تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ:} ابراہیم علیہ السلام نے اس وعدے کو نبھایا، دیکھیے سورۂ شعراء (۸۶) اور ابراہیم (۴۱) مگر اب فوت شدہ مشرک دوستوں یا رشتہ داروں کے لیے استغفار جائز نہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ(۱۱۳) اور سورۂ ممتحنہ(۴)۔
➌ {اِنَّهٗ كَانَ بِيْ حَفِيًّا: ” حَفِيًّا “ ”حَفِيَ حِفَاوَةً“} ({رَضِيَ}) سے ہے، کسی پر بہت مہربان ہونا، اس کے معاملات کی فکر رکھنا، اس کے متعلق کثرت سے پوچھتے رہنا۔ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۸۷) {” كَانَ “} سے ہمیشہ کا معنی واضح ہوتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے مجھ پر بہت مہربان رہا ہے اور اس نے مجھے دعا قبول ہونے کی عادت ڈال دی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، ”اچھا خوش رہو، میری طرف سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے گی کیونکہ آپ میرے والد ہیں بلکہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کو نیک توفیق دے اور آپ کے گناہ بخشے۔“ مومنوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ جاہلوں سے بھڑتے نہیں، جیسے کہ قرآن میں ہے «وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا» ۱؎ [25-الفرقان:63] ’ جاہلوں سے جب ان کا خطاب ہوتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ‘۔
اور آیت میں ہے «وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ» ۱؎ [28-القصص:55] ’ لغو باتوں سے وہ منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ، تمہارے اعمال تمہارے ساتھ، تم پر سلام ہو۔ ہم جاہلوں کے درپے نہیں ہوتے ‘۔
پھر فرمایا کہ ”میرا رب میرے ساتھ بہت مہربان ہے، اسی کی مہربانی ہے کہ مجھے ایمان و اخلاص کی ہدایت کی۔ مجھے اس سے اپنی دعا کی قبولیت کی امید ہے۔“
اسی وعدے کے مطابق آپ ان کے لیے بخشش طلب کرتے رہے۔ شام کی ہجرت کے بعد بھی، مسجد الحرام بنانے کے بعد بھی، آپ کے ہاں اولاد ہو جانے کے بعد بھی آپ کہتے رہے کہ ”اے اللہ مجھے، میرے ماں باپ کو اور تمام ایمان والوں کو حساب کے قائم ہونے کے دن بخش دے۔“ آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرو۔
پھر فرماتے ہیں کہ ”میں تم سب سے اور تمہارے ان تمام معبودوں سے الگ ہوں۔ میں صرف اللہ واحد کا عابد ہوں، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتا، میں فقط اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میں اپنی دعاؤں میں محروم نہ رہوں گا۔“ واقعہ بھی یہی ہے اور یہاں پر لفظ «عَسٰی» یقین کے معنوں میں ہے اس لیے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سید الانبیاء ہیں (علیہ السلام)۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فأجابه الخليل جوابَ عباد الرحمن عند خطاب الجاهلين، ولم يشتِمْه، بل صبر، ولم يقابل أباه بما يكره، وقال: {سلامٌ عليك}؛ أي: ستسلم من خطابي إياك بالشتم والسبِّ وبما تكره، {سأستغفر لك ربِّي إنَّه كان بي حَفِيًّا}؛ أي: لا أزال أدعو الله لك بالهداية والمغفرة بأن يهدِيَك للإسلام الذي به تحصُلُ المغفرة؛ فإنَّه كان بي حَفِيًّا؛ أي: رحيماً رءوفاً بحالي معتنياً بي، فلم يزلْ يستغفرُ الله له رجاء أن يهدِيَه الله، فلما تبيَّن له أنَّه عدوٌّ لله، وأنَّه لا يفيدُ فيه شيئاً؛ ترك الاستغفار له وتبرَّأ منه.
وقد أمرنا الله باتِّباع ملَّة إبراهيم؛ فمن اتِّباع ملَّته سلوك طريقه في الدَّعوة إلى الله بطريق العلم والحكمة واللين والسهولة والانتقال من رتبةٍ إلى رتبةٍ ، والصبر على ذلك، وعدم السآمة منه، والصبر على ما ينال الداعي من أذى الخَلْق بالقول والفعل، ومقابلة ذلك بالصفح والعفو، بل بالإحسان القوليِّ والفعليِّ.