ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 97

وَ مَنۡ یَّہۡدِ اللّٰہُ فَہُوَ الۡمُہۡتَدِ ۚ وَ مَنۡ یُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَہُمۡ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ؕ وَ نَحۡشُرُہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوۡہِہِمۡ عُمۡیًا وَّ بُکۡمًا وَّ صُمًّا ؕ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ کُلَّمَا خَبَتۡ زِدۡنٰہُمۡ سَعِیۡرًا ﴿۹۷﴾
اور جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جنھیں گمراہ کر دے تو توُ ان کے لیے اس کے سوا ہرگز کوئی مدد کرنے والے نہیں پائے گا اور قیامت کے دن ہم انھیں ان کے چہروں کے بل اندھے اور گونگے اور بہرے اٹھائیں گے، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب کبھی بجھنے لگے گی ہم ان پر بھڑکانا زیادہ کر دیں گے۔ En
اور جس شخص کو خدا ہدایت دے وہی ہدایت یاب ہے۔ اور جن کو گمراہ کرے تو تم خدا کے سوا اُن کے رفیق نہیں پاؤ گے۔ اور ہم اُن کو قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے اور بہرے (بنا کر) اٹھائیں گے۔ اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ جب (اس کی آگ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو (عذاب دینے کے لئے) اور بھڑکا دیں گے
En
اللہ جس کی رہنمائی کرے تو وه ہدایت یافتہ ہے اور جسے وه راه سے بھٹکا دے ناممکن ہے کہ تو اس کا مددگار اس کے سوا کسی اور کو پائے، ایسے لوگوں کا ہم بروز قیامت اوندھے منھ حشر کریں گے، دراں حالیکہ وه اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے، ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ جب کبھی وه بجھنے لگے گی ہم ان پر اسے اور بھڑکا دیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 97) ➊ {وَ مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ …:} نبوت پر ان کے شبہات کا جواب دینے کے بعد اب انھیں وعید سنائی۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان اپنے بل بوتے پر یا اپنی عقل، علم یا کسی اور چیز کی بنیاد پر راہِ حق نہیں پا سکتا اور نہ اس پر ثابت قدم رہ سکتا ہے، بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کی توفیق اور دستگیری ہے جو کسی کو راہ حق دکھاتی ہے اور اگر انسان کی بدبختی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی توفیق انسان کے شامل حال نہ ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے راہِ راست پر نہیں لا سکتی۔ اس سے مقصود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے۔ (رازی) { وَ مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ } میں ہدایت یافتہ کو واحد کے صیغے سے اور {وَ مَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِيَآءَ } میں گمراہ کر دہ لوگوں کو جمع کے صیغے سے بیان فرمایا، اس میں حکمت یہ ہے کہ ہدایت کا راستہ ایک ہے، اس پر چلنے والے ایک ہی جماعت ہیں، جبکہ ضلالت کے بے شمار راستے ہیں اور ان پر چلنے والے گروہ بے شمار ہیں۔ (واللہ اعلم)
➋ { وَ نَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ …:} یعنی منہ کے بل چلیں گے، جیسے دنیا میں پاؤں کے بل چلتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: لوگ اپنے چہروں پر کس طرح اکٹھے کیے جائیں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَلَيْسَ الَّذِيْ أَمْشَاهُ عَلَی الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلٰی أَنْ يُمْشِيَهُ عَلٰی وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟] جس نے انھیں ان کے پاؤں کے بل چلایا ہے وہ انھیں قیامت کے دن ان کے چہروں کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔ [بخاری، التفسیر، سورۃ الفرقان، باب قولہ: «‏‏‏‏الذین یحشرون علٰی وجوہہم إلٰی جہنم» ‏‏‏‏: ۴۷۶۰۔ مسلم: ۲۸۰۶] ایک مطلب یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن انھیں منہ کے بل گھسیٹ کر دوزخ میں ڈالا جائے گا، جیسے فرمایا: «يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ» ‏‏‏‏ [القمر: ۴۸] جس دن وہ آگ میں اپنے چہروں پر گھسیٹے جائیں گے، چکھو آگ کا چھونا۔ دونوں صورتیں بھی مراد ہو سکتی ہیں کہ حشر کے دن وہ منہ کے بل الٹے چلتے ہوئے آئیں گے، پھر فرشتے چہروں کے بل گھسیٹتے ہوئے انھیں جہنم میں پھینک دیں گے۔
➌ { عُمْيًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا:} اندھے، گونگے اور بہرے۔ بعض آیات میں ان کے قیامت کے دن دیکھنے، بولنے اور سننے کا ذکر آیا ہے، تو ایک تطبیق یہ ہے کہ قیامت کے پچاس ہزار سال کے برابر دن کے مختلف اوقات میں ان کی مختلف حالتیں ہوں گی۔ دوسری یہ کہ وہ جمالِ الٰہی کے دیدار اور جنت کی نعمتوں کے دیکھنے سے محروم ہوں گے، کوئی خوش کن خبر نہیں سنیں گے اور نہ کوئی دلیل بیان کرنے کی طاقت ہو گی، ورنہ حواس خمسہ ظاہرہ کے اعتبار سے تو وہ بہت سننے اور دیکھنے والے ہوں گے۔ دیکھیے سورۂ مریم (۳۸) اور سورۂ طور (15،14)۔
➍ {كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا: خَبَتْ } اصل میں {خَبَوَتْ} ہے، {خَبَا يَخْبُوْ} سے واحد مؤنث غائب ماضی معلوم ہے، مصدر{خَبْوًا وَ خُبُوًّا} ہے، آگ کی تیزی کا ہلکا ہونا یا بجھنا، یعنی عذاب کبھی ہلکا نہ ہو گا، جیسے فرمایا: «فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۸۶] سو نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

97۔ 1 میری تبلیغ و دعوت سے کون ایمان لاتا ہے، کون نہیں، یہ بھی اللہ کے اختیار میں ہے، میرا کام صرف تبلیغ ہی ہے۔ 97۔ 2 حدیث میں آتا ہے کہ صحابہ کرام نے تعجب کا اظہار کیا کہ اوندھے منہ کس طرح حشر ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس اللہ نے ان کو پیروں سے چلنے کی قوت عطا کی ہے، وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ انھیں منہ کے بل چلا دے۔ 97۔ 3 یعنی جس طرح وہ دنیا میں حق کے معاملے میں اندھے، بہرے اور گونگے بنے رہے، قیامت والے دن بطور جزا اندھے، بہرے اور گونگے ہوں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

97۔ جسے اللہ ہدایت دے دے وہی ہدایت پا سکتا ہے اور جسے وہ گمراہ کرے تو ایسے لوگوں کے لئے اللہ کے سوا آپ کوئی مددگار نہ پائیں گے اور قیامت کے دن ہم انھیں اوندھے منہ اندھے [115]، گونگے اور بہرے (بنا کر) اٹھائیں گے۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جب بھی اس کی آگ بجھنے لگی گی ہم اسے ان پر اور بھڑکا دیں گے۔
[115] اعمال اور ان کے بدلہ میں مماثلت:۔
انسان کے اعمال اور ان اعمال کی جزاء و سزا میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے اور یہی مماثلت قیامت کے دن اپنا اصل روپ دھار لے گی۔ مثلاً جن لوگوں نے اس دنیا میں سیدھی راہ کے بجائے غلط راستے اختیار کیے اور راست روی کے بجائے الٹی چال چلتے رہے انھیں وہاں بھی الٹی چال چلایا جائے گا۔ اس دنیا میں وہ پاؤں کے بل چلتے تھے قیامت کے دن انھیں چہروں کے بل چلا کر پیش کیا جائے گا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرامؓ میں سے کسی نے پوچھا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیسے ہو گا؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اگر پاؤں کے بل چلا سکتا ہے تو وہ چہروں کے بل بھی چلانے پر قادر ہے“ [بخاری، کتاب الرقاق باب، کیف الحشر]
اسی طرح جن لوگوں نے اس دنیا میں حق بات کو سننا بھی گوارا نہ کیا ہو گا وہ وہاں فی الواقع بہرے بنا دیئے جائیں گے اور جن لوگوں نے زبان سے حق بات کہنے یا اس کی شہادت دینے سے انکار کیا تھا وہ اس کی سزا میں گونگے بنا دیئے جائیں گے اور جن لوگوں نے کائنات میں بکھری ہوئی اللہ کی نشانیوں کو دیکھنے اور ان میں غور کرنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی تھی وہاں انھیں اس جرم کی پاداش میں انھیں اندھا کر دیا جائے گا۔ پھر اس حال میں انھیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا اور انھیں ایسا مسلسل اور دائمی عذاب ہو گا جس میں نہ کمی واقع ہو گی اور نہ کوئی وقفہ پڑے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

میدان حشر کا ایک ہولناک منظر ٭٭
اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ تمام مخلوق میں تصرف صرف اسی کا ہے، اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا، «مَن يَهْدِ اللَّـهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا» ۱؎ [18-الكهف:17]‏‏‏‏ ’ اس کے راہ دکھائے ہوئے کو کوئی بہکا نہیں سکتا، نہ اس کے بہکائے ہوئے کی کوئی راہنمائی کر سکتا ہے ‘۔
اس کا ولی اور مرشد کوئی نہیں بن سکتا۔ ہم انہیں اوندھے منہ میدان قیامت (‏‏‏‏محشر کے مجمع) میں لائیں گے۔ مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا، جس نے پیروں پر چلایا ہے، وہ سر کے بل بھی چلا سکتا ہے۔ } یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4760]‏‏‏‏
مسند میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے بنی غفار قبیلے کے لوگو سچ کہو اور قسمیں نہ کھاؤ، صادق مصدوق پیغمبر نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ { لوگ تین قسم کے بنا کر حشر میں لائے جائیں گے۔ ایک فوج تو کھانے پینے اوڑھنے والی، ایک چلنے اور دوڑنے والی، ایک وہ جنہیں فرشتے اوندھے منہ گھیسٹ کر جہنم کے سامنے جمع کریں گے۔ لوگوں نے کہا دو قسمیں تو سمجھ میں آ گئیں لیکن یہ چلنے اور دوڑنے والے سمجھ میں نہیں آئے۔ آپ نے فرمایا سواریوں پر آفت آ جائے گی یہاں تک کہ ایک انسان اپنا ہرا بھرا باغ دے کر پالان والی اونٹنی خریدنا چاہے گا لیکن نہ مل سکے گی۔ } ۱؎ [مسند احمد:164/5:اسنادہ قوی]‏‏‏‏
یہ اس وقت نابینا ہوں گے، بے زبان ہوں گے، کچھ بھی نہ سن سکیں گے، غرض مختلف حال ہوں گے اور گناہوں کی شامت میں گناہوں کے مطابق گرفتار کئے جائیں گے۔ دنیا میں حق سے اندھے بہرے اور گونگے بنے رہے، آج سخت احتیاج والے دن سچ مچ اندھے بہرے گونگے بنا دئیے گئے۔ ان کا اصلی ٹھکانا، گھوم پھر کر آنے اور رہنے سہنے بسنے ٹھہرنے کی جگہ جہنم قرار دی گئی۔ وہاں کی آگ جہاں مدھم پڑنے کو آئی اور بھڑکا دی گئی سخت تیز کر دی گئی۔
جیسے فرمایا آیت «‏‏‏‏فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [78-النبأ:30]‏‏‏‏ ’ یعنی اب سزا برداشت کرو۔ سوائے عذاب کے کوئی چیز تمہیں زیادہ نہ دی جائے گی۔ ‘