ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 110

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَمَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلۡیَعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشۡرِکۡ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا ﴿۱۱۰﴾٪
کہہ دے میں تو تم جیسا ایک بشر ہی ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، پس جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو لازم ہے کہ وہ عمل کرے نیک عمل اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔ En
کہہ دو کہ میں تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں۔ (البتہ) میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود (وہی) ایک معبود ہے۔ تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھے چاہیئے کہ عمل نیک کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے
En
آپ کہہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں۔ (ہاں) میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 110) ➊ { قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ …:} اللہ کے کبھی ختم نہ ہونے والے کلمات میں سے تمام پیغمبر اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کلمات لے کر آئے کفار نے ان پر ایمان لانے سے اس لیے انکار کر دیا کہ انھیں لانے والے بشر تھے۔ ان کے خیال میں بشر اللہ کا رسول نہیں ہو سکتا تھا۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۱۱) اور بنی اسرائیل (۹۴) کی تفسیر۔ عقل کے ان اندھوں کو دیکھو کہ احسن تقویم والے انسان کو اللہ کا رسول ماننے کے لیے تیار نہیں، مگر بے جان پتھروں کو معبود مان رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان سے کہہ دیجیے کہ میں تمھاری طرح ایک بشر ہونے کے سوا کچھ نہیں، نہ میں رب ہوں، نہ رب ہونے میں میرا کوئی حصہ ہے، نہ عالم الغیب ہوں، نہ اپنے یا تمھارے لیے کسی نفع یا نقصان کا مالک ہوں، بلکہ میں تمھاری طرح صرف ایک بشر ہوں، آدم علیہ السلام کی اولاد ہوں۔ میرے والدین بھی ہیں، بیوی بچے بھی، کھانے پینے کی اور دوسری بے شمار اشیاء کی محتاجی میں بھی تمھارا شریک ہوں۔ پیدائش، بچپن، جوانی، بڑھاپے، تندرستی، بیماری اور وفات سب میں تمھاری طرح ہوں، ہاں اللہ تعالیٰ کا مجھ پر احسان ہے کہ اس نے اپنے کلمات پہنچانے کے لیے مجھے وحی کا شرف عطا فرمایا ہے، جس کا اصل الاصول ایک اللہ کی عبادت ہے۔ سو تم میری نبوت مانو اور اللہ کی توحیدپر ایمان لے آؤ۔
واضح رہے کہ قرآن مجید کے مطابق رسول بشر ہوتا ہے، جسے اللہ رسالت کے لیے چن لیتا ہے۔ کوئی یہ کہے کہ بشر رسول نہیں ہو سکتا، یا یہ کہے کہ رسول بشر نہیں ہو سکتا، دونوں کا عقیدہ ایک ہے اور دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر یہ کی ہے کہ ان مشرکین سے جو آپ کی رسالت کو جھٹلاتے ہیں، کہہ دیجیے کہ میں محض تمھارے جیسا ایک بشر ہوں، پھر جو شخص سمجھتا ہے کہ میں جھوٹا ہوں تو جیسا کلام میں لے کر آیا ہوں وہ لے کر آئے، دیکھو میں نے عالم الغیب نہ ہوتے ہوئے ماضی کے جو واقعات (اصحاب کہف، ذوالقرنین وغیرہ کے) عین واقعہ کے مطابق تمھیں بتائے ہیں اگر اللہ تعالیٰ مجھے اطلاع نہ دیتا تو میں تمھیں کبھی نہ بتا سکتا۔ یہ تفسیر بھی اچھی ہے۔
➋ {فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ …: يَرْجُوْا رَجَاءٌ} کا معنی امید ہے، اس کے ضمن میں خوف بھی ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ امید پوری نہ ہو۔ غرض اس کے معنی امید اور خوف دونوں کر لیے جاتے ہیں۔ بندے اور اس کے رب کے تعلق کو نمایاں کرکے فرمایا کہ جو اپنے رب کی ملاقات اور دیدار کی امید رکھتا ہے، یا اس سے ملاقات کے وقت اس کے عذاب سے ڈرتا ہے اس کے لیے دو کام ضروری ہیں، پہلا یہ کہ وہ صالح عمل کرے اور صالح عمل وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے سے بتایا ہے، اس کے علاوہ سب بدعت اور گمراہی ہے۔ دوسرا یہ کہ اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے، نہ کسی دوسرے کی عبادت کرکے اور نہ ریا کاری کرکے، کیونکہ غیر اللہ کی عبادت اگر شرک اکبر ہے تو ریا کاری (دکھاوا) شرک اصغر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [قَالَ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی أَنَا أَغْنَی الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلاً أَشْرَكَ فِيْهِ مَعِيَ غَيْرِيْ تَرَكْتُهُ وَ شِرْكَهُ] [مسلم، الزھد، باب تحریم الریاء: ۲۹۸۵، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے، میں تمام حصے داروں سے کہیں زیادہ (ہر قسم کے) حصے سے بے نیاز ہوں، جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں میرے سوا کسی اور کو حصے دار بنایا تو میں اس عمل کو اور اس کے حصے کو چھوڑ دیتا ہوں۔ یعنی میں وہ حصہ بھی قبول نہیں کرتا جو اس عمل میں سے اس نے میرے لیے کیا ہے، کیونکہ اس میں دوسرا بھی حصے دار ہوتا ہے، تو میں اپنا حصہ بھی چھوڑ کر اسی کو دے دیتا ہوں، اب وہ اس کا اجر اسی سے لے، میں تو صرف وہ عمل قبول کرتا ہوں جو سارے کا سارا میرے لیے ہو، کسی دوسرے کا اس میں حصہ نہ ہو۔ جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللّٰهُ بِهِ، وَ مَنْ يُرَائِيْ يُرَائِي اللّٰهُ بِهِ] جو شخص سنانے (شہرت) کی خاطر عمل کرے اللہ تعالیٰ (اس کی بدنیتی) سب کو سنا دے گا اور جو لوگوں کو دکھانے کے لیے کوئی کام کرے گا اللہ تعالیٰ اسے سب لوگوں کو دکھلا دے گا۔ [بخاری، الرقاق، باب الریاء والسمعۃ: ۶۴۹۹]
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے، جو عیسائی تھا، جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا: جو کتاب محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) پر نازل ہوئی ہے اس کا کوئی حصہ تمھیں یاد ہے تو مجھے پڑھ کر سناؤ۔ چنانچہ جعفر رضی اللہ عنہ نے سورۂ مریم کا ابتدائی حصہ پڑھ کر سنایا، اللہ کی قسم! اسے سن کر نجاشی رونے لگا، حتیٰ کہ اس کی ڈاڑھی تر ہو گئی اور جتنے پادری اس کے پاس بیٹھے تھے وہ بھی رونے لگے، یہاں تک کہ ان کی کتابیں تر ہو گئیں، پھر نجاشی نے کہا: [إِنَّ هٰذَا وَاللّٰهِ! وَالَّذِيْ جَاءَ بِهٖ مُوْسَی لَيَخْرُجُ مِنْ مِشْكَاةٍ وَاحِدَةٍ] [مسند أحمد: 202/1، ۲۰۳، ح: ۱۷۴۵، حسنہ محققوہ] اللہ کی قسم! یہ کلام اور وہ کلام جو موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے ایک ہی مشکاۃ(روشنی کے طاق) سے نکل رہا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

110۔ 1 اس لئے میں بھی رب کی باتوں کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ 110۔ 2 البتہ مجھے یہ امتیاز حاصل ہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ اسی وحی کی بدولت میں نے اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق اللہ کی طرف سے نازل کردہ وہ باتیں بیان کی ہیں جن پر مرور ایام کی دبیز تہیں پڑی ہوئی تھیں یا ان کی حقیقت افسانوں میں گم ہوگئی تھی۔ علاوہ ازیں اس وحی میں سب سے اہم حکم یہ دیا گیا ہے کہ تم سب کا معبود صرف ایک ہے۔ 110۔ 3 عمل صالح وہ ہے جو سنت کے مطابق ہو، یعنی جو اپنے رب کی ملاقات کا یقین رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ ہر عمل سنت نبوی کے مطابق کرے اور دوسرا اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، اس لئے کہ بدعت اور شرک دونوں ہی ضبط اعمال کا سبب ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں سے ہر مسلمان کو مفوظ رکھے۔ ہجرت حبشہ کے واقعات میں بیان کیا گیا کہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی اور اس کے مصاحبین اور امرا کے سامنے جب سورة مریم کا ابتدائی حصہ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے پڑھ کر سنایا تو ان سب کی ڈاڑھیاں آنسوؤں سے تر ہوگئیں اور نجاشی نے کہا کہ یہ قرآن اور حضرت عیسیٰ ؑ جو لے کر آئے ہیں، یہ سب ایک ہی مشعل کی کرنیں ہیں (فتح القدیر)۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

110۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ: میں تو تمہارے ہی جیسا ایک انسان ہوں [90]۔ (ہاں یہ فرق ضرور ہے کہ) میری طرح وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے۔ لہذا جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھتا ہے اسے چاہئے کہ وہ نیک عمل کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرے۔
[90] کفار کا یہ اعتراض اور اس کا جواب متعدد بار پہلے بھی گزر چکا ہے یعنی میں بھی تمہاری ہی طرح ایک انسان ہوں، کھاتا ہوں، پیتا ہوں، چلتا ہوں، نکاح اور شادیاں کرتا ہوں البتہ یہ فرق ضرور ہے کہ میں اللہ کا رسول بھی ہوں، یہ جواب تو ان لوگوں کو تھا جو آپ کو رسول نہیں مانتے تھے اور جو جانتے تھے (یعنی صحابہ کرام) ان کے سامنے بھی آپ نے متعدد بار انسان ہونے کے ناطے سے بشری کمزوریوں کا اعتراف فرمایا تھا جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔
آپ کا صحابہ کرام کے سامنے بشر ہونے کا کئی باراعتراف اقرار:۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو اس میں کچھ کمی بیشی کر دی جب سلام پھیرا تو لوگوں نے عرض کیا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ”کیوں کیا بات ہے؟“ لوگوں نے کہا ”آپ نے اتنی رکعت پڑھی ہیں “یہ سن کر آپ الٹے پاؤں پھرے قبلہ کی طرف منہ کیا (سہو کے) دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا پھر ہماری طرف منہ کر کے فرمایا: ”اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آتا تو میں ضرور تمہیں بتا دیتا لیکن بات یہ ہے کہ میں بھی تمہاری طرح آدمی ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں تو جب میں بھولوں مجھے یاد دلا دیا کرو اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک پڑ جائے تو اپنے ظن غالب کے مطابق اپنی نماز پوری کرے پھر سلام پھیرے اور سہو کے دو سجدے کر لے“ [بخاري، كتاب الصلوة۔ باب التوجه نحو القبلة]
2۔ ام المومنین سیدہ ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں بھی ایک بشر ہی ہوں اور تم آپس میں جھگڑتے ہوئے میرے پاس آتے ہو اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تم میں سے ایک فریق دلائل دینے میں دوسرے سے زیادہ چرب زبان ہوتا ہے اور میں اس کے دلائل سن کر اسی کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہوں۔ اب اگر میں کسی فریق کو اس کے بھائی کا کچھ حق دلا دوں تو یاد رکھو میں اسے آگ کا ایک ٹکڑا دلا رہا ہوں“ [بخاري، كتاب الاحكام۔ باب موعظة الامام للخصوم]
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ کو علم غیب نہیں تھا جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے۔
3۔ سیدنا رافع بن خدیجؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو اس وقت لوگ کھجور میں پیوند لگاتے تھے آپ نے پوچھا: ”یہ کیا کرتے ہو؟“ صحابہ کرامؓ نے جواب دیا: ”ہم تو ایسا ہی کیا کرتے ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم یہ کام نہ کرو تو شاید بہتر ہو گا“ لوگوں نے پیوند لگانا چھوڑ دیا تو کھجور پھل کم لائی۔ صحابہؓ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی ایک بشر ہی ہوں جب میں تمہیں تمہارے دین کی کسی بات کا حکم دوں تو اس پر عمل کرو اور جب میں کوئی بات اپنی رائے سے کہوں تو میں بھی آخر آدمی ہی ہوں“ (یعنی مجھ سے بھی غلطی ہو سکتی ہے) [مسلم۔ كتاب الفضائل باب وجوب امتثال ماقاله، دون ما ذكره، من معائش الدنيا على سبيل الراي]
آپ کی شان میں افراط وتفریط کا شکار ہونے والے حضرات:۔
یہ احادیث ہمیں اس لیے درج کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت افراط و تفریط کا شکار ہو گئی کچھ لوگ تو اس بات پر مصر ہیں کہ آپ بشر تھے ہی نہیں بلکہ نور تھے یہ احادیث انھیں کو سمجھانے اور ان پر حجت کے طور پر درج کی گئی ہیں۔ دوسرا فریق جو تفریط کا شکار ہوا تو وہ آپ کو ایک عام انسان کی سطح پر لے آیا اور دلیل یہ دی کہ انما کلمہ حصر ہے حالانکہ انما محض الوہیت اور عبودیت میں امتیاز کا فائدہ دے رہا ہے یعنی رسول اللہ میں الوہیت کا کچھ بھی حصہ نہیں اس سے کمالات نبوت کی نفی مراد نہیں۔ بخاری میں علامات النبوۃ فی الاسلام کے عنوان کے تحت آپ کے سینکڑوں معجزات مذکور ہیں لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام انسانوں جیسا ایک معمولی انسان سمجھنا انتہائی گستاخی اور سخت نادانی ہے۔
[91] یعنی جو شخص اللہ سے ملاقات کا شوق رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ ملاقات خوشگوار رہے اسے اللہ سے ڈرتے ہوئے نیک اعمال بجا لاتے رہنا چاہیے مگر اس شرط کے ساتھ کہ اللہ کی عبادت میں شرک کا شائبہ تک نہ ہو ایک تو خالصتاً اسی کی عبادت کرے دوسرے اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی تعظیم اور اس سے دعا کے جو طریقے مشروع ہیں وہ کسی دوسرے کے لیے بجا نہ لائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ سب سے آخری آیت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری۔ حکم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے فرمائیں کہ میں تم جیسا ہی ایک انسان ہوں، تم بھی انسان ہو، اگر مجھے جھوٹا جانتے ہو تو لاؤ اس قرآن جیسا ایک قرآن تم بھی بنا کر پیش کر دو۔ دیکھو میں کوئی غیب داں تو نہیں، تم نے مجھ سے ذوالقرنین کا واقعہ دریافت کیا، اصحاب کہف کا قصہ پوچھا تو میں نے ان کے صحیح واقعات تمہارے سامنے بیان کر دئیے جو نفس الامر کے مطابق ہیں۔ اگر میرے پاس اللہ کی وحی نہ آتی تو میں ان گزشتہ واقعات کو جس طرح وہ ہوئے ہیں، تمہارے سامنے کس طرح بیان کر سکتا؟ سنو تمام تر وحی کا خلاصہ یہ ہے کہ تم موحد بن جاؤ۔ شرک کو چھوڑ دو۔ میری دعوت یہی ہے جو بھی تم میں سے اللہ سے مل کر اجر و ثواب لینا چاہتا ہو، اسے شریعت کے مطابق عمل کرنے چاہئیں اور شرک سے بالکل بچنا چاہیئے۔ ان دونوں ارکان کے بغیر کوئی عمل اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں، خلوص ہو اور مطابقت سنت ہو۔
ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا کہ بہت سے نیک کاموں میں باوجود مرضی الٰہی کی تلاش کے میرا ارادہ یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ میری نیکی دیکھیں تو میرے لیے کیا حکم ہے، آپ خاموش رہے اور یہ آیت اتری، یہ حدیث مرسل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23427:مرسل]‏‏‏‏ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ ایک شخص نماز، روزہ، صدقہ، خیرات، حج زکوٰۃ کرتا ہے، اللہ کی رضا مندی بھی ڈھونڈتا ہے اور لوگوں میں نیک نامی اور بڑائی بھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کی کل عبادت اکارت ہے، اللہ تعالیٰ شرک سے بیزار ہے، جو اس کی عبادت میں اور نیت بھی کرے تو اللہ تعالیٰ فرما دیتا ہے کہ یہ سب اسی دوسرے کو دے دو مجھے اس کی کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/16:ضعیف]‏‏‏‏
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باری باری آتے، رات گزارتے، کبھی آپ کو کوئی کام ہوتا تو فرما دیتے۔ ایسے لوگ بہت زیادہ تھے۔ ایک شب ہم آپس میں کچھ باتیں کر رہے تھے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا یہ کیا کھسر پھسر کر رہے ہو؟ ہم نے جواب دیا، یا رسول اللہ ہماری توبہ ہے ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے اور دل ہمارے خوفزدہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم [سنن ابن ماجہ:4204،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ نے فرمایا، میں تمہیں اس سے بھی زیادہ دہشت ناک بات بتاؤں؟ وہ پوشیدہ شرک ہے کہ انسان دوسرے انسان کو دکھانے کے لیے نماز پڑھے۔
مسند احمد میں ہے، ابن غنم کہتے ہیں، میں اور ابودرداء جابیہ کی مسجد میں گئے، وہاں ہمیں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ملے، بائیں ہاتھ سے تو انہوں نے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا اور اپنے داہنے ہاتھ سے ابودرداء رضی اللہ عنہ کا بایاں ہاتھ تھام لیا اور اسی طرح ہم تینوں وہاں سے باتیں کرتے ہوئے نکلے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے، دیکھو اگر تم دونوں یا تم میں سے جو بھی زندہ رہا تو ممکن ہے اس وقت کو بھی وہ دیکھ لے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قرآن سیکھا ہوا بھلا آدمی حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھنے والا اور ہر حکم کو مناسب جگہ رکھنے والا آئے اور اس کی قدرو منزلت لوگوں میں ایسی ہو جیسی مردہ گدھے کی سر کی۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہما آ گئے اور بیٹھتے ہی شداد رضی اللہ عنہا نے فرمایا، لوگو مجھے تو تم پر سب سے زیادہ اس کا ڈر ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے یعنی پوشیدہ خواہش اور شرک کا۔ اس پر عبادہ رضی اللہ عنہما اور ابودرداء رضی اللہ عنہما نے فرمایا، اللہ معاف فرمائے، ہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس بات سے شیطان مایوس ہو گیا ہے کہ اس جزیرہ عرب میں اس کی عبادت کی جائے۔ ہاں پوشیدہ شہوات تو یہی خواہش کی چیزیں عورتیں وغیرہ ہیں لیکن یہ شرک ہماری سمجھ میں تو نہیں آیا جس سے آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں۔
حضرت شداد رضی اللہ عنہما فرمانے لگے، اچھا بتاؤ تو ایک آدمی دوسروں کے دکھانے کے لیے نماز، روزہ، صدقہ، خیرات کرتا ہے۔ اس کا حکم تمہارے نزدیک کیا ہے؟ کیا اس نے شرک کیا؟ سب نے جواب دیا، بیشک ایسا شخص مشرک ہے۔ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص دکھاوے کے لیے نماز پڑھے وہ مشرک ہے، جو دنیا کو دکھانے کے لیے روزے رکھے وہ مشرک ہے، جو لوگوں میں اپنی سخاوت جتانے کے لیے صدقہ خیرات کرے وہ بھی مشرک ہے۔ اس پر عوف بن مالک رضی اللہ عنہما نے کہا، کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ ایسے اعمال میں جو اللہ کے لیے ہو، اللہ اسے قبول فرمالے اور جو دوسرے کے لیے ہو، اسے رد کر دے؟ شداد رضی اللہ عنہما نے جواب دیا، یہ ہرگز نہیں ہونے کا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جناب باری عزوجل کا ارشاد ہے کہ میں سب سے بہتر حصے والا ہوں، جو بھی میرے ساتھ کسی عمل میں دوسرے کو شریک کرے، میں اپنا حصہ بھی اسی دوسرے کے سپرد کر دیتا ہوں۔ اور نہایت بےپرواہی سے جز کل سب کو چھوڑ دیتا ہوں۔ [مسند احمد:125/4:ضعیف]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہما ایک دن رونے لگے، ہم نے پوچھا، آپ کیسے رو رہے ہیں؟ فرمانے لگے ایک حدیث یاد آ گئی اور اس نے رلا دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر شرک اور پوشیدہ شہوت کا ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں سنو وہ سورج چاند، پتھر، بت کو نہ پوجے گی بلکہ اپنے اعمال میں ریا کاری کرے گی۔ پوشیدہ شہوت یہ ہے کہ صبح روزے سے ہے اور کوئی خواہش سامنے آئی، روزہ چھوڑ دیا [مسند احمد:124/4:ضعیف]‏‏‏‏۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے میں تمام شریکوں سے بہتر ہوں۔ میرے ساتھ جو بھی کسی کو شریک کرے، میں اپنا حصہ بھی اسی کو دے دیتا ہوں۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:2764،صحیح]‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ جو شخص کسی عمل میں میرے ساتھ دوسرے کو ملا لے، میں اس سے بری ہوں اور اس کا وہ پورا عمل اس غیر کے لیے ہی ہے۔ [مسند احمد:301/2:صحیح]‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں ہے، مجھے تمہاری نسبت سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے، لوگوں نے پوچھا، وہ چھوٹا شرک کیا ہے؟ فرمایا ریاکاری۔ قیامت کے دن ریاکاروں کو جواب ملے گا کہ جاؤ جن کے لیے عمل کئے تھے، انہی کے پاس جزا مانگو۔ دیکھو پاتے بھی ہو؟[مسند احمد:428/5:صحیح]‏‏‏‏
ابوسعید بن ابو فضالہ انصاری صحابی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جب اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو جمع کرے گا، جس دن کے آنے میں کوئی شک شبہ نہیں، اس دن ایک پکارنے والا پکارے گا کہ جس نے اپنے جس عمل میں اللہ کے ساتھ دوسرے کو ملایا ہو، اسے چاہیئے کہ اپنے اس عمل کا بدلہ اس دوسرے سے مانگ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ ساجھے سے بہت ہی بے نیاز ہے۔ [مسند احمد:466/3:حسن]‏‏‏‏ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، ریاکار کو عذاب بھی سب کو دکھا کر ہو گا اور نیک اعمال لوگوں کو سنانے والے کو عذاب بھی سب کو سنا کر ہو گا [مسند احمد 45/5:صحیح لغیرہ]‏‏‏‏ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے بھی یہ روایت مروی ہے۔ [مسند احمد:40/3:صحیح]‏‏‏‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، اپنے نیک اعمال اچھالنے والے کو اللہ تعالیٰ ضرور رسوا کرے گا، اس کے اخلاق بگڑ جائیں گے اور وہ لوگوں کی نگاہوں میں حقیر و ذلیل ہو گا۔ یہ بیان فرما کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما رونے لگے۔[مسند احمد:162/2:صحیح]‏‏‏‏
انس رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، قیامت کے دن انسان کے نیک اعمال کے مہر شدہ صحیفے اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔ جناب باری عزوجل فرمائے گا، اسے پھینک دو، اسے قبول کرو، اسے قبول کرو، اسے پھینک دو۔ اس وقت فرشتے عرض کریں گے کہ اے اللہ تبارک وتعالیٰ جہاں تک ہمارا علم ہے ہم تو اس شخص کے اعمال نیک ہی جانتے ہیں، جواب ملے گا کہ جن کو میں پھینکوا رہا ہوں یہ وہ اعمال ہیں جن میں صرف میری ہی رضا مندی مطلوب نہ تھی بلکہ ان میں ریاکاری تھی۔ آج میں تو صرف ان اعمال کو قبول کروں گا جو صرف میرے لیے ہی کئے گئے ہوں۔[الدر المنثور للسیوطی:460/4:ضعیف]‏‏‏‏
ارشاد ہے کہ جو دکھاوے سناوے کے لیے کھڑا ہوا ہو، وہ جب تک نہ بیٹھے اللہ کے غصے اور غضب میں ہی رہتا ہے۔ [مجمع الزوائد:223/10:ضعیف]‏‏‏‏ ابو یعلیٰ کی حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، جو شخص لوگوں کے دیکھتے ہوئے تو ٹھہر ٹھہر کر اچھی کر کے نماز پڑھے اور تنہائی میں بری طرح جلدی جلدی بے دلی سے ادا کرے، اس نے اپنے پروردگار عزوجل کی توہین کی۔ [مسند ابویعلیٰ:5117:ضعیف]‏‏‏‏ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس آیت کو امیر معاویہ رضی اللہ عنہما قرآن کی آخری آیت بتاتے ہیں۔ [ضعیف]‏‏‏‏ لیکن یہ قول اشکال سے خالی نہیں کیونکہ سورۃ الکہف پوری کی پوری مکے شریف میں نازل ہوئی ہے اور ظاہر ہے کہ اس کے بعد مدینے میں برابر دس سال تک قرآن کریم اترتا رہا تو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ ہو کہ یہ آیت آخری ہے یعنی کسی دوسری آیت سے منسوخ نہیں ہوئی۔ اس میں جو حکم ہے وہ آخر تک بدلا نہیں گیا۔ اس کے بعد کوئی ایسی آیت نہیں اتری جو اس میں تبدیلی وتغیر کرے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ایک بہت ہی غریب حدیث حافظ ابوبکر بزار رحمہ اللہ اپنی کتاب میں لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص آیت «فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا» [الکھف: 110]‏‏‏‏، کو رات کے وقت پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اسے اتنا بڑا نور عطا فرمائے گا جو عدن سے مکے شریف تک پہنچے۔ [مستدرک حاکم371/2:ضعیف]‏‏‏‏