ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 80

وَ اَمَّا الۡغُلٰمُ فَکَانَ اَبَوٰہُ مُؤۡمِنَیۡنِ فَخَشِیۡنَاۤ اَنۡ یُّرۡہِقَہُمَا طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ﴿ۚ۸۰﴾
اور رہا لڑکا تو اس کے ماں باپ دونوں مومن تھے تو ہم ڈرے کہ وہ ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں پھنسا دے گا۔ En
اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ (وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے
En
اور اس لڑکے کے ماں باپ ایمان والے تھے۔ ہمیں خوف ہوا کہ کہیں یہ انہیں اپنی سرکشی اور کفر سے عاجز وپریشان نہ کر دے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 81،80){ وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَيْنِ …:} ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے مومن بندوں کی آنے والے فتنوں سے بھی حفاظت کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اِنَّ اللّٰهَ يُدٰفِعُ عَنِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [الحج: ۳۸] بے شک اللہ ان لوگوں کی طرف سے دفاع کرتا ہے جو ایمان لائے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

80۔ اور لڑکے کا قصہ یہ ہے کہ اس کے والدین مومن تھے۔ ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر کی وجہ [68] سے ان پر کوئی مصیبت نہ لا کھڑی کرے۔
[68] یعنی وہ لڑکا بہت خوب صورت تھا اور مجھے اس بات کا (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) علم تھا کہ یہ گمراہی کا راستہ اختیار کرے گا اور والدین کو چونکہ اس سے بے حد محبت تھی لہٰذا یہ عین ممکن تھا کہ وہ اپنے ساتھ اپنے والدین کو بھی لے ڈوبے جو اللہ کے سچے فرمانبردار ہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی حکمت اس بات کی متقاضی ہوئی کہ اس لڑکے کا کام ہی تمام کر ڈالا جائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ کی رضا اور انسان ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس نوجوان کا نام جیسور تھا۔ حدیث میں ہے کہ اس کی جبلت میں ہی کفر تھا۔ [صحیح مسلم:2661]‏‏‏‏ خضر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بہت ممکن تھا کہ اس بچے کی محبت اس کے ماں باپ کو بھی کفر کی طرف مائل کر دے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس کی پیدائش سے اس کے ماں باپ بہت خوش ہوئے تھے اور اس کی ہلاکت سے وہ بہت غمگین ہوئے، حالانکہ اس کی زندگی ان کے لیے ہلاکت تھی۔ پس انسان کو چاہیئے کہ اللہ کی قضاء پر راضی رہے۔ رب انجام کو جانتا ہے اور ہم اس سے غافل ہیں۔ مومن جو کام اپنے لیے پسند کرتا ہے، اس کی اپنی پسند سے وہ اچھا ہے جو اللہ اس کے لیے پسند فرماتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کے لیے جو اللہ کے فیصلے ہوتے ہیں، وہ سراسر بہتری اور عمدگی والے ہی ہوتے ہیں۔ [مسند احمد:117/3:صحیح]‏‏‏‏ قرآن کریم میں ہے «وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ» [2-البقرہ: 216]‏‏‏‏ یعنی بہت ممکن ہے کہ ایک کام تم اپنے لیے برا اور ضرر والا سمجھتے ہو اور وہی دراصل تمہارے لیے بھلا اور مفید ہو۔
خضر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہم نے چاہا کہ اللہ انہیں ایسا بچہ دے جو بہت پرہیزگار ہو اور جس پر ماں باپ کو زیادہ پیار ہو۔ یا یہ کہ جو ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہو۔ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس لڑکے کے بدلے اللہ نے ان کے ہاں ایک لڑکی دی۔ مروی ہے کہ اس بچے کے قتل کے وقت اس کی والدہ کے حمل سے ایک مسلمان لڑکا تھا اور وہ حاملہ تھیں۔