ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 54

وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لِلنَّاسِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ اَکۡثَرَ شَیۡءٍ جَدَلًا ﴿۵۴﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر مثال پھیر پھیر کر بیان کی ہے اور انسان ہمیشہ سے سب چیزوں سے زیادہ جھگڑنے والا ہے۔ En
اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کے سمجھانے) کے لئے طرح طرح کی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ لیکن انسان سب چیزوں سے بڑھ کر جھگڑالو ہے
En
ہم نے اس قرآن میں ہر ہر طریقے سے تمام کی تمام مثالیں لوگوں کے لئے بیان کردی ہیں لیکن انسان سب سے زیاده جھگڑالو ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 54) ➊ {وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ …:} مثال سے بات بہت اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے کئی مثالیں بیان فرمائی ہیں، مثلاً دنیا کی زندگی کی مثال اور آخرت پر ایمان رکھنے والے مسکین اور ایمان نہ رکھنے والے دو باغوں کے مالک کی مثال وغیرہ۔ اس کے علاوہ دوسری سورتوں میں بھی مختلف دلیلوں، کئی طریقوں اور مثالوں سے بات سمجھائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کئی باتیں مچھر (بقرہ: ۲۶)، مکھی (حج: ۷۳) کتے (اعراف: ۱۷۷) اور گدھے (جمعہ: ۵) کی مثالیں دے کر سمجھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے مختار مطلق اور مخلو ق کے بے اختیار ہونے کے لیے مالک اور غلام کی مثالیں کئی جگہ بیان ہوئی ہیں۔ دیکھیے نحل (۷۵، ۷۶) اور روم (۲۸) قرآن و حدیث کی تمام مثالوں کا مقصد یہ ہے کہ لوگ بات پر غور و فکر کریں اور اسے سمجھیں، مگر انھیں جاننے والے ہی سمجھتے ہیں۔ (دیکھیے حشر: ۲۱۔ عنکبوت:۴۳) پھر ان مثالوں سے کچھ لوگ فائدہ اٹھا کر ہدایت پا لیتے ہیں اور کچھ الٹی سمجھ سے گمراہ ہو جاتے ہیں۔ (دیکھیے بقرہ: ۲۶۔ رعد: ۱۷، ۱۸) آیت کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے بنی اسرائیل (۸۹) اس آیت میں { فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ } پہلے ہے، کیونکہ اس سورت کی ابتدا ہی قرآن کے ذکر سے ہوئی ہے اور یہ سورت قرآن کے وصف میں سے ہے اور بنی اسرائیل میں { لِلنَّاسِ } پہلے ہے، کیونکہ اس سورت کا بنیادی مضمون {اَلنَّاسُ} (لوگوں) کے احوال کی طرف توجہ ہے، جو فی الحقیقت {اَلنَّاسُ} (لوگ) ہیں، جن میں تقویٰ اور احسان پایا جاتا ہے۔ (بقاعی)
➋ { وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا:} یعنی جو چیزیں جھگڑا کر سکتی ہیں انسان ان میں سب سے زیادہ جھگڑنے والا ہے، اس لیے خواہ مخواہ حیل و حجت کیے جاتا ہے اور حق بات کی طرف نہیں آتا۔ قرآن میں جا بجا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء کے ساتھ کفار کے جھگڑے مذکور ہیں۔ جھگڑے کی ایک مثال سورۂ زخرف (۵۷، ۵۸) میں دیکھیے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

54۔ 1 یعنی ہم نے انسان کو حق کا راستہ سمجھانے کے لئے قرآن میں ہر طریقہ استعمال کیا، وعظ، نصیحت، امثال، واقعات اور دلائل، علاوہ ازیں انھیں بار بار اور مختلف انداز سے بیان کیا ہے۔ لیکن انسان چونکہ سخت جھگڑالو ہے، اس لئے وعظ نصیحت کا اس پر اثر ہوتا ہے اور نہ دلائل و نصیحت اس کے لئے کارگر۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

54۔ اور ہم نے قرآن میں لوگوں کو طرح طرح کی مثالوں سے سمجھایا ہے مگر انسان اکثر باتوں [52] میں جھگڑالو واقع ہوا ہے۔
[52] انسان فطرتاً جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ مشیئت الٰہی کو بہانہ بنانا:۔
انسان کی ہدایت کے لیے اس کی عقل اور اس کے دل کو اپیل کرنے والی بہت سے دلیلیں مختلف پیرا یوں میں اور دل نشین انداز میں بیان کر دی ہیں مگر انسان کچھ اس طرح کا جھگڑالو اور ہٹ دھرم واقع ہوا ہے کہ جس بات کو نہ ماننے کا تہیہ کر لے اس پر کئی طرح کے اعتراض وارد کر سکتا ہے۔ جھوٹے دلائل اور حیلوں بہانوں سے جواب پیش کر سکتا ہے۔ بات کا موضوع ہی بدل کر گندم کا جواب چنے میں دے سکتا ہے مگر حقیقت کو قبول کر لینا گوارا نہیں کرتا اور انسان کی یہ سرشت صرف ضدی، ہٹ دھرم اور مجرم قسم کے لوگوں میں نہیں ہوتی بلکہ بعض دفعہ ایک نیکو کار مومن بھی اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کوئی عذر تلاش کر لیتا ہے۔ چنانچہ سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہم دونوں (میں اور فاطمہ) کو مخاطب کر کے کہا کہ ”تم لوگ تہجد کی نماز کیوں نہیں پڑھتے“ میں نے جواب دیا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نفس اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ چاہے گا کہ ہم اٹھیں تو اٹھ جائیں گے“ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً واپس ہو گئے اور اپنی ران پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:﴿ وَكَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا [بخاري، كتاب التهجد۔ باب تحريض النبى على قيام الليل والنوافل]
گویا سیدنا علیؓ نے اپنے قصور کا اعتراف کرنے کی بجائے مشیئت الٰہی کا عذر پیش کر دیا اور اس اختیار کی طرف توجہ نہ کی جو انھیں اور ہر انسان کو عطا کیا گیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہر بات صاف صاف کہہ دی گئی ٭٭
انسانوں کے لیے ہم نے اس اپنی کتاب میں ہر بات کا بیان خوب کھول کھول کر بیان کر دیا ہے تاکہ لوگ راہ حق سے نہ بہکیں، ہدایت کی راہ سے نہ بھٹکیں لیکن باوجود اس بیان، اس فرقان کے پھر بھی بجز راہ یافتہ لوگوں کے اور تمام کے تمام راہ نجات سے ہٹے ہوئے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، فاطمہ رضی اللہ عنہا اور علی رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے مکان میں آئے اور فرمایا تم سوئے ہوئے ہو نماز میں نہیں ہو؟ اس پر علی رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ ہیں، وہ جب ہمیں اٹھانا چاہتا ہے، اٹھا بٹھاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر بغیر کچھ فرمائے لوٹ گئے لیکن اپنی زانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے یہ فرماتے ہوئے جا رہے تھے کہ انسان تمام چیزوں سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ [صحیح بخاری:4724]‏‏‏‏