(آیت 40){اِنَّانَحْنُنَرِثُالْاَرْضَ …:} اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا اظہار کرتے ہوئے اپنا ذکر تین دفعہ جمع متکلم کی ضمیر سے کیا ہے۔ دنیا کے بادشاہ بھی حکم دیتے وقت یا اپنی شان و شوکت کے اظہار کے وقت کہا کرتے ہیں کہ ”ہم حکم دیتے ہیں“”ہم یہ کریں گے“ وغیرہ، حالانکہ وہ اکیلے حکم دے رہے ہوتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ جس کی عظمت کی کوئی حد نہیں، اکیلا ہونے کے باوجود اپنی عظمت کے اظہار کے لیے کیوں نہ فرمائے گا کہ بے شک ہم، ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے۔ اردو ترجمے میں ”ہی“ کا لفظ تیسرے ”ہم“ کی جگہ لگایا گیا ہے، جو لفظ {”نَرِثُ“} میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سب فنا ہو جائیں گے اور ہمارے سوا ان کا وارث (پیچھے رہنے والا) کوئی نہ ہو گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
40۔ بلا شبہ ہم ہی زمین اور اس پر موجود سب چیزوں کے [36] وارث ہوں گے اور انھیں ہمارے ہاں ہی لوٹ کر آنا ہے۔
[36] یعنی اس دن نہ کسی کا ملک باقی رہے گا نہ ملک باقی رہے گی۔ ہر چیز براہ راست مالک حقیقی کی طرف لوٹ جائے گی۔ وہی علی الاطلاق ہر چیز کا مالک و مختار ہو گا۔ اور وہی ہر چیز کا وارث ہو گا۔ ملک و مِلک کے لمبے چوڑے دعویٰ رکھنے والے وہاں خالی ہاتھ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔