قَالَ ہٰذَا رَحۡمَۃٌ مِّنۡ رَّبِّیۡ ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّیۡ جَعَلَہٗ دَکَّآءَ ۚ وَ کَانَ وَعۡدُ رَبِّیۡ حَقًّا ﴿ؕ۹۸﴾
کہا یہ میرے رب کی طرف سے ایک رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آگیا تو وہ اسے زمین کے برابر کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ ہمیشہ سے سچا ہے۔
En
بولا کہ یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے۔ جب میرے پروردگار کا وعدہ آپہنچے گا تو اس کو (ڈھا کر) ہموار کردے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے
En
کہا یہ صرف میرے رب کی مہربانی ہے ہاں جب میرے رب کا وعده آئے گا تو اسے زمین بوس کر دے گا، بیشک میرے رب کا وعده سچا اور حق ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 98) ➊ { قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّيْ:} ذوالقرنین نے دیوار بنا کر اسے اپنا کارنامہ قرار دینے کے بجائے اپنے رب کی رحمت قرار دیا، جس کی بدولت وہ لوگ یاجوج ماجوج کے حملوں سے محفوظ ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی اس کی مضبوطی کے باوجود اسے لازوال قرار دینے کے بجائے فرمایا کہ جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو وہ اسے زمین کے برابر کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ ہمیشہ سے سچا ہے۔ ذوالقرنین کی بات اور دو باغوں والے بے ایمان کی بات کا موازنہ کریں، جو اپنے باغوں کو کبھی برباد نہ ہونے والا کہہ رہا تھا، تو مومن و کافر کی سوچ کا فرق صاف واضح ہو جاتا ہے۔
➋ { فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّيْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ …:} ذوالقرنین کی اس بات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ساری دنیا کی بادشاہت ملنے کے باوجود آخرت کی فکر ہر وقت رہنی چاہیے، کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اس وعدے سے مراد قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کے نکلنے کا وقت ہے، جیسا کہ سورۂ انبیاء (۹۶، ۹۷) میں ہے۔ زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [اِسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّوْمِ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ وَهُوَ يَقُوْلُ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ مِثْلُ هٰذِهِ وَعَقَدَ سُفْيَانُ تِسْعِيْنَ أَوْ مِائَةً قِيْلَ أَنَهْلِكُ وَفِيْنَا الصَّالِحُوْنَ؟ قَالَ نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ] [بخاری، الفتن، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ویل للعرب…: ۷۰۵۹]”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے لا الٰہ الا اللہ کہتے ہوئے بیدار ہوئے، جب کہ آپ کا چہرہ سرخ تھا، فرمایا: ”عرب کے لیے بہت بڑی تباہی ہے اس شر سے جو بہت قریب آ گیا ہے، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا حصہ کھول دیا گیا۔“ اور سفیان نے نوے (۹۰) یا سو (۱۰۰) کی گرہ بنائی، یعنی انگوٹھے اور شہادت کی انگلی ملا کر گول دائرہ بنا کر دکھایا۔ پوچھا گیا: ”کیا ہم اپنے آپ میں صالحین کے موجود ہوتے ہوئے ہلاک ہو جائیں گے؟“ فرمایا: ”ہاں، جب برائی زیادہ ہو جائے گی۔“
➋ { فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّيْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ …:} ذوالقرنین کی اس بات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ساری دنیا کی بادشاہت ملنے کے باوجود آخرت کی فکر ہر وقت رہنی چاہیے، کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اس وعدے سے مراد قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کے نکلنے کا وقت ہے، جیسا کہ سورۂ انبیاء (۹۶، ۹۷) میں ہے۔ زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [اِسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّوْمِ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ وَهُوَ يَقُوْلُ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ مِثْلُ هٰذِهِ وَعَقَدَ سُفْيَانُ تِسْعِيْنَ أَوْ مِائَةً قِيْلَ أَنَهْلِكُ وَفِيْنَا الصَّالِحُوْنَ؟ قَالَ نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ] [بخاری، الفتن، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ویل للعرب…: ۷۰۵۹]”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے لا الٰہ الا اللہ کہتے ہوئے بیدار ہوئے، جب کہ آپ کا چہرہ سرخ تھا، فرمایا: ”عرب کے لیے بہت بڑی تباہی ہے اس شر سے جو بہت قریب آ گیا ہے، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا حصہ کھول دیا گیا۔“ اور سفیان نے نوے (۹۰) یا سو (۱۰۰) کی گرہ بنائی، یعنی انگوٹھے اور شہادت کی انگلی ملا کر گول دائرہ بنا کر دکھایا۔ پوچھا گیا: ”کیا ہم اپنے آپ میں صالحین کے موجود ہوتے ہوئے ہلاک ہو جائیں گے؟“ فرمایا: ”ہاں، جب برائی زیادہ ہو جائے گی۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
98۔ 1 یعنی یہ دیوار اگرچہ بڑی مضبوط بنادی گئی جس کے اوپر چڑھ کر اس میں سوراخ کر کے یاجوج ماجوج کا ادھر آنا ممکن نہیں ہے لیکن جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا، تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر کے زمین کے برابر کر دے گا، اس وعدے سے مراد قیامت کے قریب یاجوج و ماجوج کا ظہور ہے جیسا کہ احادیث میں ہے۔ مثلًا ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دیوار کے تھوڑے سے سوراخ کو فتنے کے قریب ہونے سے تعبیر فرمایا (صحیح بخاری، نمبر 3346 و مسلم، نمبر 228) ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ وہ ہر روز اس دیوار کو کھودتے ہیں اور پھر کل کے لئے چھوڑ دیتے ہیں، لیکن جب اللہ کی مشیت ان کے باہر نکلنے کی ہوگی تو پھر وہ کہیں گے کل انشا اللہ اسکو کھو دیں گے اور پھر دوسرے دن وہ اس سے نکلنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ زمین میں فساد پھیلائیں گے حتٰی کے لوگ قلعہ بند ہوجائیں گے، یہ آسمانوں پر تیر پھینکیں گے جو خون آلودہ لوٹیں گے، بالآخر اللہ تعالیٰ ان کی گدیوں پر ایسا کیڑا پیدا فرما دے گا جس سے ان کی ہلاکت واقع ہوجائے گی۔ صحیح مسلم میں نواس بن سمعان کی روایت میں وضاحت ہے کہ یاجوج و ماجوج کا ظہور حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کے بعد ان کی موجودگی میں ہوگا۔ جس سے ان حضرات کی تردید ہوجاتی ہے، جو کہتے ہیں کہ تاتاریوں کا مسلمانوں پر حملہ، یا منگول ترک جن میں چنگیز بھی تھا یا روسی یا چینی قومیں یہی یاجوج و ماجوج ہیں، جن کا ظہور ہوچکا۔ یا مغربی قومیں ان کا مصداق ہیں کہ پوری دنیا میں ان کا غلبہ و تسلط ہے۔ یہ سب باتیں غلط ہیں کیونکہ ان کے غلبے سے سیاسی غلبہ مراد نہیں ہے بلکہ قتل و غارت گری اور زرو و فساد کا وہ عارضی غلبہ ہے جس کا مقابلہ کرنے کی طاقت مسلمانوں میں نہیں ہوگی، تاہم پھر وبائی مرض سے سب کے سب آن واحد میں لقمہ اجل بن جائیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
98۔ ذو القرنین کہنے لگا: یہ میرے پروردگار کی [80] رحمت سے بن گیا ہے مگر میرے پروردگار کے وعدہ کا وقت آ جائے گا تو وہ اس بند کو پیوند خاک کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ [81] برحق ہے۔
[80] جب یہ دیوار تعمیر ہو گئی تو ذو القرنین نے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ جس نے یہ دیوار بنانے اور لوگوں کو آئے دن کی پریشانیوں سے نجات دلانے کی توفیق بخشی مگر ساتھ ہی لوگوں کو یہ بھی بتا دیا کہ یہ دیوار اگرچہ بہت مضبوط اور مستحکم ہے مگر یہ لازوال نہیں جو چیز بھی بنی ہے بالآخر فنا ہونے والی ہے جب تک اللہ کو منظور ہے قائم رہے گی اور ”وعدے کے وقت“ سے مراد یا تو اس دیوار کی تباہی کا وقت ہے یا اس سے مراد قیامت ہے جب کہ ہر چیز ہی فنا ہو جائے گی جیسا کہ اس کے بعد والی آیت سے اسی دوسرے مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ [81] ذو القرنین کے خصائل:۔
اس آیت پر ذو القرنین کا ان لوگوں سے خطاب بھی ختم ہو جاتا ہے اور قصہ ذو القرنین بھی۔ اس میں محض کفار مکہ کے سوال کا جواب ہی نہیں دیا گیا بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ ذو القرنین ایک بہت بڑا فاتح اور شان و شوکت والا بادشاہ ہونے کے باوجود توحید اور آخرت کا قائل تھا۔ عدل و انصاف کے علاوہ فیاضی سے کام لیتا تھا۔ نرمی کا برتاؤ کرتا تھا تمہاری طرح کم ظرف نہ تھا کہ معمولی قسم کی سرداریاں پا کر اکڑے بیٹھے ہو اور دوسروں کو حقیر سمجھتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دیوار بنا دی گئی ٭٭
اس دیوار پر نہ تو چڑھنے کی طاقت یاجوج ماجوج کو ہے، نہ وہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے ہیں کہ وہاں سے نکل آئیں۔ چونکہ چڑھنا بہ نسبت توڑنے کے زیادہ آسان ہے، اسی لیے چڑھنے میں «مَااسْطَاعُوْا» کا لفظ لائے اور توڑنے میں «مَااسْـتَـطَاعُوْا» کا لفظ لائے۔ غرض نہ تو وہ چڑھ کر آ سکتے ہیں نہ سوراخ کر کے۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہر روز یاجوج ماجوج اس دیوار کو کھودتے ہیں یہاں تک کہ قریب ہوتا ہے کہ سورج کی شعاعیں ان کو نظر آ جائیں، چونکہ دن گزر جاتا ہے اس لیے ان کے سردار کا حکم ہوتا ہے کہ اب بس کرو کل آ کر توڑ دیں گے لیکن جب وہ دوسرے دن آتے ہیں تو اسے پہلے دن سے زیادہ مضبوط پاتے ہیں۔ قیامت کے قریب جب ان کا نکلنا اللہ کو منظور ہو گا تو یہ کھودتے ہوئے جب دیوار کو چھلکے جیسی کر دیں گے تو ان کا سردار کہے گا، اب چھوڑ دو کل ان شاءاللہ اسے توڑ ڈالیں گے، پس ان شاءاللہ کہہ لینے کی برکت سے دوسرے دن جب وہ آئیں گے تو جیسی چھوڑ گئے تھے ویسی ہی پائیں گے۔ فوراً گرا دیں گے اور باہر نکل پڑیں گے۔ تمام پانی چاٹ جائیں گے، لوگ تنگ آ کر قلعوں میں پناہ گزیں ہو جائیں گے۔ یہ اپنے تیر آسمان کی طرف چلائیں گے اور مثل خون آلود تیروں کے ان کی طرف لوٹائے جائیں گے تو یہ کہیں گے، زمین والے سب دب گئے آسمان والوں پر بھی ہم غالب آ گئے۔ اب ان کی گردنوں میں گلٹیاں نکلیں گی اور سب کے سب بحکم الٰہی اسی وبا سے ہلاک کر دئے جائیں گے۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ زمین کے جانوروں کی خوراک ان کے جسم و خون ہوں گے جس سے وہ خوب موٹے تازے ہو جائیں گے۔ [مسند احمد:510/2:صحیح]
ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ بھی اسے لائے ہیں اور فرمایا ہے یہ روایت غریب ہے سوائے اس سند کے مشہور نہیں۔ اس کی سند بہت قوی ہے لیکن اس کا متن نکارت سے خالی نہیں۔ اس لیے کہ آیت کے ظاہری الفاظ صاف ہیں کہ نہ وہ چڑھ سکتے ہیں نہ سوراخ کر سکتے ہیں کیونکہ دیوار نہایت مضبوط، بہت پختہ اور سخت ہے۔
ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ بھی اسے لائے ہیں اور فرمایا ہے یہ روایت غریب ہے سوائے اس سند کے مشہور نہیں۔ اس کی سند بہت قوی ہے لیکن اس کا متن نکارت سے خالی نہیں۔ اس لیے کہ آیت کے ظاہری الفاظ صاف ہیں کہ نہ وہ چڑھ سکتے ہیں نہ سوراخ کر سکتے ہیں کیونکہ دیوار نہایت مضبوط، بہت پختہ اور سخت ہے۔
کعب احبار رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یاجوج ماجوج روزانہ اسے چاٹتے ہیں اور بالکل چھلکے جیسی کر دیتے ہیں، پھر کہتے ہیں چلو کل توڑ دیں گے۔ دوسرے دن جو آتے ہیں تو جیسی اصل میں تھی ویسی ہی پاتے ہیں۔ آخری دن وہ بہ الہام الٰہی جاتے وقت ان شاءاللہ کہیں گے، دوسرے دن جو آئیں گے تو جیسی چھوڑ گئے تھے، ویسی ہی پائیں گے اور توڑ ڈالیں گے۔ بہت ممکن ہے کہ انہی کعب سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی ہو پھر بیان کی ہو اور کسی راوی کو وہم ہو گیا ہو اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سمجھ کر اسے مرفوعاً بیان کر دیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» یہ جو ہم کہہ رہے ہیں اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ جو مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور فرماتے جاتے تھے۔ «لا الہ الا اللہ» عرب کی خرابی کا وقت قریب آ گیا، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا پھر آپ نے اپنی انگلیوں سے حلقہ بنا کر دکھایا۔ اس پر ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم بھلے لوگوں کی موجودگی میں بھی ہلاک کر دئیے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جب خبیث لوگوں کی کثرت ہو جائے۔ [صحیح بخاری:3346] یہ حدیث بالکل صحیح ہے بخاری مسلم دونوں میں ہے۔ ہاں بخاری شریف میں راویوں کے ذکر میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں۔ مسلم میں ہے اور بھی اس کی سند میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جو بہت ہی کم پائی گئی ہیں۔
مثلا زہری کی روایت عروہ سے حالانکہ یہ دونوں بزرگ تابعی ہیں اور چار عورتوں کا آپس میں ایک دوسرے سے روایت کرنا پھر چاروں عورتیں صحابیہ رضی اللہ عنہن۔ پھر ان میں بھی دو حضور علیہ السلام کی بیویوں کی لڑکیاں اور دو آپ کی بیویاں رضی اللہ عنہن۔ بزار میں یہی روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ [مترجم کہتا ہے اس تکلف کی اور ان مرفوع احادیث کے متعلق اس قول کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ہم آیت قرآنی اور ان صحیح مرفوع احادیث کے درمیان بہت آسانی سے یہ تطبیق دے سکتے ہیں کہ کوئی ایسا سوراخ نہیں کر سکتے جس میں سے نکل آئیں۔ پتلی کر دینا یا حلقے کے برابر سوراخ کر دینا اور بات ہے، جو مقصود ذوالقرنین کا اس دیوار کے بنانے سے تھا، وہ بفضلہ حاصل ہے کہ نہ وہ اوپر سے اتر سکیں نہ توڑ کر یا سوراخ کر کے نکل سکیں اور اسی کی خبر آیت میں ہے اور اس کے خلاف کوئی حدیث نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم]
اس دیوار کو بنا کر ذوالقرنین اطمینان کا سانس لیتے ہیں اور اللہ کا شکر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ لوگو یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے ان شریروں کی شرارت سے مخلوق کو اب امن دے دیا، ہاں جب اللہ کا وعدہ آ جائے گا تو اس کا ڈھیر ہو جائے گا۔ یہ زمین دوز ہو جائے گی۔ مضبوطی کچھ کام نہ آئے گی۔ اونٹنی کا کوہان جب اس کی پیٹھ سے ملا ہوا ہو تو عرب میں اسے «ناقتہ دکاء» کہتے ہیں۔ قرآن میں اور جگہ ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام کے سامنے پہاڑ پر رب نے تجلی کی تو وہ پہاڑ زمین دوز ہو گیا وہاں بھی لفظ «جعلہ دکاء» ہے۔ پس قریب بہ قیامت یہ دیوار پاش پاش ہو جائے گی اور ان کے نکلنے کا راستہ بن جائے گا۔ اللہ کے وعدے اٹل ہیں، قیامت کا آنا یقینی ہے۔ اس دیوار کے ٹوٹتے ہی یہ لوگ نکل پڑیں گے اور لوگوں میں گھس جائیں گے، اپنوں بیگانوں کی تمیز اٹھ جائے گی۔ یہ واقعہ دجال کے آجانے کے بعد قیامت کے قیام سے پہلے ہو گا۔ اس کا پورا بیان آیت «اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ» [21- الأنبياء: 96] کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ۔
اس دیوار کو بنا کر ذوالقرنین اطمینان کا سانس لیتے ہیں اور اللہ کا شکر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ لوگو یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے ان شریروں کی شرارت سے مخلوق کو اب امن دے دیا، ہاں جب اللہ کا وعدہ آ جائے گا تو اس کا ڈھیر ہو جائے گا۔ یہ زمین دوز ہو جائے گی۔ مضبوطی کچھ کام نہ آئے گی۔ اونٹنی کا کوہان جب اس کی پیٹھ سے ملا ہوا ہو تو عرب میں اسے «ناقتہ دکاء» کہتے ہیں۔ قرآن میں اور جگہ ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام کے سامنے پہاڑ پر رب نے تجلی کی تو وہ پہاڑ زمین دوز ہو گیا وہاں بھی لفظ «جعلہ دکاء» ہے۔ پس قریب بہ قیامت یہ دیوار پاش پاش ہو جائے گی اور ان کے نکلنے کا راستہ بن جائے گا۔ اللہ کے وعدے اٹل ہیں، قیامت کا آنا یقینی ہے۔ اس دیوار کے ٹوٹتے ہی یہ لوگ نکل پڑیں گے اور لوگوں میں گھس جائیں گے، اپنوں بیگانوں کی تمیز اٹھ جائے گی۔ یہ واقعہ دجال کے آجانے کے بعد قیامت کے قیام سے پہلے ہو گا۔ اس کا پورا بیان آیت «اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ» [21- الأنبياء: 96] کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ۔
جب صور پھونکا جاے گا ٭٭
اس کے بعد صور پھونکا جائے گا اور سب جمع ہو جائیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن انسان جن سب خلط ملط ہو جائیں گے۔ بنی خزارہ کے ایک شیخ کا بیان ابن جریر میں ہے کہ جب جن انسان آپس میں گتھم گتھا ہو جائیں گے، اس وقت ابلیس کہے گا کہ میں جاتا ہوں، معلوم کرتا ہوں کہ یہ کیا بات ہے؟ مشرق کی طرف بھاگے گا لیکن وہاں فرشتوں کی جماعتوں کو دیکھ کر رک جائے گا اور لوٹ کر مغرب کو پہنچے گا، وہاں بھی یہی رنگ دیکھ کر دائیں بائیں بھاگے گا لیکن چاروں طرف سے فرشتوں کا محاصرہ دیکھ کر ناامید ہو کر چیخ پکار شروع کر دے گا۔ اچانک اسے ایک چھوٹا سا راستہ دکھائی دے گا، اپنی ساری ذریات کو لے کر اس میں چل پڑے گا آگے جا کر دیکھے گا کہ دوزخ بھڑک رہی ہے۔ ایک دروغہ جہنم اس سے کہے گا کہ اے موذی خبیث! کیا اللہ نے تیرا مرتبہ نہیں بڑھایا تھا؟ کیا تو جنتیوں میں نہ تھا؟ یہ کہے گا آج ڈانٹ ڈپٹ کیوں کرتے ہو؟ آج تو چھٹکارے کا راستہ بتاؤ، میں عبادت الٰہی کے لیے تیار ہوں، اگر حکم ہو تو اتنی اور ایسی عبادت کروں کہ روئے زمین پر کسی نے نہ کی ہو۔ داروغہ فرمائے گا اللہ تعالیٰ تیرے لیے ایک فریِضہ مقرر کرتا ہے، وہ خوش ہو کر کہے گا میں اس کے حکم کی بجا آوری کے لیے پوری مستعدی سے موجود ہوں۔ حکم ہو گا کہ یہی کہ تم سب جہنم میں چلے جاؤ۔ اب یہ خبیث ہکا بکا رہ جائے گا۔ وہیں فرشتہ اپنے پر سے اسے اور اس کی تمام ذریت کو گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دے گا۔ جہنم انہیں لے کر آ دبوچے گی اور ایک مرتبہ تو وہ جلائے گی کہ تمام مقرب فرشتے اور تمام نبی رسول گھٹنوں کے بل اللہ کے سامنے عاجزی میں گر پڑیں گے۔
طبرانی میں ہے کہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، یاجوج ماجوج آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں، اگر وہ چھوڑ دئے جائیں تو دنیا کی معاش میں فساد ڈال دیں، ایک ایک اپنے پیچھے ہزار ہزار بلکہ زیادہ چھوڑ کر مرتا ہے، پھر ان کے سوا تین امتیں اور ہیں تاویل، مارس اور منسک۔ [طبرانی اوسط:8598:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے بلکہ منکر اور ضعیف ہے۔
طبرانی میں ہے کہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، یاجوج ماجوج آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں، اگر وہ چھوڑ دئے جائیں تو دنیا کی معاش میں فساد ڈال دیں، ایک ایک اپنے پیچھے ہزار ہزار بلکہ زیادہ چھوڑ کر مرتا ہے، پھر ان کے سوا تین امتیں اور ہیں تاویل، مارس اور منسک۔ [طبرانی اوسط:8598:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے بلکہ منکر اور ضعیف ہے۔
نسائی میں ہے کہ ان کی بیویاں بچے ہیں، ایک ایک اپنے پیچھے ہزار ہزار بلکہ زیادہ چھوڑ کر مرتا ہے۔ پھر فرمایا صور پھونک دیا جائے گا جیسے حدیث میں ہے کہ وہ ایک قرن ہے جس میں صور پھونک دیا جائے گا، [سنن ابوداود:4732،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھونکنے والے اسرافیل علیہ السلام ہوں گے۔ جیسے کہ لمبی حدیث بیان ہو چکی ہے۔ اور بھی بہت سی احادیث سے اس کا ثبوت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں کیسے چین اور آرام سے بیٹھوں؟ صور والا فرشتہ صور کو منہ سے لگائے ہوئے پیشانی جھکائے ہوئے کان لگائے ہوئے منتظر بیٹھا ہے کہ کب حکم ہو اور میں پھونک دوں۔ لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر ہم کیا کہیں؟ فرمایا «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الوَكِيلُ، عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا» ۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرماتا ہے، ہم سب کو حساب کے لیے جمع کریں گے۔ سب کا حشر ہمارے سامنے ہو گا جیسے سورۃ الواقعہ میں ہے کہ «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [56-الواقعہ: 49، 50] اگلے پچھلے سب کے سب مقررہ دن کے وقت اکٹھے کئے جائیں گے اور آیت میں ہے «وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18- الكهف: 47] ہم سب کو جمع کریں گے۔ ایک بھی تو باقی نہ بچے گا۔