ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 60

وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِفَتٰىہُ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤی اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَیۡنِ اَوۡ اَمۡضِیَ حُقُبًا ﴿۶۰﴾
اور جب موسیٰ نے اپنے جوان سے کہا میں نہیں ہٹوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے ملنے کے مقام پر پہنچ جاؤں، یا مدتوں چلتا رہوں۔ En
اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں
En
جب کہ موسیٰ نے اپنے نوجوان سے کہا کہ میں تو چلتا ہی رہوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچوں، خواه مجھے سالہا سال چلنا پڑے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 60) ➊ { وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ …:} یہاں سے تیسرا قصہ شروع ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام خضر کے پاس علم حاصل کرنے کے لیے گئے۔ اگرچہ یہ اپنی جگہ ایک مستقل قصہ ہے، تاہم اس میں اس بات کی تائید بھی ہے جو پہلے دونوں قصوں میں گزری۔ اوپر ذکر فرمایا کہ کافر اپنے مال و جاہ پر مغرور رہتے اور مسلمانوں کو ذلیل سمجھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے کہ اگر ان کو اپنے پاس نہ بٹھاؤ تو ہم آپ کے پاس بیٹھیں۔ اس پر دو بھائیوں کا قصہ بیان فرمایا اور پھر دنیا کی مثال بیان فرمائی اور بتایا کہ ابلیس غرور کے سبب ہی ہلاک ہوا اور اب خضر اور موسیٰ علیھما السلام کا واقعہ بیان فرمایا کہ دیکھو موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر اولو العزم پیغمبر اتنے زیادہ علم و عمل کے باوجود خضر علیہ السلام سے علم حاصل کرنے کے لیے گئے اور ان کے سامنے تواضع اختیار کرتے ہوئے ان کی ہر شرط قبول کی۔ (رازی و موضح)
➋ { لِفَتٰىهُ فَتًي} کا معنی نوجوان ہے، خادم کو بھی{ فَتًي } کہہ لیتے ہیں، کیونکہ بہتر خدمت نوجوان ہی کر سکتے ہیں۔ یہ یوشع بن نون تھے جو موسیٰ علیہ السلام سے بہت محبت رکھتے تھے، ان کی خدمت کے لیے ان کے ساتھ رہتے تھے، موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کے جانشین بنے اور انھی کے ہاتھوں بیت المقدس فتح ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص اگر خوش دلی سے خدمت کرے تو اس سے خدمت لی جا سکتی ہے۔
➌ { مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ: بَحْرٌ} کا لفظ عربی زبان میں نمکین پانی والے سمندر پر بھی بولا جاتا ہے اور میٹھے پانی والے دریا پر بھی۔ (قاموس) فارسی میں بھی دریا کا لفظ دونوں پر بولا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ دو بحر ذکر نہیں فرمائے، کیونکہ مراد قصہ گوئی نہیں، نصیحت ہے اور وہ ان دو دریاؤں کی تعیین کے بغیر بھی پوری ہے۔ بعض مفسرین نے ان سے بحر فارس اور بحر روم مراد لیے ہیں، مگر یہ ملتے نہیں۔ بعض نے بحر ابیض اور بحر احمر مراد لیے ہیں۔ بعض نے افریقہ کے اور بعض نے اندلس کے دو دریا مراد لیے ہیں۔ بعض نے دجلہ و فرات مراد لیے ہیں، مگر مصر کو مدنظر رکھیں تو سوڈان کی طرف سے مصر میں آنے والے دریائے نیل میں ملنے والے کئی دریاؤں کے نیل کے ساتھ ملنے کی کوئی جگہ مراد ہو سکتی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے وہاں گم ہونے کی علامت کے ساتھ متعین فرمایا۔ اب اندازے سے ان جگہوں میں سے دو دریاؤں کے جمع ہونے کی کوئی ایک جگہ متعین کرنا ممکن نہیں اور اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں۔ { حُقُبًا حَقْبَةٌ} کی جمع ہے، لمبی مدت کو { حَقْبَةٌ } کہتے ہیں۔ اس واقعہ کی تفصیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیان فرمائی ہے، قارئین اس پوری حدیث کو غور سے پڑھیں، آئندہ فوائد میں اس کا بار بار ذکر آئے گا۔
➍ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ان سے پوچھا گیا: لوگوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے؟ انھوں نے فرمایا: میں ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ناراضگی کا اظہار فرمایا، کیونکہ انھوں نے یہ بات اللہ کے سپرد نہیں کی (کہ اللہ بہتر جانتا ہے)۔ سو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ میرا ایک بندہ دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ ہے، وہ تم سے زیادہ عالم ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! پھر میری اس سے ملاقات کیسے ہو سکتی ہے؟ فرمایا: اپنے ساتھ ایک مچھلی لے لو اور اسے کسی مکتل (کھجور کے نرم پتوں کی بنی ہوئی ٹوکری) میں رکھ لو، تو جہاں مچھلی کو گم پاؤ، وہ وہیں ہو گا۔ تو انھوں نے ایک مچھلی لی، اسے ایک ٹوکری میں رکھا اور چل پڑے اور اپنے ساتھ اپنے جوان یوشع بن نون کو بھی لے لیا۔ یہاں تک کہ وہ ایک خاص قسم کی چٹان کے پاس پہنچے تو دونوں لیٹ گئے اور سو گئے۔ مچھلی تڑپی اور دریا میں جا گری اور اس نے دریا میں اپنا راستہ سرنگ کی صورت میں بنا لیا اور اللہ تعالیٰ نے مچھلی سے پانی کا بہاؤ روک دیا تو وہ اس پر طاق کی طرح ہو گیا۔ جب (موسیٰ علیہ السلام) جاگے تو ان کا ساتھی انھیں مچھلی کے متعلق بتلانا بھول گیا، چنانچہ وہ دونوں دن کا باقی حصہ اور رات بھر چلتے رہے۔ اگلا دن ہوا تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے جوان سے کہا: ہمارا دن کا کھانا لاؤ، ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ ہوئی ہے۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کو اس وقت تک کوئی تھکاوٹ نہیں ہوئی جب تک وہ اپنی اس جگہ سے آگے نہیں گزرے جس کا انھیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ تو ان کے جوان نے ان سے کہا: کیا آپ نے دیکھا کہ جب ہم اس چٹان کے پاس ٹھہرے تھے تو میں مچھلی بھول گیا اور مجھے اس کا ذکر کرنا شیطان ہی نے بھلایا ہے اور اس نے دریامیں اپنا عجیب راستہ بنا لیا۔ سو مچھلی کے لیے سرنگ بنی اور موسیٰ علیہ السلام اور ان کے جوان کو تعجب ہوا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: یہی تو ہم ڈھونڈ رہے تھے۔ چنانچہ وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں کا پیچھا کرتے ہوئے واپس پلٹے، یہاں تک کہ اس چٹان تک آ پہنچے، تو اس وقت (وہاں) ایک آدمی کپڑا اوڑھ کر لیٹا ہوا تھا۔ اسے موسیٰ علیہ السلام نے سلام کہا تو خضر نے کہا: اور تیری (اس) سرزمین میں سلام کیسا؟ کہا: میں موسیٰ ہوں۔ اس نے کہا: بنی اسرائیل والے موسیٰ؟ کہا: ہاں، میں آپ کے پاس آیا ہوں کہ آپ کو جو کچھ سکھایا گیا ہے اس میں سے کچھ بھلائی مجھے سکھا دیں۔ اس نے کہا: تو میرے ساتھ ہر گز صبر نہیں کر سکے گا، اے موسیٰ! میں اللہ کے علم میں سے ایک ایسے علم پر ہوں جسے تم نہیں جانتے اور تم اللہ کے علم میں سے ایک ایسے علم پر ہو جسے میں نہیں جانتا۔ تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تم مجھے اگر اللہ نے چاہا تو صبر کرنے والا پاؤ گے اور میں تمھارے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ تو خضر نے اس سے کہا: پھر اگر تو میرے پیچھے چلا ہے تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں مت پوچھنا، یہاں تک کہ میں تیرے لیے اس کا کچھ ذکر شروع کروں۔ چنانچہ وہ دونوں چل پڑے، دریا کے کنارے پر جا رہے تھے کہ ایک کشتی گزری، انھوں نے ان سے بات کی کہ وہ انھیں سوار کر لیں۔ ان لوگوں نے خضر کو پہچان لیا، اس لیے انھوں نے ان کو کسی اجرت کے بغیر سوار کر لیا۔ جب وہ دونوں کشتی میں سوار ہوئے تو اچانک ہی خضر نے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ تیشے کے ساتھ اکھیڑ دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس سے کہا: ایسے لوگ جنھوں نے ہمیں اجرت کے بغیر سوار کر لیا، تم نے بڑھ کر ان کی کشتی کا تختہ اکھیڑ دیا، تاکہ اس میں سوار لوگوں کو غرق کر دو، بلاشبہ یقینا تو ایک بڑے کام کو آیا ہے۔ کہا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ یقینا تو میرے ساتھ ہر گز صبر نہ کر سکے گا؟ کہا: مجھے اس پر نہ پکڑ جو میں بھول گیا اور مجھے میرے معاملے میں کسی مشکل میں نہ پھنسا۔ (ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پہلی دفعہ موسیٰ علیہ السلام سے بھول ہوئی تھی۔ فرمایا: اور ایک چڑیا آئی اور کشتی کے ایک کنارے پر بیٹھ گئی، اس نے دریا میں ایک ٹھونکا مارا تو خضر نے اس سے کہا: میرا علم اور تیرا علم اللہ کے علم میں سے اتنا ہی ہے جتنا اس چڑیا نے اس دریا سے کم کیا ہے۔ پھر وہ دونوں کشتی سے نکلے، ابھی وہ کنارے پر چل ہی رہے تھے کہ خضر نے ایک لڑکا دیکھا جو لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، تو خضر نے اس کا سر پکڑا اور اسے اپنے ہاتھ سے اکھیڑ کر قتل کر دیا۔ موسیٰ نے اس سے کہا: کیا تو نے ایک بے گناہ جان کو کسی جان کے بدلے کے بغیر قتل کر دیا، بلاشبہ یقینا تو ایک بہت برے کام کو آیا ہے۔ کہا: کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ تو میرے ساتھ ہر گز صبر نہ کر سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور یہ پہلی سے سخت (تنبیہ) تھی۔ کہا: اگر میں تجھ سے اس کے بعد کسی چیز کے متعلق پوچھوں تو مجھے ساتھ نہ رکھنا، یقینا تو میری طرف سے پورے عذر کو پہنچ چکا ہے۔ پھر وہ دونوں چل پڑے، یہاں تک کہ جب وہ ایک بستی والوں کے پاس آئے، انھوں نے اس کے رہنے والوں سے کھانا طلب کیا تو انھوں نے انکار کر دیا کہ ان کی مہمان نوازی کریں، پھر انھوں نے اس میں ایک دیوار پائی جو چاہتی تھی کہ گر جائے۔ فرمایا، ایک طرف جھکی ہوئی تھی۔ تو خضر اٹھے اور اسے اپنے ہاتھ سے سیدھا کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ایسے لوگ جن کے پاس ہم آئے تو نہ انھوں نے ہمیں کھانا کھلایا اور نہ ہماری مہمان نوازی کی، اگر آپ چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے۔ (خضر نے) کہا: یہ میرے اور تیرے درمیان جدائی ہے۔ اس کے بعد پورا واقعہ بیان فرمایا جو آیت (۷۸) سے آیت (۸۲) کے آخر تک ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما پڑھا کرتے تھے: { وَ أَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ كَافِرًا وَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ } یعنی وہ لڑکا کافر تھا اور اس کے ماں باپ مومن تھے۔ [بخاری، التفسیر، باب قولہ: «و إذ قال موسٰی لفتاہ لا أبرح…» : ۴۷۲۵]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

60۔ 1 نوجوان سے مراد حضرت یوشع بن نون ؑ ہیں جو موسیٰ ؑ کے وفات کے بعد ان کے جانشین بنے۔ 60۔ 2 اس مقام کی تعیین کسی یقینی ذریعہ سے نہیں ہوسکی تاہم قیاس کیا جاتا ہے کہ اس سے مراد صحرائے سینا کا وہ جنوبی راستہ ہے جہاں خلیج عقبہ اور خلیج سویز دونوں آکر ملتے ہیں اور بحر احمر میں ضم ہوجاتے ہیں۔ دوسرے مقامات جن کا ذکر مفسرین نے کیا ہے ان پر سرے سے مجمع البحرین کی تعبیر ہی صادق نہیں آتی۔ 60۔ 3 حقب، کے ایک معنی 70 یا 80 سال اور دوسرے معنی غیر معین مدت کے ہیں یہاں یہی دوسرا معنی مراد ہے یعنی جب تک میں مجمع البحرین (جہاں دونوں سمندر ملتے ہیں) نہیں پہنچ جاؤں گا، چلتا رہوں گا اور سفر جاری رکھوں گا، چاہے کتنا بھی عرصہ لگ جائے۔ حضرت موسیٰ ؑ کو اس سفر کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ انہوں نے ایک موقع پر ایک سائل کے جواب میں یہ کہہ دیا کہ اس وقت مجھ سے بڑا عالم کوئی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ان کا یہ جملہ پسند نہیں آیا اور وحی کے ذریعہ سے انھیں مطلع کیا کہ ہمارا ایک بندہ (خضر) ہے جو تجھ سے بڑا عالم ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے پوچھا کہ یا اللہ اس سے ملاقات کس طرح ہوسکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جہاں دونوں سمندر ملتے ہیں، وہیں ہمارا وہ بندہ بھی ہوگا۔ نیز فرمایا کہ مچھلی ساتھ لے جاؤ، جہاں مچھلی تمہاری ٹوکری (زنبیل) سے نکل کر غائب ہوجائے تو سمجھ لینا کہ یہی مقام ہے (بخاری، سورة کہف) چناچہ اس کے حکم کے مطابق انہوں نے ایک مچھلی لی اور سفر شروع کردیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

60۔ اور (وہ قصہ بھی یاد کرو) جب موسیٰ نے [58] اپنے خادم سے کہا: ”میں تو چلتا ہی جاؤں گا تا آنکہ دو دریاؤں کے سنگم [59] پر نہ پہنچ جاؤں یا پھر میں مدتوں چلتا ہی رہوں گا۔
[58] سیدنا موسیٰ کا اپنے آپ کو سب سے بڑا عالم قرار دینا:۔
یہاں سے اب قصہ موسیٰؑ و خضر کا آغاز ہو رہا ہے جو قریش مکہ کا دوسرا سوال تھا۔ اس کی تشریح کے لیے بخاری شریف کی درجہ ذیل دو احادیث ملاحظہ فرمائیے۔
اللہ کی طرف سے اس کے بندہ (خضر) سے کسب فیض کا حکم:۔
سیدنا سعید بن جبیرؓ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباسؓ کو کہا کہ نوف بکالی (کعب احبار کا بیٹا) کہتا ہے کہ جو موسیٰؑ خضر سے ملنے گئے تھے وہ بنی اسرائیل کے موسیٰؑ نہ تھے۔ (بلکہ وہ موسیٰ بن افراثیم بن یوسف تھے) تو ابن عباسؓ کہنے لگے: وہ اللہ کا دشمن جھوٹ بکتا ہے میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دفعہ موسیٰؑ نے کھڑے ہو کر خطبہ سنایا (سامعین میں سے) کسی نے پوچھا ”اس وقت لوگوں میں سب سے زیادہ عالم کون ہے؟“ موسیٰؑ نے کہا ’میں‘ اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا کیونکہ انھیں یہ بات اللہ کے حوالہ کرنا چاہیے تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی کی کہ دو دریاؤں کے سنگھم پر میرا ایک بندہ (خضر) ہے جو تم سے زیادہ عالم ہے۔ موسیٰؑ نے عرض کی 'میں اسے کیسے مل سکتا ہوں؟' فرمایا: 'اپنے ساتھ ایک مچھلی اپنی زنبیل میں رکھ لو جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے وہیں وہ بندہ ملے گا' چنانچہ موسیٰؑ نے ایک مچھلی اپنی زنبیل میں رکھ لی اور وہ خود اور ان کا خادم یوشع بن نون سفر پر روانہ ہوئے تا آنکہ وہ (راستہ میں) ایک چٹان پر پہنچے، وہاں وہ اس چٹان پر اپنا سر رکھ کر سو گئے اس وقت وہ مچھلی زنبیل میں سے تڑپ کر نکلی اور دریا میں جا گری اور سرنگ کی طرح کا بنا ہوا رستہ چھوڑ گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس رستہ سے پانی کی روانی کو روک دیا اور وہ راستہ ایک طاق کی طرح دریا میں بنا رہ گیا۔ جب موسیٰؑ بیدار ہوئے تو ان کا خادم (جو یہ منظر دیکھ رہا تھا) انھیں اس واقعہ کی اطلاع دینا بھول گیا اور وہ پھر سفر پر چل کھڑے ہوئے وہ دن کا باقی حصہ اور رات بھی چلتے رہے۔
قصہ موسیٰؑ وخضرؑ سے ملاقات اور ہمراہی شرط:۔
دوسرے دن صبح موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا ’کھانا لاؤ ہم تو اس سفر سے بہت تھک گئے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’موسیٰؑ کو تھکن اس وقت سے شروع ہوئی جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے جہاں تک جانے کا اللہ نے انھیں حکم دیا تھا‘ یوشع نے موسیٰؑ کو جواب دیا: ’دیکھئے کل جب ہم نے چٹان کے پاس دم لیا تھا تو اس وقت مچھلی عجیب طرح کا راستہ بناتی ہوئی دریا میں چلی گئی تھی اور شیطان نے مجھے ایسا بھلایا کہ اس واقعہ کو آپ سے ذکر کرنا مجھے یاد ہی نہ رہا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’مچھلی نے جو یہ سرنگ جیسا راستہ بنایا تھا وہ ان دونوں کے لیے بڑا باعث تعجب تھا‘۔ موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا: کہ ’وہی جگہ تو ہماری منزل مقصود تھی‘ چنانچہ وہ دونوں اپنے نقوش پا کو دیکھتے دیکھتے واپس اسی چٹان تک آ گئے۔ وہاں انہوں نے ایک شخص کو کپڑا اوڑھے دیکھا تو موسیٰؑ نے اسے سلام کہا تو سیدنا خضر نے کہا ’تمہارے ملک میں سلام کہاں سے آیا؟‘ موسیٰؑ نے کہا ’میں موسیٰ ہوں‘ سیدنا خضر نے کہا ’بنی اسرائیل کے موسیٰ؟موسیٰؑ نے جواب دیا ’ہاں، میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ اللہ نے آپ کو بھلائی کی باتیں سکھائی ہیں ان میں سے کچھ مجھے بھی سکھا دیں‘ سیدنا خضر نے جواب دیا۔ ’موسیٰ دیکھو! اللہ تعالیٰ نے اپنے علوم میں سے ایک علم مجھے سکھایا ہے جسے آپ نہیں جانتے اور ایک علم آپ کو سکھایا ہے جسے میں نہیں جانتا لہٰذا تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کر سکو گے‘ موسیٰؑ نے جواب دیا ’میں ان شاء اللہ صبر کروں گا اور کسی معاملہ میں آپ سے اختلاف نہ کروں گا‘ سیدنا خضر نے کہا ’اگر میرے ساتھ چلنا ہے تو پھر مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا تا آنکہ میں خود ہی اس کی حقیقت آپ سے بیان نہ کر دوں‘
سیدنا خضر کا کشی کا تختہ اکھیڑنا اور سیدنا موسیٰ کا اعتراض:۔
(یہ معاہدہ طے پانے کے بعد) وہ دریا کے کنارے کنارے چل کھڑے ہوئے کہ ان کا گزر ایک کشتی پر ہوا انہوں نے کشتی والوں سے کہا کہ ہمیں بھی سوار کر لو کشتی والوں نے سیدنا خضر کو پہچان کر بغیر کرایہ ہی سوار کر لیا ابھی کشتی میں سوار ہوئے ہی تھے کہ سیدنا خضر نے اپنا بسولا لے کر اس کشتی کا ایک پھٹہ توڑ دیا اور اسے عیب دار بنا دیا۔ موسیٰؑ کہنے لگے کہ 'ان لوگوں نے تو ہمیں بغیر کرایہ لیے کشتی پر بٹھا لیا اور آپ نے ان کی کشتی کو توڑ دیا کہ سب کشتی والوں کو ڈبو دو، یہ تم نے کیا عجیب حرکت کی؟' سیدنا خضر نے جواب دیا ”میں نے آپ کو کہا نہ تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کر سکیں گے“ موسیٰؑ نے کہا: ”مجھ سے بھول ہو گئی آپ درگزر کیجئے اور میرا کام مجھ پر دشوار نہ بنائیے“
موسیؑ و خضر دونوں کے علم کے مقابلہ میں اللہ کے علم کی وسعت:۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بلا شبہ پہلا اعتراض موسیٰؑ نے بھول کر کیا تھا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اتنے میں ایک چڑیا آئی جس نے کشتی کے کنارے پر بیٹھ کر دریا میں سے اپنی چونچ میں پانی لیا جسے دیکھ کر سیدنا خضر نے موسیٰؑ سے کہا: ’اللہ کے علم کے مقابلہ میں میرا علم اور آپ کا علم دونوں مل کر اتنے ہی ہیں جیسے اس چڑیا نے اس دریا میں سے چونچ سے پانی لیا ہے‘
خضر کا ایک نوجوان کو مارنا ڈالنا اور موسیٰؑ کا دوسرا اعتراض:۔
پھر وہ دونوں کشتی سے نکل آئے اور ساحل پر چلتے گئے راستہ میں سیدنا خضر نے ایک لڑکے کو دیکھا جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ مل کر کھیل رہا تھا۔ سیدنا خضر نے اس لڑکے کے سر کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر مروڑا جو دیا تو اسے مار ہی ڈالا۔ موسیٰؑ کہنے لگے، ’ارے بھائی آپ نے ایک پاکیزہ جان کو ناحق ہی مار ڈالا یہ تو آپ نے بہت برا کیا‘ سیدنا خضر کہنے لگے ’میں نے آپ کو کہا نہ تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کر سکیں گے؟‘ آپ نے فرمایا ’اور یہ کام تو پہلے کام سے بھی سخت تر تھا۔‘ موسیٰؑ کہنے لگے اگر آئندہ بھی میں نے آپ پر کوئی اعتراض کیا تو بے شک مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا کیونکہ آپ کی طرف سے مجھ پر اتمام حجت ہو جائے گا۔
خضر کا دیوار مرمت کر دینا اور موسیٰؑ کا تیسرا اعتراض:۔
پھر وہ دونوں چل کھڑے ہوئے تا آنکہ وہ ایک بستی میں پہنچے اور بستی والوں سے کھانا طلب کیا لیکن انہوں نے انھیں کچھ بھی کھانے کو نہ دیا۔ اتفاق سے انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرا ہی چاہتی تھی۔ سدنا خضر نے اس دیوار کو قائم کر دیا۔ موسیٰؑ نے کہا: ’ان لوگوں نے نہ تو ہمیں کھانا دیا اور نہ ضیافت کی اگر آپ چاہتے تو ان سے آپ دیوار قائم کرنے کی مزدوری بھی لے سکتے تھے (جس سے ہم کھانا کھا سکتے)‘ سیدنا خضر کہنے لگے ’بس اب جدائی کی گھڑی آن پہنچی اب میں آپ کو ان واقعات کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’ہم تو چاہتے تھے کہ موسیٰؑ صبر کیے جاتے تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کے اور زیادہ حالات ہم سے بیان کرتا‘ [بخاري۔ كتاب التفسير سوره الكهف]
مذکورہ تین واقعات کی تاویل:۔
اس سے اگلی حدیث میں ان واقعات کی تاویل کا یوں ذکر ہے کہ سیدنا خضر نے موسیٰؑ سے کہا: کشتی کو عیب دار کرنے سے میری غرض یہ تھی کہ جب یہ کشتی اس ظالم بادشاہ کے سامنے جائے تو وہ اسے عیب دار سمجھ کر چھوڑ دے اور کشتی والے پھر سے اسے درست کر لیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ دوسرے واقعہ کی تاویل یہ ہے کہ اس لڑکے کے ماں باپ ایمان دار تھے اور لڑکے کی قسمت میں کفر لکھا تھا تو ہم ڈرے کہ کہیں یہ اپنے ماں باپ کو کفر اور سرکشی میں نہ پھنسا دے یعنی لڑکے کی محبت میں والدین بھی کفر میں مبتلا نہ ہو جائیں تو ہم نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اور زیادہ اچھا اور پاکیزہ لڑکا عطا کرے اور اس کے ماں باپ اس سے بھی زیادہ اس لڑکے پر مہربان ہوں۔ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ ترمذي، ابواب التفسير]
[59] سیدنا موسیٰ کونسے دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچے؟
یہ واقعہ سیدنا موسیٰؑ کی زندگی کے کس دور میں پیش آیا اور وہ دو دریا کون سے تھے؟ ان سوالات کے جوابات سے کتاب و سنت خاموش ہیں۔ سیدنا موسیٰؑ کے بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر لے جانے کے بعد اس قصہ اور اس طرح کے سفر کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔ لہٰذا اغلب خیال یہ ہے کہ یہ واقعہ مصر ہی میں پیش آیا ہو گا اور مصر میں دریاؤں کا سنگھم ایک ہی ہے اور وہ ہے موجودہ شہر خرطوم جہاں دریائے نیل کی دو شاخیں بحر ابیض اور بحر ازرق آپس میں ملتی ہیں چونکہ یہ سنگھم کا علاقہ بھی کوئی مخصوص مقام نہ تھا بلکہ میلوں میں پھیلا ہوا تھا۔ لہٰذا سیدنا موسیٰؑ کو بذریعہ وحی یہ ہدایت دی گئی تھی کہ ایک مچھلی تل کر اپنے توشہ دان میں رکھ لیں جس مقام پر جا کر یہ مچھلی زندہ ہو کر دریا کے پانی میں چھلانگ لگا دے بس وہی مقام ہے جہاں تمہاری ہمارے بندے سیدنا خضر سے ملاقات ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ کا ایک بندہ ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ذکر کیا گیا کہ اللہ کا ایک بندہ دو دریا ملنے کی جگہ ہے، اس کے پاس وہ علم ہے جو تمہیں حاصل نہیں، آپ علیہ السلام نے اسی وقت ان سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی۔ اب اپنے ساتھی سے فرماتے ہیں کہ میں تو پہنچے بغیر دم نہ لوں گا۔ کہتے ہیں، یہ دو سمندر ایک تو بحیرہ فارس مشرقی اور دوسرا بحیرہ روم مغربی ہے۔ یہ جگہ طنجہ کے پاس مغرب کے شہروں کے آخر میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تو فرماتے ہیں کہ گو مجھے قرنوں تک چلنا پڑے کوئی حرج نہیں۔ کہتے ہیں کہ قیس کے لغت میں برس کو حقب کہتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حقب سے مراد اسی برس ہیں۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ ستر برس کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما زمانہ بتلاتے ہیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ملا تھا کہ اپنے ساتھ نمک چڑھی ہوئی ایک مچھلی لیں، جہاں وہ گم ہو جائے وہیں ہمارا بندہ ملے گا۔ یہ دونوں مچھلی کو ساتھ لیے چلے مجمع البحرین میں پہنچ گئے، وہاں نہر حیات تھی وہیں دونوں لیٹ گئے۔ اس نہر کے پانی کے چھینٹے مچھلی پر پڑے، مچھلی ہلنے جلنے لگ گئی۔ آپ علیہ السلام کے ساتھی یوشع علیہ السلام کی زنبیل میں یہ مچھلی رکھی ہوئی تھی اور وہ سمندر کے کنارے تھا۔ مچھلی نے سمندر کے اندر کود جانے کے لیے جست لگائی اور یوشع کی آنکھ کھل گئی۔ مچھلی ان کے دیکھتے ہوئی پانی میں گئی اور پانی میں سیدھا سوراخ ہوتا چلا گیا۔ پس جس طرح زمین میں سوراخ اور سرنگ بن جاتی ہے، اسی طرح پانی میں جہاں سے وہ گئی سوراخ ہو گیا، ادھر ادھر پانی کھڑا ہو گیا اور وہ سوراخ بالکل کھلا ہوا رہا۔ پتھر کی طرح پانی میں چھید ہو گیا، جہاں جس پانی کو لگتی ہوئی وہ مچھلی گئی، وہاں کا وہ پانی پتھر جیسا ہو گیا اور وہ سوراخ بنتا چلا گیا۔
حضرت محمد بن اسحاق رحمہ اللہ مرفوعاً لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ پانی اس طرح ابتداء دنیا سے نہیں جما، سوائے اس مچھلی کے چلے جانے کی جگہ کے اردگرد کے پانی کے۔ یہ نشان مثل سوراخ زمین کے برابر موسیٰ علیہ السلام کے واپس پہنچنے تک باقی ہی رہے۔ اس نشان کو دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، اسی کی تلاش میں تو ہم تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23185:ضعیف]‏‏‏‏ جب مچھلی کو بھول کر یہ دونوں آگے بڑھے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ایک کا کام دونوں ساتھیوں کی طرف منسوب ہوا ہے۔ بھولنے والے صرف یوشع علیہ السلام تھے۔ جیسے فرمان ہے «يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ» [55-الرحمن: 22]‏‏‏‏ یعنی ان دونوں سمندروں میں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ حالانکہ دو قولوں میں سے ایک یہ ہے کہ لولو اور مرجان صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں۔ جب وہاں سے ایک مرحلہ اور طے کر گئے تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے ناشتہ طلب کیا اور سفر کی تکلیف بھی بیان کی، یہ تکلیف مقصود سے آگے نکل آنے کے بعد ہوئی۔ اس پر آپ کے ساتھی کو مچھلی کا چلا جانا یاد آیا اور کہا جس چٹان کے پاس ہم ٹھہرے تھے، اس وقت میں مچھلی بھول گیا اور آپ سے ذکر کرنا بھی شیطان نے یاد سے ہٹا دیا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت «اَنْ اَذْکُرَ لَہُ» ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس مچھلی نے تو عجیب و غریب طور پر پانی میں اپنی راہ پکڑی۔ اسی وقت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا لو اور سنو اسی جگہ کی تلاش میں ہم تھے۔ تو وہ دونوں اپنے اسی راستے پر اپنے نشانات قدم کے کھوج پر واپس لوٹے۔ وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنے پاس کی رحمت اور اپنے پاس کا علم عطا فرما رکھا تھا۔ یہ خضر علیہ السلام ہیں۔
صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف کا خیال ہے کہ خضر علیہ السلام سے ملنے والے موسیٰ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہ تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، وہ دشمن رب جھوٹا ہے، ہم سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے سنا کہ موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہو کر بنی اسرائیل میں خطبہ کر رہے تھے جو آپ سے سوال ہوا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں، تو چونکہ آپ علیہ السلام نے اس کے جواب میں یہ نہ فرمایا کہ اللہ جانے، اس لیے رب کو یہ کلمہ ناپسند آیا۔ اسی وقت وحی آئی کہ ہاں مجمع البحرین میں ہمارا ایک بندہ ہے جو تجھ سے بھی زیادہ عالم ہے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا پھر پروردگار میں اس تک کیسے پہنچ سکتا ہوں؟ حکم ہوا کہ اپنے ساتھ ایک مچھلی رکھ لو، اسے توشے دان میں ڈال لو، جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے وہیں وہ مل جائیں گے۔ تو آپعلیہ السلام اپنے ساتھ اپنے ساتھی یوشع بن نون علیہ السلام کو لے کر چلے، پتھر کے پاس پہنچ کر اپنے سر اس پر رکھ کر دو گھڑی سو رہے۔ مچھلی اس توشے دان میں تڑپی اور کود کر اس سے نکل گئی، سمندر میں ایسی گئی جیسے کوئی سرنگ لگا کر زمین میں اتر گیا ہو۔ پانی کا چلنا بہنا اللہ تعالیٰ نے موقوف کر دیا اور طاق کی طرح وہ سوراخ باقی رہ گیا۔ موسیٰ علیہ السلام جب جا گے تو آپ کے ساتھی یہ ذکر آپ سے بھول گئے، اسی وقت وہاں سے چل پڑے۔ دن پورا ہونے کے بعد رات بھر چلتے رہے، صبح موسیٰ علیہ السلام کو تھکان اور بھوک محسوس ہوئی۔ اللہ نے جہاں جانے کا حکم دیا تھا جب تک وہاں سے آگے نہ نکل گئے، تھکان کا نام تک نہ تھا۔ اب اپنے ساتھی سے کھانا مانگا اور تکلیف بیان کی۔
اس وقت آپ کے ساتھی نے فرمایا کہ پتھر کے پاس جب ہم نے آرام لیا تھا، وہیں اسی وقت مچھلی تو میں بھول گیا اور اس کے ذکر کو بھی شیطان نے بھلا دیا اور اس مچھلی نے تو سمندر میں عجیب طور پر اپنی راہ نکال لی۔ مچھلی کے لیے سرنگ بن گئی اور ان کے لیے حیرت کا باعث بن گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اسی کی تو تلاش تھی۔ چنانچہ اپنے نشان قدم دیکھتے ہوئے دونوں واپس ہوئے، اسی پتھر کے پاس پہنچے دیکھا کہ ایک صاحب کپڑوں میں لپٹے ہوئے بیٹھے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے سلام کیا، اس نے کہا تعجب ہے آپ کی سر زمین میں یہ سلام کہاں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا میں موسیٰ ہوں۔ انہوں نے پوچھا کیا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں اور میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ مجھے وہ سکھائیں جو بھلائی آپ کو اللہ کی طرف سے سکھائی گئی ہے۔ آپ نے فرمایا موسیٰ علیہ السلام آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ اس لیے کہ مجھے جو علم ہے وہ آپ علیہ السلام کو نہیں اور آپ کو جو علم ہے وہ مجھے نہیں، اللہ تعالیٰ نے دونوں کو جداگانہ علم عطا فرما رکھا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ان شاءاللہ آپ دیکھیں گے کہ میں صبر کروں گا اور آپ کے کسی فرمان کی نافرمانی نہ کروں گا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا اچھا اگر تم میرا ساتھ چاہتے ہو تو مجھ سے خود کسی بات کا سوال نہ کرنا یہاں تک کہ میں آپ تمہیں اس کی بابت خبردار کروں۔
اتنی باتیں طے کر کے دونوں ساتھ چلے، دریا کے کنارے ایک کشتی تھی، ان سے اپنے ساتھ لے جانے کی بات چیت کرنے لگے۔ انہوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کرایہ لیے دونوں کو سوار کر لیا۔ کچھ ہی دور چلے ہوں گے جو موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ خضر علیہ السلام چپ چاپ کشتی کے تختے کلہاڑے سے توڑ رہے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیا؟ ان لوگوں نے تو ہمارے ساتھ احسان کیا بغیر کرایہ لیے کشتی میں سوار کیا اور آپ نے اس کے تختے توڑنے شروع کر دئیے جس سے تمام اہل کشتی ڈوب جائیں، یہ تو بڑا ہی ناخوش گوار کام کرنے لگے۔ اسی وقت خضر علیہ السلام نے فرمایا، دیکھو میں نے تو تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ موسیٰ علیہ السلام معذرت کرنے لگے کہ خطا ہو گئی، بھولے سے پوچھ بیٹھا، معاف فرمائیے اور سختی نہ کیجیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں واقعی یہ پہلی غلطی بھول سے ہی تھی۔ فرماتے ہیں کشتی کے ایک تختے پر ایک چڑیا آ بیٹھی اور سمندر میں چونچ ڈال کر پانی لے کر اڑ گئی، اس وقت خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا، میرے اور تیرے علم نے اللہ کے علم میں سے اتنا ہی کم کیا ہے جتنا پانی سے سمندر میں سے اس چڑیا کی چونچ نے کم کیا ہے۔ اب کشتی کنارے لگی اور ساحل پر دونوں چلنے لگے جو خضر علیہ السلام کی نگاہ چند کھیلتے ہوئے بچوں پر پڑی ان میں سے ایک بچے کا سر پکڑ کر خضر علیہ السلام نے اس طرح مروڑ دیا کہ اسی وقت اس کا دم نکل گیا۔ موسیٰ علیہ السلام گھبرا گئے اور فرمانے لگے، بغیر کسی قتل کے اس بچے کو آپ نے ناحق مار ڈالا؟ آپ نے بڑا ہی منکر کام کیا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا دیکھو اسی کو میں نے پہلے ہی سے کہہ دیا تھا کہ تمہاری ہماری نبھ نہیں سکتی، اس وقت خضر علیہ السلام نے پہلے سے زیادہ سختی کی۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اچھا اب اگر میں کوئی سوال کر بیٹھوں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا، یقیناً اب آپ معذور ہو گئے۔
چنانچہ پھر دونوں ہمراہ چلے ایک بستی والوں کے پاس پہنچے ان سے کھانا مانگا لیکن انہوں نے ان کی مہمانداری سے صاف انکار کر دیا۔ وہیں ایک دیوار دیکھی جو جھک گئی تھی اور گرنے کے قریب تھی، اسی وقت خضر نے ہاتھ لگا کر اسے ٹھیک اور درست کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا خیال تو فرمائیے، ہم یہاں آئے، ان لوگوں سے کھانا طلب کیا، انہوں نے نہ دیا، مہمان نوازی کے خلاف کیا، ان کا یہ کام تھا، آپ ان سے اجرت لے سکتے تھے۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا، یہ ہے مجھ میں اور تم میں جدائی۔ اب میں تمہیں ان کاموں کی اصلیت بتلا دوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کاش کہ موسیٰ علیہ السلام صبر سے کام لیتے تو ان دونوں کی اور بھی بہت سی باتیں ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «وَکَانُ وَرَاۤئَہُمْ» کے بدلے «وَکَانُ اَمَامَہُمْ» ہے اور «سَّفِينَةِ» کے بعد «صَالِحَةٍ» کا لفظ بھی ہے اور «وَاَمَّا الْغُلَامُ» کے بعد «فَکَانُ کَافِرَا» کے لفظ بھی ہیں۔ [صحیح بخاری:4725]‏‏‏‏
اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ اس پتھر کے پاس موسیٰ علیہ السلام رک گئے، وہیں ایک چشمہ تھا جس کا نام نہر حیات تھا، اس کا پانی جس چیز کو لگ جاتا وہ زندہ ہو جاتی تھی۔ اس میں چڑیا کے پانی لینے کے بعد خضر علیہ السلام کا یہ قول منقول ہے کہ میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا علم اللہ کے علم میں اتنا ہی ہے جتنا اس چڑیا کی چونچ کا پانی اس سمندر کے مقابلے میں، الخ۔ [صحیح بخاری:4727]‏‏‏‏
صحیح بخاری شریف کی ایک اور حدیث میں ہے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے گھر میں ان کے پاس تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس کو جو سوال کرنا ہو کر لے، میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے آپ رضی اللہ عنہما پر فدا کرے، کوفے میں ایک واعظ ہیں جن کا نام نوف ہے پھر پوری حدیث بیان کی جیسا کہ اوپر گزری۔ اس میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے اس خطبہ سے آنکھوں سے آنسو بہ نکلے اور دل نرم پڑ گئے تھے، جب آپ جانے لگے تو ایک شخص آپ کے پاس پہنچا اور اس نے سوال کیا کہ روئے زمین پر آپ سے زیادہ علم والا بھی کوئی ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا نہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عتاب کیا کیونکہ انہوں نے اللہ کی طرف علم کو نہ لوٹایا۔ اس میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے نشان طلب کیا تو ارشاد ہوا کہ ایک مری ہوئی مچھلی اپنے ساتھ رکھ لو، جس جگہ اس میں روح پڑ جائے، وہیں پر آپ کی اس شخص سے ملاقات ہو گئی۔ چنانچہ آپ نے مچھلی لی زنبیل میں رکھ لی اور اپنے ساتھی سے کہا، آپ کا صرف اتنا ہی کام ہے کہ جہاں یہ مچھلی آپ کے پاس سے چلی جائے، وہاں آپ مجھے خبر کر دینا۔ انہوں نے کہا یہ تو بالکل آسان سی بات ہے۔ ان کا نام یوشع بن نون تھا۔ لفتہ سے یہی مراد ہے۔
یہ دونوں بزرگ تر جگہ میں ایک درخت تلے تھے موسیٰ علیہ السلام کو نیند آ گئی تھی اور یوشع علیہ السلام جاگ رہے تھے جو مچھلی کود گئی۔ انہوں نے خیال کیا کہ جگانا تو ٹھیک نہیں، جب آنکھ کھلے گی ذکر کر دوں گا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ پانی میں جانے کے وقت جو سوراخ ہو گیا تھا، اسے روای حدیث عمرو نے اپنے انگوٹھے اور اس کے پاس کی دونوں انگلیوں کا حلقہ کر کے دکھایا کہ اس طرح کا تھا جیسے پتھر میں ہوتا ہے۔ واپسی پر خضر سمندر کے کنارے سبز گدی بچھائے ملے، ایک چادر میں لپٹے ہوئے تھے، اس کا ایک سرا تو دونوں پیروں کے نیچے رکھا ہوا تھا اور دوسرا کنارہ سر تلے تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کے سلام پر آپعلیہ السلام نے منہ کھولا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں توراۃ موجود ہے، وحی آسمان سے آ رہی ہے، کیا یہ بس نہیں؟ اور میرا علم آپ کے لائق بھی نہیں اور نہ میں آپ کے علم کے قابل ہوں۔ اس میں ہے کہ کشتی کا تختہ توڑ کر آپ نے ایک تانت سے باندھ دیا تھا۔ پہلی دفعہ کا آپ کا سوال تو بھولے سے ہی تھا، دوسری مربتہ کا بطور شرط کے تھا، ہاں تیسری بار کا سوال قصداً علیحدگی کی وجہ سے تھا۔ اس میں ہے کہ لڑکوں میں ایک لڑکا تھا کافر ہوشیار، اسے خضر نے لٹا کر چھری سے ذبح کر دیا۔ ایک قرأت میں زاکیتہ مسلمۃ بھی ہے۔ ورائہم کی قرأت امامہم بھی ہے۔ اس ظالم بادشاہ کا نام اس میں ہدد بن بدر ہے اور جس بچے کو قتل کیا گیا تھا اس کا نام جیسور تھا۔ کہتے ہیں کہ اس لڑکے کے بدلے ان کے ہاں ایک لڑکی ہوئی۔
ایک روایت میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام خطبہ کر رہے تھے اور فرمایا کہ اللہ کو اور اس کے امر کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ الخ۔ یہ نوف کعب رضی اللہ عنہ کی بیوی کے لڑکے تھے اور ان کا قول تھا کہ جس موسیٰ کا ان آیتوں میں ذکر ہے یہ موسیٰ بن میشا تھے۔ اور روایت میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری تعالیٰ سے سوال کیا کہ اے اللہ اگر تیرے بندوں میں مجھ سے بڑا عالم کوئی ہو تو مجھے آگاہ فرما، اس میں ہے کہ نمک چڑھی ہوئی مچھلی آپ نے اپنے ساتھ رکھی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ خضر علیہ السلام نے فرمایا تم یہاں کیوں آئے؟ آپ علیہ السلام کو تو ابھی بنی اسرائیل میں ہی مشغول کار رہنا ہے۔ اس میں ہے کہ چھپی ہوئی باتیں خضر علیہ السلام کو معلوم کرائی جاتی تھیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم میرے ساتھ ٹھہر نہیں سکتے کیونکہ آپ تو ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے اور مجھے راز پر اطلاع ہوتی ہے۔ چنانچہ شرط ہو گئی کہ گو آپ کیسا ہی خلاف دیکھیں لیکن لب نہ ہلائیں جب تک کہ خضر خود نہ بتلائیں۔ کہتے ہیں کہ یہ کشتی تمام کشتیوں سے مضبوط عمدہ اور اچھی تھی، وہ بچہ ایک بے مثل بچہ تھا بڑا حسین بڑا ہوشیار بڑا ہی طرار، خضر نے اسے پکڑ کر پتھر سے اس کا سر کچل کر اسے مار ڈالا۔ موسیٰ خوف الٰہی سے کانپ اٹھے کہ ننھا سا پیارا بےگناہ بچہ اس بیدردی سے بغیر کسی سبب کے خضر نے جان سے مار ڈالا۔ دیوار گرتی ہوئی دیکھ کر ٹھہر گئے، پہلے تو اسے باقاعدہ گرایا اور پھر بہ آرام چننے بیٹھے۔ موسیٰ علیہ السلام اکتا گئے کہ بیٹھے بٹھائے اچھا دھندا لے بیٹھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس دیوار کے نیچے کا خزانہ صرف علم تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23209:ضعیف]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اور آپ کی قوم مصر پر غالب آ گئی اور یہاں آ کر وہ با آرام رہنے سہنے لگے تو حکم الٰہی ہوا کہ انہیں اللہ کے احسانات یاد دلاؤ۔ آپ خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ کے احسانات بیان کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ یہ نعمتیں عطا فرمائیں، آل فرعون سے اس نے تمہیں نجات دی، تمہارے دشمنوں کو غارت اور غرق کر دیا، پھر تمہیں ان کی زمین کا مالک کر دیا، تمہارے نبی سے باتیں کیں، اسے اپنے لیے پسند فرما لیا، اس پر اپنی محبت ڈال دی، تمہاری تمام حاجتیں پوری کیں، تمہارے نبی تمام زمین والوں سے افضل ہیں، اس نے تمہیں تورات عطا فرمائی۔ الغرض پورے زوروں سے اللہ کی بےشمار اور ان گنت نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔ اس پر ایک بنی اسرائیلی نے کہا، فی الواقع بات یہی ہے اے نبی اللہ کیا زمین پر آپ سے زیادہ علم والا بھی کوئی ہے؟ آپ نے بےساختہ فرمایا کہ نہیں ہے۔ اسی وقت جناب باری تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا کہ ان سے کہو کہ تمہیں کیا معلوم کہ میں اپنا علم کہاں کہاں رکھتا ہوں؟ بیشک سمندر کے کنارے پر ایک شخص ہے جو تجھ سے بھی زیادہ عالم ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، اس سے مراد خضر علیہ السلام ہیں۔
پس موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ ان کو میں دیکھ لوں۔ وحی ہوئی کہ اچھا سمندر کے کنارے جاؤ، وہاں تمہیں ایک مچھلی ملے گی، اسے لے لو اور اسے اپنے ساتھی کو سونپ دو۔ پھر سمندر کے کنارے چل دو جہاں تو مچھلی کو بھول جائے اور وہ تجھ سے گم ہو جائے، وہیں تو میرے اس نیک بندے کو پائے گا۔ موسیٰ علیہ السلام جب چلتے چلتے تھک گئے تو اپنے ساتھی سے جو ان کا غلام تھا، مچھلی کے بارے میں سوال کیا، اس نے جواب دیا کہ جس پتھر کے پاس ہم ٹھہرے تھے، وہیں میں مچھلی کو بھول گیا اور آپ سے ذکر کرنا شیطان نے بالکل بھلا دیا، میں نے دیکھا کہ مچھلی تو گویا سرنگ بناتی ہوئی دریا میں جا رہی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو یہ سن کر بڑا ہی تعجب ہوا، جب لوٹ کر وہاں آئے تو دیکھا کہ مچھلی نے پانی میں جانا شروع کیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام بھی اپنی لکڑی سے پانی کو چیرتے ہوئے اس کے پیچھے ہو لیے۔ مچھلی جہاں سے گزرتی تھی، اس کے دونوں طرف کا پانی پتھر بن جاتا تھا، اس سے بھی اللہ کے نبی سخت متعجب ہوئے۔ اب مچھلی ایک جزیرے میں آپ کو لے گئی الخ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حر بن قیس میں اختلاف تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے یہ صاحب کون تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان تھا کہ یہ خضر تھے۔ اسی وقت ان کے پاس سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما گزرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلا کر اپنا اختلاف بیان کیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی وہ حدیث بیان کی جو تقریباً اوپر گزر چکی ہے۔ اس میں سائل کے سوال کے الفاظ یہ ہیں کہ کیا آپ اس شخص کا ہونا بھی جانتے ہیں جو آپ سے زیادہ علم والا ہو؟[صحیح مسلم:2380]‏‏‏‏