وَ مِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدۡ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ٭ۖ عَسٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحۡمُوۡدًا ﴿۷۹﴾
اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کے ساتھ بیدار رہ، اس حال میں کہ تیرے لیے زائد ہے۔ قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر کھڑا کرے۔
En
اور بعض حصہ شب میں بیدار ہوا کرو (اور تہجد کی نماز پڑھا کرو) ۔ (یہ شب خیزی) تمہاری لئے (سبب) زیادت ہے (ثواب اور نماز تہجد تم کو نفل) ہے قریب ہے کہ خدا تم کو مقام محمود میں داخل کرے
En
رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کریں یہ زیادتی آپ کے لئے ہے عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 79) ➊ { وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ …: ” مَنْ “} بعض کے معنی میں ہے۔ {”هُجُوْدٌ“} نیند کو کہتے ہیں۔ تہجد ترک ہجود، یعنی نیند ترک کرنے کا نام ہے، خواہ رات سونے کے بعد اٹھ کر ہو یا عشاء کے فوراً بعد نیند کے بجائے قیام کیا جائے۔ تہجد کے لیے سو کر اٹھنا ضروری نہیں۔ سورۂ مزمل میں فرمایا، رات کاکچھ حصہ قرآن کی تلاوت پر مشتمل نماز کے ساتھ نیند کو ترک کیجیے۔ تفصیل سورۂ مزمل کی ابتدائی اور آخری آیات میں ملاحظہ فرمائیں۔
➋ {نَافِلَةً لَّكَ: ” نَافِلَةً “} جو فرض سے زائد ہو، جمع نوافل۔ بعض لوگ اس کا معنی یہ کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تہجد ایک زائد فرض ہے، باقی عوام کے لیے نفل ہے۔ مگر {” اَقِمِ الصَّلٰوةَ “} سے لے کر آیات کے آخر تک کے اول مخاطب اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر ان تمام احکام کا مخاطب امت کا ہر فرد بھی ہے۔ اس لیے تحقیق یہی ہے کہ تہجد نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی فرض نہیں تھی۔
➌ { عَسٰۤى اَنْ يَّبْعَثَكَ …: ” عَسٰۤى “} کا معنی ”امید ہے“، ”قریب ہے“ ہوتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ یہ لفظ فرمائے تو وہ کام واقع ہونا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ{ ” عَسٰۤى “ } طمع اور امید دلانے کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے، جو ملک الملوک ہے، عار ہے کہ امید دلا کر اسے پورا نہ کرے۔ {” مَقَامًا مَّحْمُوْدًا “} کے لفظی معنی ہیں ”ایسا مقام جس کی تعریف کی جائے“ اور حقیقت یہ ہے کہ ہر مخلص تہجد پڑھنے والے کو اس کی صلاحیت کے مطابق دنیا اور آخرت میں یہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ دنیا میں لوگ اس سے محبت رکھتے اور تعریف کرتے ہیں اور آخرت میں بھی اسے یہ نعمت اس کی حیثیت کے مطابق حاصل ہو گی۔ دیکھیے سورۂ مریم (۹۶) اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ نعمت عطا فرمائے۔ سب سے اونچا ”مقام محمود“ جو صرف ایک ہی شخص کو ملے گا اور جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے، وہ مقام شفاعت ہے، جس پرسب پہلے اور پچھلے آپ کی تعریف کریں گے۔ ایک شفاعت میدان محشر کی تنگی سے خلاصی دلا کر حساب کتاب شروع کرنے کی عام شفاعت ہے کہ اس پر سب پہلے اور پچھلے آپ کی تعریف کریں گے اور ایک اپنی امت کے لیے خاص شفاعت ہے جس پر پوری امت آپ کی احسان مند ہو گی اور تعریف کرے گی۔ آپ کے نام ”احمد“ اور ”محمد“ کی شان اس وقت پوری طرح ظاہر ہو گی۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قیامت کے دن لوگ گروہوں کی شکل میں ہوں گے، ہر امت اپنے نبی کا پیچھا کرے گی کہ اے فلاں! آپ سفارش کیجیے، یہاں تک کہ آخر میں شفاعت (کی درخواست) نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک آ پہنچے گی تو یہ وہ دن ہے جب اللہ آپ کو مقام محمود پر کھڑا کرے گا۔ [بخاری، التفسیر، سورۃ بني إسرائیل، باب قولہ: «عسی أن یبعثک ربک مقامًا محمودا» : ۴۷۱۸]
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اذان سنے، پھر یہ دعا پڑھے: [اَللَّهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا الَّذِيْ وَعَدْتَّهُ] تو اسے قیامت کے دن میری شفاعت نصیب ہو گی۔“ [بخاری، الأذان، باب الدعاء عند النداء: ۶۱۴] شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”نیند سے جاگ کر قرآن پڑھا کر، یہ حکم سب سے زیادہ تجھ کو دیا ہے کہ تجھ کو بڑا مرتبہ دینا ہے، وہ تعریف کا مقام ہے، شفاعت (کبریٰ) کا کہ جب کوئی پیغمبر نہ بول سکے گا تب آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ تعالیٰ سے عرض کر کے خلق کو چھڑوائیں گے تکلیف سے۔“ (موضح)
➍ بعض لوگوں نے مقامِ محمود کی تفسیر یہ کی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرش پر اپنے ساتھ بٹھائے گا۔ طبری نے مجاہد کا یہ قول نقل کیا ہے۔ بعض روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی نقل کی جاتی ہیں۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب {”اَلْعُلُوُّ لِلّٰهِ الْعَظِيْمِ“} میں محمد بن مصعب کے ترجمہ میں فرمایا: ”رہا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عرش پر بیٹھنے کا معاملہ تو اس کے متعلق کوئی نص (آیت یا حدیث) ثابت نہیں، بلکہ اس باب میں ایک ضعیف و کمزور روایت ہے اور مجاہد نے آیت کی جو تفسیر کی ہے بعض اہل کلام نے اس کا انکار کیا ہے۔“ (ملخص از تفسیر قاسمی) ظاہر ہے کہ تابعی کے قول سے دین خصوصاً عقیدہ سے متعلق کوئی بات ثابت نہیں ہو سکتی۔ مزید دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۴۲) امام ذہبی رحمہ اللہ نے کیا خوب فرمایا: ”بدعت اور غلو کا نتیجہ دیکھیے کہ ایک طرف ایک منکر اثر کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عرش پر بٹھایا جا رہا ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے عرش اور بلندی پر ہونے کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ کے صریح فرمان: «اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى» کو رد کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔“ (ملخص از قاسمی)
➋ {نَافِلَةً لَّكَ: ” نَافِلَةً “} جو فرض سے زائد ہو، جمع نوافل۔ بعض لوگ اس کا معنی یہ کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تہجد ایک زائد فرض ہے، باقی عوام کے لیے نفل ہے۔ مگر {” اَقِمِ الصَّلٰوةَ “} سے لے کر آیات کے آخر تک کے اول مخاطب اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر ان تمام احکام کا مخاطب امت کا ہر فرد بھی ہے۔ اس لیے تحقیق یہی ہے کہ تہجد نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی فرض نہیں تھی۔
➌ { عَسٰۤى اَنْ يَّبْعَثَكَ …: ” عَسٰۤى “} کا معنی ”امید ہے“، ”قریب ہے“ ہوتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ یہ لفظ فرمائے تو وہ کام واقع ہونا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ{ ” عَسٰۤى “ } طمع اور امید دلانے کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے، جو ملک الملوک ہے، عار ہے کہ امید دلا کر اسے پورا نہ کرے۔ {” مَقَامًا مَّحْمُوْدًا “} کے لفظی معنی ہیں ”ایسا مقام جس کی تعریف کی جائے“ اور حقیقت یہ ہے کہ ہر مخلص تہجد پڑھنے والے کو اس کی صلاحیت کے مطابق دنیا اور آخرت میں یہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ دنیا میں لوگ اس سے محبت رکھتے اور تعریف کرتے ہیں اور آخرت میں بھی اسے یہ نعمت اس کی حیثیت کے مطابق حاصل ہو گی۔ دیکھیے سورۂ مریم (۹۶) اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ نعمت عطا فرمائے۔ سب سے اونچا ”مقام محمود“ جو صرف ایک ہی شخص کو ملے گا اور جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے، وہ مقام شفاعت ہے، جس پرسب پہلے اور پچھلے آپ کی تعریف کریں گے۔ ایک شفاعت میدان محشر کی تنگی سے خلاصی دلا کر حساب کتاب شروع کرنے کی عام شفاعت ہے کہ اس پر سب پہلے اور پچھلے آپ کی تعریف کریں گے اور ایک اپنی امت کے لیے خاص شفاعت ہے جس پر پوری امت آپ کی احسان مند ہو گی اور تعریف کرے گی۔ آپ کے نام ”احمد“ اور ”محمد“ کی شان اس وقت پوری طرح ظاہر ہو گی۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قیامت کے دن لوگ گروہوں کی شکل میں ہوں گے، ہر امت اپنے نبی کا پیچھا کرے گی کہ اے فلاں! آپ سفارش کیجیے، یہاں تک کہ آخر میں شفاعت (کی درخواست) نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک آ پہنچے گی تو یہ وہ دن ہے جب اللہ آپ کو مقام محمود پر کھڑا کرے گا۔ [بخاری، التفسیر، سورۃ بني إسرائیل، باب قولہ: «عسی أن یبعثک ربک مقامًا محمودا» : ۴۷۱۸]
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اذان سنے، پھر یہ دعا پڑھے: [اَللَّهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا الَّذِيْ وَعَدْتَّهُ] تو اسے قیامت کے دن میری شفاعت نصیب ہو گی۔“ [بخاری، الأذان، باب الدعاء عند النداء: ۶۱۴] شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”نیند سے جاگ کر قرآن پڑھا کر، یہ حکم سب سے زیادہ تجھ کو دیا ہے کہ تجھ کو بڑا مرتبہ دینا ہے، وہ تعریف کا مقام ہے، شفاعت (کبریٰ) کا کہ جب کوئی پیغمبر نہ بول سکے گا تب آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ تعالیٰ سے عرض کر کے خلق کو چھڑوائیں گے تکلیف سے۔“ (موضح)
➍ بعض لوگوں نے مقامِ محمود کی تفسیر یہ کی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرش پر اپنے ساتھ بٹھائے گا۔ طبری نے مجاہد کا یہ قول نقل کیا ہے۔ بعض روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی نقل کی جاتی ہیں۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب {”اَلْعُلُوُّ لِلّٰهِ الْعَظِيْمِ“} میں محمد بن مصعب کے ترجمہ میں فرمایا: ”رہا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عرش پر بیٹھنے کا معاملہ تو اس کے متعلق کوئی نص (آیت یا حدیث) ثابت نہیں، بلکہ اس باب میں ایک ضعیف و کمزور روایت ہے اور مجاہد نے آیت کی جو تفسیر کی ہے بعض اہل کلام نے اس کا انکار کیا ہے۔“ (ملخص از تفسیر قاسمی) ظاہر ہے کہ تابعی کے قول سے دین خصوصاً عقیدہ سے متعلق کوئی بات ثابت نہیں ہو سکتی۔ مزید دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۴۲) امام ذہبی رحمہ اللہ نے کیا خوب فرمایا: ”بدعت اور غلو کا نتیجہ دیکھیے کہ ایک طرف ایک منکر اثر کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عرش پر بٹھایا جا رہا ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے عرش اور بلندی پر ہونے کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ کے صریح فرمان: «اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى» کو رد کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔“ (ملخص از قاسمی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
79۔ 1 بعض کہتے ہیں تہجد اضداد میں سے ہے جس کے معنی سونے کے بھی ہیں اور نیند سے بیدار ہونے کے بھی۔ اور یہاں یہی دوسرے معنی ہیں کہ رات کو سو کر اٹھیں اور نوافل پڑھیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ہجود کے اصل معنی تو رات کو سونے کے ہی ہیں، لیکن باب تفعل میں جانے سے اس میں پرہیز کے معنی پیدا ہوگئے جیسے تأثم کے معنی ہیں اس نے گناہ سے اجتناب کیا، یا بچا، اس طرح تہجد کے معنی ہونگے، سونے سے بچنا جو رات کو سونے سے بچا اور قیام کیا۔ بہرحال تہجد کا مفہوم رات کے پچھلے پہر اٹھ کر نوافل پڑھنا۔ ساری رات قیام اللیل کرنا خلاف سنت ہے۔ نبی رات کے پہلے حصے میں سوتے اور پچھلے حصے میں اٹھ کر تہجد پڑھتے۔ یہی طریقہ سنت ہے۔ 79۔ 2 بعض نے اس کے معنی کئے ہیں یہ ایک زائد فرض ہے جو آپ کے لئے خاص ہے، اس طرح وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تہجد بھی اسی طرح فرض تھی، جس طرح پانچ نمازیں فرض تھیں۔ البتہ امت کے لئے تہجد کی نماز فرض نہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ تہجد آپ پر فرض تھی نہ آپ کی امت پر۔ یہ ایک زائد عبادت ہے جس کی فضیلت یقینا بہت ہے اور اس وقت اللہ اپنی عبادت سے بڑا خوش ہوتا ہے۔ تاہم یہ نماز فرض و واجب نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تھی اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر ہی فرض ہے۔ 79۔ 3 یہ وہ مقام ہے جو قیامت والے دن اللہ تعالیٰ نبی کو عطا فرمائے گا اور اس مقام پر ہی آپ وہ شفاعت عظمٰی فرمائیں گے، جس کے بعد لوگوں کا حساب کتاب ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
79۔ اور رات کو آپ تہجد (کی نماز) ادا [98] کیجئے یہ آپ کے لئے زائد [99] (نماز) ہے۔ عین ممکن ہے کہ آپ کا پروردگار آپ کو مقام محمود [100] پر فائز کر دے۔
[98] نماز تہجد کی رکعات:۔
تہجد کے لغوی معنی تو صرف رات کو ایک دفعہ سونے کے بعد رات کے ہی کسی حصہ میں بیدار ہونا ہے اور اس سے شرعاً وہ نماز مراد ہے جو رات کو سونے کے بعد طلوع فجر سے پہلے پہلے رات کے کسی حصہ میں نصف شب کے بعد ادا کی جائے۔ اس نماز کی تعداد رکعات اور وقت کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ ایک رات میں اپنی خالہ ام المومنین میمونہ (بنت حارث) کے ہاں سویا میں تو بچھونے کی چوڑان میں لیٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی لمبے رخ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آرام فرمایا۔ اور کم و بیش آدھی رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے۔ بیٹھ کر اپنی آنکھیں ملنے لگے۔ پھر اچھی طرح وضو کر کے نماز پڑھنے لگے۔ میں نے بھی اٹھ کر وضو کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب ساتھ ہی کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور دایاں کان پکڑ کر مجھے اپنے (پیچھے سے لا کر) دائیں طرف کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں پھر دو، پھر دو، پھر دو، پھر دو اور پھر دو (کل بارہ رکعات) پھر وتر پڑھا پھر لیٹ رہے تا آنکہ مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہلکی پھلکی رکعتیں پڑھیں۔ پھر باہر نکلے اور صبح کی نماز پڑھائی۔ [بخاری، کتاب الوضوء باب قراءۃ القرآن نیز کتاب العلم۔ باب السمر بالعلم]
2۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات (تہجد) کی نماز کے متعلق سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو، دو رکعت کر کے پڑھو۔ پھر جب کسی کو صبح ہو جانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ لے وہ ساری نماز کو طاق بنا دے گی عبد اللہ بن عمرؓ کہا کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ رات کی نماز کے اخیر میں وتر پڑھا کرو۔ [بخاری، کتاب الصلوٰۃ۔ باب الحلق والجلوس فی المسجد]
[99] یعنی نماز تہجد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تا زیست فرض رہی۔ واقعہ معراج اور پانچ نمازوں کی فرضیت سے پہلے نماز تہجد مسلمانوں پر فرض تھی جیسا کہ سورۃ مزمل کے پہلے رکوع میں اس کی وضاحت ہے۔ پھر جب پانچ نمازیں فرض ہو گئیں تو عام مسلمانوں پر نماز تہجد فرض نہ رہی جیسا کہ سورۃ مزمل کے دوسرے رکوع میں: ﴿فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ﴾ سے واضح ہوتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ نماز اسی آیت کی رو سے فرض ہوئی۔ جب صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں سورۃ فتح نازل ہوئی اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے یہ خوشخبری دی کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب اگلی پچھلی لغزشیں معاف فرما دی ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں پہلے سے بھی زیادہ قیام فرمانے لگے۔ چنانچہ بروایت بخاری نماز تہجد میں لمبے قیام کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں متورم ہو جاتے تھے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب اگلی پچھلی لغزشیں معاف فرما دیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿اَفَلاَ اَكُوْنَ عَبْدًاشَكُوْرًا﴾ یعنی کیا پھر میں اللہ کے اس احسان اور فضل کے عوض اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں“ [بخاری، کتاب التہجد۔ باب قیام النبی اللیل حتی ترم قدماہ]
امت کے لیے اگرچہ یہ نماز نفل ہے اور امت پر مشقت کی وجہ سے اس کی فرضیت ساقط کر دی گئی ہے۔ تاہم اس نماز کی بہت فضیلت آئی ہے اور اس کی بہت ترغیب دی گئی ہے۔ گویا ہماری مروجہ شرعی اصطلاح میں سنت مؤکدہ ہے۔
1۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ ایک رات میں اپنی خالہ ام المومنین میمونہ (بنت حارث) کے ہاں سویا میں تو بچھونے کی چوڑان میں لیٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی لمبے رخ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آرام فرمایا۔ اور کم و بیش آدھی رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے۔ بیٹھ کر اپنی آنکھیں ملنے لگے۔ پھر اچھی طرح وضو کر کے نماز پڑھنے لگے۔ میں نے بھی اٹھ کر وضو کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب ساتھ ہی کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور دایاں کان پکڑ کر مجھے اپنے (پیچھے سے لا کر) دائیں طرف کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں پھر دو، پھر دو، پھر دو، پھر دو اور پھر دو (کل بارہ رکعات) پھر وتر پڑھا پھر لیٹ رہے تا آنکہ مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہلکی پھلکی رکعتیں پڑھیں۔ پھر باہر نکلے اور صبح کی نماز پڑھائی۔ [بخاری، کتاب الوضوء باب قراءۃ القرآن نیز کتاب العلم۔ باب السمر بالعلم]
2۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات (تہجد) کی نماز کے متعلق سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو، دو رکعت کر کے پڑھو۔ پھر جب کسی کو صبح ہو جانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ لے وہ ساری نماز کو طاق بنا دے گی عبد اللہ بن عمرؓ کہا کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ رات کی نماز کے اخیر میں وتر پڑھا کرو۔ [بخاری، کتاب الصلوٰۃ۔ باب الحلق والجلوس فی المسجد]
[99] یعنی نماز تہجد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تا زیست فرض رہی۔ واقعہ معراج اور پانچ نمازوں کی فرضیت سے پہلے نماز تہجد مسلمانوں پر فرض تھی جیسا کہ سورۃ مزمل کے پہلے رکوع میں اس کی وضاحت ہے۔ پھر جب پانچ نمازیں فرض ہو گئیں تو عام مسلمانوں پر نماز تہجد فرض نہ رہی جیسا کہ سورۃ مزمل کے دوسرے رکوع میں: ﴿فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ﴾ سے واضح ہوتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ نماز اسی آیت کی رو سے فرض ہوئی۔ جب صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں سورۃ فتح نازل ہوئی اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے یہ خوشخبری دی کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب اگلی پچھلی لغزشیں معاف فرما دی ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں پہلے سے بھی زیادہ قیام فرمانے لگے۔ چنانچہ بروایت بخاری نماز تہجد میں لمبے قیام کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں متورم ہو جاتے تھے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب اگلی پچھلی لغزشیں معاف فرما دیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿اَفَلاَ اَكُوْنَ عَبْدًاشَكُوْرًا﴾ یعنی کیا پھر میں اللہ کے اس احسان اور فضل کے عوض اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں“ [بخاری، کتاب التہجد۔ باب قیام النبی اللیل حتی ترم قدماہ]
امت کے لیے اگرچہ یہ نماز نفل ہے اور امت پر مشقت کی وجہ سے اس کی فرضیت ساقط کر دی گئی ہے۔ تاہم اس نماز کی بہت فضیلت آئی ہے اور اس کی بہت ترغیب دی گئی ہے۔ گویا ہماری مروجہ شرعی اصطلاح میں سنت مؤکدہ ہے۔
نماز تراویح یا قیام اللیل:۔
واضح رہے کہ نماز تہجد ہی کا دوسرا نام قیام اللیل ہے جیسا کہ بخاری کے عنوان باب سے بھی معلوم ہوتا ہے۔ اور ماہ رمضان میں قیام اللیل کو نماز تراویح کا نام دیا گیا ہے جو ماہ رمضان میں عموماً نماز عشاء کے بعد متصل ہی با جماعت نماز ادا کر لی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان میں یہ نماز تہجد (یا قیام اللیل یا تراویح) صرف دو دن با جماعت پڑھائی تھی۔ پھر تیسرے یا چوتھے دن پھر لوگ نماز کے لیے جمع ہوئے تو آپ جماعت کے لیے نکلے ہی نہیں اور صبح کی نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے جماعت کے لیے نہ آنے کی یہ وجہ بیان فرمائی کہ میں اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور یہ واقعہ رمضان میں ہوا۔ [بخاری، کتاب التہجد باب تحریض النبی علی قیام اللیل، نیز کتاب الصوم باب فضل من قام رمضان]
اور یہ نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ گیارہ رکعت ہی ادا کی۔ آٹھ رکعت تراویح اور تین رکعت وتر جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ رمضان ہو یا غیر رمضان آپ صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعت سے زیادہ کبھی نہیں پڑھتے تھے۔ پہلے چار رکعت پڑھتے اور ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا کہنا۔ پھر چار رکعت پڑھتے ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا کہنا۔ پھر تین رکعت پڑھتے۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہؓ! آنکھیں (ظاہر میں) سوتی ہیں مگر دل نہیں سوتا“۔ [بخاری، کتاب التہجد، باب قیام النبی باللیل فی رمضان وغیرہ]
اب با جماعت نماز تراویح کے متعلق درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے: عبد الرحمن بن عبد قاری کہتے ہیں کہ رمضان کی ایک رات میں سیدنا عمرؓ کے ساتھ (ان کے دور خلافت میں) مسجد نبوی میں گیا۔ ہم نے دیکھا کہ لوگ مختلف ٹولیوں میں نماز تراویح ادا کر رہے ہیں۔ کوئی تو اکیلا ہی پڑھ رہا ہے۔ اور کچھ ٹولیاں ایک امام کے پیچھے نماز ادا کر رہی ہیں۔ سیدنا عمرؓ کہنے لگے کہ اگر میں ان سب کو ایک امام کے پیچھے اکٹھا کر دوں تو یہ بہتر ہو گا۔ یہ ارادہ کرنے کے بعد آپ نے سیدنا ابی بن کعب کو سب لوگوں کا امام بنا دیا۔ پھر اس کے بعد کسی دوسری رات میں سیدنا عمرؓ کے ہمراہ مسجد میں گیا تو دیکھا کہ سب لوگ اپنے قاری (ابی بن کعبؓ) کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے کہا نعم البدعۃ ھذہ یعنی یہ بدعت تو اچھی ہے نیز لوگوں سے کہا کہ رات کا وہ حصہ جس میں تم سوتے رہتے ہو اس حصے سے افضل ہے جس میں تم نماز پڑھتے ہو اور لوگ شروع رات میں تراویح پڑھ لیتے۔ (قیام اللیل کر لیتے) [بخاری، کتاب الصوم، باب فضل من قام رمضان]
اور یہ نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ گیارہ رکعت ہی ادا کی۔ آٹھ رکعت تراویح اور تین رکعت وتر جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ رمضان ہو یا غیر رمضان آپ صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعت سے زیادہ کبھی نہیں پڑھتے تھے۔ پہلے چار رکعت پڑھتے اور ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا کہنا۔ پھر چار رکعت پڑھتے ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا کہنا۔ پھر تین رکعت پڑھتے۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہؓ! آنکھیں (ظاہر میں) سوتی ہیں مگر دل نہیں سوتا“۔ [بخاری، کتاب التہجد، باب قیام النبی باللیل فی رمضان وغیرہ]
اب با جماعت نماز تراویح کے متعلق درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے: عبد الرحمن بن عبد قاری کہتے ہیں کہ رمضان کی ایک رات میں سیدنا عمرؓ کے ساتھ (ان کے دور خلافت میں) مسجد نبوی میں گیا۔ ہم نے دیکھا کہ لوگ مختلف ٹولیوں میں نماز تراویح ادا کر رہے ہیں۔ کوئی تو اکیلا ہی پڑھ رہا ہے۔ اور کچھ ٹولیاں ایک امام کے پیچھے نماز ادا کر رہی ہیں۔ سیدنا عمرؓ کہنے لگے کہ اگر میں ان سب کو ایک امام کے پیچھے اکٹھا کر دوں تو یہ بہتر ہو گا۔ یہ ارادہ کرنے کے بعد آپ نے سیدنا ابی بن کعب کو سب لوگوں کا امام بنا دیا۔ پھر اس کے بعد کسی دوسری رات میں سیدنا عمرؓ کے ہمراہ مسجد میں گیا تو دیکھا کہ سب لوگ اپنے قاری (ابی بن کعبؓ) کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے کہا نعم البدعۃ ھذہ یعنی یہ بدعت تو اچھی ہے نیز لوگوں سے کہا کہ رات کا وہ حصہ جس میں تم سوتے رہتے ہو اس حصے سے افضل ہے جس میں تم نماز پڑھتے ہو اور لوگ شروع رات میں تراویح پڑھ لیتے۔ (قیام اللیل کر لیتے) [بخاری، کتاب الصوم، باب فضل من قام رمضان]
سیدنا عمرؓ اور با جماعت نماز تراویح:۔
اس حدیث سے درج ذیل امور کا پتہ چلتا ہے:
1۔ سیدنا عمرؓ نے جب تراویح کی نماز با جماعت کا حکم دیا تو نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس میں شامل ہوئے نہ آپ کے ساتھی عبد الرحمن بن عبد قاری۔ اسی طرح جب کسی دوسری رات معائنہ کیا تو جماعت دیکھ کر بھی نہ آپ خود اس میں شامل ہوئے اور نہ آپ کے ساتھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس جماعت کو نہ ضروری سمجھتے تھے اور نہ بہتر ورنہ آپ خود اس میں شامل ہو جاتے۔
2۔ سیدنا عمرؓ نے یہ وضاحت بھی فرما دی کہ قیام اللیل یا نماز تراویح کے لیے رات کا پہلا حصہ افضل نہیں جس میں یہ لوگ با جماعت نماز پڑھ رہے تھے بلکہ رات کا آخری حصہ افضل ہے اور سیدنا عمرؓ خود رات کے آخری حصہ میں ہی اکیلے نماز ادا کرتے تھے۔
3۔ آپؓ نے جو یہ فرمایا کہ ”یہ اچھی بدعت ہے“ تو اس سے آپ کی مراد صرف موجودہ شکل تھی۔ یعنی متفرق طور پر پڑھنے سے اکٹھے نماز پڑھنا بہتر ہے۔ ورنہ یہ شرعی اور اصطلاحی معنوں میں بدعت نہیں تھی۔ (جو بہرصورت گمراہی ہوتی ہے) کیونکہ قیام اللیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی کیا اور صحابہ کرامؓ نے بھی۔ علاوہ ازیں کم از کم تین دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت بھی کرائی تھی گویا اس کی دو بنیادیں سنت نبوی سے ثابت تھیں۔ لہٰذا اسے معروف معنوں میں بدعت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور موطا امام مالک کی روایت کے مطابق آپ نے جب نماز تراویح کی جماعت کا حکم دیا تو گیارہ رکعت (وتر سمیت) کا ہی حکم دیا تھا۔ ہمارے ہاں عشاء کے بعد نماز تراویح با جماعت رائج ہے۔ اس میں دو مصلحتیں ضرور ہیں ایک تو حفاظ کرام کو اس بہانے دہرائی کا موقع مل جاتا ہے۔ دوسرے لوگوں کی سہولت بھی اسی وقت میں ہے ورنہ افضل وقت وہی ہے جس کی سیدنا عمرؓ نے وضاحت کر دی ہے۔
1۔ سیدنا عمرؓ نے جب تراویح کی نماز با جماعت کا حکم دیا تو نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس میں شامل ہوئے نہ آپ کے ساتھی عبد الرحمن بن عبد قاری۔ اسی طرح جب کسی دوسری رات معائنہ کیا تو جماعت دیکھ کر بھی نہ آپ خود اس میں شامل ہوئے اور نہ آپ کے ساتھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس جماعت کو نہ ضروری سمجھتے تھے اور نہ بہتر ورنہ آپ خود اس میں شامل ہو جاتے۔
2۔ سیدنا عمرؓ نے یہ وضاحت بھی فرما دی کہ قیام اللیل یا نماز تراویح کے لیے رات کا پہلا حصہ افضل نہیں جس میں یہ لوگ با جماعت نماز پڑھ رہے تھے بلکہ رات کا آخری حصہ افضل ہے اور سیدنا عمرؓ خود رات کے آخری حصہ میں ہی اکیلے نماز ادا کرتے تھے۔
3۔ آپؓ نے جو یہ فرمایا کہ ”یہ اچھی بدعت ہے“ تو اس سے آپ کی مراد صرف موجودہ شکل تھی۔ یعنی متفرق طور پر پڑھنے سے اکٹھے نماز پڑھنا بہتر ہے۔ ورنہ یہ شرعی اور اصطلاحی معنوں میں بدعت نہیں تھی۔ (جو بہرصورت گمراہی ہوتی ہے) کیونکہ قیام اللیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی کیا اور صحابہ کرامؓ نے بھی۔ علاوہ ازیں کم از کم تین دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت بھی کرائی تھی گویا اس کی دو بنیادیں سنت نبوی سے ثابت تھیں۔ لہٰذا اسے معروف معنوں میں بدعت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور موطا امام مالک کی روایت کے مطابق آپ نے جب نماز تراویح کی جماعت کا حکم دیا تو گیارہ رکعت (وتر سمیت) کا ہی حکم دیا تھا۔ ہمارے ہاں عشاء کے بعد نماز تراویح با جماعت رائج ہے۔ اس میں دو مصلحتیں ضرور ہیں ایک تو حفاظ کرام کو اس بہانے دہرائی کا موقع مل جاتا ہے۔ دوسرے لوگوں کی سہولت بھی اسی وقت میں ہے ورنہ افضل وقت وہی ہے جس کی سیدنا عمرؓ نے وضاحت کر دی ہے۔
[100] مقام محمود کی مختلف توجیہات:۔
مقام محمود سے مراد ایسا مرتبہ ہے کہ سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمد و ثنا کرنے لگیں۔ اور اس کی کئی توجیہات ہیں مثلاً ایک یہ کہ ایسا مقام قدر و منزلت اور حمد و ستائش آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری زندگی میں عطا فرما دیا تھا، دوسری یہ کہ جنت میں ایک بلند مقام ہے جس کا نام ہی مقام محمود ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا جائے گا اور تیسری یہ کہ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کو دیکھ کر سب لوگ گھبراہٹ میں ہوں گے وہ چاہیں گے کہ اللہ کے حضور ان کی کوئی سفارش کرے وہ سیدنا آدمؑ اور پھر ان کے بعد باری باری سب انبیاء سے سفارش کی التجا کریں گے مگر ہر نبی اپنی کوئی نہ کوئی تقصیر یاد کر کے معذرت کر دے گا۔ بالآخر سب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے تو آپ لوگوں کی یہ التجا قبول کر کے اللہ کے حضور ان کی سفارش کریں گے۔۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 255 کے حواشی) اس توجیہ کے لحاظ سے مقام محمود سے مراد مقام شفاعت ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی یہی وضاحت فرمائی ہے۔ چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقام محمود کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اس سے مراد مقام شفاعت ہے“ [ترمذي، ابواب التفسير]
اس وقت سب لوگوں کی زبان پر آپ کی حمد و ستائش جاری ہو جائے گی۔ نیز ہمیں اذان کے بعد جو دعا سکھائی گئی ہے اس میں ہر شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مقام محمود پر کھڑا ہونے کی دعا کرتا ہے جس میں ضمناً یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ کوئی بلند مرتبہ بزرگ اپنے سے چھوٹے یا کم تر درجہ کے آدمی کو اپنے حق میں دعا کے لیے کہہ سکتا ہے اور چھوٹے یا کم تر درجہ کے آدمی کی دعا اپنے سے بلند مرتبہ بزرگ کے حق میں قبول ہو سکتی ہے۔
اس وقت سب لوگوں کی زبان پر آپ کی حمد و ستائش جاری ہو جائے گی۔ نیز ہمیں اذان کے بعد جو دعا سکھائی گئی ہے اس میں ہر شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مقام محمود پر کھڑا ہونے کی دعا کرتا ہے جس میں ضمناً یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ کوئی بلند مرتبہ بزرگ اپنے سے چھوٹے یا کم تر درجہ کے آدمی کو اپنے حق میں دعا کے لیے کہہ سکتا ہے اور چھوٹے یا کم تر درجہ کے آدمی کی دعا اپنے سے بلند مرتبہ بزرگ کے حق میں قبول ہو سکتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مقام محمود کا تعارف ٭٭
یہ مقام محمود ہے جس کا ذکر اللہ عز و جل نے اس آیت میں کیا ہے۔ پس یہ مقام مقام شفاعت ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں قیامت کے دن سب سے پہلے زمین سے آپ باہر آئیں گے۔ اور سب سے پہلے شفاعت آپ ہی کریں گے۔ اہل علم کہتے ہیں کہ یہی مقام محمود ہے جس کا وعدہ اللہ کریم نے اپنے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے۔ بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سی بزرگیاں ایسی ملیں گی جن میں کوئی آپ کی برابری کا نہیں۔
سب سے پہلے آپ ہی کی قبر کی زمین شق ہو گی اور آپ سواری پر سوار محشر کی طرف جائیں گے۔ آپ کا ایک جھنڈا ہو گا کہ آدم علیہ السلام سے لے کر سب کے سب اس کے نیچے ہوں گے۔ آپ کو حوض کوثر ملے گا جس پر سب سے زیادہ لوگ وارد ہوں گے۔ بہت بڑی شفاعت آپ کی ہو گی کہ اللہ عز و جل مخلوق کے فیصلوں کے لیے آئے۔ اور یہ اس کے بعد ہو گی کہ لوگ آدم علیہ السلام، نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے پاس ہو آئیں اور سب انکار کر دیں۔ پھر آپ کے پاس آئیں گے اور آپ اس کے لیے تیار ہوں گے جیسے کہ اس کی حدیثیں مفصل آ رہی ہیں، ان شاءاللہ۔
سب سے پہلے آپ ہی کی قبر کی زمین شق ہو گی اور آپ سواری پر سوار محشر کی طرف جائیں گے۔ آپ کا ایک جھنڈا ہو گا کہ آدم علیہ السلام سے لے کر سب کے سب اس کے نیچے ہوں گے۔ آپ کو حوض کوثر ملے گا جس پر سب سے زیادہ لوگ وارد ہوں گے۔ بہت بڑی شفاعت آپ کی ہو گی کہ اللہ عز و جل مخلوق کے فیصلوں کے لیے آئے۔ اور یہ اس کے بعد ہو گی کہ لوگ آدم علیہ السلام، نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے پاس ہو آئیں اور سب انکار کر دیں۔ پھر آپ کے پاس آئیں گے اور آپ اس کے لیے تیار ہوں گے جیسے کہ اس کی حدیثیں مفصل آ رہی ہیں، ان شاءاللہ۔
آپ ان لوگوں کی شفاعت کریں گے جن کی بابت حکم ہو چکا ہو گا کہ انہیں جہنم کی طرف لے جائیں۔ پھر وہ آپ کی شفاعت سے واپس لوٹا دیئے جائیں گے، سب سے پہلے آپ ہی کی امت کے فیصلے کیے جائیں گے، آپ ہی اپنی امت سمیت سب سے پہلے پل صراط سے پار ہوں گے، آپ ہی جنت میں لے جانے کے پہلے سفارشی ہوں گے۔
جیسے کہ صحیح مسلم کی حدیث سے ثابت ہے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ { تمام مومن آپ ہی کی شفاعت سے جنت میں جائیں گے۔ سب سے پہلے آپ جنت میں جائیں گے اور آپ کی امت اور امتوں سے پہلے جائے گی۔ آپ کی شفاعت سے کم درجے کے جنتی اعلی اور بلند درجے پائیں گے۔ آپ ہی صاحب وسیلہ ہیں جو جنت کی سب سے اعلی منزل ہے جو آپ کے سوا کسی اور کو نہیں ملنے کی۔ }
یہ صحیح ہے کہ بحکم الٰہی گنہگاروں کی شفاعت فرشتے بھی کریں گے، نبی بھی کریں گے، مومن بھی کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت جس قدر لوگوں کے بارے میں ہوگی ان کی گنتی کا سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو علم نہیں، اس میں کوئی آپ کی مثل اور برابر نہیں۔ کتاب السیرت کے آخر میں باب الخصائص میں میں نے اسے خوب تفصیل سے بیان کیا ہے، «والْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
جیسے کہ صحیح مسلم کی حدیث سے ثابت ہے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ { تمام مومن آپ ہی کی شفاعت سے جنت میں جائیں گے۔ سب سے پہلے آپ جنت میں جائیں گے اور آپ کی امت اور امتوں سے پہلے جائے گی۔ آپ کی شفاعت سے کم درجے کے جنتی اعلی اور بلند درجے پائیں گے۔ آپ ہی صاحب وسیلہ ہیں جو جنت کی سب سے اعلی منزل ہے جو آپ کے سوا کسی اور کو نہیں ملنے کی۔ }
یہ صحیح ہے کہ بحکم الٰہی گنہگاروں کی شفاعت فرشتے بھی کریں گے، نبی بھی کریں گے، مومن بھی کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت جس قدر لوگوں کے بارے میں ہوگی ان کی گنتی کا سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو علم نہیں، اس میں کوئی آپ کی مثل اور برابر نہیں۔ کتاب السیرت کے آخر میں باب الخصائص میں میں نے اسے خوب تفصیل سے بیان کیا ہے، «والْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
اب مقام محمود کے بارے کی حدیثیں سنئے۔ اللہ ہماری مدد کرے۔ بخاری میں ہے { سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں لوگ قیامت کے دن گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے، ہر امت اپنے نبی کے پیچھے ہو گی کہ اے فلاں ہماری شفاعت کیجئے، اے فلاں ہماری شفاعت کیجئے یہاں تک کہ شفاعت کی انتہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہوگی۔ پس یہی وہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر کھڑا کرے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4718]
ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سورج بہت نزدیک ہوگا یہاں تک کہ پسینہ آدھے کانوں تک پہنچ جائے گا، اسی حالت میں لوگ آدم علیہ السلام سے فریاد کریں گے، وہ صاف انکار کر دیں گے، پھر موسیٰ علیہ السلام سے کہیں گے آپ یہی جواب دیں گے کہ میں اس قابل نہیں، پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں گے آپ مخلوق کی شفاعت کے لیے چلیں گے یہاں تک کہ جنت کے دروازے کا کنڈا تھام لیں گے، پس اس دن اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر پہنچائے گا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22637]
ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سورج بہت نزدیک ہوگا یہاں تک کہ پسینہ آدھے کانوں تک پہنچ جائے گا، اسی حالت میں لوگ آدم علیہ السلام سے فریاد کریں گے، وہ صاف انکار کر دیں گے، پھر موسیٰ علیہ السلام سے کہیں گے آپ یہی جواب دیں گے کہ میں اس قابل نہیں، پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں گے آپ مخلوق کی شفاعت کے لیے چلیں گے یہاں تک کہ جنت کے دروازے کا کنڈا تھام لیں گے، پس اس دن اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر پہنچائے گا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22637]
بخاری کی اس روایت کے آخر میں یہ بھی ہے کہ { اہل محشر سب کے سب اس وقت آپ کی تعریفیں کریں گے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1475]
بخاری میں ہے» جو شخص اذان سن کر دعا «اَللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّآمَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَآئِمَةِ اٰتِ سَيِدَنَا مُحَمَّدَ نِ الْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيْعَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَ نِ الَّذِيْ وَعَدْتَّهُ وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ط اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» پڑھ لے اس کے لیے قیامت کے دن میری شفاعت حلال ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:614]
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب اور ان کا سفارشی ہوں گا، میں یہ کچھ بطور فخر کے نہیں کہتا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3613،قال الشيخ الألباني:حسن] اسے ترمذی بھی لائے ہیں اور حسن صحیح کہا ہے۔
ابن ماجہ میں بھی یہ ہے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے وہ حدیث گزر چکی ہے جس میں قرآن کو سات قرأتوں پر پڑھنے کا بیان ہے، اس کے آخر میں ہے کہ { میں (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کہا اے اللہ میری امت کو بخش، الٰہی میری امت کو بخش، تیسری دعا میں نے اس دن کے لیے اٹھا رکھی ہے، جس دن تمام مخلوق میری طرف رغبت کرے گی، یہاں تک کہ ابراہیم علیہ السلام بھی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:820]
بخاری میں ہے» جو شخص اذان سن کر دعا «اَللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّآمَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَآئِمَةِ اٰتِ سَيِدَنَا مُحَمَّدَ نِ الْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيْعَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَ نِ الَّذِيْ وَعَدْتَّهُ وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ط اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» پڑھ لے اس کے لیے قیامت کے دن میری شفاعت حلال ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:614]
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب اور ان کا سفارشی ہوں گا، میں یہ کچھ بطور فخر کے نہیں کہتا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3613،قال الشيخ الألباني:حسن] اسے ترمذی بھی لائے ہیں اور حسن صحیح کہا ہے۔
ابن ماجہ میں بھی یہ ہے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے وہ حدیث گزر چکی ہے جس میں قرآن کو سات قرأتوں پر پڑھنے کا بیان ہے، اس کے آخر میں ہے کہ { میں (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کہا اے اللہ میری امت کو بخش، الٰہی میری امت کو بخش، تیسری دعا میں نے اس دن کے لیے اٹھا رکھی ہے، جس دن تمام مخلوق میری طرف رغبت کرے گی، یہاں تک کہ ابراہیم علیہ السلام بھی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:820]
مسند احمد میں ہے کہ { مومن قیامت کے دن جمع ہوں گے، پھر ان کے دل میں خیال ڈالا جائے گا کہ ہم کسی سے کہیں کہ وہ ہماری سفارش کرکے ہمیں اس جگہ سے آرام دے، پس سب کے سب آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے آدم آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ کے لیے اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا، آپ کو تمام چیزوں کے نام بتائے، آپ اپنے رب کے پاس ہماری سفارش لے جائیے تاکہ ہمیں اس جگہ سے راحت ملے، آدم علیہ السلام جواب دیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، آپ کو اپنا گناہ یاد آ جائے گا اور اللہ تعالیٰ سے شرمانے لگیں گے۔
فرمائیں گے تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے پہلے رسول ہیں جنہیں زمین والوں کی طرف اللہ پاک نے بھیجا، یہ آئیں گے یہاں سے بھی جواب پائیں گے کہ میں اس کے لائق نہیں ہوں، آپ کو بھی اپنی خطا یاد آئے گی کہ اللہ سے وہ سوال کیا تھا جس کا آپ کو علم نہ تھا۔ پس اپنے پروردگار سے شرمائیں گے اور فرمائیں گے تم ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ آپ کے پاس آئیں گے آپ فرمائیں گے، میں اس قابل نہیں تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، ان سے اللہ نے کلام کیا ہے اور انہیں تورات دی ہے۔
لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے لیکن وہ کہیں گے مجھ میں اتنی قابلیت کہاں؟ پھر آپ اس قتل کا ذکر کریں گے جو بغیر کسی مقتول کے معاوضے کے آپ نے کر دیا تھا پس بوجہ اس کے شرمانے لگیں گے اور کہیں گے تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے بندے، اس کا کلمہ اور اس کی روح ہے۔ وہ یہاں آئیں گے لیکن آپ فرمائیں گے میں اس جگہ کے قابل نہیں ہوں۔ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ جن کے اول آخر تمام گناہ بخش دئے گئے ہیں۔ }
فرمائیں گے تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے پہلے رسول ہیں جنہیں زمین والوں کی طرف اللہ پاک نے بھیجا، یہ آئیں گے یہاں سے بھی جواب پائیں گے کہ میں اس کے لائق نہیں ہوں، آپ کو بھی اپنی خطا یاد آئے گی کہ اللہ سے وہ سوال کیا تھا جس کا آپ کو علم نہ تھا۔ پس اپنے پروردگار سے شرمائیں گے اور فرمائیں گے تم ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ آپ کے پاس آئیں گے آپ فرمائیں گے، میں اس قابل نہیں تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، ان سے اللہ نے کلام کیا ہے اور انہیں تورات دی ہے۔
لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے لیکن وہ کہیں گے مجھ میں اتنی قابلیت کہاں؟ پھر آپ اس قتل کا ذکر کریں گے جو بغیر کسی مقتول کے معاوضے کے آپ نے کر دیا تھا پس بوجہ اس کے شرمانے لگیں گے اور کہیں گے تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے بندے، اس کا کلمہ اور اس کی روح ہے۔ وہ یہاں آئیں گے لیکن آپ فرمائیں گے میں اس جگہ کے قابل نہیں ہوں۔ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ جن کے اول آخر تمام گناہ بخش دئے گئے ہیں۔ }
{ پس وہ سب میرے پاس آئیں گے۔ میں کھڑا ہوں گا، اپنے رب سے اجازت چاہوں گا، جب اسے دیکھوں گا تو سجدے میں گر پڑوں گا، جب تک اللہ کو منظور ہوگا میں سجدے میں ہی رہوں گا۔ پھر فرمایا جائے گا، اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سر اٹھائیے، کہئے سنا جائے گا، شفاعت کیجئے قبول کی جائے گی، مانگئے دیا جائے گا، پس میں سر اٹھاؤں گا اور اللہ کی وہ تعریفیں کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں سفارش پیش کروں گا، میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی، میں انہیں جنت میں پہنچا آؤں گا۔
پھر دوبارہ جناب باری میں حاضر ہو کر اپنے رب کو دیکھ کر سجدے میں گر پڑوں گا، جب تک وہ چاہے مجھے سجدے میں ہی رہنے دے گا۔ پھر فرمایا جائے گا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا، سوال کرو دیا جائے گا، شفاعت کرو قبول ہو گی۔ پس میں سر اٹھا کر اپنے رب کی وہ حمد بیان کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا، پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی میں انہیں بھی جنت میں پہنچا آؤں گا۔
پھر تیسری مرتبہ لوٹوں گا اپنے رب کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا، جب تک وہ چاہے اسی حالت میں پڑا رہوں گا، پھر فرمایا جائے گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سر اٹھا، بات کر سنی جائے گی۔ سوال کر عطا فرمایا جائے گا۔ سفارش کر قبول کی جائے گی۔ چنانچہ میں سر اٹھا کر وہ حمد بیان کرکے جو مجھے وہی سکھائے گا سفارش کروں گا۔ پھر چوتھی بار واپس آؤں گا اور کہوں گا باری تعالیٰ اب تو صرف وہی باقی رہ گئے ہیں جنہیں قرآن نے روک لیا ہے۔ فرماتے ہیں، جہنم میں سے وہ شخص بھی نکل آئے گا جس نے «لا الہ الا اللہ» کہا اور اس کے دل میں ایک ذرے جتنا ایمان ہو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4476] یہ حدیث مسلم میں بھی ہے۔
پھر دوبارہ جناب باری میں حاضر ہو کر اپنے رب کو دیکھ کر سجدے میں گر پڑوں گا، جب تک وہ چاہے مجھے سجدے میں ہی رہنے دے گا۔ پھر فرمایا جائے گا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا، سوال کرو دیا جائے گا، شفاعت کرو قبول ہو گی۔ پس میں سر اٹھا کر اپنے رب کی وہ حمد بیان کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا، پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی میں انہیں بھی جنت میں پہنچا آؤں گا۔
پھر تیسری مرتبہ لوٹوں گا اپنے رب کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا، جب تک وہ چاہے اسی حالت میں پڑا رہوں گا، پھر فرمایا جائے گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سر اٹھا، بات کر سنی جائے گی۔ سوال کر عطا فرمایا جائے گا۔ سفارش کر قبول کی جائے گی۔ چنانچہ میں سر اٹھا کر وہ حمد بیان کرکے جو مجھے وہی سکھائے گا سفارش کروں گا۔ پھر چوتھی بار واپس آؤں گا اور کہوں گا باری تعالیٰ اب تو صرف وہی باقی رہ گئے ہیں جنہیں قرآن نے روک لیا ہے۔ فرماتے ہیں، جہنم میں سے وہ شخص بھی نکل آئے گا جس نے «لا الہ الا اللہ» کہا اور اس کے دل میں ایک ذرے جتنا ایمان ہو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4476] یہ حدیث مسلم میں بھی ہے۔
مسند احمد میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت پل صراط سے گزر رہی ہو گی، میں وہیں کھڑا دیکھ رہا ہوں گا کہ میرے پاس عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور فرمائیں گے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء کی جماعت آپ سے کچھ مانگتی ہے، وہ سب آپ کے لیے جمع ہیں اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ تمام امتوں کو جہاں بھی چاہے، الگ الگ کر دے، اس وقت وہ سخت غم میں ہیں، تمام مخلوق پسینوں میں گویا لگام چڑھا دی گئی ہے۔ مومن پر تو وہ مثل زکام کے ہے لیکن کافر پر تو موت کا ڈھانپ لینا ہے۔
آپ فرمائیں گے کہ ٹھیرو میں آتا ہوں، پس آپ جائیں گے عرش تلے کھڑے رہیں گے اور وہ عزت و آبرو ملے گی کہ کسی برگزیدہ فرشتے اور کسی بھیجے ہوئے نبی رسول علیہم السلام کو نہ ملی ہو، پھر اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام کی طرف وحی کرے گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤ اور کہو کہ آپ سر اٹھائیے، مانگئے، ملے گا، سفارش کیجئے، قبول ہوگی، پس مجھے اپنی امت کی شفاعت ملے گی کہ ہر ننانوے میں سے ایک نکال لاؤں، میں باربار اپنے رب عز و جل کی طرف آتا جاتا رہوں گا اور ہر بار سفاش کروں گا، یہاں تک کہ جناب باری مجھ سے ارشاد فرمائے گا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) جاؤ مخلوق الٰہی میں سے جس نے ایک دن بھی خلوص کے ساتھ «لا الہ الا اللہ» کی گواہی دی ہو اور اسی پر مرا ہو، اسے بھی جنت میں پہنچا آؤ۔ ۱؎ [مسند احمد:178/3:صحیح]
آپ فرمائیں گے کہ ٹھیرو میں آتا ہوں، پس آپ جائیں گے عرش تلے کھڑے رہیں گے اور وہ عزت و آبرو ملے گی کہ کسی برگزیدہ فرشتے اور کسی بھیجے ہوئے نبی رسول علیہم السلام کو نہ ملی ہو، پھر اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام کی طرف وحی کرے گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤ اور کہو کہ آپ سر اٹھائیے، مانگئے، ملے گا، سفارش کیجئے، قبول ہوگی، پس مجھے اپنی امت کی شفاعت ملے گی کہ ہر ننانوے میں سے ایک نکال لاؤں، میں باربار اپنے رب عز و جل کی طرف آتا جاتا رہوں گا اور ہر بار سفاش کروں گا، یہاں تک کہ جناب باری مجھ سے ارشاد فرمائے گا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) جاؤ مخلوق الٰہی میں سے جس نے ایک دن بھی خلوص کے ساتھ «لا الہ الا اللہ» کی گواہی دی ہو اور اسی پر مرا ہو، اسے بھی جنت میں پہنچا آؤ۔ ۱؎ [مسند احمد:178/3:صحیح]
مسند احمد میں ہے { سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اس وقت ایک شخص کچھ کہہ رہا تھا، انہوں نے بھی کچھ کہنے کی اجازت مانگی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اجازت دی۔ آپ کا خیال یہ تھا کہ جو کچھ یہ پہلا شخص کہہ رہا ہے وہی سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بھی کہیں گے۔
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ زمین پر جتنے درخت اور کنکر ہیں، ان کی گنتی کے برابر لوگوں کی شفاعت میں کروں گا، پس اے معاویہ (رضی اللہ عنہ) آپ کو تو اس کی امید ہو اور علی (رضی اللہ عنہ) اس سے ناامید ہوں؟ ۱؎ [مسند احمد:437/5:ضعیف]
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ زمین پر جتنے درخت اور کنکر ہیں، ان کی گنتی کے برابر لوگوں کی شفاعت میں کروں گا، پس اے معاویہ (رضی اللہ عنہ) آپ کو تو اس کی امید ہو اور علی (رضی اللہ عنہ) اس سے ناامید ہوں؟ ۱؎ [مسند احمد:437/5:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ { ملیکہ کے دونوں لڑکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے ہماری ماں ہمارے والد کی بڑی ہی عزت کرتی تھیں، بچوں پر بڑی مہربانی اور شفقت کرتی تھیں، مہمانداری میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھتی تھیں۔ ہاں انہوں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی زندہ لڑکیاں درگور کر دی تھیں، آپ نے فرمایا پھر وہ جہنم میں پہنچی۔ وہ دونوں ملول خاطر ہو کر لوٹے تو آپ نے حکم دیا کہ انہیں واپس بلا لاؤ وہ لوٹے اور ان کے چہروں پر خوشی تھی کہ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی اچھی بات سنائیں گے۔
آپ نے فرمایا سنو میری ماں اور تمہاری ماں دونوں ایک ساتھ ہی ہیں، ایک منافق یہ سن کر کہنے لگا کہ اس سے اس کی ماں کو کیا فائدہ؟ ہم اس کے پیچھے جاتے ہیں۔ ایک انصاری جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ سوالات کرنے کا عادی تھا، کہنے لگایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس کے یا ان دونوں کے بارے میں آپ سے اللہ تعالیٰ نے کوئی وعدہ کیا ہے؟ آپ سمجھ گئے کہ اس نے کچھ سنا ہے، فرمانے لگے نہ میرے رب نے چاہا نہ مجھے اس بارے میں کوئی طمع دی۔ }
آپ نے فرمایا سنو میری ماں اور تمہاری ماں دونوں ایک ساتھ ہی ہیں، ایک منافق یہ سن کر کہنے لگا کہ اس سے اس کی ماں کو کیا فائدہ؟ ہم اس کے پیچھے جاتے ہیں۔ ایک انصاری جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ سوالات کرنے کا عادی تھا، کہنے لگایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس کے یا ان دونوں کے بارے میں آپ سے اللہ تعالیٰ نے کوئی وعدہ کیا ہے؟ آپ سمجھ گئے کہ اس نے کچھ سنا ہے، فرمانے لگے نہ میرے رب نے چاہا نہ مجھے اس بارے میں کوئی طمع دی۔ }
{ سنو میں قیامت کے دن مقام محمود پر پہنچایا جاؤں گا۔ انصاری نے کہا وہ کیا مقام ہے؟ آپ نے فرمایا یہ اس وقت جب کہ تمہیں ننگے بدن بے ختنہ لایا جائے گا۔ سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے خلیل کو کپڑے پہناؤ۔ پس دو چادریں سفید رنگ کی پہنائی جائیں گی اور آپ عرش کی طرف منہ کئے بیٹھ جائیں گے۔
پھر میرا لباس لایا جائے گا، میں ان کی دائیں طرف اس جگہ کھڑا ہوں گا کہ تمام اگلے پچھلے لوگ رشک کریں گے اور کوثر سے لے کر حوض تک ان کے لیے کھول دیا جائے گا، منافق کہنے لگے پانی کے جاری ہونے کے لیے تو مٹی اور کنکر لازمی ہیں، آپ نے فرمایا اس کی مٹی مشک ہے اور کنکر موتی ہیں۔ اس نے کہا، ہم نے تو کبھی ایسا نہیں سنا۔ اچھا پانی کے کنارے درخت بھی ہونے چاہیئں۔
انصاری نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وہاں درخت بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں سونے کی شاخوں والے۔ منافق نے کہا آج جیسی بات تو ہم نے کبھی نہیں سنی۔ اچھا درختوں میں پتے اور پھل بھی ہونے چاہئیں۔ انصاری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ان درختوں میں پھل بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں رنگا رنگ کے جواہر، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہوگا اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔ ایک گھونٹ بھی جس نے اس میں سے پی لیا، وہ کبھی بھی پیاسا نہ ہوگا اور جو اس سے محروم رہ گیا، وہ پھر کبھی آسودہ نہ ہو گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:398/1:ضعیف]
ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ { پھر اللہ تعالیٰ عز و جل شفاعت کی اجازت دے گا، پس روح القدس جبرائیل علیہ السلام کھڑے ہوں گے، پھر ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کھڑے ہوں گے، پھر عیسیٰ یا موسیٰ علیہم السلام کھڑے ہوں گے، پھر چوتھے تمہارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوں گے، آپ سے زیادہ کسی کی شفاعت نہ ہوگی، یہی مقام محمود ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:144/15:ضعیف]
پھر میرا لباس لایا جائے گا، میں ان کی دائیں طرف اس جگہ کھڑا ہوں گا کہ تمام اگلے پچھلے لوگ رشک کریں گے اور کوثر سے لے کر حوض تک ان کے لیے کھول دیا جائے گا، منافق کہنے لگے پانی کے جاری ہونے کے لیے تو مٹی اور کنکر لازمی ہیں، آپ نے فرمایا اس کی مٹی مشک ہے اور کنکر موتی ہیں۔ اس نے کہا، ہم نے تو کبھی ایسا نہیں سنا۔ اچھا پانی کے کنارے درخت بھی ہونے چاہیئں۔
انصاری نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وہاں درخت بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں سونے کی شاخوں والے۔ منافق نے کہا آج جیسی بات تو ہم نے کبھی نہیں سنی۔ اچھا درختوں میں پتے اور پھل بھی ہونے چاہئیں۔ انصاری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ان درختوں میں پھل بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں رنگا رنگ کے جواہر، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہوگا اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔ ایک گھونٹ بھی جس نے اس میں سے پی لیا، وہ کبھی بھی پیاسا نہ ہوگا اور جو اس سے محروم رہ گیا، وہ پھر کبھی آسودہ نہ ہو گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:398/1:ضعیف]
ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ { پھر اللہ تعالیٰ عز و جل شفاعت کی اجازت دے گا، پس روح القدس جبرائیل علیہ السلام کھڑے ہوں گے، پھر ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کھڑے ہوں گے، پھر عیسیٰ یا موسیٰ علیہم السلام کھڑے ہوں گے، پھر چوتھے تمہارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوں گے، آپ سے زیادہ کسی کی شفاعت نہ ہوگی، یہی مقام محمود ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:144/15:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ { لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے، میں (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی امت سمیت ایک ٹیلے پر کھڑا ہوں گا، مجھے اللہ تعالیٰ سبز رنگ کا حلہ پہنائے گا، پھر مجھے اجازت دی جائے گی اور جو کچھ کہنا چاہوں گا، کہوں گا یہی مقام محمود ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:456/13:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ { قیامت کے دن سب سے پہلے مجھے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور مجھے ہی سب سے پہلے سر اٹھانے کی اجازت ملے گی، میں اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھ کر اپنی امت کو اور امتوں میں پہچان لوں گا، کسی نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ساری امتیں جو نوح کے وقت تک کی ہوں گی ان سب میں سے آپ خاص اپنی امت کیسے پہچان لیں گے؟ آپ نے فرمایا وضو کے اثر سے، ان کے ہاتھ پاؤں منہ چمک رہے ہوں گے ان کے سوا اور کوئی ایسا نہ ہو گا اور میں انہیں یوں پہچان لوں گا کہ ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ملیں گے اور نشان یہ ہے کہ ان کی اولادیں ان کے آگے آگے چل پھر رہی ہوں گی۔ } ۱؎ [مسند احمد:199/5:صحیح لغیرہ]
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور شانے کا گوشت چونکہ آپ کو زیادہ مرغوب تھا، وہی آپ کو دیا گیا، آپ اس میں سے گوشت توڑ توڑ کر کھانے لگے اور فرمایا قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار میں ہوں۔ اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا انہیں سنائے گا۔
نگاہیں اوپر کو چڑھ جائیں گی، سورج بالکل نزدیک ہو جائے گا اور لوگ ایسی سختی اور رنج و غم میں مبتلا ہو جائیں گے جو ناقابل برداشت ہے۔ اس وقت وہ آپس میں کہیں گے کہ دیکھو تو سہی ہم سب کس مصیبت میں مبتلا ہیں، چلو کسی سے کہہ کر اسے سفارشی بنا کر اللہ تعالیٰ کے پاس بھیجیں۔ }
مسند احمد میں ہے کہ { قیامت کے دن سب سے پہلے مجھے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور مجھے ہی سب سے پہلے سر اٹھانے کی اجازت ملے گی، میں اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھ کر اپنی امت کو اور امتوں میں پہچان لوں گا، کسی نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ساری امتیں جو نوح کے وقت تک کی ہوں گی ان سب میں سے آپ خاص اپنی امت کیسے پہچان لیں گے؟ آپ نے فرمایا وضو کے اثر سے، ان کے ہاتھ پاؤں منہ چمک رہے ہوں گے ان کے سوا اور کوئی ایسا نہ ہو گا اور میں انہیں یوں پہچان لوں گا کہ ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ملیں گے اور نشان یہ ہے کہ ان کی اولادیں ان کے آگے آگے چل پھر رہی ہوں گی۔ } ۱؎ [مسند احمد:199/5:صحیح لغیرہ]
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور شانے کا گوشت چونکہ آپ کو زیادہ مرغوب تھا، وہی آپ کو دیا گیا، آپ اس میں سے گوشت توڑ توڑ کر کھانے لگے اور فرمایا قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار میں ہوں۔ اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا انہیں سنائے گا۔
نگاہیں اوپر کو چڑھ جائیں گی، سورج بالکل نزدیک ہو جائے گا اور لوگ ایسی سختی اور رنج و غم میں مبتلا ہو جائیں گے جو ناقابل برداشت ہے۔ اس وقت وہ آپس میں کہیں گے کہ دیکھو تو سہی ہم سب کس مصیبت میں مبتلا ہیں، چلو کسی سے کہہ کر اسے سفارشی بنا کر اللہ تعالیٰ کے پاس بھیجیں۔ }
{ چنانچہ مشورہ سے طے ہو گا اور لوگ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے، آپ میں اپنی روح پھونکی ہے، اپنے فرشتوں کو آپ کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دے کر ان سے سجدہ کرایا ہے۔ آپ کیا ہماری خستہ حالی ملاحظہ نہیں فرما رہے؟ آپ پروردگار سے شفاعت کی دعا کیجئے۔ آدم علیہ السلام جواب دیں گے کہ میرا رب آج اس قدر غضبناک ہو رہا ہے کہ کبھی اس سے پہلے ایسا غضبناک نہیں ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک درخت سے روکا تھا، لیکن مجھ سے نافرمانی ہو گئی۔ آج تو مجھے خود اپنا خیال لگا ہوا ہے۔ نفسا نفسی لگی ہوئی ہے۔ تم کسی اور کے پاس جاؤ، نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔
لوگ وہاں سے نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے نوح علیہ السلام آپ کو زمین والوں کی طرف سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے رسول بناکر بھیجا۔ آپ کا نام اس نے شکر گزار بندہ رکھا۔ آپ ہمارے لیے اپنے رب کے پاس شفاعت کیجئے، دیکھئیے تو ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں؟ نوح علیہ السلام جواب دیں گے کہ آج تو میرا پروردگار اس قدر غضبناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا غصے ہوا نہ اس کے بعد کبھی ایسا غصے ہوگا۔ میرے لیے ایک دعا تھی جو میں نے اپنے قوم کے خلاف مانگ لی، مجھے تو آج اپنی پڑی ہے نفسا نفسی لگ رہی ہے تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ }
لوگ وہاں سے نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے نوح علیہ السلام آپ کو زمین والوں کی طرف سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے رسول بناکر بھیجا۔ آپ کا نام اس نے شکر گزار بندہ رکھا۔ آپ ہمارے لیے اپنے رب کے پاس شفاعت کیجئے، دیکھئیے تو ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں؟ نوح علیہ السلام جواب دیں گے کہ آج تو میرا پروردگار اس قدر غضبناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا غصے ہوا نہ اس کے بعد کبھی ایسا غصے ہوگا۔ میرے لیے ایک دعا تھی جو میں نے اپنے قوم کے خلاف مانگ لی، مجھے تو آج اپنی پڑی ہے نفسا نفسی لگ رہی ہے تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ }
{ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے، آپ نبی اللہ ہیں، آپ خلیل اللہ ہیں، کیا آپ ہماری یہ بپتا نہیں دیکھتے؟ ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے کہ میرا رب آج اس قدر غضبناک ہے کہ کبھی اس سے پہلے ایسا ناراض ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی اس سے زیادہ غصے میں آئے گا، پھر آپ اپنے جھوٹ یاد کرکے نفسی نفسی کرنے لگیں گے اور فرمائیں گے میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ۔ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔
لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے موسیٰ علیہ السلام ہماری شفاعت لے جائیے، دیکھئیے تو کیسی سخت آفت میں ہیں؟ آپ فرمائیں گے آج تو میرا رب اس قدر ناراض ہے ایسا کہ اس سے پہلے کبھی ایسا ناراض نہیں ہوا اور نہ کبھی اس کے بعد ایسا ناراض ہو گا، میں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ایک انسان کو مار ڈالا تھا۔ نفسی نفسی نفسی تم مجھے چھوڑو کسی اور سے کہو تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔
لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے عیسیٰ علیہ السلام آپ رسول اللہ، کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں جو مریم علیہ السلام کی طرف بھیجی گئی، بچپن میں گہوارے میں ہی آپ نے بولنا شروع کر دیا تھا، جائیے ہمارے رب سے ہماری شفاعت کیجئے خیال تو فرمائیے کہ ہم کس قدر بے چین ہیں؟ عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے کہ آج جیسا غصہ تو نہ پہلے تھا، نہ بعد میں ہو گا، نفسی نفسی نفسی، آپ اپنے کسی گناہ کا ذکر نہ کریں گے۔ فرمائیں گے تم کسی اور ہی کے پاس جاؤ۔ دیکھو میں بتاؤں تم سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ }
لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے موسیٰ علیہ السلام ہماری شفاعت لے جائیے، دیکھئیے تو کیسی سخت آفت میں ہیں؟ آپ فرمائیں گے آج تو میرا رب اس قدر ناراض ہے ایسا کہ اس سے پہلے کبھی ایسا ناراض نہیں ہوا اور نہ کبھی اس کے بعد ایسا ناراض ہو گا، میں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ایک انسان کو مار ڈالا تھا۔ نفسی نفسی نفسی تم مجھے چھوڑو کسی اور سے کہو تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔
لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے عیسیٰ علیہ السلام آپ رسول اللہ، کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں جو مریم علیہ السلام کی طرف بھیجی گئی، بچپن میں گہوارے میں ہی آپ نے بولنا شروع کر دیا تھا، جائیے ہمارے رب سے ہماری شفاعت کیجئے خیال تو فرمائیے کہ ہم کس قدر بے چین ہیں؟ عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے کہ آج جیسا غصہ تو نہ پہلے تھا، نہ بعد میں ہو گا، نفسی نفسی نفسی، آپ اپنے کسی گناہ کا ذکر نہ کریں گے۔ فرمائیں گے تم کسی اور ہی کے پاس جاؤ۔ دیکھو میں بتاؤں تم سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ }
{ چنانچہ وہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ رسول اللہ ہیں، آپ خاتم الانبیاء ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئے ہیں۔ آپ ہماری شفاعت کیجئے، دیکھئیے تو ہم کیسی سخت بلاؤں میں گھرے ہوئے ہیں، پھر میں کھڑا ہوں گا اور عرش تلے آکر اپنے رب عز و جل کے سامنے سجدے میں گر پڑوں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی حمد و ثنا کے وہ الفاظ کھولے گا جو مجھ سے پہلے کسی اور پر نہیں کھلے تھے۔ پھر مجھ سے فرمایا جائے گا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاؤ، مانگو، تمہیں ملے گا، شفاعت کرو، منظور ہو گی۔
میں اپنا سر سجدے سے اٹھاؤں گا اور کہوں گا میرے پروردگار میری امت، میرے رب میری امت، اے اللہ میری امت، پس مجھ سے فرمایا جائے گا، جاؤ اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جن پر حساب نہیں جنت میں لے جاؤ، انہیں جنت کے داہنی طرف کے دروازے سے پہنچاؤ لیکن اور تمام دروازوں سے بھی روک نہیں۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، جنت کی دو چوکھٹوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور حمیر میں یا مکہ اور بصریٰ میں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3340] یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔
میں اپنا سر سجدے سے اٹھاؤں گا اور کہوں گا میرے پروردگار میری امت، میرے رب میری امت، اے اللہ میری امت، پس مجھ سے فرمایا جائے گا، جاؤ اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جن پر حساب نہیں جنت میں لے جاؤ، انہیں جنت کے داہنی طرف کے دروازے سے پہنچاؤ لیکن اور تمام دروازوں سے بھی روک نہیں۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، جنت کی دو چوکھٹوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور حمیر میں یا مکہ اور بصریٰ میں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3340] یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔
مسلم شریف میں ہے { قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار میں ہوں گا، اس دن سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہوگی، میں ہی پہلا شفیع ہوں اور پہلا شفاعت قبول کیا گیا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2278]
ابن جریر میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شفاعت ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22634:ضعیف]
مسند احمد میں ہے { مقام محمود وہ مقام ہے، جس میں میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:441/2:حسن لغیرہ]
عبدالرزاق میں ہے کہ { قیامت کے دن کھال کی طرح اللہ تعالیٰ زمین کو کھینچ لے گا، یہاں تک کہ ہر شخص کے لیے صرف اپنے دونوں قدم ٹکانے کی جگہ ہی رہے گی، سب سے پہلے مجھے طلب کیا جائے گا۔ جبرائیل علیہ السلام اللہ رحمن تبارک و تعالیٰ کے دائیں طرف ہوں گے۔ اللہ کی قسم اس سے پہلے اسے اس نے نہیں دیکھا۔ میں کہوں گا کہ باری تعالیٰ اس فرشتے نے مجھ سے کہا تھا کہ اسے تو میری طرف بھیج رہا تھا، اللہ تعالیٰ عز و جل فرمائے گا اس نے سچ کہا اب میں یہ کہہ کر شفاعت کروں گا کہ اے اللہ تیرے بندوں نے زمین کے مختلف حصوں میں تیری عبادت کی ہے، آپ فرماتے ہیں یہی مقام محمود ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22639:مرسل] یہ حدیث مرسل ہے۔
ابن جریر میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شفاعت ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22634:ضعیف]
مسند احمد میں ہے { مقام محمود وہ مقام ہے، جس میں میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:441/2:حسن لغیرہ]
عبدالرزاق میں ہے کہ { قیامت کے دن کھال کی طرح اللہ تعالیٰ زمین کو کھینچ لے گا، یہاں تک کہ ہر شخص کے لیے صرف اپنے دونوں قدم ٹکانے کی جگہ ہی رہے گی، سب سے پہلے مجھے طلب کیا جائے گا۔ جبرائیل علیہ السلام اللہ رحمن تبارک و تعالیٰ کے دائیں طرف ہوں گے۔ اللہ کی قسم اس سے پہلے اسے اس نے نہیں دیکھا۔ میں کہوں گا کہ باری تعالیٰ اس فرشتے نے مجھ سے کہا تھا کہ اسے تو میری طرف بھیج رہا تھا، اللہ تعالیٰ عز و جل فرمائے گا اس نے سچ کہا اب میں یہ کہہ کر شفاعت کروں گا کہ اے اللہ تیرے بندوں نے زمین کے مختلف حصوں میں تیری عبادت کی ہے، آپ فرماتے ہیں یہی مقام محمود ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22639:مرسل] یہ حدیث مرسل ہے۔