ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 81

وَ قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَ زَہَقَ الۡبَاطِلُ ؕ اِنَّ الۡبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا ﴿۸۱﴾
اور کہہ دے حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے والا تھا۔ En
اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا۔ بےشک باطل نابود ہونے والا ہے
En
اور اعلان کردے کہ حق آچکا اور ناحق نابود ہوگیا۔ یقیناً باطل تھا بھی نابود ہونے واﻻ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 81) ➊ { وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ …:} اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی یہ بشارت سنا دینے کا حکم دیا جو تھوڑے ہی عرصے کے بعد پوری ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فاتحانہ شان کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کے گرد تین سو ساٹھ بت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں ایک لکڑی کے ساتھ کچو کے مارتے جاتے تھے جو آپ کے ہاتھ میں تھی اور یہ کہتے جاتے تھے: «وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا» ‏‏‏‏ حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل ہمیشہ سے مٹنے والا ہے۔ «قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا يُعِيْدُ» ‏‏‏‏ [سبا: ۴۹] حق آ گیا اور باطل نہ پہلی دفعہ کچھ کرتا ہے اور نہ دوبارہ کرتا ہے۔ [بخاری، التفسیر، سورۃ بني إسرائیل، باب: «و قل جاء الحق وزھق الباطل» ‏‏‏‏: ۴۷۲۰]
➋ {اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا:} ہمیشہ سے کا مفہوم { كَانَ } سے ظاہر ہو رہا ہے۔ طنطاوی نے لکھا ہے: {أَيْ كَانَ غَيْرَ مُسْتَقِرٍّ وَلَا ثَابِتٍ فِيْ كُلِّ وَقْتٍ } کہ باطل ہر دور میں یعنی ہمیشہ سے نا پائیدار ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

81۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو وہاں تین سو ساٹھ بت تھے، آپ کے ہاتھ میں چھڑی تھی، آپ چھڑی کی نوک سے ان بتوں کو مارتے جاتے اور (وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ) 17۔ الاسراء:81)۔ اور (قُلْ جَاۗءَ الْحَـقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ) 34۔ سبأء:49) پڑھتے جاتے (صحیح بخاری)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

81۔ اور کہئے کہ: حق آگیا [103] اور باطل بھاگ کھڑا ہوا اور باطل تو ہے ہی بھاگ نکلنے والا
[103] فتح مکہ کی پیشگوئی:۔
یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کفار کے ظلم و ستم سے تنگ آکر بہت سے مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے اور باقی مسلمانوں پر ان کی سختیاں بہت بڑھ گئی تھیں۔ ان حالات میں ایسی پیشین گوئی اور اس قسم کا اعلان قریش مکہ کے لیے ایک ’اضحوکہ‘ پھبتی اور مذاق کا سامان بن گیا تھا۔ مگر اللہ کی مہربانی سے حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ اس واقعہ کے نو سال بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فاتحانہ انداز سے بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی آیت تلاوت فرما رہے تھے مگر اس وقت یہ آیت ایک واضح حقیقت بن کر قریش مکہ کے سامنے آچکی تھی جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔
1۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا اور آپ مکہ میں داخل ہوئے تو اس وقت کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے۔ آپ کے ہاتھ میں چھڑی تھی۔ آپ اس سے ان بتوں کو ٹھونکا دیتے جاتے اور فرماتے جاتے: ﴿وَقُلْ جَاءَ الحَقُّ وَزَهَقَ البَاطِلُ، جَاءَ الحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ البَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ [بخاری۔ کتاب التفسیر]
2۔ سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں تصویریں دیکھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں داخل نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ساری تصویریں مٹا دی گئیں۔ آپ نے ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ کی تصویریں دیکھیں جن کے ہاتھوں میں تیر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! انہوں نے کبھی تیروں سے فال نہیں لی تھی“ [بخاری۔ کتاب الانبیاء۔ باب واتخذ اللہ ابراہیم خلیلاً]
3۔ سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے تو دیکھا وہاں سیدنا ابراہیمؑ اور بی بی مریم علیہا السلام کی تصویریں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریش کے کافروں کو کیا ہو گیا ہے وہ سن تو چکے ہیں کہ جس گھر میں مورتیں ہوں وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ یہ ابراہیمؑ کی تصویر ہے۔ ان کو کیا ہوا بھلا وہ پانسوں سے فال لیا کرتے تھے۔“ [بخاري۔ حواله ايضاً]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حکم ہجرت ٭٭
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف میں تھے پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا اور یہ آیت اتری۔ } ۱؎ [مسند احمد:223/1]‏‏‏‏ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3139،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کفار مکہ نے مشورہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں یا نکال دیں یا قید کر لیں پس اللہ کا یہی ارادہ ہوا کہ اہل مکہ کو ان کی بداعمالیوں کا مزہ چکھا دے۔ اس نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے جانے کا حکم فرمایا۔ یہی اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مدینہ میں داخل ہونا اور مکہ سے نکلنا یہی قول سب سے زیادہ مشہور ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سچائی کے داخلے سے مراد موت ہے اور سچائی سے نکلنے سے مراد موت کے بعد کی زندگی ہے اور اقوال بھی ہیں لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ امام ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں۔
پھر حکم ہوا کہ غلبے اور مدد کی دعا ہم سے کرو۔ اس دعا پر اللہ تعالیٰ نے فارس اور روم کا ملک اور عزت دینے کا وعدہ فرما لیا۔ اتنا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معلوم کر چکے تھے کہ بغیر غلبے کے دین کی اشاعت اور زور ناممکن ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ سے مدد و غلبہ طلب کیا تاکہ کتاب اللہ اور حدود اللہ، فرائض شرع اور قیام دین آپ کر سکیں۔
یہ غلبہ بھی اللہ کی ایک زبردست رحمت ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو ایک دوسرے کو کھا جاتا۔ ہر زور آور کمزور کا شکار کر لیتا۔ «سُلْطَانًا نَّصِيرًا» سے مراد کھلی دلیل بھی ہے لیکن پہلا قول پہلا ہی ہے اس لیے کہ حق کے ساتھ غلبہ اور طاقت بھی ضروری چیز ہے تاکہ مخالفین حق دبے رہیں۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے لوہے کے اتارنے کے احسان کو قرآن میں خاص طور پر ذکر کیا ہے «لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّـهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ» ۱؎ [57-الحديد:25]‏‏‏‏
یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (‏‏‏‏ترازو) نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں۔ اور ہم نے لوہے کو اتارا جس میں سخت ہیبت وقوت ہے اور لوگوں کے لیے اور بھی (‏‏‏‏بہت سے) فائدے ہیں اور اس لیے بھی کہ اللہ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد بے دیکھے کون کرتا ہے۔ ‘
ایک حدیث میں ہے کہ سلطنت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بہت سی برائیوں کو روک دیتا ہے جو صرف قرآن سے نہیں رک سکتی تھیں۔ یہ بالکل واقعہ ہے بہت سے لوگ ہیں کہ قرآن کی نصیحتیں اس کے وعدے وعید ان کو بدکاریوں سے نہیں ہٹا سکتے۔ لیکن اسلامی طاقت سے مرعوب ہو کر وہ برائیوں سے رک جاتے ہیں۔
پھر کافروں کی گوشمالی کی جاتی ہے کہ اللہ کی جانب سے حق آچکا۔ سچائی اتر آئی، جس میں کوئی شک شبہ نہیں، قرآن ایمان نفع دینے والا سچا علم منجانب اللہ آگیا، کفر برباد و غارت اور بے نام و نشان ہو گیا، وہ حق کے مقابلہ میں بے دست و پا ثابت ہوا، حق نے باطل کا دماغ پاش پاش کر دیا اور وہ نابود اور بے وجود ہوگیا۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں آئے بیت اللہ کے آس پاس تین سو ساٹھ بت تھے، آپ اپنے ہاتھ کی لکڑی سے انہیں کچوکے دے رہے تھے اور یہی آیت «وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» [17-الإسراء:81]‏‏‏‏ پڑھتے تھے اور فرماتے جاتے تھے حق آ چکا باطل نہ دوبارہ آ سکتا ہے نہ لوٹ سکتا ہے۔ } [صحیح بخاری:2478]‏‏‏‏
ابو یعلیٰ میں ہے کہ { ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکے میں آئے، بیت اللہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت تھے، جن کی پوجا پاٹ کی جاتی تھی، آپ نے فوراً حکم دیا کہ ان سب کو اوندھے منہ گرا دو پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ } ۱؎ [ابن ابی شیبة فی المصنف:534/8:حسن]‏‏‏‏