ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 94

قَالُوۡا یٰذَاالۡقَرۡنَیۡنِ اِنَّ یَاۡجُوۡجَ وَ مَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَہَلۡ نَجۡعَلُ لَکَ خَرۡجًا عَلٰۤی اَنۡ تَجۡعَلَ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَہُمۡ سَدًّا ﴿۹۴﴾
انھوں نے کہا اے ذوالقرنین! بے شک یاجوج اور ماجوج اس سرزمین میں فساد کرنے والے ہیں، تو کیا ہم تیرے لیے کچھ آمدنی طے کر دیں، اس (شرط) پر کہ تو ہمارے درمیان اور ان کے درمیان ایک دیوار بنادے۔ En
ان لوگوں نے کہا ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں بھلا ہم آپ کے لئے خرچ (کا انتظام) کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار کھینچ دیں
En
انہوں نے کہا اے ذوالقرنین! یاجوج ماجوج اس ملک میں (بڑے بھاری) فسادی ہیں، تو کیا ہم آپ کے لئے کچھ خرچ کا انتظام کر دیں؟ (اس شرط پر کہ) آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنادیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 94) ➊ { قَالُوْا يٰذَا الْقَرْنَيْنِ …:} جب وہ قریب نہ تھے کہ کوئی بات سمجھیں تو ذوالقرنین سے ان کی گفتگو کیسے ہوئی؟ جواب یہ ہے کہ اشاروں کی زبان میں، جو بین الاقوامی زبان ہے، یا ذوالقرنین کو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان کی زبان سمجھا دی ہو گی، جیسا کہ داؤد و سلیمان علیھما السلام کو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کی بولی سکھا دی تھی۔
➋ { فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا …:} اس قوم اور یاجوج ماجوج کے درمیان دو پہاڑ تھے جن کے درمیان ایک درہ تھا، جہاں سے آ کر وہ لوگ لوٹ مار کر کے چلے جاتے تھے۔ دو پہاڑوں کے درمیان ان کے برابر ایک بلند دیوار کوئی اولو العزم بادشاہ ہی بنا سکتا تھا، جس کے پاس ہر قسم کے وسائل ہوں۔ کوئی قوم کتنی بھی مال دار ہو یہ کام سرانجام نہیں دے سکتی۔ اس لیے انھوں نے اخراجات ادا کرنے کی پیش کش کرکے اپنے اور یاجوج ماجوج کے درمیان رکاوٹ بننے والی دیوار بنانے کی درخواست کی جو پہاڑوں کی طرح ان کا راستہ روک سکے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

94۔ 1 ذو القرنین سے یہ خطاب یا تو کسی ترجمان کے ذریعے ہوا ہوگا یا اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو جو خصوصی اسباب و وسائل مہیا فرمائے تھے، انہی میں مختلف زبانوں کا علم بھی ہوسکتا ہے اور یوں یہ خطاب براہ راست بھی ہوسکتا ہے۔ 94۔ 2 یاجوج و ماجوج یہ دو قومیں ہیں اور حدیث صحیح کے مطابق نسل انسانی میں سے ہیں اور ان کی تعداد، دوسری انسانی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ ہوگی اور انہی سے جہنم زیادہ بھرے گی (صحیح بخاری)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

94۔ وہ کہنے لگے: ”اے ذو القرنین! [76] یاجوج اور ما جوج نے اس سرزمین میں فساد مچا رکھا ہے۔ اگر ہم آپ کو کچھ چندہ اکٹھا کر دیں تو کیا آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار چن دیں گے؟“
[76] ذو القرنین کی تیسری مہم شمال کو۔ یاجوج ماجوج کون ہیں؟
ذو القرنین کے تیسرے سفر کی سمت کا قرآن میں ذکر نہیں ہے تاہم قیاس یہی ہے کہ یہ شمالی جانب تھا اور شمالی جانب وہ قفقاز (کاکیشیا) کے پہاڑی علاقہ تک چلا گیا۔ ذو القرنین اور اس کے ساتھی ان لوگوں کی زبان نہیں سمجھتے تھے اور وہ ان کی زبان نہیں سمجھتے تھے۔ ایسی صورتوں میں کسی ترجمان کی وساطت سے ہی بات چیت ہوئی ہو گی یا بسا اوقات اشاروں سے بھی مطلب سمجھایا جا سکتا ہے اور مسلم مؤرخین کے بیان کے مطابق یاجوج ماجوج سے مراد وہ انتہائی شمال مشرقی علاقہ کی وحشی اقوام ہیں جو انہی دروں کے راستوں سے یورپ اور ایشیا کی مہذب اقوام پر حملہ آور ہوتی رہی ہیں اور جنہیں مؤرخین سیدنا نوحؑ کے بیٹے یافث کی اولاد قرار دیتے ہیں۔ ان لوگوں نے ذو القرنین کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر یہ التجا کی کہ ہمیں یاجوج ماجوج حملہ کر کے ہر وقت پریشان کرتے رہتے ہیں اگر ممکن ہو تو ان دو گھاٹیوں کے درمیان جو درے ہیں انھیں پاٹ دیجئے اور اس سلسلہ میں جو لاگت آئے وہ ہم دینے کو تیار ہیں یا اس کے عوض ہم پر کوئی ٹیکس لگا دیجئے وہ ہم ادا کرتے رہیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔