ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 4

وَّ یُنۡذِرَ الَّذِیۡنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا ٭﴿۴﴾
اور ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے کہا اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے۔ En
اور ان لوگوں کو بھی ڈرائے جو کہتے ہیں کہ خدا نے (کسی کو) بیٹا بنا لیا ہے
En
اور ان لوگوں کو بھی ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اوﻻد رکھتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 3 میں تا آیت 5 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 جیسے یہودیوں عیسائیوں اور بعض مشرکین (فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں) کا عقیدہ ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ اور ان لوگوں کو ڈرائیے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا [4] بنا لیا ہے۔
[4] اللہ کی اولاد قرار دینے والے فرقے:۔
اس آیت کے مخاطب عیسائی بھی ہیں جنہوں نے سیدنا عیسیٰؑ کے ابن اللہ ہونے کو اپنے عقیدہ کا لازمی جزو قرار دے لیا ہے مشرکین مکہ بھی جنہوں نے اللہ کے لیے بیٹوں کے بجائے کئی بیٹیاں تجویز کر رکھی تھیں جیسے لات، عزیٰ اور منات وغیرہ اور یہود بھی جو سیدنا عزیرؑ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے گویا قرآن کے نزول کا مقصد عام لوگوں کو ڈرانا تو ہے ہی اور بالخصوص ان لوگوں کو ڈرانا ہے جو اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مشرکین کے سوالات ٭٭
بے علمی اور جہالت کے ساتھ منہ سے بول پڑتے ہیں۔ یہ تو یہ، ان کے بڑے بھی ایسی باتیں بےعلمی سے کہتے رہے۔ «كَلِمَةً» کا نصب تمیز کی بنا پر ہے، تقدیر عبارت اس طرح ہے «كَبُرَتْ كَلِمَة ھٰذِہِ کَلِمَۃً» اور کہا گیا ہے کہ یہ تعجب کے طور پر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے «اَعْظِمْ بِکَلِمتِہِمُ کَلِمَۃً» جیسے کہا جاتا ہے «اَکْرِمُ بِذَیْدٍ رَجُلًا» بعض بصریوں کا یہی قول ہے۔ مکہ کے بعض قاریوں نے اسے کلمتہ پڑھا ہے جیسے کہا جاتا ہے «عَظُمَ قَوْلُکَ وَکَبُرَ شَانُکَ» جمہور کی قرأت پر تو معنی بالکل ظاہر ہیں کہ ان کے اس کلمے کی برائی اور اس کا نہایت ہی برا ہونا بیان ہو رہا ہے جو محض بے دل یل ہے، صرف کذب و افترا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ محض جھوٹ بکتے ہیں۔
اس سورت کا شان نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ قریشیوں نے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابو محیط کو مدینے کے یہودی علماء کے پاس بھیجا کہ تم جا کر محمد [صلی اللہ علیہ وسلم]‏‏‏‏ کی بابت کل حالات ان سے بیان کرو۔ ان کے پاس اگلے انبیاء کا علم ہے، ان سے پوچھو ان کی آپ کی بابت کیا رائے ہے؟ یہ دونوں مدینے گئے احبار مدینہ سے ملے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات و اوصاف بیان کئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا ذکر کیا اور کہا کہ تم ذی علم ہو بتاؤ ان کی نسبت کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا دیکھو ہم تمہیں ایک فیصلہ کن بات بتاتے ہیں تم جا کر ان سے تین سوالات کرو، اگر جواب دے دیں تو ان کے سچے ہونے میں کچھ شک نہیں، بیشک وہ اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور اگر جواب نہ دیں سکیں تو آپ کے جھوٹا ہونے میں بھی کوئی شک نہیں پھر جو تم چاہو کرو۔ ان سے پوچھو اگلے زمانے میں جو نوجوان چلے گئے تھے ان کا واقعہ بیان کرو۔ وہ ایک عجیب واقعہ ہے۔ اور اس شخص کے حالات دریافت کرو جس نے تمام زمین کا گشت لگایا تھا، مشرق مغرب ہو آیا تھا۔ اور روح کی ماہیت دریافت کرو۔ اگر بتا دے تو اسے نبی مان کر اس کی اتباع کرو اور اگر نہ بتا سکے تو وہ شخص جھوٹا ہے جو چاہو کرو۔
یہ دونوں وہاں سے واپس آئے اور قریشیوں سے کہا، لو بھئی آخری اور انتہائی فیصلے کی بات انہوں نے بتا دی ہے۔ اب چلو صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کریں چنانچہ یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور تینوں سوالات کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کل آؤ میں تمہیں جواب دوں گا لیکن ان شاءاللہ کہنا بھول گئے، پندرہ دن گزر گئے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی نہ اللہ کی طرف سے ان باتوں کا جواب معلوم کرایا گیا۔ اہل مکہ جوش میں آ گئے اور کہنے لگے کہ لیجئے صاحب کل کا وعدہ تھا، آج پندرھواں دن ہے لیکن وہ بتا نہیں سکے۔ ادھر آپ کو دوہرا غم ستانے لگا، قریشیوں کو جواب نہ ملنے پر ان کی باتیں سننے کا اور وحی کے بند ہو جانے کا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام آئے سورۃ الکہف نازل ہوئی۔ اسی میں ان شاءاللہ نہ کہنے پر آپ کو ڈانٹا گیا، ان نوجوانوں کا قصہ بیان کیا گیا اور اس سیاح کا ذکر کیا گیا اور «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا» [17- الإسراء: 85]‏‏‏‏ میں روح کی بابت جواب دیا گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22861]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا اور ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے کہا اللہ اولاد رکھتا ہے یعنی یہود و نصاریٰ اور مشرکین، جن کا یہ بدترین قول ہے اور ان کا یہ قول کسی علم و یقین پر مبنی نہیں ہے۔ وہ اس کے بارے میں خود کوئی علم رکھتے ہیں نہ ان کے آباء و اجداد کے پاس کوئی علم تھا جن کی یہ تقلید کرتے ہیں بلکہ یہ تو محض ظن و گمان اور خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں۔
﴿ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ بڑی ہے بات جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے یعنی ان کی اس بات کی قباحت بہت زیادہ اور اس کی سزا بہت سخت ہے اور اس شخص کے اس قول کی قباحت سے بڑھ کر اور کون سی قباحت ہو سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹا منسوب کرتا ہے حالانکہ یہ نسبت اس کی ذات میں نقص اور خصائص ربوبیت و الوہیت میں غیر اللہ کی شراکت اور اس پر بہتان طرازی کی مقتضی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبً٘ا (الانعام: 6؍21) اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا: ﴿ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبً٘ا یہ لوگ محض جھوٹ بولتے ہیں جس میں صداقت کا ذرہ بھر شائبہ نہیں۔
غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح بتدریج ان کے قول کا ابطال کیا ہے اور کم تر باطل چیز سے زیادہ باطل چیز کی طرف انتقال کیا ہے، چنانچہ پہلے مرحلے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی: ﴿ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّلَا لِاٰبَآىِٕهِمْ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرنا ممنوع اور باطل ہے پھر دوسرے مرحلے میں فرمایا کہ یہ انتہائی قبیح قول ہے، فرمایا: ﴿ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ پھر قباحت کے تیسرے مرتبے میں فرمایا کہ یہ محض جھوٹ ہے جو صدق کے منافی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وينذرَ الذين قالوا اتَّخذ اللهُ ولداً}: من اليهود والنَّصارى والمشركين، الذين قالوا هذه المقالة الشنيعة؛ فإنَّهم لم يقولوها عن علم ولا يقين؛ لا علم منهم ولا علم من آبائهم الذين قلَّدوهم واتَّبعوهم، بل إن يتَّبعون إلاَّ الظنَّ وما تَهْوى الأنفُسُ. {كَبُرَتْ كلمةً تخرُجُ من أفواههم}؛ أي: عَظُمت شناعتُها واشتدَّت عقوبتُها، وأيُّ شناعة أعظم من وصفه بالاتِّخاذ للولد الذي يقتضي نقصه ومشاركة غيره له في خصائص الربوبيَّة والإلهيَّة والكذب عليه؟! {فمن أظلمُ ممَّن افترى على الله كذباً}؟! ولهذا قال هنا: {إن يقولون إلاَّ كَذِباً}؛ أي: كذباً محضاً ما فيه من الصدق شيء. وتأمَّل كيف أبطل هذا القول بالتدريج والانتقال من شيء إلى أبطل منه: فأخبر أولاً أنه {ما لهم به مِن علم ولا لآبائهم}: والقول على الله بلا علم لا شكَّ في منعه وبطلانه. ثم أخبر ثانياً أنَّه قولٌ قبيحٌ شنيعٌ، فقال: {كَبُرَتْ كلمةً تخرج من أفواههم}. ثم ذكر ثالثاً مرتبته من القُبح، وهو الكذب المنافي للصدق.