تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ دونوں وہاں سے واپس آئے اور قریشیوں سے کہا، لو بھئی آخری اور انتہائی فیصلے کی بات انہوں نے بتا دی ہے۔ اب چلو صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کریں چنانچہ یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور تینوں سوالات کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کل آؤ میں تمہیں جواب دوں گا لیکن ان شاءاللہ کہنا بھول گئے، پندرہ دن گزر گئے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی نہ اللہ کی طرف سے ان باتوں کا جواب معلوم کرایا گیا۔ اہل مکہ جوش میں آ گئے اور کہنے لگے کہ لیجئے صاحب کل کا وعدہ تھا، آج پندرھواں دن ہے لیکن وہ بتا نہیں سکے۔ ادھر آپ کو دوہرا غم ستانے لگا، قریشیوں کو جواب نہ ملنے پر ان کی باتیں سننے کا اور وحی کے بند ہو جانے کا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام آئے سورۃ الکہف نازل ہوئی۔ اسی میں ان شاءاللہ نہ کہنے پر آپ کو ڈانٹا گیا، ان نوجوانوں کا قصہ بیان کیا گیا اور اس سیاح کا ذکر کیا گیا اور «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا» [17- الإسراء: 85] میں روح کی بابت جواب دیا گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22861]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وينذرَ الذين قالوا اتَّخذ اللهُ ولداً}: من اليهود والنَّصارى والمشركين، الذين قالوا هذه المقالة الشنيعة؛ فإنَّهم لم يقولوها عن علم ولا يقين؛ لا علم منهم ولا علم من آبائهم الذين قلَّدوهم واتَّبعوهم، بل إن يتَّبعون إلاَّ الظنَّ وما تَهْوى الأنفُسُ. {كَبُرَتْ كلمةً تخرُجُ من أفواههم}؛ أي: عَظُمت شناعتُها واشتدَّت عقوبتُها، وأيُّ شناعة أعظم من وصفه بالاتِّخاذ للولد الذي يقتضي نقصه ومشاركة غيره له في خصائص الربوبيَّة والإلهيَّة والكذب عليه؟! {فمن أظلمُ ممَّن افترى على الله كذباً}؟! ولهذا قال هنا: {إن يقولون إلاَّ كَذِباً}؛ أي: كذباً محضاً ما فيه من الصدق شيء. وتأمَّل كيف أبطل هذا القول بالتدريج والانتقال من شيء إلى أبطل منه: فأخبر أولاً أنه {ما لهم به مِن علم ولا لآبائهم}: والقول على الله بلا علم لا شكَّ في منعه وبطلانه. ثم أخبر ثانياً أنَّه قولٌ قبيحٌ شنيعٌ، فقال: {كَبُرَتْ كلمةً تخرج من أفواههم}. ثم ذكر ثالثاً مرتبته من القُبح، وهو الكذب المنافي للصدق.