تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
{” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} کا دوسرا معنی یہ ہے کہ پھر ”اللہ کے مقابلے میں“ اس کا کوئی گروہ نہ تھا جو اس کی مدد کو پہنچتا…۔ یہ معنی بھی کئی مفسرین نے کیا ہے۔ کسی بھی کافر کو جب یہ معاملہ پیش آتا ہے تو وہ اس وقت ہر طرف سے ناامید اور مجبور ہو کر اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، مگر تب وقت گزر چکا ہوتا ہے اور اس کا ایمان اسے کچھ فائدہ نہیں دیتا، جیسا کہ فرعون غرق ہوتے وقت ایمان لے آیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے یونس (۹۰ تا ۹۲) انبیاء علیہم السلام کے مخالفین نے اللہ کا عذاب دیکھا تو کہنے لگے، ہم اللہ اکیلے پر ایمان لے آئے۔ (دیکھیے مومن: ۸۴) اور قارون کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے بعینہ یہ الفاظ فرمائے جو زیر تفسیر قصے والے شخص کے متعلق فرمائے، فرمایا: «فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ يَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِيْنَ» [القصص: ۸۱]”تو ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، پھر نہ اس کے لیے کوئی جماعت تھی جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کرنے والوں میں سے تھا۔“ مگر ان میں سے کسی کے ایمان نے اسے فائدہ نہ دیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
واؤ کے کسر کی قرأت پر یہ معنی ہوئے کہ وہاں حکم صحیح طور پر اللہ ہی کے لیے ہے۔ «لِلَّهِ الْحَقِّ» کی دوسری قرأت قاف کے پیش سے بھی ہے کیونکہ یہ «الْوَلَايَةُ» کی صفت ہے جیسے فرمان ہے «اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا» [25- الفرقان: 26] میں ہے۔ بعض لوگ قاف کا زیر پڑھتے ہیں ان کے نزدیک یہ صفت ہے حق تعالیٰ کی۔ جیسے اور آیت میں ہے «ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ» [6- الانعام: 62]۔ اسی لیے پھر فرماتا ہے کہ جو اعمال صرف اللہ ہی کے لیے ہوں، ان کا ثواب بہت ہوتا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی وہ بہت بہتر ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال الله تعالى: {ولم تكُن له فئةٌ ينصُرونَه من دونِ الله وما كان منتصراً}؛ أي: لما نزل العذاب بجنَّته؛ ذهب عنه ما كان يفتخرُ به من قوله لصاحبه: {أنا أكثرُ منك مالاً وأعزُّ نفراً}، فلم يدفعوا عنه من العذاب شيئاً أشدَّ ما كان إليهم حاجةً، وما كان بنفسه منتصراً، وكيف ينتصر أو يكون له انتصارٌ على قضاء الّله وقدرِهِ الذي إذا أمضاه وقدَّره لو اجتمع أهلُ السماء والأرض على إزالة شيءٍ منه لم يقدروا؟! ولا يُستبعد من رحمة الله ولطفِهِ أنَّ صاحب هذه الجنَّة التي أحيط بها تحسَّنت حاله، ورزقه الله الإنابة إليه وراجع رشدَه، وذهب تمرُّدُه وطغيانه؛ بدليل أنَّه أظهر النَّدم على شركه بربِّه، وأنَّ الله أذهب عنه ما يُطغيه وعاقبه في الدُّنيا، وإذا أراد الله بعبدٍ خيراً عجَّل له العقوبة في الدُّنيا، وفضلُ الله لا تحيطُ به الأوهام والعقول، ولا ينكِرُه إلاَّ ظالمٌ جهولٌ.