ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 6

فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ عَلٰۤی اٰثَارِہِمۡ اِنۡ لَّمۡ یُؤۡمِنُوۡا بِہٰذَا الۡحَدِیۡثِ اَسَفًا ﴿۶﴾
پس شاید تو اپنی جان ان کے پیچھے غم سے ہلاک کر لینے والا ہے، اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے۔ En
(اے پیغمبر) اگر یہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں تو شاید تم کے ان پیچھے رنج کر کر کے اپنے تئیں ہلاک کردو گے
En
پس اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ ﻻئیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اسی رنج میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6){فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ …: بَاخِعٌ بَخَعَ يَبْخَعُ نَفْسَهُ} اس نے اپنے آپ کو غم سے مار ڈالا۔ {لَعَلَّ} کا لفظ محبوب چیز کے لیے بولا جائے تو ترجی، یعنی امید کرنا مراد ہوتا ہے اور ایسی چیز کے لیے بولا جائے جس کا خطرہ ہو تو اسے اشفاق یعنی ڈرنا کہا جاتا ہے، یہاں یہی مراد ہے۔ اس آیت سے مقصود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے پر آپ اپنے آپ کو رنج و غم سے کیوں گھلا رہے ہیں؟ اس آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم کے ایمان نہ لانے کا کس قدر صدمہ تھا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے { بَاخِعٌ نَّفْسَكَ } (اپنے آپ کو ہلاک کر لینے والے) کے الفاظ استعمال فرمائے۔ مزید دیکھیے سورۂ شعراء(۳) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّمَا مَثَلِيْ وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَائَتْ مَا حَوْلَهُ جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهٰذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِيْ تَقَعُ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيْهَا، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْزِعُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ، فَيَقْتَحِمْنَ فِيْهَا، فَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ وَاَنْتُمْ تَقْتَحِمُوْنَ فِيْهَا] [بخاری، الرقاق، باب الانتھاء عن المعاصي: ۶۴۸۳۔ مسلم: 2284/16]میری اور لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک آگ خوب بھڑکائی، جب اس نے اس کے اردگرد کو روشن کر دیا تو پروانے اور اس قسم کے جانور اس آگ میں گرنے لگے۔ وہ اس میں گرتے تھے اور وہ شخص انھیں روکتا تھا اور وہ اس سے زبردستی آگ میں گھستے تھے۔ تو میں آگ سے بچانے کے لیے تمھاری کمروں کو پکڑنے والا ہوں اور تم زبردستی اس میں گھستے ہو۔ مزید دیکھیے سورۂ فاطر (۸)، نمل (۷۰) اور نحل (۲۷) { عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ } ان کے قدموں کے نشانات پر، یعنی ان کے پیچھے۔ { اَسَفًا } بہت زیادہ فکر و غم، یہ مفعول ہے، یعنی غم کی وجہ سے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

6۔ 1 بِھٰذَا الْحَدِیْثِ (اس بات) سے مراد قرآن کریم ہے۔ کفار کے ایمان لانے کی جتنی شدید خواہش آپ رکھتے تھے اور ان کے اعراض و گریز سے آپ کو سخت تکلیف ہوتی تھی، اس میں آپ کی اسی کیفیت اور جذبے کا اظہار ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ آپ شاید ان کافروں کے پیچھے اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے اس غم [6] سے کہ یہ لوگ اس قرآن پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔
[6] آپ کو کفار مکہ کے ایمان نہ لانے کا افسوس:۔
جن حالات میں یہ سورت نازل ہوئی اس آیت میں انہی حالات کا اجمالی منظر پیش کیا گیا ہے مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے اور کفار مکہ اپنی ساری قوتیں اسلام کے استیصال پر صرف کر رہے تھے ان حالات میں آپ کی انتہائی آرزو یہ تھی کہ ان سرداران قریش کو یا ان میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ اسلام لانے کی توفیق عطا فرما دے جس سے آپ کے سامنے بالخصوص دو فوائد تھے ایک یہ کہ لوگ اللہ کی گرفت سے بچ جائیں جو پیہم نافرمانیوں کی صورت میں یقیناً واقع ہو جاتی ہے اور دوسرے یہ کہ اس طرح اسلام کو تقویت حاصل ہو اور مسلمانوں پر سختیوں میں کمی واقع ہو جائے۔ دن رات آپ کو یہی فکر لاحق رہتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ان لوگوں کی ہدایت کی فکر میں آپ اپنے آپ کو ہلکان کرنا چھوڑ دیں اللہ خود اپنے دین کا محافظ ہے اس کی ان حالات پر کڑی نظر ہے اور وہی کچھ ہو کر رہے گا جو وہ چاہے گا آپ بس اپنا تبلیغ رسالت کا کام کرتے جائیے کسی کو ہدایت دینا اللہ کا کام ہے آپ کا نہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مشرکین کی گمراہی پر افسوس نہ کرو ٭٭
مشرکین جو آپ سے دور بھاگتے تھے، ایمان نہ لاتے تھے، اس پر جو رنج و افسوس آپ کو ہوتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی کر رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» [35-فاطر: 8]‏‏‏‏ ان پر اتنا رنج نہ کرو، اور جگہ ہے «وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ» [16-النحل: 127]‏‏‏‏ ان پر اتنے غمگین نہ ہو، اور جگہ ہے «لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [26-الشعراء: 3]‏‏‏‏ ان کے ایمان نہ لانے سے اپنے آپ کو ہلاک نہ کر۔ یہاں بھی یہی فرمایا ہے کہ یہ اس قرآن پر ایمان نہ لائیں تو تو اپنی جان کو روگ نہ لگا لے، اس قدر غم و غصہ، رنج و افسوس نہ کر، نہ گھبرا نہ دل تنگ کر اپنا کام کئے جا۔ تبلیغ میں کوتاہی نہ کر۔ راہ یافتہ اپنا بھلا کریں گے۔ گمراہ اپنا برا کریں گے۔ ہر ایک کا عمل اس کے ساتھ ہے۔ پھر فرماتا ہے دنیا فانی ہے، اس کی زینت زوال والی ہے، آخرت باقی ہے، اس کی نعمت دوامی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا میٹھی اور سبز رنگ ہے، اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلیفہ بنا کر دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو؟ پس دنیا سے اور عورتوں سے بچو، بنو اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کا ہی تھا۔ [صحیح مسلم:2742]‏‏‏‏
یہ دنیا ختم ہونے والی اور خراب ہونے والی ہے، اجڑنے والی اور غارت ہونے والی ہے، زمین ہموار صاف رہ جائے گی جس پر کسی قسم کی روئیدگی بھی نہ ہو گی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ أَفَلَا يُبْصِرُونَ» [32-السجدة: 27]‏‏‏‏ کیا لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم غیر آباد بنجر زمین کی طرف پانی کو لے چلتے ہیں اور اس میں سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جسے وہ خود کھاتے ہیں اور ان کے چوپائے بھی۔ کیا پھر بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔ زمین اور زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے اور اپنے مالک حقیقی کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔ پس تو کچھ بھی ان سے سنے، انہیں کیسے ہی حال میں دیکھے، مطلق افسوس اور رنج نہ کر۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خلائق کی ہدایت کی بے انتہا خواہش رکھتے تھے اور ان کی ہدایت کے لیے بے حد کوشاں رہتے تھے۔ آپ دین اسلام اختیار کرنے والے کے ہدایت قبول کرنے پر بہت خوش ہوتے تھے۔ تکذیب کرنے والے گمراہ لوگوں پر رحم و شفقت کی بنا پر متاسف اور غم زدہ ہوتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے رویے پر افسوس اور تاسف میں مشغول نہ ہوں جو اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا ہے: ﴿ لَعَلَّكَ بَ٘اخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ (الشعراء: 26؍3) شاید آپ اسی غم میں اپنے آپ کو ہلکان کر لیں گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ (فاطر: 35؍8) پس ان لوگوں کے غم میں آپ کی جان نہ گھلے۔ یہاں فرمایا: ﴿فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ کیا آپ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے۔ یعنی ان کے غم میں، حالانکہ آپ کا اجروثواب تو اللہ تعالیٰ پر واجب ہو چکا ہے اگر ان لوگوں کی کوئی بھلائی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی تو وہ ضرور ان کو ہدایت سے نواز دیتا۔ مگر اسے معلوم ہے کہ یہ لوگ آگ کے سوا، کسی چیز کے قابل نہیں ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور وہ راہ راست نہ پا سکے۔ آپ کا ان کے غم اور تاسف میں اپنے آپ کو مشغول کرنا آپ کو کوئی فائدہ نہیں دے گا۔
اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات کریمہ میں عبرت ہے۔ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے پر مامور شخص پر تبلیغ دعوت، ان تمام اسباب کے حصول میں کوشاں رہنا جو ہدایت کی منزل پر پہنچاتے ہیں، امکان بھر گمراہی کے راستوں کو مسدود کرنا اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر توکل فرض ہے۔ پس اگر وہ راہ راست پر گامزن ہو جائیں تو بہتر ہے ورنہ اس کو ان کے افسوس میں گھلنا نہیں چاہیے کیونکہ یہ چیز نفس کو کمزور اور قویٰ کو منہدم کر دیتی ہے۔ اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ ایسا کرنے سے وہ مقصد فوت ہو جائے گا جس پر اسے مامور کیا گیا ہے۔ تبلیغ دعوت اور کوشش کے سوا ہر چیز اس کے اختیار سے باہر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: ﴿ اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ (القصص: 28؍56) آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے جسے آپ چاہتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اعتراف کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَاَخِیْ (المائدۃ: 5؍25) اے میرے رب! میں اپنے آپ پر اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ تو انبیائے کرام کے علاوہ دیگر لوگ بدرجہ اولیٰ کسی کو ہدایت دینے کا اختیار نہیں رکھتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَذَكِّ٘رْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّ٘رٌؕ۰۰لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍ (الغاشیۃ: 88؍21، 22) آپ نصیحت کیجیے۔ آپ تو صرف نصیحت کرنے والے ہیں، آپ ان پر کوئی داروغہ مقرر نہیں ہوئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما كان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - حريصاً على هداية الخلق، ساعياً في ذلك أعظم السعي، فكان - صلى الله عليه وسلم - يفرح ويسرُّ بهداية المهتدين، ويحزن ويأسفُ على المكذِّبين الضالِّين؛ شفقةً منه - صلى الله عليه وسلم - عليهم، ورحمةً بهم؛ أرشده الله أن لا يَشْغَلَ نفسه بالأسف على هؤلاء الذين لا يؤمنون بهذا القرآن؛ كما قال في [الآية] الأخرى: {لعلَّك باخعٌ نفسَكَ أن لا يكونوا مؤمنين}، وقال: {فلا تذهب نفسك عليهم حسراتٍ}، وهنا قال: {فلعلَّك باخعٌ نفسَك}؛ أي: مهلكها غمًّا وأسفاً عليهم، وذلك أنَّ أجرك قد وَجَبَ على الله، وهؤلاء لو عَلِمَ اللهُ فيهم خيراً لهداهم، ولكنَّه علم أنهم لا يَصْلُحون إلا للنار؛ فلذلك خَذَلَهم فلم يهتدوا؛ فإشغالك نفسك غمًّا وأسفاً عليهم ليس فيه فائدةٌ لك.

وفي هذه الآية ونحوها عبرةٌ؛ فإنَّ المأمور بدعاء الخلق إلى الله عليه التبليغ والسعي بكلِّ سبب يوصِلُ إلى الهداية، وسدِّ طرق الضَّلال والغواية، بغاية ما يمكِنُه، مع التوكُّل على الله في ذلك؛ فإن اهتدوا؛ فبها ونعمت، وإلاَّ؛ فلا يحزنْ ولا يأسفْ؛ فإنَّ ذلك مضعفٌ للنفس، هادمٌ للقُوى، ليس فيه فائدةٌ، بل يمضي على فعلِهِ الذي كُلِّف به وتوجَّه إليه، وما عدا ذلك؛ فهو خارجٌ عن قدرته. وإذا كان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - يقولُ الله له: {إنَّك لا تَهْدي مَنْ أحببتَ}، وموسى عليه السلام يقول: {ربِّ إني لا أملِكُ إلاَّ نَفْسي وأخي ... } الآية؛ فمن عداهم من باب أولى وأحرى؛ قال تعالى: {فذكِّرْ إنَّما أنتَ مُذَكِّرٌ لست عليهم بمصيطرٍ}.