ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 41

وَ اذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ اِبۡرٰہِیۡمَ ۬ؕ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا ﴿۴۱﴾
اور اس کتاب میں ابراہیم کا ذکر کر، بے شک وہ بہت سچا تھا، نبی تھا۔ En
اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو۔ بےشک وہ نہایت سچے پیغمبر تھے
En
اس کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر، بیشک وه بڑی سچائی والے پیغمبر تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 41) ➊ { وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِبْرٰهِيْمَ:} اس سورت کا اصل موضوع توحید و نبوت اور حشر کے واقعات بیان کرنا ہے۔ توحید کے منکر دو قسم کے لوگ تھے، ایک یہود و نصاریٰ جنھوں نے عیسیٰ اور عُزیر علیھما السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دے لیا اور اس طرح شرک میں مبتلا ہو گئے، چنانچہ پچھلی آیات میں مریم اور مسیح علیھما السلام کا قصہ بیان کرکے ان کے غلط عقائد کی تردید فرمائی۔ دوسرے مشرکین عرب، جو بت پرستی میں مبتلا تھے اور اس غلط عقیدے کے باوجود ابراہیم علیہ السلام کے دین پر قائم ہونے کے دعوے دار تھے۔ یہاں سے ابراہیم علیہ السلام کا قصہ بیان کرکے ان کی تردید مقصود ہے، تاکہ معلوم ہو کہ کس طرح ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ اور قوم کو بت پرستی سے نکالنے کی کوشش کی اور بالآخر وطن اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر اللہ کی راہ میں ہجرت کی، مگر تم ہو کہ ایک طرف تو ان کی اولاد میں سے ہو اور ان کے دین پر ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہو، لیکن دوسری طرف بت پرستی کی لعنت میں گرفتار ہو اور توحید کی آواز اٹھانے والوں کو وطن سے نکل جانے پر مجبور کر رہے ہو۔ اگر واقعی تم ابراہیم علیہ السلام کے دین کے پیرو ہو تو اس شرک پر عمل پیرا ہونے اور توحید پرستوں سے دشمنی کا کیا مطلب؟
➋ {اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا: صِدِّيْقًا صِدْقٌ} سے مبالغہ ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کو صدیق اس لیے فرمایا کہ وہ بات میں بہت سچے تھے اور اپنے رب کے ساتھ معاملے میں بھی سچے تھے۔ اللہ کی خاطر گھر سے بے گھر ہونا، آگ میں جلنے کو گوارا کرنا، وطن سے بے وطن ہونا، پردیس میں اپنی عزت و ناموس کے خطرے میں ہونے کو برداشت کرنا، بیوی بچے کو بے آباد سنگلاخ وادی میں چھوڑنا، اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنے کے حکم کی تعمیل، اسّی(۸۰) برس کی عمر میں ختنے کا حکم ہونے پر فوراً عمل کرنا، یہ ان کے ہر معاملہ میں صدق کی چند مثالیں ہیں۔ { صِدِّيْقًا } کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۶۹) اور یوسف (۴۶)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

41۔ 1 صدیق صدق (سچائی سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ بہت راست باز، یعنی جس کے قول وعمل میں مطابقت اور راست بازی اس کا شعار ہو۔ صدیقیت کا یہ مقام، نبوت کے بعد سب سے اعلٰی ہے ہر نبی اور رسول بھی اپنے وقت کا سب سے بڑا راست باز اور صداقت شعار ہوتا ہے، اس لئے وہ صدیق بھی ہوتا ہے۔ تاہم ہر صدیق، نبی نہیں ہوتا۔ قرآن کریم میں حضرت مریم کو صدیقہ کہا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تقویٰ و طہارت اور راست بازی میں بہت اونچے مقام پر فائز تھیں تاہم نبیہ نہیں تھیں۔ امت محمدیہ میں بھی صدیقین ہیں۔ اور ان میں سر فہرست حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں جو انبیاء کے بعد امت میں خیر البشر تسلیم کئے گئے ہیں۔ رَ ضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

41۔ اور اس کتاب میں سیدنا ابراہیم کا قصہ [37] بیان کیجئے بلا شبہ وہ راست باز [38] انسان اور ایک نبی تھے۔
[37] سیدنا ابراہیمؑ کے قصہ کا روئے سخن بالخصوص قریش مکہ کی طرف ہے۔ جو اپنے آپ کو دین ابراہیم کا پیروکار بتاتے تھے۔ انھیں بتایا یہ جا رہا ہے کہ وہ مشرک نہیں بلکہ توحید پرست تھے۔ انہوں نے اپنے مشرک آباء و اجداد کی تقلید کو چھوڑ دیا تھا۔ تمہیں بھی چھوڑ دینا چاہئے۔ مشرک قوم اور مشرک باپ نے طرح طرح کی دھمکیاں دیں مگر انہوں نے شرک کی باتیں تسلیم کرنے پر گھر بار چھوڑنے اور ترک وطن کو ترجیح دی۔ ایک تم ہو جو اپنے شرک پر اتنے مصر ہو کہ توحید پرستوں کو اذیتیں دے دے کر انھیں ہجرت پر مجبور کر دیا ہے۔ پھر تمہارے اس اتباع دین ابراہیمی میں کون سی صداقت ہے؟
[38] اور سیدنا ابراہیمؑ تو قول کے سچے اور اپنی عملی زندگی میں بھی راست باز انسان تھے اور صدیق ہونے کے علاوہ وہ نبی بھی تھے۔ بعض لوگ اسی آیت سے استدلال کر کے بخاری کی درج ذیل حدیث کی صحت کا انکار کر دیتے ہیں:
سیدنا ابراہیم کے تین جھوٹ والی حدیث پر اعتراض اور اس کا جواب:۔
سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ سیدنا ابراہیم نے کبھی جھوٹ نہ بولا سوائے تین مرتبہ کے۔ دو مرتبہ تو اللہ کے واسطے ان کا یہ کہنا کہ انی سقیم اور یہ کہنا کہ: ﴿بَلْ فَعَلَه كَبِيْرُهُمْ [21: 63] یہ دونوں اللہ کے لئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دن وہ اور (ان کی بیوی) سارہ اس حال میں جا رہے تھے کہ ایک ظالم بادشاہ پر ان کا گزر ہوا۔ کسی نے بادشاہ سے کہا کہ یہاں ایک شخص آیا ہے جس کے ساتھ اس کی خوبصورت بیوی بھی ہے۔ اس بادشاہ نے سیدنا ابراہیمؑ کو بلوا بھیجا اور سارہ کی بابت پوچھا کہ یہ کون ہے؟ سیدنا ابراہیمؑ نے کہہ دیا: ”یہ میری بہن ہے“ پھر وہ سارہ کے پاس گئے اور کہا: ”سارہ! اس وقت روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے اور اس ظالم نے مجھ سے پوچھا تھا تو میں نے کہہ دیا کہ یہ میری (دینی) بہن ہے۔ پس تم مجھے جھوٹا نہ کرنا“ [بخاري۔ كتاب الانبيائ۔ باب قول الله وَاتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِيْمَ خَلِيْلًا]
1۔ ان تین جھوٹوں میں سے دو کا ذکر تو قرآن کریم میں موجود ہے۔ بتوں کو توڑا تو آپ نے تھا لیکن پوچھنے پر کہہ دیا کہ اس بڑے بت نے انھیں توڑا ہے اس طرح جب ان کی قوم جشن منانے نکلی اور آپ کو ساتھ لے جانے کو کہا تو آپ نے کہہ دیا کہ میں بیمار ہوں۔ پھر اسی وقت جا کر ان کے بت بھی توڑ ڈالے تو پھر بیمار کیسے تھے؟ کیا یہ باتیں خلاف واقعہ نہیں تھیں؟ لہٰذا معترضین کا اصل رخ قرآن کی طرف ہونا چاہئے نہ کہ حدیث کی تکذیب کی طرف۔
2۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ابتداء وضاحت سے یہ الفاظ فرما دیئے کہ ”سیدنا ابراہیمؑ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا“ یہ ان کے فی الواقع صدیق ہونے کی بہت بڑی شہادت ہے کہ ان سے 175 سالہ زندگی میں تین سے زیادہ مرتبہ جھوٹ سرزد نہیں ہوا۔ اب آپ اپنی زندگی کے شب و روز پر نگاہ ڈالئے کہ آپ ساری زندگی میں نہیں بلکہ صرف ایک دن رات میں کتنی مرتبہ جھوٹ بولتے ہیں اور دانستہ بھی اور نادانستہ بھی اور پھر خود ہی فیصلہ کر لیجئے کہ اگر ایک شخص سے 175 سال کی زندگی میں تین سے زیادہ جھوٹ سرزد نہ ہوں تو اس کو صدیق کہا جا سکتا ہے یا نہیں؟ پھر ان تینوں واقعات کے لئے ٹھوس بنیادیں بھی موجود ہیں۔ یعنی ان میں دو جھوٹ تو آپ نے مشرکین پر حجت قائم کرنے اور کلمہ حق کو سربلند کرنے کے بولے جیسا کہ حدیث بالا سے ثابت ہے اور تیسرا جس کا ذکر حدیث میں ہے وہ آپ نے اپنی جان بچانے کے لئے بولا تھا۔ شاہ مصر کا دستور یہ تھا کہ وہ حسین عورت کو زبردستی چھین لیتا۔ اگر اس کے ساتھ اس کا خاوند ہوتا تو اسے مروا ڈالتا اور اگر اس کے ساتھ بھائی یا کوئی دوسرا رشتہ دار ہوتا تو اس سے عورت تو چھین لیتا مگر اس کی جان سے درگزر کرتا تھا۔ اب اگر سیدنا ابراہیمؑ نے اپنی جان بچانے کی خاطر جھوٹ بولا بھی تھا (حالانکہ وہ بھی ایک طرح سے جھوٹ نہیں بنتا جیسا کہ حدیث کے الفاظ بتا رہے ہیں) آخر اس میں قیامت کون سی آ گئی؟ جان بچانے کی خاطر اگر مردار تک کھا لینا جائز ہے تو جھوٹ بولنا کیوں جائز نہیں ہو سکتا۔ وہ کون سی شریعت ہے جس میں اس قدر سختی روا رکھی گئی ہو۔ جان بچانے کے لئے تو اللہ نے کلمہ کفر تک کہہ دینے کی بھی اجازت دے دی ہے بشرطیکہ دل میں کوئی ایسی بات نہ ہو [38: 14] تو پھر کیا جھوٹ بولنا اس سے بھی بڑا جرم ہے؟ جھوٹ گناہ اس صورت میں ہے جب اس کی زد کسی کے حقوق پر پڑتی ہو اور جتنی زیادہ زد پڑتی ہو اتنا ہی زیادہ کبیرہ گناہ بنتا جاتا ہے۔ ہمیشہ سچ بولنا اور جھوٹ سے بچنا شریعت کا ایک بڑا بھاری کلیہ ہے لیکن استثناء اس میں بھی موجود ہے جبکہ اصلاح اور خیر کا پہلو نمایاں ہو اور شریعت کی نگاہوں میں وہ فی الواقع اصلاح اور خیر ہو۔ مثلاً میاں بیوی کے درمیان صلح کرانے کے لئے شریعت نے باتیں بنانے اور جھوٹ بول کر صلح کرا دینے کو گناہ نہیں بلکہ مستحسن قرار دیا ہے۔ اسی طرح جہاد میں دشمن کو ہراساں کرنے کے لئے بھی ایسی باتوں کی اجازت ہے۔ حالانکہ لغوی لحاظ سے ان باتوں پر بھی لفظ کذب کا اطلاق ہو سکتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بتوں کی پوجا ٭٭
مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں، ان کے سامنے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی علیہ السلام نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کر دیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔
فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں، آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا، برائیوں سے بچا کر بھلائیوں میں پہنچا دوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔
جیسے سورۃ یاسین میں ہے «اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [36-يس:60]‏‏‏‏، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ اے انسانو! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:117]‏‏‏‏، ’ یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں ‘۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمانبرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچا دے گا۔‏‏‏‏
ابا جان آپ کے اس شرک و عصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آ جائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بے کس و بے بس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔‏‏‏‏
جیسے فرمان باری ہے «تَاللَّـهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [16-النحل:63]‏‏‏‏ یعنی ’ یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے ‘۔