ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 49

فَلَمَّا اعۡتَزَلَہُمۡ وَ مَا یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ۙ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ ؕ وَ کُلًّا جَعَلۡنَا نَبِیًّا ﴿۴۹﴾
تو جب وہ ان سے اور ان چیزوں سے جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے، الگ ہوگیا تو ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور ہر ایک کو ہم نے نبی بنایا۔ En
اور جب ابراہیم ان لوگوں سے اور جن کی وہ خدا کے سوا پرستش کرتے تھے اُن سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور (اسحاق کو) یعقوب بخشے۔ اور سب کو پیغمبر بنایا
En
جب ابراہیم (علیہ السلام) ان سب کو اور اللہ کے سوا ان کے سب معبودوں کو چھوڑ چکے تو ہم نے انہیں اسحاق ویعقوب (علیہما السلام) عطا فرمائے، اور دونوں کو نبی بنا دیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 49) ➊ { فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا يَعْبُدُوْنَ …:} وطن سے ہجرت اور مشرکین سے کنارہ کشی کے عوض اللہ تعالیٰ نے انھیں جو بے شمار نعمتیں عطا کیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ انھیں بڑی شان والا بیٹا اور پوتا یعنی اسحاق اور یعقوب (علیھما السلام) عطا کیے، تاکہ ان کا دل لگ جائے اور بے وطنی سے وحشت نہ ہو۔
➋ { وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا:} یہ آیت دلیل ہے کہ اسحاق اور یعقوب علیھما السلام ان کی زندگی ہی میں نبی بن چکے تھے، کیونکہ اگر بعد میں نبی بننا مراد ہوتا تو یوسف علیہ السلام کا بھی ذکر ہوتا، کیونکہ وہ بھی نبی تھے۔ بیٹے اور پوتے کی خوشی ہی کچھ کم نہیں ہوتی، کجا یہ کہ ان کی پہلے ہی خوش خبری بھی مل جائے (ہود: ۷۱) اور اپنی آنکھوں سے انھیں نبوت کے عالی مقام پر فائز بھی دیکھ لیا جائے۔ یہاں اسماعیل علیہ السلام کا ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ وہ ان کے پاس نہیں رہے۔ ان کا ذکر الگ آگے آ رہا ہے۔
➌ یہ آیت اس حقیقت کی بھی ایک مثال ہے کہ جو شخص اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ اس سے کہیں بہتر چیز اسے عطا فرماتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

49۔ 1 حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت اسحاق ؑ کے بیٹے یعنی حضرت ابراہیم ؑ کے پوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر بھی بیٹے کے ساتھ اور بیٹے ہی کی طرح کیا۔ مطلب یہ ہے کہ جب ابراہیم ؑ توحید الٰہی کی خاطر باپ کو، گھر کو اور اپنے پیارے وطن کو چھوڑ کر بیت المقدس کی طرف ہجرت کر گئے، تو ہم نے انھیں اسحاق و یعقوب (علیہما السلام) سے نوازا تاکہ ان کی انس و محبت، باپ کی جدائی کا صدمہ بھلا دے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ پھر جب سیدنا ابراہیمؑ ان لوگوں کو کو چھوڑ کر چلے گئے اور ان چیزوں کو بھی جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے۔ تو ہم نے انھیں اسحاق عطا کیا اور (اس کے بعد) یعقوب [45] بھی ان سب کو ہم نے نبی بنایا تھا۔
[45] ہجرت کے بعد اللہ کا ابراہیمؑ کو اولاد عطا کرنا:۔
جب آپ نے اللہ کی راہ میں اپنے گھر کو اور گھر والوں کو خیر باد کہتے ہوئے ہجرت اختیار کی تو اللہ نے ان کا نعم البدل اولاد کی شکل میں انھیں عطا فرمایا۔ جو بہرحال چھوڑے ہوئے رشتہ داروں سے بہتر تھے تاکہ غریب الوطنی کی وحشت دور ہو اور انس و سکون حاصل کریں، اولاد بھی ایسی جو سب نبی تھے۔ سیدنا اسحاق بھی نبی پھر ان کے بیٹے یعقوب بھی نبی پھر انہی کی اولاد سے یعنی بنی اسرائیل میں سینکڑوں نبی پیدا ہوئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

لاتعلق ہونے کا اعلان ٭٭
خلیل اللہ علیہ السلام ماں باپ کو، رشتے کنبے کو، قوم و ملک کو اللہ کے دین پر قربان کر چکے، سب سے یک طرف ہو گئے، اپنی برأت اور علیحدگی کا اعلان کر دیا تو اللہ نے ان کی نسل جاری کر دی۔ آپ علیہ السلام کے ہاں اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسحاق علیہ السلام کے ہاں یعقوب علیہ السلام ہوئے۔ جیسے فرمان ہے «وَيَعْقُوْبَ نَافِلَةً وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:72]‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71]‏‏‏‏ یعنی ’ اسحاق کے پیچھے یعقوب ‘۔
پس اسحاق علیہ السلام یعقوب علیہ السلام کے والد تھے جیسے سورۃ البقرہ کی آیت «أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَـٰهَكَ وَإِلَـٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَـٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ» ۱؎ [2-البقرة:133]‏‏‏‏ الخ، میں صاف لفظ ہیں کہ ’ یعقوب علیہ السلام نے اپنے انتقال کے وقت اپنے بچوں سے پوچھا کہ تم سب میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اسی اللہ کی جس کی عبادت آپ کرتے ہیں اور آپ کے والد ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق علیہم السلام ‘۔
پس یہاں مطلب یہ ہے کہ ’ ہم نے اس کی نسل جاری رکھی، بیٹا دیا، بیٹے کے ہاں بیٹا دیا اور دونوں نبی بنا کر آپ علیہ السلام کی آنکھیں ٹھنڈی کیں ‘۔ یہ ظاہر ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے بعد آپ علیہ السلام کے فرزند یوسف علیہ السلام بھی نبی بنائے گئے تھے ان کا ذکر یہاں نہیں کیا اس لیے کہ یوسف علیہ السلام کی نبوت کے وقت خلیل اللہ علیہ السلام زندہ نہ تھے۔ یہ دونوں نبوتیں یعنی اسحاق علیہ السلام ویعقوب علیہ السلام کی نبوت آپ علیہ السلام کی زندگی میں آپ کے سامنے تھی اس لیے اس احسان کا ذکر بیان فرمایا۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سوال ہوا کہ سب سے بہتر شخص کون ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یوسف نبی اللہ بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق نبی اللہ بن ابراہیم نبی اللہ وخلیل اللہ } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3383]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے { کریم بن کریم بن کریم بن کریم، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں علیہم الصلوۃ والسلام }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3382]‏‏‏‏
’ ہم نے انہیں اپنی بہت ساری رحمتیں دیں اور ان کا ذکر خیر اور ثنا جمیل کو دنیا میں ان کے بعد بلندی کے ساتھ باقی رکھا یہاں تک کہ ہر مذہب والے ان کے گن گاتے ہیں ‘۔ «فَصَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْ اَجْمَعِیْنَ» ۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

انسان کے لیے اپنے وطن مالوف، اپنے اہل و عیال اور اپنی قوم سے جدا ہونا سب سے مشکل اور سب سے زیادہ شاق گزرنے والا کام ہے اور اس کی کئی وجوہ ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی وجہ سے باعزت اور کثرت والا ہوتا ہے اور جو کوئی اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عوض اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا: ﴿ فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰؔقَ وَیَعْقُوْبَ١ؕ وَكُلًّا پس جب وہ (ابراہیم علیہ السلام) ان لوگوں سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے، ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور سب کو۔ حضرت اسحاق اور یعقوب علیہما السلام دونوں کو ﴿ جَعَلْنَا نَبِیًّا ہم نے نبی بنایا۔ پس حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان تمام صالحین و مرسلین کو یہ شرف نبوت حاصل ہوا جن کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجا، انھیں اپنی وحی کے لیے مختص کیا، انھیں اپنی رسالت کے لیے تمام جہانوں میں سے چن لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما كان مفارقةُ الإنسان لوطنه ومألفه وأهله وقومه من أشقِّ شيءٍ على النفس لأمورٍ كثيرةٍ معروفةٍ، ومنها انفرادُه عمن يتعزَّز بهم ويتكثَّر، وكان مَنْ ترك شيئاً لله؛ عوَّضه الله خيراً منه، واعتزل إبراهيمُ قومه؛ قال الله في حقِّه: {فلمَّا اعتزَلَهم وما يعبُدون من دون الله وَهَبْنا له إسحاقَ ويعقوبَ وكلاًّ}: من إسحاقَ ويعقوبَ، {جَعَلْنا نبيًّا}: فحصل له ولهؤلاء الصالحين المرسلين إلى الناس، الذين خصَّهم الله بوحيه، واختارهم لرسالته، واصطفاهم من العالمين.