تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { قَالَ قَآىِٕلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ …:} حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”معلوم ہوتا ہے کہ وہ غار میں دن کے پہلے پہر داخل ہوئے تھے اور دن کے آخری حصے میں بیدار ہوئے۔ اس لیے اس سوال کے جواب میں کہ تم کتنی مدت یہاں ٹھہرے، کسی نے ایک دن اور کسی نے دن کا کچھ حصہ کہا، مگر جب غار کے اردگرد کا عالم بالکل ہی بدلا ہوا نظر آیا تو کہنے لگے، تمھارا رب زیادہ جانتا ہے کہ تم کتنی مدت ٹھہرے ہو۔“
➌ اس آیت سے معلوم ہوا کہ نہ پہلے سوال کرنے والے ولی کو وہاں ٹھہرنے کی مدت کا علم تھا، نہ دوسرے ولیوں کو، جب کہ کئی لوگ اپنے ائمہ اور اولیاء کو {”مَا كَانَ وَمَا يَكُوْنُ“} (جو ہو چکا اور جو ہو گا) کا جاننے والا سمجھتے ہیں۔
➍ یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے نیک بندے بھی بعض اوقات اندازے اور گمان سے کوئی بات کہہ دیتے ہیں، مگر ایسی بات میں وہ اصل علم اللہ کے حوالے کرنے سے غفلت نہیں کرتے۔
➎ { فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ …:} غار میں ٹھہرنے کی مدت پر بحث کے بعد جب وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو انھوں نے اصل مدت کے اندازے کے لیے اپنے کسی ایک ساتھی کو چاندی (کا سکہ) دے کر شہر بھیجنے کا فیصلہ کیا اور اسے چند باتوں کا خیال رکھنے کی تاکید کی۔ ایک یہ کہ کھانا لاتے وقت یہ دیکھ لے کہ شہر میں سب سے ستھرا کھانا کس کا ہے، اس سے تمھارے لیے کچھ کھانا لے آئے۔ {” اَزْكٰى “} کا معنی سب سے پاکیزہ، سب سے ستھرا ہے، اس میں کھانے کا حلال و طیب ہونا بھی شامل ہے اور سب سے صاف ستھرا ہونا بھی۔ معلوم ہوا کہ یہ نوجوان شہزادے تھے، یا امراء و وزراء کے چشم و چراغ تھے، جو شہر کے سب سے ستھرے ہوٹل سے کم پر راضی نہ تھے۔ دوسری بات یہ کہ نرمی اور باریک بینی کی کوشش کرے، کیونکہ سختی سے کام بگڑ جاتے ہیں اور باریک بینی اختیار نہ کرنے سے راز کھل جاتے ہیں اور مطلوبہ معلومات بھی حاصل نہیں ہوتیں۔ کوشش کا مفہوم {” وَ لْيَتَؔلَطَّفْ “} (باب تفعل) سے ظاہر ہو رہا ہے اور ”لطف“ کے مفہوم میں نرمی اور باریک بینی دونوں شامل ہیں۔ تیسری تاکید یہ کی کہ تمھارے بارے میں کسی کو ہر گز معلوم نہ ہونے دے۔ کیونکہ اگر مشرکین کو تمھارا پتا چل گیا تو وہ تمھیں سنگ سار کر دیں گے، یا جبراً تمھیں دوبارہ اپنے مشرکانہ دین میں واپس لے آئیں گے۔ ایسی صورت میں تم کبھی فلاح نہ پا سکو گے، کیونکہ مشرکوں پر اللہ نے جنت حرام کر دی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {وكذلك بَعَثْناهم}: من نومهم الطويل، {ليتساءلوا بينَهم}؛ أي: ليتباحثوا للوقوف على الحقيقة من مدَّة لبثهم. {قال قائلٌ منهم كم لبِثْتُم قالوا لَبِثنا يوماً أو بعض يوم}: وهذا مبنيٌّ على ظنِّ القائل، وكأنَّهم وقع عندهم اشتباهٌ في طول مدَّتهم؛ فلهذا {قالوا ربُّكم أعلمُ بما لَبِثْتُم}: فردُّوا العلم إلى المحيط علمُهُ بكلِّ شيءٍ جملةً وتفصيلاً، ولعلَّ الله تعالى بعد ذلك أطلعهم على مدَّة لبثهم؛ لأنَّه بَعَثَهم ليتساءلوا بينَهم، وأخبر أنَّهم تساءلوا وتكلَّموا بمبلغ ما عندَهم وصار آخر أمرهم الاشتباه؛ فلا بدَّ أن يكون قد أخبرهم يقيناً؛ عَلِمْنا ذلك من حكمته في بعثهم، وأنه لا يفعل ذلك عبثاً، ومن رحمته بمن طلبَ علم الحقيقة في الأمور المطلوب علمُها وسعى لذلك ما أمكنه؛ فإن الله يوضِّح له ذلك، وبما ذَكرَ فيما بعده من قوله: {وكذلك أعْثَرْنا عليهم ليَعْلَموا أنَّ وعد الله حقٌّ وأنَّ الساعةَ لا رَيْبَ فيها}؛ فلولا أنَّه حصل العلم بحالهم؛ لم يكونوا دليلاً على ما ذكر. ثم إنَّهم لما تساءلوا بينهم، وجرى منهم ما أخبر الله به؛ أرسلوا أحدَهم بوَرِقِهم؛ أي: بالدراهم التي كانت معهم؛ ليشتري لهم طعاماً يأكلونه من المدينة التي خرجوا منها، وأمروه أن يتخيَّر من الطعام أزكاه؛ أي: أطيبه وألذَّه، وأن يتلطَّف في ذهابه وشرائه وإيابه، وأن يختفي في ذلك، ويُخفي حال إخوانه، ولا يُشْعِرَنَّ بهم أحداً.