(آیت 96){قُلْكَفٰىبِاللّٰهِشَهِيْدًۢابَيْنِيْ …: ”كَفٰىبِاللّٰهِ“} کی ترکیب اور تفسیر کے لیے دیکھیے بنی اسرائیل (۱۵) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو سارا معاملہ اللہ کے سپرد کرتے ہوئے ان سے بحث اور جھگڑا ترک کرنے کا حکم دیا، یعنی آپ کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے دعوائے نبوت میں جھوٹا ہوتا تو وہ میری سخت گرفت کرتا۔ (دیکھیے حاقہ: ۴۴ تا ۴۶) اور پھر اسے ہمیشہ سے خوب معلوم ہے کہ کون شخص انعام و احسان اور ہدایت پانے کے لائق ہے اور کون عقاب و عذاب اور گمراہی کے۔ اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے اور کفار کے لیے وعید۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
96۔ 1 یعنی میرے ذمے جو تبلیغ و دعوت تھی، وہ میں نے پہنچا دی، اس بارے میرے اور تمہارے درمیان اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے، کیونکہ ہر چیز کا فیصلہ اسی کو کرنا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
96۔ آپ ان سے کہئے کہ: میرے اور تمہارے درمیان بس اللہ کی گواہی کافی [114] ہے۔ وہ یقیناً اپنے بندوں سے با خبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
[114] یعنی وہ خوب دیکھ رہا ہے کہ میں نے تم لوگوں تک اس کا پیغام پہنچا دیا ہے یا نہیں؟ یا منزل من اللہ احکام پر پوری طرح عمل پیرا ہوں یا نہیں اور تم جو اللہ کے پیغام کی مخالفت میں سر توڑ کوششیں کر رہے ہو وہ انھیں بھی خوب دیکھ رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صداقت رسالت پر اللہ کی گواہی ٭٭
اپنی سچائی پر میں اور گواہ کیوں ڈھونڈوں؟ اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے۔ میں اگر اس کی پاک ذات پر تہمت باندھتا ہوں تو وہ خود مجھ سے انتقام لے گا۔ چنانچہ قرآن کی سورۃ الحاقہ میں بیان ہے کہ «وَلَوْتَقَوَّلَعَلَيْنَابَعْضَالْأَقَاوِيلِ * لَأَخَذْنَامِنْهُبِالْيَمِينِ * ثُمَّلَقَطَعْنَامِنْهُالْوَتِينَ»[69-الحاقة:44-46] ’ یعنی اگر یہ پیغمبر زبردستی کوئی بات ہمارے سر چپکا دیتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ تھام کر اس کی گردن اڑا دیتے اور ہمیں اس سے کوئی نہ روک سکتا۔ ‘ پھر فرمایا کہ کسی بندے کا حال اللہ سے مخفی نہیں، وہ انعام و احسان، ہدایت و لطف کے قابل لوگوں کو اور گمراہی اور بدبختی کے قابل لوگوں کو بخوبی جانتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قُ٘لْكَ٘فٰىبِاللّٰهِشَهِیْدًۢابَیْنِیْوَبَیْنَكُمْ١ؕاِنَّهٗكَانَبِعِبَادِهٖخَبِیْرًا﴾”کہہ دیجیے اللہ کافی ہے بطور گواہ میرے اور تمھارے درمیان، بے شک وہ ہے اپنے بندوں سے خبردار، دیکھنے والا۔“ اللہ تعالیٰ کی اپنے رسول کے لیے گواہی یہ ہے کہ اس نے آیات اور معجزات کے ذریعے سے اس کی تائیدکی اور ان لوگوں کے خلاف آپ کو فتح و نصرت سے نوازا جنھوں نے آپ سے عداوت کی۔ اگر آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہوتا تو اللہ تعالیٰ آپ کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر آپ کی رگ جاں کاٹ دیتا۔ اللہ تعالیٰ باخبر اور دیکھنے والا ہے اور بندوں کے احوال میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل كفى بالله شهيداً بيني وبينكم إنَّه كان بعبادِهِ خبيراً بصيراً}: فمن شهادتِهِ لرسولِهِ ما أيَّدَه به من المعجزات، وما أنزل عليه من الآيات، ونصره على مَنْ عاداه وناوأه؛ فلو تقوَّل عليه بعض الأقاويل؛ لأخَذَ منه باليمين، ثم لقطع منه الوتينَ؛ فإنَّه خبيرٌ بصيرٌ، لا تخفى عليه من أحوال العبادِ خافيةٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔