اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی گئی تو اس نے ان سے منہ پھیر لیا اور اسے بھول گیا جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا، بے شک ہم نے ان کے دلوں پر پردے بنا دیے ہیں، اس سے کہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ رکھ دیا ہے اور اگر تو انھیں سیدھی راہ کی طرف بلائے تو اس وقت وہ ہرگز کبھی راہ پر نہ آئیں گے۔
En
اور اس سے ظالم کون جس کو اس کے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اُس نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اس کو بھول گیا۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے کہ اسے سمجھ نہ سکیں۔ اور کانوں میں ثقل (پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں) اور اگر تم ان کو رستے کی طرف بلاؤ تو کبھی رستے پر نہ آئیں گے
اس سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے؟ جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے وه پھر منھ موڑے رہے اور جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھا ہے اسے بھول جائے، بےشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وه اسے (نہ) سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ہے، گو تو انہیں ہدایت کی طرف بلاتا رہے، لیکن یہ کبھی بھی ہدایت نہیں پانے کے
En
(آیت 57) ➊ {وَمَنْاَظْلَمُمِمَّنْذُكِّرَبِاٰيٰتِرَبِّهٖ …:} یعنی اس سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں۔ قرآن مجید میں یہ لفظ جس جس کے متعلق آیا ہے وہ سب ایسے ہیں کہ ان سے بڑا ظالم کوئی نہیں، مثلاً اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ دیکھیے سورۂ کہف (۱۵)۔ ➋ {اِنَّاجَعَلْنَاعَلٰىقُلُوْبِهِمْاَكِنَّةً …: ”اَكِنَّةً“”كِنَانٌ“} کی جمع ہے، پردے۔ {”وَقْرًا“} کا معنی ہے بوجھ، بہرا پن۔ یعنی جب کوئی شخص کسی کے سیدھی طرح سمجھانے سے کوئی اثر نہیں لیتا، بلکہ جانتے بوجھتے ہٹ دھرم اور جھگڑالو بن جاتا ہے، اللہ کی واضح آیات کا مذاق اڑاتا ہے اور اپنے کرتوتوں اور ان کے برے نتائج سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتا تو آخر کار اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے دل پر پردہ پڑ جاتا ہے اور اس کے کان حق بات سننے سے بہرے ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص اسے سیدھی راہ کی طرف بلائے بھی تو ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ اس کی یہ کیفیت اگرچہ اس کے اپنے عمل سے پیدا ہوتی ہے، مگر خالق چونکہ ہر چیز کا اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے اس کیفیت کے پیدا کرنے کے فعل کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کر دیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
57۔ 1 یعنی ان کے اس ظلم عظیم کی وجہ سے کہ انسان نے رب کی آیات سے اعراض کیا اور اپنے کرتوتوں کو بھولے رہے، ان کے دلوں پر ایسے پردے اور ان کے کانوں پر ایسے بوجھ ڈال دیئے گئے ہیں، جس سے قرآن کا سمجھنا، سننا اور اس سے ہدایت قبول کرنا ان کے لئے ناممکن ہوگیا۔ ان کو کتنا بھی ہدایت کی طرف بلا لو، یہ کبھی بھی ہدایت کا راستہ اپنانے کے لئے تیار نہیں ہونگے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
57۔ اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جسے اللہ کی آیات سے نصیحت کی جائے اور وہ اس سے منہ پھیر لے اور اپنے وہ سب کام بھول جائے جو اس نے آگے بھیجے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں [55] پر ہم نے پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ قرآن کو سمجھ ہی نہیں سکتے اور ان کے کانوں میں گرانی ہے اور اگر آپ انھیں راہ راست کی طرف بلائیں بھی تو وہ کبھی اس راہ پر نہیں آئیں گے۔
[55] یعنی جب کوئی انسان ہٹ دھرمی پر اتر آتا ہے اور حق کے مقابلہ میں جھوٹ اور مکر و فریب کے ہتھکنڈوں سے کام لینا چاہتا ہے مگر اسے حق بات کو قبول کر لینا کسی قیمت پر گوارا نہیں ہوتا تو ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن کے متعلق متعدد مقامات پر مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں یعنی اللہ ان کے دلوں پر پردے ڈال دیتا ہے یا مہر لگا دیتا ہے یا قفل چڑھا دیتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب ان کے دل حق کو قبول کرنے پر قطعاً تیار نہ ہوں گے نہ ہی ان کے کان حق بات سننے پر آمادہ ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بدترین شخص کون ہے ؟ ٭٭
فی الحقیقت اس سے بڑھ کر پاپی کون ہے؟ جس کے سامنے اس کے پالنے پوسنے والے کا کلام پڑھا جائے اور وہ اس کی طرف التفات تک نہ کرے، اس سے مانوس نہ ہو بلکہ منہ پھیر کر انکار کر جائے اور بدعملیاں اور سیاہ کاریاں اس سے پہلے کی ہیں، انہیں بھی فراموش کر جائے۔ اس ڈھٹائی کی سزا یہ ہوتی ہے کہ دلوں پر پردے پڑ جاتے ہیں، پھر قرآن و بیان کا سمجھنا نصیب نہیں ہوتا، کانوں میں گرانی ہو جاتی ہے، بھلی بات کی طرف توجہ نہیں رہتی۔ اب لاکھ دعوت ہدایت دو لیکن راہ یابی مشکل و محال ہے۔ اے نبی تیرا رب بڑا ہی مہربان بہت اعلیٰ رحمت والا ہے، اگر وہ گنہگاروں کی سزا جلدی ہی کر ڈالا کرتا، تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ بچتا، وہ لوگوں کے ظلم سے درگزر کر رہا ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ پکڑے گا ہی نہیں۔ یاد رکھو وہ سخت عذابوں والا ہے، یہ تو اس کا حلم ہے، پردہ پوشی ہے، معافی ہے تاکہ گمراہی والے راہ راست پر آ جائیں، گناہوں والے توبہ کر لیں اور اس کے دامن رحمت کو تھام لیں۔ لیکن جس نے اس حلم سے فائدہ نہ اٹھایا اور اپنی سرکشی پر جما رہا تو اس کی پکڑ کا دن قریب ہے، جو اتنا سخت دن ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے، حمل گر جائیں گے، اس دن کوئی جائے پناہ نہ ہو گی، کوئی چھٹکارے کی صورت نہ ہو گی۔ یہ ہیں تم سے پہلے کی امتیں کہ وہ بھی تمہاری طرح کفر و انکار میں پڑ گئیں اور آخر مٹا دی گئیں۔ ان کی ہلاکت کا مقررہ وقت آ پہنچا اور وہ تباہ برباد ہو گئیں۔ پس اے منکرو! تم بھی ڈرتے رہو، تم اشرف الرسل اعظم ہی کو ستا رہے ہو اور انہیں جھٹلا رہے ہو حالانکہ اگلے کفار سے تم قوت و طاقت میں، سامان و اسباب میں بہت کم ہو۔ میرے عذابوں سے ڈرو، میری باتوں سے نصیحت پکڑو۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔