ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 34

وَّ کَانَ لَہٗ ثَمَرٌ ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِہٖ وَ ہُوَ یُحَاوِرُہٗۤ اَنَا اَکۡثَرُ مِنۡکَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا ﴿۳۴﴾
اور اس کے لیے بہت سا پھل تھاتو اس نے اپنے ساتھی سے، جب اس سے باتیں کررہا تھا، کہا میں تجھ سے مال میں زیادہ اور نفری کے لحاظ سے زیادہ باعزت ہوں۔ En
اور (اس طرح) اس (شخص) کو (ان کی) پیداوار (ملتی رہتی) تھی تو (ایک دن) جب کہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال ودولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (اور جماعت) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں
En
الغرض اس کے پاس میوے تھے، ایک دن اس نے باتوں ہی باتوں میں اپنے ساتھی سے کہا کہ میں تجھ سے زیاده مالدار اور جتھے کے اعتبار سے بھی زیاده مضبوط ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 34){وَ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ …: ثَمَرٌ } کی تنوین تکثیر کے لیے ہے، یعنی اس کے علاوہ بھی اس کے پاس بہت سا پھل تھا یا بہت نفع تھا، کیونکہ نفع کو بھی ثمر کہہ لیتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد اولاد لی ہے کہ کھیتوں اور باغوں کے علاوہ اس کی اولاد بھی بہت تھی۔ اس کی دلیل آگے مومن کا قول ہے: «اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًا» ‏‏‏‏ [الکہف: ۳۹] اگر تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کم تر ہوں۔ دوسرا آدمی مومن تھا مگر نادار تھا، اب اس کافر نے فخر سے گفتگو کرتے ہوئے اسے کہا، میرے پاس تم سے مال بھی زیادہ ہے اور آدمی بھی، یعنی اولاد، نوکر چاکر اور دوست۔ الغرض! اس بے ایمان نے اپنے مال و جاہ کے بھروسے پر مومن بھائی پر فخر کیا اور اسے اپنے باغات کا مشاہدہ کرانے کے لیے ساتھ لے چلا۔ (کبیر)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

34۔ 1 یعنی باغوں کے مالک نے، جو کافر تھا، اپنے ساتھیوں سے کہا جو مومن تھا۔ 34۔ 2 نَفَر (جتھے) سے مراد اولاد اور نوکر چاکر ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

34۔ اسے ان درختوں کا پھل ملتا رہا تو (ایک دن) وہ گفتگو کے دوران اپنے ساتھی سے کہنے لگا: ”میں تجھ سے مالدار بھی زیادہ ہوں اور افرادی قوت بھی زیادہ رکھتا ہوں“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَّكَانَ لَهٗ ثَمَرٌ اور اس شخص کا باغ بہت پھل لایا تھا جیسا کہ لفظ (ثمر) کے نکرہ ہونے سے مستفاد ہوتا ہے۔ اس کے باغوں کا پھل پوری طرح پک گیا تھا ان کے درخت پھل کے بوجھ سے جھک رہے تھے۔ ان پر کوئی آفت نازل نہیں ہوئی تھی۔ پس یہ کھیتی باڑی کے پہلو سے دنیا کی زیب و زینت کی انتہا ہے، اس وجہ سے وہ شخص دھوکے میں پڑ گیا، تکبر کرنے اور اترانے لگا اور اپنی آخرت کو فراموش کر بیٹھا۔
ان باغوں کے مالک نے اپنے صاحب ایمان ساتھی سے نہایت فخر سے کہا جبکہ وہ دونوں روز مرہ کے بعض معاملات میں ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے تھے: ﴿اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا میرے پاس تجھ سے زیادہ مال ہے اور زیادہ آبرو والے لوگ اس نے اپنے مال کی کثرت اور اپنے اعوان و انصار، یعنی اپنے غلام و خدام اور عزیز و اقارب کی طاقت پر فخر کا اظہار کیا۔ یہ اس کی جہالت تھی ورنہ ایک ایسے خارجی امر میں کون سی فخر کی بات ہے جس میں کوئی نفسی فضیلت ہے نہ معنوی صفت۔ یہ تو ایک بچے کا سا فخر ہے جو محض اپنی آرزوؤں پر فخر کرتا ہے جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وكان له}؛ أي: لذلك الرجل {ثمرٌ}؛ أي: عظيم؛ كما يفيده التنكير؛ أي: قد استكملت جنتاه ثمارهما، وارجحنَّت أشجارهما ولم تعرض لهما آفةٌ أو نقصٌ، فهذا غاية منتهى زينة الدُّنيا في الحرث، ولهذا اغترَّ هذا الرجل وتبجَّح وافتخر، ونسي آخرته.

أي: فقال صاحب الجنتين لصاحبه المؤمن وهما يتحاوران؛ أي: يتراجعان بينهما في بعض الماجريات المعتادة مفتخراً عليه: {أنا أكثرُ منك مالاً وأعزُّ نفراً}: فَخَرَ بكثرة مالِهِ وعزَّةِ أنصاره من عبيدٍ وخدمٍ وأقارب، وهذا جهلٌ منه، وإلاَّ؛ فأيُّ افتخار بأمر خارجيٍّ ليس فيه فضيلةٌ نفسيَّة ولا صفةٌ معنويَّة، وإنَّما هو بمنزلة فخر الصبيِّ بالأماني التي لا حقائق تحتها؟!