اِذۡ اَوَی الۡفِتۡیَۃُ اِلَی الۡکَہۡفِ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً وَّ ہَیِّیٔۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا ﴿۱۰﴾
جب ان جوانوں نے غار کی طرف پناہ لی تو انھوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے کوئی رحمت عطا کر اور ہمارے لیے ہمارے معاملے میں کوئی رہنمائی مہیا فرما۔
En
جب وہ جوان غار میں جا رہے تو کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر اپنے ہاں سے رحمت نازل فرما۔ اور ہمارے کام درستی (کے سامان) مہیا کر
En
ان چند نوجوانوں نے جب غار میں پناه لی تو دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں ہمارے لئے راه یابی کو آسان کردے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 10){اِذْ اَوَى الْفِتْيَةُ اِلَى الْكَهْفِ …: ” اَوَى “ } (ض) جگہ پکڑی، پناہ لی۔ {” الْفِتْيَةُ “ ” فَتًي“} کی جمع قلت ہے، جوان جو آغاز شباب میں ہوں۔ {” هَيِّئْ “} باب تفعیل سے امر ہے، مہیا فرما، میسر فرما، {” رَشَدًا “} بھلائی، رہنمائی۔ {” اِذْ “} یا تو {” كَانُوْا “} کی ظرف ہے، یا {” عَجَبًا “} کی اور یا {”أُذْكُرْ“} کی جو محذوف ہے، یعنی جب چند نوجوان جو اپنی مشرک قوم اور مشرک بادشاہ کے سامنے توحید کا برملا اظہار و اعلان کرنے کی وجہ سے انھیں مطلوب تھے، اپنے گھروں سے نکلے اور انھوں نے ایک پہاڑ کے کھلے غار میں پناہ لی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے، یعنی محض اپنے فضل اور اپنی جناب سے کوئی بھی رحمت جو تو چاہے عطا فرما، جیسے موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا تھا: «رَبِّ اِنِّيْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٌ» [القصص: ۲۴] ”اے میرے رب! بے شک میں، جو بھلائی بھی تو میری طرف نازل فرمائے، اس کا محتاج ہوں۔“ رحمت میں کھانا پینا، امن و اطمینان اور ضرورت کی ہر چیز شامل ہے۔{” هَيِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا “} اور ہمارے لیے اس معاملے میں کوئی رہنمائی عطا فرما کہ ہم کیا کریں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 یہ وہی نوجوان ہیں جنہیں اصحاب کہف کہا گیا، (تفصیل آگے آرہی ہے) انہوں نے جب اپنے دین کو بچاتے ہوئے غار میں پناہ لی تو یہ دعا مانگی۔ اصحاب کہف کے اس قصے میں نوجوانوں کے لئے بڑا سبق ہے، آجکل کے نوجوانوں کا بیشتر وقت فضولیات میں برباد ہوتا ہے اور اللہ کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ کاش! آج کے مسلمان نوجوان اپنی جوانیوں کو اللہ کی عبادت میں صرف کریں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ جب ان نوجوانوں [9] نے غار میں پناہ لی تو کہنے لگے! اے ہمارے پروردگار! اپنی جناب سے ہمیں رحمت عطا فرما اور اس معاملہ میں ہماری رہنمائی فرما۔
[9] اصحاب کہف کا غار میں پناہ لینا:۔
عام روایات، کتب سیر اور قرآن کریم کے اشارہ کے مطابق یہ نوجوان سات تھے توحید پرست تھے اور عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے جبکہ ان کے معاشرہ میں ہر سو شرک اور بت پرستی کا دور دورہ تھا اس وقت کا رومی بادشاہ دقیانوس (Decius) (عہد حکومت 249ء تا 251ء) خود بت پرست اور مشرک تھا عیسائیوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے معاملہ میں اس کا عہد بہت بدنام ہے۔ ان ایام میں عیسائیوں کا عقیدہ تثلیث تا ہنوز وضع نہیں ہوا تھا یہ عقیدہ مدتوں بعد چوتھی صدی عیسوی میں رائج ہوا لہٰذا ان ایام میں عیسائی توحید پرست ہی ہوتے تھے ان نوجوانوں نے جب دیکھا کہ توحید پرستوں پر کس طرح سختیاں کر کے انھیں شرک و بت پرستی پر مجبور کیا جا رہا ہے تو انہوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے مناسب یہی سمجھا کہ لوگوں کی نظروں سے روپوش ہو جائیں چنانچہ انہوں نے ایک پہاڑ کی ایک کھلی غار میں روپوش ہو جانے پر اتفاق کر لیا اور اپنے گھر بار چھوڑ کر منتخب کردہ غار میں جا پناہ لی اور یہ طے کیا کہ ہم میں سے باری باری ایک شخص اپنا بھیس بدل کر شہر جایا کرے وہاں سے کچھ کھانے کو بھی لے آئے اور اپنے متعلق لوگوں کی چہ میگوئیاں بھی سن آئے اور موجودہ صورت حال سے باقی ساتھیوں کو بھی مطلع کرتا رہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اللہ سے دعا بھی کرتے جاتے تھے کہ ہمیں اس معاملہ میں ثابت قدم رکھ اور ہم پر اپنی رحمت فرما اور ہماری صحیح رہنمائی کے سامان بھی مہیا فرما۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اصحاف کہف ٭٭
اصحاف کہف کا قصہ اجمال کے ساتھ بیان ہو رہا ہے پھر تفصیل کے ساتھ بیان ہو گا۔ فرماتا ہے کہ وہ واقعہ ہماری قدرت کے بےشمار واقعات میں سے ایک نہایت معمولی واقعہ ہے۔ اس سے بڑے بڑے نشان روز مرہ تمہارے سامنے ہیں۔ آسمان و زمین کی پیدائش، رات دن کا آنا جانا، سورج چاند کی اطاعت گزاری وغیرہ قدرت کی ان گنت نشانیاں ہیں جو بتلا رہی ہیں کہ اللہ کی قدرت بے انداز ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس پر کوئی کام مشکل نہیں۔ اصحاب کہف سے تو کہیں زیادہ تعجب خیز اور اہم نشان قدرت تمہارے سامنے دن رات موجود ہیں، کتاب و سنت کا جو علم میں نے تجھے عطا فرمایا ہے، وہ اصحاب کہف کی شان سے کہیں زیادہ ہے۔ بہت سی حجتیں میں نے اپنے بندوں پر اصحاب کہف سے زیادہ واضح کر دی ہیں۔ کہف کہتے ہیں پہاڑی غار کو، وہیں یہ نوجوان چھپ گئے تھے۔
رقیم یا توایلہ کے پاس کی وادی کا نام ہے یا ان کی اس جگہ کی عمارت کا نام ہے یا کسی آبادی کا نام ہے یا اس پہاڑ کا نام ہے، اس پہاڑ کا نام نجلوس بھی آیا ہے، غار کا نام حیزوم کہا گیا ہے اور ان کے کتے کا نام حمران بتایا گیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سارے قرآن کو میں جانتا ہوں لیکن لفظ «حنان» اور لفظ «اواہ» اور لفظ «رَّقِيمِ» کو۔ مجھے نہیں معلوم کہ «رَّقِيمِ» کسی کتاب کا نام ہے یا کسی بنا کا۔
اور روایت میں آپ سے مروی ہے کہ وہ کتاب ہے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ پتھر کی ایک لوح تھی جس پر اصحاب کہف کا قصہ لکھ کر غار کے دروازے پر اسے لگا دیا گیا تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن کہتے ہیں قرآن میں ہے «كِتَابٌ مَّرْقُومٌ» [83-المطففين: 9] پس آیت کے ظاہری الفاظ تو اس کی تائید کرتے ہیں اور یہی امام ابن جریر کا مختار قول ہے کہ «رَّقِيمِ» فعیل کے وزن پر مرقوم کے معنی میں ہے جیسے مقتول قتیل اور مجروح جریح۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور روایت میں آپ سے مروی ہے کہ وہ کتاب ہے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ پتھر کی ایک لوح تھی جس پر اصحاب کہف کا قصہ لکھ کر غار کے دروازے پر اسے لگا دیا گیا تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن کہتے ہیں قرآن میں ہے «كِتَابٌ مَّرْقُومٌ» [83-المطففين: 9] پس آیت کے ظاہری الفاظ تو اس کی تائید کرتے ہیں اور یہی امام ابن جریر کا مختار قول ہے کہ «رَّقِيمِ» فعیل کے وزن پر مرقوم کے معنی میں ہے جیسے مقتول قتیل اور مجروح جریح۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ نوجوان اپنے دین کے بچاؤ کیلئے اپنی قوم سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے کہ کہیں وہ انہیں دین سے بہکا نہ دیں، ایک پہاڑ کے غار میں گھس گئے اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ہمیں اپنی جانب سے رحمت عطا فرما، ہمیں اپنی قوم سے چھپائے رکھ، ہمارے اس کام میں اچھائی کا انجام کر۔ حدیث کی ایک دعا میں ہے کہ اے اللہ جو فیصلہ تو ہمارے حق میں کرے، اسے انجام کے لحاظ سے بھلا کر۔ مسند میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں عرض کرتے کہ اے اللہ ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا کر اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذابوں سے بچا لے۔ [مسند احمد:181/4:ضعیف]
یہ غار میں جا کر جو پڑ کر سوئے تو برسوں گزر گئے، پھر ہم نے انہیں بیدار کیا، ایک صاحب درہم لے کر بازار سے سودا خریدنے چلے، جیسے کہ آگے آ رہا ہے۔ یہ اس لیے کہ انہیں وہاں کتنی مدت گزری، اسے دونوں گروہوں میں سے کون زیادہ یاد رکھنے والا ہے؟ اسے ہم بھی معلوم کریں۔ «أَمَدً» کے معنی عدد یعنی گنتی کے ہیں اور کہا گیا ہے کہ غایت کے معنی میں بھی یہ لفظ آیا ہے جیسے کہ عرب کے شاعروں نے اپنے شعروں میں اسے غایت کے معنی میں باندھا ہے۔
یہ غار میں جا کر جو پڑ کر سوئے تو برسوں گزر گئے، پھر ہم نے انہیں بیدار کیا، ایک صاحب درہم لے کر بازار سے سودا خریدنے چلے، جیسے کہ آگے آ رہا ہے۔ یہ اس لیے کہ انہیں وہاں کتنی مدت گزری، اسے دونوں گروہوں میں سے کون زیادہ یاد رکھنے والا ہے؟ اسے ہم بھی معلوم کریں۔ «أَمَدً» کے معنی عدد یعنی گنتی کے ہیں اور کہا گیا ہے کہ غایت کے معنی میں بھی یہ لفظ آیا ہے جیسے کہ عرب کے شاعروں نے اپنے شعروں میں اسے غایت کے معنی میں باندھا ہے۔