ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 64

قَالَ ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبۡغِ ٭ۖ فَارۡتَدَّا عَلٰۤی اٰثَارِہِمَا قَصَصًا ﴿ۙ۶۴﴾
اس نے کہا یہی ہے جو ہم تلاش کر رہے تھے، سو وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر پیچھا کرتے ہوئے واپس لوٹے۔ En
(موسیٰ نے) کہا یہی تو (وہ مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے
En
موسیٰ نے کہا یہی تھا جس کی تلاش میں ہم تھے چنانچہ وہیں سے اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہوئے واپس لوٹے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 64){فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا:} یہ واقعہ انبیاء و اولیاء، خصوصاً موسیٰ، یوشع بن نون اور خضر علیہم السلام کے غیب نہ جاننے کی کئی طرح سے دلیل ہے: (1) موسیٰ علیہ السلام کا کہنا کہ مجھ سے زیادہ کوئی عالم نہیں، حالانکہ ان سے زیادہ علم والے موجود تھے۔ (2) اللہ تعالیٰ کا ناراض ہونا۔ (3) موسیٰ علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ سے خضر کا پتا پوچھنا۔ (4) مجمع البحرین اور مچھلی کی نشانی کی ضرورت عالم الغیب کو نہیں ہوتی۔ (5) مچھلی کے نکل جانے کا علم نہ ہونا۔ (6) اگلا سفر، تھکاوٹ کے احساس کی وجہ معلوم نہ ہونا۔ (7) قدموں کے نشانوں کو دیکھتے ہوئے واپسی کی اسے کیا ضرورت ہے جس کی نگاہ سے کچھ اوجھل نہ ہو۔ مزید اگلی آیات میں ملاحظہ فرمائیے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

64۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ نے کہا، اللہ کے بندے! جہاں مچھلی زندہ ہو کر غائب ہوئی تھی، وہی تو ہمارا مطلوبہ مقام تھا، جس کی تلاش میں ہم سفر کر رہے ہیں۔ چناچہ اپنے نشانات دیکھتے ہوئے پیچھے لوٹے اور اسی مجمع البحرین پر واپس آگئے۔ قَصَصَا کے معنی ہیں پیچھے لگنا، پیچھے پیچھے چلنا۔ یعنی نشانات قدم کو دیکھتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے چلتے رہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

64۔ موسیٰ نے کہا: ”اسی چیز کی تو ہمیں تلاش تھی“ چنانچہ وہ اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس چلے آئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔