ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 3

اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗ نِدَآءً خَفِیًّا ﴿۳﴾
جب اس نے اپنے رب کو چھپی آواز سے پکارا۔ En
جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا
En
جبکہ اس نے اپنے رب سے چپکے چپکے دعا کی تھی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) ➊ {اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِيًّا:} اس آیت میں اس جگہ اور وقت کا ذکر نہیں جب ان کے دل میں اس دعا کا داعیہ پیدا ہوا۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۳۷، ۳۸)۔
➋ { نِدَآءً خَفِيًّا:} چھپی آواز سے آہستہ آواز بھی مراد ہو سکتی ہے اور لوگوں سے الگ جگہ میں دعا بھی۔ اس کی وجہ بعض اہلِ علم نے یہ لکھی ہے کہ بڑھاپے میں بیٹا مانگنا لوگوں کی ہنسی کا باعث ہوتا، پھر اگر نہ ملتا تو لوگ مزید ہنستے، مگر صحیح بات یہ ہے کہ خفیہ دعا ریا کا امکان نہ ہونے کی وجہ سے افضل ہوتی ہے، چنانچہ فرمایا: «{ اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْيَةً [الأعراف: ۵۵] اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز کو قرار دیا۔ [مسلم، الصیام، باب فضل صوم المحرم: ۱۱۶۳، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ] اور اس شخص کو عرش کا سایہ پانے والے سات خوش نصیبوں میں شمار فرمایا جس نے خلوت میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں بہ پڑیں، حدیث کے الفاظ ہیں: [ذَكَرَ اللّٰهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهٗ] اسی طرح اس شخص کو بھی جس نے اس طرح چھپا کر صدقہ کیا کہ بائیں ہاتھ کو معلوم نہیں کہ دایاں کیا خرچ کر رہا ہے، حدیث کے الفاظ ہیں: [تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتّٰی لَا تَعْلَمَ شِمَالُهٗ مَا تُنْفِقُ يَمِيْنُهٗ] [بخاري، الزکوٰۃ، باب الصدقۃ بالیمین: ۱۴۲۳]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 خفیہ دعا اس لئے کی کہ ایک تو یہ اللہ کو زیادہ پسند ہے کیونکہ اس میں تضرع وانابت اور خشوع وخضوع زیادہ ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ انھیں بیوقوف نہ قرار دیں کہ یہ بڈھا اب بڑھاپے میں اولاد مانگ رہا ہے جب کہ اولاد کے تمام ظاہری امکانات ختم ہوچکے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ جب زکریا نے اپنے پروردگار کو چپکے [4] چپکے پکارا
[4] اس کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں۔ مثلاً رات کی نماز تہجد میں جب انسان کو کوئی دیکھ نہیں رہا ہوتا اور وہ بڑی دلجمعی اور سکون کے ساتھ اپنے پروردگار کو پکارتا ہے۔ دوسرا مطلب یہ کہ بڑھاپے اور مایوسی کی عمر میں ایسی بات کی درخواست کی کہ اگر دوسرے لوگ سن لیں تو مذاق اڑائیں۔ اس لئے آہستہ آواز سے دعا کی۔ تیسرے یہ کہ جب سیدہ مریم کے پاس بے موسم میوے دیکھے تو دل ہی دل میں اللہ کو پکارنے لگے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔