ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 13

وَّ حَنَانًا مِّنۡ لَّدُنَّا وَ زَکٰوۃً ؕ وَ کَانَ تَقِیًّا ﴿ۙ۱۳﴾
اور اپنی طرف سے بڑی شفقت اور پاکیزگی (عطا کی) اور وہ بہت بچنے والا تھا۔ En
اور اپنے پاس شفقت اور پاکیزگی دی تھی۔ اور پرہیزگار تھے
En
اور اپنے پاس سے شفقت اور پاکیزگی بھی، وه پرہیزگار شخص تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13) {وَ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا …: حَنَانًا } کا عطف { الْحُكْمَ } پر ہے، یعنی ہم نے اسے حکم (قوتِ فیصلہ) اور بڑی شفقت اور پاکیزگی عطا کی۔ { حَنَانًا } اور { زَكٰوةً } پر تنوین تفخیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ بڑی شفقت اور پاکیزگی کیا ہے۔ پاکیزگی سے مراد اخلاق و کردار کی پاکیزگی ہے جو گناہوں سے بچنے سے حاصل ہوتی ہے۔ { تَقِيًّا وَقٰي يَقِيْ} سے {فَعِيْلٌ} کے وزن پر ہے، پہلی واؤ کو تاء سے بدل دیا گیا ہے، یعنی اللہ کی نافرمانی سے بہت بچنے والا تھا۔ { مِنْ لَّدُنَّا } اپنے پاس سے، یعنی یہ حکم حنان اور زکوٰۃ کسی اور کے پاس ہیں ہی نہیں، صرف ہمارے پاس ہیں اور ہم ہی نے اپنے پاس سے انھیں عطا کیے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

13۔ 1 حَنَانًا، شفقت، مہربانی، یعنی ہم نے اس کو والدین اوراقربا پر شفقت و مہربانی کرنے کا جذبہ اور اسے نفس کی آلائشوں اور گناہوں سے پاکیزگی و طہارت بھی عطا کی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ ہم نے اسے اپنی مہربانی سے [14] نرم دل اور پاک سیرت بنایا اور وہ فی الواقع پرہیزگار تھے۔
[14] حنانا سے مراد مہربانی، شفقت اور محبت کی وہ قسم ہے جو ماں کو اپنے بچہ سے ہوتی ہے۔ یعنی سیدنا یحییؑ لوگوں کے حق میں اس قدر ہمدرد، غمگسار اور نرم دل تھے جیسے ماں اپنی اولاد کے حق میں ہوتی ہے۔ پاکیزہ اخلاق کے مالک اور ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ سیدنا یحییٰؑ نے نہ کبھی کوئی گناہ کا کام کیا اور نہ گناہ کا ارادہ کیا اور اللہ کے ڈر سے روتے رہنے کی وجہ سے ان کے رخساروں پر نشان پڑ گئے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

پیدائش یحییٰ علیہ السلام ٭٭
بمطابق بشارت الٰہی زکریا علیہ السلام کے ہاں یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیاء علیہم السلام دوسروں کو بتلاتے تھے۔ اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی، اسی لیے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ ’ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص، اجتہاد، کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا ‘۔
نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے مگر یہ جواب پاتے تھے کہ ہم کھیل کے لیے پیدا نہیں کئے گئے۔ ’ یحییٰ علیہ السلام کا وجود زکریا علیہ السلام کے لیے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں ‘۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ واللہ میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے؟ لغت میں محبت، شقفت، رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے۔ بہ ظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت ومحبت اور پاکیزگی عطا فرمائی۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { ایک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک یا حنان یا منان پکارتا رہے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:230/3:ضعیف جدا]‏‏‏‏
پس ہر میل کچیل سے، ہر گناہ اور معصیت سے آپ علیہ السلام بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ علیہ السلام کی عمر کا خلاصہ تھا۔ آپ علیہ السلام گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے۔ ساتھ ہی ماں باپ کے فرماں بردار، اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک تھے، کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی، کبھی ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوئے، کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا، کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خو آپ علیہ السلام میں نہ تھی۔
ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے امن و امان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن، موت والے دن اورحشر والے دن۔ یہی تینوں جگہیں گھبراہٹ کی اور انجان ہوتی ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے، جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے۔ موت والے دن اس مخلوق سے واسطہ پڑتا ہے جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا، نہ انہیں کبھی دیکھا۔ محشر والے دن بھی علی ہذا القیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے، دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی۔
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمام لوگ قیامت کے دن کچھ نہ کچھ گناہ لے کر جائیں گے سوائے یحییٰ علیہ السلام کے } }۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے گناہ تو کیا، قصداً گناہ بھی کبھی نہیں کیا۔‏‏‏‏ ۱؎ [مسند احمد:254/1:ضعیف]‏‏‏‏ یہ حدیث مرفوعاً اور دو سندوں سے بھی مروی ہے لیکن وہ دونوں سندیں بھی ضغیف ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عیسیٰ ٰعلیہ السلام یحییٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے آپ علیہ السلام میرے لیے استغفار کیجئے آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔‏‏‏‏ یحییٰ علیہ السلام نے جواب دیا آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔‏‏‏‏ عیسیٰ ٰعلیہ السلام نے فرمایا میں نے تو آپ علیہ السلام ہی اپنے اوپر سلام کہا اور آپ علیہ السلام پر خود اللہ نے سلام کہا۔‏‏‏‏ اب ان دونوں نے ہی اللہ کی فضیلت ظاہر کی۔