اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ وَ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ ؕ اِنَّ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ کَانَ مَشۡہُوۡدًا ﴿۷۸﴾
نماز قائم کر سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک اور فجر کا قرآن (پڑھ)۔ بے شک فجر کا قرآن ہمیشہ سے حاضر ہونے کا وقت رہا ہے۔
En
(اے محمدﷺ) سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک (ظہر، عصر، مغرب، عشا کی) نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کرو۔ کیوں صبح کے وقت قرآن کا پڑھنا موجب حضور (ملائکہ) ہے
En
نماز کو قائم کریں آفتاب کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک اور فجر کا قرآن پڑھنا بھی یقیناً فجر کے وقت کا قرآن پڑھنا حاضر کیا گیا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 78) ➊ {اَقِمِ الصَّلٰوةَ …:} شروع سورت سے توحید و رسالت اور آخرت کے دلائل اور ان پر اعتراضات کے جوابات کے بعد اعمال کا ذکر فرمایا۔ (رازی) پچھلی آیات کے ساتھ ایک اور مناسبت یہ ہے کہ دشمنوں کے مقابلے کے لیے نماز قائم کیجیے، یہ آپ کے لیے ان سے مقابلے کی قوت کا ذریعہ بنے گی، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی مشکل پیش آتی تو نماز پڑھتے۔ [أبوداوٗد، التطوع، باب وقت قیام النبي صلی اللہ علیہ وسلم من اللیل: ۱۳۱۶] اعمال میں سب سے افضل نماز ہے، کیونکہ کلمۂ اسلام کے بعد یہ مسلمان ہونے کی پہلی شرط اور علامت ہے (دیکھیے توبہ: ۵، ۱۱) اور اس میں دوسرے ارکان اسلام کا بھی کچھ نہ کچھ حصہ شامل ہے۔ زکوٰۃ اس طرح کہ مالی منفعت قربان کیے بغیر آدمی نماز کے لیے جاہی نہیں سکتا، روزہ اس طرح کہ دورانِ نماز میں روزے کی تمام پابندیاں عائد ہوتی ہیں، حج اس طرح کہ قبلے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی جاتی ہے اور کلمۂ اسلام تشہد میں شامل ہے اور نماز کا مغز یہ ہے کہ پوری دنیا سے تعلق توڑ کر ایک اللہ سے پوری طرح تعلق جوڑ لے۔ ان آیات میں اقامتِ صلاۃ کے حکم کے ساتھ اس کے پانچ اوقات بھی بیان فرمائے، یہ اوقات قولاً و فعلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ ثابت ہیں اور پوری امت مسلمہ چودہ صدیوں سے ان اوقات پر نماز پڑھتی آئی ہے۔ نمازوں کے اوقات کے لیے مزید دیکھیے سورۂ ہود (۱۱۴)، سورۂ روم (۱۷، ۱۸) اور سورۂ طٰہٰ(۱۳۰) تین نمازوں کا صراحت سے ذکر سورۂ نور (۵۸) میں ہے، لیکن نمازوں کے اوقات کے اول و آخر کی مکمل حد بندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی اور آپ کو جبریل علیہ السلام نے دو دن نماز پڑھ کر سکھائی۔ [دیکھیے بخاری، مواقیت الصلوٰۃ، باب مواقیت الصلوٰۃ و فضلھا: ۵۲۱۔ مسلم: ۶۱۳، ۶۱۴]
➋ { لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ:} قاموس میں ہے: {” دَلَكَتِ الشَّمْسُ اَيْ غَرَبَتْ أَوِ اصْفَرَّتْ أَوْ مَالَتْ أَوْ زَالَتْ عَنْ كَبِدِ السَّمَاءِ“} یعنی {”دَلَكَتِ الشَّمْسُ“} کا معنی ہے کہ سورج غروب ہو گیا، یا زرد ہو گیا، یا مائل ہو گیا، یا آسمان کے وسط سے ڈھل گیا۔“ اس میں تین نمازوں کا ذکر ہے، کیونکہ مشترک لفظ ایک سے زیادہ معنوں میں بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ سورج ڈھلنے کے وقت ظہر، زردی کی (غیر محسوس) ابتدا کے وقت عصر کی نماز ہے (پوری طرح زرد ہونے پر نماز مکروہ ہے) اور سورج غروب ہونے کے ساتھ مغرب کی نماز ہے۔ {” غَسَقِ الَّيْلِ “} کا معنی شروع رات کا اندھیرا ہے۔ شفق غائب ہونے کے ساتھ اندھیرا مکمل ہوتے ہی عشاء کا وقت ہو جاتا ہے۔ {” اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ “} (سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک) کا معنی تو یہ ہے کہ یہ تمام وقت مسلسل نماز قائم رکھو، مگر یہ اس لیے فرمایا کہ آدمی نماز پڑھ کر اگلی نماز کے انتظار میں ہو تو وہ نماز ہی میں مشغول شمار ہوتا ہے، گویا یہ تمام وقت نماز ہی میں گزرا۔ اس میں ہر وقت نماز کی طرف توجہ رکھنے کی ترغیب ہے۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوْا فِيْ صَلاَةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَةَ] [أبوداوٗد، الصلاۃ، باب وقت العشاء الآخرۃ: ۴۲۲۔ ترمذي: ۳۳۰] ”تم اس وقت تک نماز میں رہو گے جب تک نماز کا انتظار کرتے رہو گے۔“ پھر رات کی نیند کے وقفے کے بعد صبح کی نماز کا وقت ہے، اس لیے اسے الگ ذکر فرمایا۔ (نظم الدرر للبقاعی)
➌ {وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ: ” أَيْ وَأَقِمْ قُرْآنَ الْفَجْرِ “} یعنی فجر کی نماز قائم کر۔ یہاں نماز کو قرآن فرمایا، کیونکہ قرآن نماز کا اہم جز ہے اور یہاں جز بول کر کل مراد لیا ہے، جیسا کہ قیام یا {”رَكْعَةٌ“} یا {”سَجْدَةٌ“} سے پوری نماز مراد ہوتی ہے۔ یہاں نماز کو قرآن کہنے کی وجہ یہ ہے کہ صبح کی نماز میں قرآن زیادہ پڑھا جاتا ہے بہ نسبت دوسری نمازوں کے۔
➍ { اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا: ” مَشْهُوْدًا “} جس میں حاضر ہوا جائے، یعنی اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ [دیکھیے بخاری، الأذان، باب فضل صلاۃ الفجر في جماعۃ: ۶۴۸] یہ معنی بھی ہے کہ رات بھر کے آرام کے بعد طبیعت قرآن پڑھنے اورسننے کے لیے حاضر ہوتی ہے۔
➋ { لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ:} قاموس میں ہے: {” دَلَكَتِ الشَّمْسُ اَيْ غَرَبَتْ أَوِ اصْفَرَّتْ أَوْ مَالَتْ أَوْ زَالَتْ عَنْ كَبِدِ السَّمَاءِ“} یعنی {”دَلَكَتِ الشَّمْسُ“} کا معنی ہے کہ سورج غروب ہو گیا، یا زرد ہو گیا، یا مائل ہو گیا، یا آسمان کے وسط سے ڈھل گیا۔“ اس میں تین نمازوں کا ذکر ہے، کیونکہ مشترک لفظ ایک سے زیادہ معنوں میں بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ سورج ڈھلنے کے وقت ظہر، زردی کی (غیر محسوس) ابتدا کے وقت عصر کی نماز ہے (پوری طرح زرد ہونے پر نماز مکروہ ہے) اور سورج غروب ہونے کے ساتھ مغرب کی نماز ہے۔ {” غَسَقِ الَّيْلِ “} کا معنی شروع رات کا اندھیرا ہے۔ شفق غائب ہونے کے ساتھ اندھیرا مکمل ہوتے ہی عشاء کا وقت ہو جاتا ہے۔ {” اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ “} (سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک) کا معنی تو یہ ہے کہ یہ تمام وقت مسلسل نماز قائم رکھو، مگر یہ اس لیے فرمایا کہ آدمی نماز پڑھ کر اگلی نماز کے انتظار میں ہو تو وہ نماز ہی میں مشغول شمار ہوتا ہے، گویا یہ تمام وقت نماز ہی میں گزرا۔ اس میں ہر وقت نماز کی طرف توجہ رکھنے کی ترغیب ہے۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوْا فِيْ صَلاَةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَةَ] [أبوداوٗد، الصلاۃ، باب وقت العشاء الآخرۃ: ۴۲۲۔ ترمذي: ۳۳۰] ”تم اس وقت تک نماز میں رہو گے جب تک نماز کا انتظار کرتے رہو گے۔“ پھر رات کی نیند کے وقفے کے بعد صبح کی نماز کا وقت ہے، اس لیے اسے الگ ذکر فرمایا۔ (نظم الدرر للبقاعی)
➌ {وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ: ” أَيْ وَأَقِمْ قُرْآنَ الْفَجْرِ “} یعنی فجر کی نماز قائم کر۔ یہاں نماز کو قرآن فرمایا، کیونکہ قرآن نماز کا اہم جز ہے اور یہاں جز بول کر کل مراد لیا ہے، جیسا کہ قیام یا {”رَكْعَةٌ“} یا {”سَجْدَةٌ“} سے پوری نماز مراد ہوتی ہے۔ یہاں نماز کو قرآن کہنے کی وجہ یہ ہے کہ صبح کی نماز میں قرآن زیادہ پڑھا جاتا ہے بہ نسبت دوسری نمازوں کے۔
➍ { اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا: ” مَشْهُوْدًا “} جس میں حاضر ہوا جائے، یعنی اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ [دیکھیے بخاری، الأذان، باب فضل صلاۃ الفجر في جماعۃ: ۶۴۸] یہ معنی بھی ہے کہ رات بھر کے آرام کے بعد طبیعت قرآن پڑھنے اورسننے کے لیے حاضر ہوتی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
78۔ 1 دلوک کے معنی زوال کے اور غسق کے معنی تاریکی کے ہیں۔ آفتاب کے ڈھلنے کے بعد، ظہر اور عصر کی نماز اور رات کی تاریکی تک مراد مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں اور قرآن الفجر سے مراد فجر کی نماز ہے۔ قرآن، نماز کے معنی میں ہے۔ اس کو قرآن سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ فجر میں قرأت لمبی ہوتی ہے۔ اس طرح اس آیت میں پانچوں فرض نمازوں کا اجمالی ذکر آجاتا ہے۔ جن کی تفیصلات احادیث میں ملتی ہیں اور جو امت کے لئے عملی تواتر سے بھی ثابت ہیں۔ 78۔ 2 یعنی اس وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں بلکہ دن کے فرشتوں اور رات کے فرشتوں کا اجتماع ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے (صحیح بخاری)، تفسیر بنی اسرائیل) ایک اور حدیث میں ہے کہ رات والے فرشتے جب اللہ کے پاس جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ خود خوب جانتا ہے تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ ' فرشتے کہتے ہیں ہم ان کے پاس گئے تھے، اس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم ان کے پاس سے آئے ہیں تو انھیں نماز پڑھتے ہوئے ہی چھوڑ کر آئے ہیں۔ البخاری ومسلم
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
78۔ آپ زوال آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے [96] تک نماز قائم کیجئے اور فجر کے وقت قرآن (پڑھنے کا التزام کیجئے) کیونکہ فجر کے وقت قرآن پڑھنا مشہود [97] ہوتا ہے۔
[96] پانچ نمازوں کا ذکر:۔
معراج کی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں۔ اس آیت میں ان نمازوں کے اوقات کا ذکر ہے۔ چار نمازیں یعنی ظہر، عصر، مغرب اور عشاء تو زوال آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک ہوئیں اور پانچویں نماز پو پھٹنے یا طلوع آفتاب سے پیشتر ہے۔ اس سے پہلی آیت میں کفار کی ایذا رسانیوں اور ان سے متعلق اللہ کے دستور کا ذکر تھا۔ یہاں نمازوں کا ذکر اس وجہ سے لایا گیا ہے اور مشکلات اور مصائب کے وقت صبر اور نماز سے ہی مدد طلب کرنے کا حکم ہے۔ نماز سے تعلق باللہ پیدا ہوتا ہے قلبی سکون حاصل ہوتا ہے۔ اور مشکلات کے سامنے سینہ سپر ہو جانے کی قوت پیدا ہوتی ہے ان پانچ نمازوں کے اوقات کا اس آیت میں مجملاً ذکر آیا ہے تفصیل کے لیے سورۃ نساء کی آیت نمبر 103 کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔
نمازوں کے اوقات کی تعیین میں مصلحت:۔
مشرکوں اور بت پرستوں کی اکثریت ایسی رہی ہے کہ جو سورج کو ایک بڑا طاقتور دیوتا تسلیم کرتی اور اس کی پوجا پاٹ کرتی رہی ہے۔ یہ لوگ بالخصوص تین اوقات میں پرستش کرتے تھے۔ سورج چڑھنے کے وقت سر پر آنے کے وقت اور غروب ہونے کے وقت۔ لہٰذا ان اوقات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی ادائیگی سے منع فرما دیا خواہ یہ نماز نوافل ہوں یا کسی نماز کی قضا ہو۔ علاوہ ازیں سورج کی پرستش۔ اس کے عروج کے اوقات میں کی جاتی رہی ہے یعنی دھوپ میں گرمی آنے سے لے کر نصف النہار تک۔ لہٰذا ان اوقات میں کوئی نماز نہیں رکھی گئی تاکہ ان سورج پرستوں سے اوقات میں بھی مشابہت نہ ہونے پائے۔ بلکہ ان اوقات میں نماز کی ادائیگی سے سختی سے روک دیا گیا۔
[97] فجر کی نماز کو قرآن الفجر کیوں کہا گیا:۔
قرآن الفجر سے مراد نماز فجر ہے۔ اہل عرب میں یہ دستور عام ہے کہ وہ کسی چیز کا جزو اشرف بول کر اس سے مراد کل لے لیتے ہیں۔ اسی دستور کے مطابق یہاں قرآن کا لفظ آیا ہے۔ کیونکہ کوئی نماز ایسی ہی نہیں جس کی ہر رکعت میں کم از کم سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جاتی ہو۔ اسی طرح قرآن میں نماز کے لیے کہیں صرف رکوع کا ذکر آیا ہے اور کہیں صرف سجود کا اور نماز فجر کے ساتھ بالخصوص قرآن کا ذکر اس لیے ہے کہ اس نماز میں قرآن کی قرأت دوسری نمازوں کی نسبت لمبی ہوتی ہے اور مشہود سے مراد یہ ہے کہ اس نماز کے دوران فرشتے بھی حاضر ہوتے اور قرآن سنتے ہیں جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے: سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”نماز با جماعت اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس گنا زیادہ فضیلت رکھتی ہے اور صبح کی نماز کے وقت رات اور دن کے فرشتے اکٹھے ہو جاتے ہیں“ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے کہ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: ﴿وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا﴾ [بخاري، كتاب التفسير نيز كتاب الاذان۔ باب فضل صلوة الفجر فى جماعة]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اوقات صلوۃ کی نشاندہی ٭٭
نمازوں کو وقتوں کی پابندی کے ساتھ ادا کرنے کا حکم ہو رہا ہے، «دُلُوكِ» سے مراد غروب ہے یا زوال ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ زوال کے قول کو پسند فرماتے ہیں اور اکثر مفسرین کا قول بھی یہی ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے ساتھ ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جنہیں آپ نے چاہا دعوت کی، کھانا کھاکر سورج ڈھل جانے کے بعد آپ میرے ہاں سے چلے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا، چلو یہی وقت «دُلُوكِ» شمس کا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22583:ضعیف]
پس پانچوں نمازوں کا وقت اس آیت میں بیان ہو گیا۔ «غَسَقِ» سے مراد اندھیرا ہے۔ جو کہتے ہیں کہ «دُلُوكِ» سے مراد غروب ہے، ان کے نزدیک ظہر عصر مغرب عشاء کا بیان تو اس میں ہے اور فجر کا بیان «وَقُرْآنَ الْفَجْرِ» میں ہے۔ حدیث سے بہ تواتر اقوال و افعال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچوں نمازوں کے اوقات ثابت ہیں اور مسلمان بحمد للہ اب تک اس پر ہیں، ہر پچھلے زمانے کے لوگ اگلے زمانے والوں سے برابر لیتے چلے آتے ہیں۔ جیسے کہ ان مسائل کے بیان کی جگہ اس کی تفصیل موجود ہے «والْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
پس پانچوں نمازوں کا وقت اس آیت میں بیان ہو گیا۔ «غَسَقِ» سے مراد اندھیرا ہے۔ جو کہتے ہیں کہ «دُلُوكِ» سے مراد غروب ہے، ان کے نزدیک ظہر عصر مغرب عشاء کا بیان تو اس میں ہے اور فجر کا بیان «وَقُرْآنَ الْفَجْرِ» میں ہے۔ حدیث سے بہ تواتر اقوال و افعال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچوں نمازوں کے اوقات ثابت ہیں اور مسلمان بحمد للہ اب تک اس پر ہیں، ہر پچھلے زمانے کے لوگ اگلے زمانے والوں سے برابر لیتے چلے آتے ہیں۔ جیسے کہ ان مسائل کے بیان کی جگہ اس کی تفصیل موجود ہے «والْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
{ صبح کی تلاوت قرآن پر دن اور رات کے فرشتے آتے ہیں۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3135،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحیح بخاری شریف میں ہے { تنہا شخص کی نماز پر جماعت کی نماز پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ صبح کی نماز کے وقت دن اور رات کے فرشتے اکٹھے ہوتے ہیں۔ اسے بیان فرما کر راوی حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم قرآن کی آیت کو پڑھ لو وقران الفجر الخ۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:648]
بخاری و مسلم میں ہے کہ { رات کے اور دن کے فرشتے تم میں برابر پے در پے آتے رہتے ہیں، صبح کی اور عصر کی نماز کے وقت ان کا اجتماع ہو جاتا ہے۔ تم میں جن فرشتوں نے رات گزاری وہ جب چڑھ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرماتا ہے، باوجود یہ کہ وہ ان سے زیادہ جاننے والا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم ان کے پاس پہنچے تو انہیں نماز میں پایا اور واپس آئے تو نماز میں چھوڑ کر آئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:555]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ چوکیدار فرشتے صبح کی نماز میں جمع ہوتے ہیں پھر یہ چڑھ جاتے ہیں اور وہ ٹھیر جاتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں { اللہ تعالیٰ کے نزول فرمانے اور اس ارشاد فرمانے کا ذکر کیا ہے کہ کوئی ہے؟ جو مجھ سے استغفار کرے اور میں اسے بخشوں۔ کوئی ہے؟ کہ مجھ سے سوال کرے اور میں اسے دوں۔ کوئی ہے؟ جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا کو قبول کروں۔ یہاں تک کہ صبح طلوع ہو جاتی ہے پس اس وقت پر اللہ تعالیٰ موجود ہوتا ہے اور رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22595:ضعیف]
صحیح بخاری شریف میں ہے { تنہا شخص کی نماز پر جماعت کی نماز پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ صبح کی نماز کے وقت دن اور رات کے فرشتے اکٹھے ہوتے ہیں۔ اسے بیان فرما کر راوی حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم قرآن کی آیت کو پڑھ لو وقران الفجر الخ۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:648]
بخاری و مسلم میں ہے کہ { رات کے اور دن کے فرشتے تم میں برابر پے در پے آتے رہتے ہیں، صبح کی اور عصر کی نماز کے وقت ان کا اجتماع ہو جاتا ہے۔ تم میں جن فرشتوں نے رات گزاری وہ جب چڑھ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرماتا ہے، باوجود یہ کہ وہ ان سے زیادہ جاننے والا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم ان کے پاس پہنچے تو انہیں نماز میں پایا اور واپس آئے تو نماز میں چھوڑ کر آئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:555]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ چوکیدار فرشتے صبح کی نماز میں جمع ہوتے ہیں پھر یہ چڑھ جاتے ہیں اور وہ ٹھیر جاتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں { اللہ تعالیٰ کے نزول فرمانے اور اس ارشاد فرمانے کا ذکر کیا ہے کہ کوئی ہے؟ جو مجھ سے استغفار کرے اور میں اسے بخشوں۔ کوئی ہے؟ کہ مجھ سے سوال کرے اور میں اسے دوں۔ کوئی ہے؟ جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا کو قبول کروں۔ یہاں تک کہ صبح طلوع ہو جاتی ہے پس اس وقت پر اللہ تعالیٰ موجود ہوتا ہے اور رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22595:ضعیف]
پھر اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تہجد کی نماز کا حکم فرماتا ہے، فرضوں کا تو حکم ہے ہی۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ فرض نماز کے بعد کون سی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا رات کی نماز۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1163]
تہجد کہتے ہیں نیند کے بعد کی نماز کو، لغت میں مفسرین کی تفسیروں میں اور حدیث میں یہ موجود ہے، آپ کی عادت بھی یہی تھی کہ سو کر اٹھتے پھر تہجد پڑھتے۔ جیسے کہ اپنی جگہ بیان موجود ہے۔ ہاں حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ جو نماز عشاء کے بعد ہو ممکن ہے کہ اس سے بھی مراد سو جانے کے بعد ہو۔ پھر فرمایا یہ زیادتی تیرے لیے ہے۔ بعض تو کہتے ہیں، تہجد کی نماز اوروں کے برخلاف صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھی۔
بعض کہتے ہیں یہ خصوصیت اس وجہ سے ہے کہ آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف تھے اور امتیوں کی اس نماز کے وجہ سے ان کے گناہ دور ہو جاتے ہیں۔ ہمارے اس حکم کی بجا آوری پر ہم تجھے اس جگہ کھڑا کریں گے کہ جہاں کھڑا ہونے پر تمام مخلوق آپ کی تعریفیں کرے گی اور خود خالق اکبر بھی۔ کہتے ہیں کہ مقام محمود پر قیامت کے دن آپ اپنی امت کی شفاعت کے لیے جائیں گے تاکہ اس دن کی گھبراہٹ سے آپ انہیں راحت دیں۔
تہجد کہتے ہیں نیند کے بعد کی نماز کو، لغت میں مفسرین کی تفسیروں میں اور حدیث میں یہ موجود ہے، آپ کی عادت بھی یہی تھی کہ سو کر اٹھتے پھر تہجد پڑھتے۔ جیسے کہ اپنی جگہ بیان موجود ہے۔ ہاں حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ جو نماز عشاء کے بعد ہو ممکن ہے کہ اس سے بھی مراد سو جانے کے بعد ہو۔ پھر فرمایا یہ زیادتی تیرے لیے ہے۔ بعض تو کہتے ہیں، تہجد کی نماز اوروں کے برخلاف صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھی۔
بعض کہتے ہیں یہ خصوصیت اس وجہ سے ہے کہ آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف تھے اور امتیوں کی اس نماز کے وجہ سے ان کے گناہ دور ہو جاتے ہیں۔ ہمارے اس حکم کی بجا آوری پر ہم تجھے اس جگہ کھڑا کریں گے کہ جہاں کھڑا ہونے پر تمام مخلوق آپ کی تعریفیں کرے گی اور خود خالق اکبر بھی۔ کہتے ہیں کہ مقام محمود پر قیامت کے دن آپ اپنی امت کی شفاعت کے لیے جائیں گے تاکہ اس دن کی گھبراہٹ سے آپ انہیں راحت دیں۔
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، لوگ ایک ہی میدان میں جمع کئے جائیں گے، پکارنے والا اپنی آواز انہیں سنائے گا، آنکھیں کھل جائیں گی، ننگے پاؤں ننگے بدن ہوں گے، جیسے کہ پیدا کئے گئے تھے، سب کھڑے ہوں گے، کوئی بھی بغیر اجازت الٰہی بات نہ کر سکے گا، آواز آئے گی، اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کہیں گے «لبیک وسعدیک» ۔
اے اللہ تمام بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے۔ برائی تیری جانب سے نہیں۔ راہ یافتہ وہی ہے جسے تو ہدایت بخشے، تیرا غلام تیرے سامنے موجود ہے، وہ تیری ہی مدد سے قائم ہے، وہ تیری ہی جانب جھکنے والا ہے۔ تیری پکڑ سے سوائے تیرے دربار کے اور کوئی پناہ نہیں، تو برکتوں اور بلندیوں والا ہے، اے رب البیت تو پاک ہے۔
اے اللہ تمام بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے۔ برائی تیری جانب سے نہیں۔ راہ یافتہ وہی ہے جسے تو ہدایت بخشے، تیرا غلام تیرے سامنے موجود ہے، وہ تیری ہی مدد سے قائم ہے، وہ تیری ہی جانب جھکنے والا ہے۔ تیری پکڑ سے سوائے تیرے دربار کے اور کوئی پناہ نہیں، تو برکتوں اور بلندیوں والا ہے، اے رب البیت تو پاک ہے۔