(آیت 12){ ثُمَّبَعَثْنٰهُمْلِنَعْلَمَاَيُّالْحِزْبَيْنِ …: ”بَعَثَ“} کا معنی کسی ساکن چیز کو حرکت میں لانا ہے۔ یہ لفظ مردہ کو زندہ کرنے اور سوئے ہوئے کو جگانے کے لیے آتا ہے، یعنی پھر ہم نے انھیں اٹھایا، تاکہ ہم معلو م کریں کہ ان سونے والوں کے دو گروہوں میں سے کون سا گروہ ہے جو اپنے وہاں ٹھہرنے کی مدت کو زیادہ یاد رکھنے والا ہے۔ یہ ترجمہ اس وقت ہے جب {”اَحْصٰى“} کو اسم تفضیل مانیں اور یہ معنی راجح ہے، کیونکہ باب افعال سے بھی {”أَفْعَلُ“} کے وزن پر اسم تفضیل آ جاتا ہے۔ دوسرا معنی اس صورت میں ہے کہ {”اَحْصٰى“} کو ماضی معروف قرار دیں، اس وقت معنی یہ ہو گا کہ دونوں گروہوں میں سے کون ہے جس نے اس مدت کو یاد رکھا ہے جو وہ ٹھہرے ہیں۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کو گزشتہ، موجودہ اور آئندہ ہر چیز کا علم ہے کہ کیا ہوا، کیا ہو رہا ہے اور کیا ہو گا، مگر ظاہر ہے کہ یہ علم کہ فلاں کام واقع ہو چکا ہے، اسی وقت ہو سکتا ہے جب وہ کام واقع ہو جائے، یعنی تاکہ ہم اپنے علم کے مطابق اس کا واقع ہونا جان لیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 ان دو گروہوں سے مراد اختلاف کرنے والے لوگ ہیں۔ یہ یا تو اسی دور کے لوگ تھے جن کے درمیان ان کی بابت اختلاف ہوا، یا عہد رسالت کے مومن و کافر مراد ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصحاب کہف ہی ہیں ان کے دو گروہ بن گئے تھے۔ ایک کہتا تھا ہم اتنا عرصہ سوئے رہے، دوسرا، اس کی نفی کرتا اور فریق اول سے کم و بیش مدت بتلاتا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ پھر ہم نے انھیں اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ ہر دو فریق [11] میں سے کون اپنی مدت قیام کا ٹھیک حساب رکھتا ہے۔
[11] اسی حالت میں سوئے ہوئے انھیں صدیاں گزر گئیں پھر جب اللہ نے چاہا انھیں بیدار کر دیا۔ بیدار کرنے کے بعد ان کا آپس میں پہلا سوال یہ تھا کہ ہم کو اس حالت میں سوئے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہو گا؟ اس مدت کے تعین میں ان میں اختلاف واقع ہو گیا اس لیے کہ ان کے پاس یہ مدت معلوم کرنے یا اس کی تعین کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا سوا اس کے کہ وہ دھوپ سے وقت کے متعلق کچھ اندازہ کر سکیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ ثُمَّبَعَثْنٰهُمْ ﴾”پھر ہم نے ان کو اٹھایا“ یعنی پھر ہم نے ان کو ان کی نیند سے بیدار کیا ﴿ لِنَعْلَمَاَیُّالْحِزْبَیْنِاَحْصٰؔىلِمَالَبِثُوْۤااَمَدًا ﴾”تاکہ ہم جانیں کہ دونوں گروہوں میں سے کس نے یاد رکھی ہے وہ مدت، جس میں وہ ٹھہرے رہے“ یعنی تاکہ ہم دیکھیں کہ ان میں سے اپنی مدت کی مقدار کو کون ٹھیک طرح سے شمار کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَذٰلِكَبَعَثْنٰهُمْلِیَتَسَآءَلُوْابَیْنَهُمْ ﴾ (الکہف: 18؍19) ”اور اس طرح ہم نے انھیں دوبارہ اٹھایا تاکہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں۔“ یعنی اپنے سوئے رہنے کی مدت کی مقدار، ضبط حساب اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ، اس کی حکمت اور رحمت کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں … اور اگر وہ دائمی طور پر سوئے رہتے تو ان کے واقعہ کی کسی کو کوئی اطلاع نہ ہوتی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم بعثْناهم}؛ أي: من نومهم، {لنعلم أيُّ الحزبينِ أحصى لما لَبِثوا أمداً}؛ أي: لنعلم أيُّهم أحصى لمقدار مدَّتهم؛ كما قال تعالى: {وكذلك بَعَثْناهم ليتساءلوا بينهم ... } الآية، وفي العلم بمقدار لَبْثِهِم ضبطٌ للحساب، ومعرفةٌ لكمال قدرة الله تعالى وحكمتِهِ ورحمتِهِ؛ فلو استمرُّوا على نومهم؛ لم يحصُل الاطلاع على شيء من ذلك من قصتهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔