(آیت 36،35){وَدَخَلَجَنَّتَهٗوَهُوَظَالِمٌلِّنَفْسِهٖ …:} اپنی جان پر ظلم کرنے والا اس لیے کہ اس نے تین باتیں کہیں جو تینوں کفر ہیں، اگرچہ وہ رب تعالیٰ کے وجود کو مانتا تھا، جیسا کہ {”وَلَىِٕنْرُّدِدْتُّاِلٰىرَبِّيْ“} سے ظاہر ہے۔ پہلی یہ کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی برباد ہو گا، حالانکہ اللہ کے سوا کسی بھی چیز کو ہمیشہ سے یا ہمیشہ کے لیے باقی سمجھنا نری جہالت اور دہریت ہے اور اللہ تعالیٰ کے اختیار اور ارادے کا انکار ہے، وہ جب چاہے کسی بھی چیز کو {”كُنْ“} کہہ کر فنا کر سکتا ہے اور کرتا رہتا ہے۔ دوسری یہ کہ میں قیامت کو قائم ہونے والی نہیں سمجھتا، حالانکہ یہ اللہ کی قدرت کا انکار ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جب پہلی دفعہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو دوبارہ بھی قادر ہے۔ تیسری بات یہ کہ اگر بالفرض میں اپنے رب کی طرف دوبارہ لے جایا گیا تومجھے یہاں سے بہتر جگہ ملے گی، کیونکہ یہ میرا حق ہے۔ دیکھیے حم السجدہ (۵۰) اور سورۂ مریم (۷۷) یہ اعمال کی جزا و سزا سے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت و عدل سے انکار ہے اور مذکورہ تینوں باتیں کفر ہیں۔ (مہائمی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
35۔ یہی کہتے کہتے وہ اپنے باغ میں داخل ہوا درآنحالیکہ وہ اپنے آپ پر ظلم کر رہا تھا اور کہنے لگا: ”میں تو نہیں سمجھتا [36] کہ یہ باغ کبھی اجڑ بھی سکتا ہے۔
[36] ایک موحد اور ایک کافر و مشرک کی مثال:۔
ایک دن وہ اپنے باغ کے پاس کھڑا تھا کہ اس کے مفلس ہمسایہ کا ادھر سے گزر ہوا تو اس سے اپنی شیخی بگھارنے بیٹھ گیا اور اس سے کہنے لگا جیسی زندگی تم گزار رہے ہو میں بہرحال تم سے بہتر ہوں۔ مالدار بھی اور اولاد بھی کافی ہے یہی باتیں کہتے کہتے وہ اپنے ہمسایہ کو لیے ہوئے اپنے باغ میں داخل ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے اس باغ پر اتنی محنت کی ہے اور ایسے انتظامات مکمل کر دیئے ہیں کہ کم از کم میری زندگی میں یہ باغ اجڑ نہیں سکتا اور جس قیامت کی تم باتیں کرتے رہتے ہو، اول تو مجھے اس کا یقین ہی نہیں اور اگر قائم ہوئی بھی جیسا کہ تم کہتے ہو تو جس خدا نے مجھ پر اس دنیا میں اتنی مہربانی اور اپنا فضل کیا ہے آخر وہ اس زندگی میں مجھ پر کیوں فضل نہ کرے گا؟ اور قریشی سرداروں کا بھی یہی نظریہ تھا۔ اس آیت میں در اصل دنیا دار لوگوں کے اس غلط نظریہ کی تردید کی گئی ہے کہ اگر انھیں اس دنیا میں آسودہ حالی مہیا ہے تو یہ اللہ کی ان پر خوشنودی کی دلیل ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے سخت آزمائش میں پڑے ہوتے ہیں کہ آیا وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں یا اس کے نافرمان بن کر رہتے ہیں لیکن وہ یہی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ جنت تو ہمیں مل ہی گئی ہے اب اور کون سی جنت ہے جسے حاصل کرنے کی فکر کریں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔