وَ نَادَیۡنٰہُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَیۡمَنِ وَ قَرَّبۡنٰہُ نَجِیًّا ﴿۵۲﴾
اور ہم نے اسے پہاڑ کی دائیں جانب سے آواز دی اور سرگوشی کرتے ہوئے اسے قریب کر لیا۔
En
اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب پکارا اور باتیں کرنے کے لئے نزدیک بلایا
En
ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے ندا کی اور راز گوئی کرتے ہوئے اسے قریب کر لیا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 52) ➊ {وَ نَادَيْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ …:} طور کا معنی پہاڑ ہے، بعض خاص پہاڑوں کا نام بھی طور ہے، جیسے ایلہ کے قریب صحرائے سینا کے ایک پہاڑ کو طورِ سینا یا طور سینین کہتے ہیں۔ صاحب قاموس نے چند اور مقامات پر واقع پہاڑوں کا بھی ذکر کیا ہے جنھیں طور کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ موسیٰ علیہ السلام کے مدین سے واپس مصر جاتے ہوئے پیش آیا۔ اس کی تفصیل سورۂ طٰہٰ (۹تا۳۶)، نمل (۷ تا ۱۴) اور قصص (۲۹ تا ۳۵) میں موجود ہے۔ ابن کثیر نے سورۂ قصص کی آیت (۳۰) «{ نُوْدِيَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَيْمَنِ }» کی تفسیر میں فرمایا: ”یعنی وادی کی اس جانب سے جو موسیٰ علیہ السلام کے دائیں طرف پہاڑ کے مغربی کنارے سے ملتی تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ اِذْ قَضَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ }» [القصص: ۴۴] ”اور اس وقت تو مغربی جانب نہیں تھا جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم کی وحی کی۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے آگ کی طرف رخ قبلہ کی جانب کیا تھا اور انھوں نے پہاڑ کے مغربی حصے کو اپنی دائیں طرف کیا ہوا تھا۔“ آلوسی نے فرمایا: {” مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَيْمَنِ “} سے مراد پہاڑ کی وہ جانب ہے جو موسیٰ علیہ السلام کی دائیں جانب تھی، کیوں کہ خود پہاڑ کا کوئی دایاں ہوتا ہے نہ بایاں۔ {” الْاَيْمَنِ “ ” يُمْنٌ “} سے بھی ہو سکتا ہے جس کا معنی برکت ہے، یعنی اس کی مبارک جانب سے، اس معنی کے لحاظ سے پہاڑ کی مبارک جانب بھی مراد ہو سکتی ہے، مگر پہلا معنی بہتر ہے۔ {” نَادَيْنٰهُ “} (ہم نے اسے آواز دی) آواز دینے سے مراد اس جانب سے اللہ کا کلام ظاہر ہونا ہے۔ ظاہر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا کلام الفاظ کی صورت میں سنا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جو سنا تھا اس میں نہ حرف تھے، نہ آواز تھی۔ انھوں نے صرف کانوں سے نہیں بلکہ تمام اعضاء کے ساتھ سنا تھا، جس سے انھیں یقین ہو گیا کہ یہ اللہ کا کلام ہے، اسی لیے کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ہم نے اسے طور کی مبارک جانب سے آتے ہوئے آواز دی، مگر یہ بات عقل کی دسترس سے باہر ہے اور احادیث کے دلائل اس کے صاف خلاف ہیں۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا آواز دینا اور کلام کرنا ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کے منکر اس کے کلام کے بھی منکر ہیں، اس لیے وہ نہ اس میں حروف مانتے ہیں، نہ آواز اور نہ اس کا کانوں سے سنا جانا۔ مگر الفاظ اور آواز سے خالی چیز کو کلام کہنا جس طرح عقل سے بعید ہے اسی طرح قرآن و حدیث کے بھی صریح خلاف ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۴۳)، کہف (۱۰۹) اور توبہ (۶)۔
➋ {وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِيًّا: ” نَجِيًّا “ ”فَعِيْلٌ“} بمعنی {”مُفَاعِلٌ“} ہے، جیسے {”جَلِيْسٌ“} بمعنی {”مُجَالِسٌ“} اور {”نَدِيْمٌ“} بمعنی {”مُنَادِمٌ“} ہے۔ {”مُنَاجَاةٌ“} ایک دوسرے سے چھپی آواز میں بات کرنا، سرگوشی کرنا، یعنی ہم نے اسے سرگوشی کرتے ہوئے قریب کر لیا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”ان سے کلام ہوا، بیچ میں فرشتہ نہ تھا۔“ (موضح) اللہ تعالیٰ نے جس طرح واضح الفاظ میں موسیٰ علیہ السلام سے خود کلام کرنے کا ذکر فرمایا ہے کسی اور کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا۔
➋ {وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِيًّا: ” نَجِيًّا “ ”فَعِيْلٌ“} بمعنی {”مُفَاعِلٌ“} ہے، جیسے {”جَلِيْسٌ“} بمعنی {”مُجَالِسٌ“} اور {”نَدِيْمٌ“} بمعنی {”مُنَادِمٌ“} ہے۔ {”مُنَاجَاةٌ“} ایک دوسرے سے چھپی آواز میں بات کرنا، سرگوشی کرنا، یعنی ہم نے اسے سرگوشی کرتے ہوئے قریب کر لیا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”ان سے کلام ہوا، بیچ میں فرشتہ نہ تھا۔“ (موضح) اللہ تعالیٰ نے جس طرح واضح الفاظ میں موسیٰ علیہ السلام سے خود کلام کرنے کا ذکر فرمایا ہے کسی اور کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
52۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ نے جواب میں فرمایا، ان کا علم نہ تجھے ہے نہ مجھے۔ البتہ ان کا علم میرے رب کو ہے، جو اس کے پاس کتاب میں موجود ہے وہ اس کے مطابق جزا و سزا دے گا، پھر اس کا علم اس طرح ہر چیز کو محیط ہے کہ اس کی نظر سے کوئی چھوٹی بڑی چیز اوجھل نہیں ہوسکتی، نہ اسے بھول ہی لا حق ہوسکتی ہے۔ جب کہ مخلوق کے علم میں دونوں نقص موجود ہیں۔ ایک تو ان کا علم محیط کل نہیں، بلکہ ناقص ہے۔ دوسرے، علم کے بعد وہ بھول بھی سکتے ہیں، میرا رب ان دونوں نقصوں سے پاک ہے۔ آگے، رب کی مزید صفات بیان کی جا رہی ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
52۔ ہم نے انھیں کوہ طور کی داہنی [48] جانب سے پکارا اور راز کی گفتگو کرنے کے لئے اسے قرب [49] عطا کیا۔
[48] سیدنا موسیٰؑ کا طور الایمن جا پہنچنا:۔
جب سیدنا موسیٰؑ سیدنا شعیبؑ کے ہاں سے فارغ ہو کر مدین سے مصر کی طرف جا رہے تھے تو یہ آواز ان کی دائیں طرف سے ہوئی کیونکہ وہ طور جو بیت المقدس کے پاس ہے مدین سے مصر آنے والوں کی دائیں طرف پڑتا ہے اور وہی طور مراد ہے، سویس کا طور مراد نہیں کیونکہ وہ بائیں طرف پڑتا ہے۔
[49] سیدنا موسیٰؑ کی اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی:۔
﴿قربنٰه نجيّا﴾ کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم نے اسے راز کی بات کہنے کے لئے اپنے پاس بلا لیا، دوسرا یہ کہ ہم نے راز کی بات کہہ کر اسے اپنا مقرب بنا لیا اور تیسرا یہ کہ ہم نے سیدنا موسیٰ کو آسمانوں پر اٹھا لیا اور انہوں نے قلم چلنے کی آواز سنی جو لوح محفوظ پر چلتی ہے۔ سیدنا ابن عباسؓ اور تابعین کی ایک جماعت سے یہی مطلب منقول ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
خلوص ابراہیم علیہ السلام ٭٭
اپنے خلیل علیہ السلام کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم علیہ السلام کا بیان فرماتا ہے۔ «مُخلَصاً» کی دوسری قرأت «مُخلِصاً» بھی ہے۔ یعنی ’ وہ بااخلاص عبادت کرنے والے تھے ‘۔
مروی ہے کہ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ”اے روح اللہ! ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”جو محض اللہ کے لیے عمل کرے، اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔“
دوسری قرأت میں «مُخْلَصاً» ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے موسیٰ علیہ السلام جیسے فرمان باری ہے «اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ» ۱؎ [7-الأعراف:144] آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ پانچ بڑے بڑے جلیل القدر اولو العزم رسولوں میں سے ایک آپ علیہ السلام ہیں یعنی نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد صلوات اللہ و سلامہ علیہم وعلی سائر الانبیاء اجمعین۔ ’ ہم نے انہیں مبارک پہاڑ طور کی دائیں جانب سے آواز دی اور سرگوشی کرتے ہوئے اپنے قریب کر لیا ‘۔
یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ آگ کی تلاش میں طور کی طرف یہاں آگ دیکھ کر بڑھے تھے۔
مروی ہے کہ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ”اے روح اللہ! ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”جو محض اللہ کے لیے عمل کرے، اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔“
دوسری قرأت میں «مُخْلَصاً» ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے موسیٰ علیہ السلام جیسے فرمان باری ہے «اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ» ۱؎ [7-الأعراف:144] آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ پانچ بڑے بڑے جلیل القدر اولو العزم رسولوں میں سے ایک آپ علیہ السلام ہیں یعنی نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد صلوات اللہ و سلامہ علیہم وعلی سائر الانبیاء اجمعین۔ ’ ہم نے انہیں مبارک پہاڑ طور کی دائیں جانب سے آواز دی اور سرگوشی کرتے ہوئے اپنے قریب کر لیا ‘۔
یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ آگ کی تلاش میں طور کی طرف یہاں آگ دیکھ کر بڑھے تھے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں، ”اس قدر قریب ہو گئے کہ قلم کی آواز سننے لگے۔“ مراد اس سے توراۃ لکھنے کی قلم ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں، آسمان میں گئے اور کلام باری سے مشرف ہوئے۔ کہتے ہیں، انہی باتوں میں یہ فرمان بھی ہے کہ ’ اے موسیٰ! جب کہ میں تیرے دل کو شکر گزار اور تیری زبان کو اپنا ذکر کرنے والی بنا دوں اور تجھے ایسی بیوی دوں جو نیکی کے کاموں میں تیری معاون ہو تو سمجھ لے کہ میں نے تجھ سے کوئی بھلائی اٹھا نہیں رکھی اور جسے میں یہ چیزیں نہ دوں، سمجھ لے کہ اسے کوئی بھلائی نہیں ملی ‘۔
’ ان پر ایک مہربانی ہم نے یہ بھی کی کہ ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کی امداد کے لیے ان کے ساتھ کر دیا جیسے کہ آپ علیہ السلام کی چاہت اور دعا تھی ‘۔ فرمایا تھا «وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ» ۱؎ [28-القص:34]، اور آیت میں ہے «قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى» ۱؎ [20-طه:36] ’ موسیٰ تیرا سوال ہم نے پورا کر دیا ‘۔
آپ علیہ السلام کی دعا کے لفظ یہ بھی وارد ہیں «فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:13] الخ، ’ ہارون کو بھی رسول بنا ‘ الخ۔ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ بہتر دعا اور اس سے بڑھ کر شفاعت کسی نے کسی کی دنیا میں نہیں کی۔ ہارون موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے۔ «صَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْا» ۔
’ ان پر ایک مہربانی ہم نے یہ بھی کی کہ ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کی امداد کے لیے ان کے ساتھ کر دیا جیسے کہ آپ علیہ السلام کی چاہت اور دعا تھی ‘۔ فرمایا تھا «وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ» ۱؎ [28-القص:34]، اور آیت میں ہے «قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى» ۱؎ [20-طه:36] ’ موسیٰ تیرا سوال ہم نے پورا کر دیا ‘۔
آپ علیہ السلام کی دعا کے لفظ یہ بھی وارد ہیں «فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:13] الخ، ’ ہارون کو بھی رسول بنا ‘ الخ۔ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ بہتر دعا اور اس سے بڑھ کر شفاعت کسی نے کسی کی دنیا میں نہیں کی۔ ہارون موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے۔ «صَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْا» ۔