغُيوب وصفات عَلاَّم الغيوب والإخبار باليوم الآخر والوعد والوعيد؛ {خَرُّوا سُجَّداً وبُكِيًّا}؛ أي: خضعوا لآيات الله، وخشعوا لها، وأثَّرت في قلوبهم من الإيمان والرغبة والرهبة ما أوجب لهم البُكاء والإنابة والسُّجود لربِّهم، ولم يكونوا من الذين إذا سمعوا آيات الله؛ خَرُّوا عليها صُمًّا وعُمياناً.
وفي إضافة الآيات إلى اسمه الرحمن دلالةٌ على أنَّ آياته من رحمتِهِ بعبادِهِ وإحسانِهِ إليهم؛ حيث هداهم بها إلى الحقِّ، وبصَّرهم من العمى، وأنقذهم من الضَّلالة، وعلَّمهم من الجهالة.