(آیت 75){ اِذًالَّاَذَقْنٰكَضِعْفَالْحَيٰوةِ …:} اس لیے کہ کسی کا مرتبہ جتنا بلند ہوتا ہے گناہ کرنے پر اسے اتنی ہی سخت سزا ملتی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے متعلق فرمایا: «يٰنِسَآءَالنَّبِيِّمَنْيَّاْتِمِنْكُنَّبِفَاحِشَةٍمُّبَيِّنَةٍيُّضٰعَفْلَهَاالْعَذَابُضِعْفَيْنِ» [الأحزاب:۳۰]”اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کھلی برائی کا ارتکاب کرے گی اسے دگنا عذاب دیا جائے گا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
75۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ سزا قدرو منزلت کے مطابق ہوتی ہے
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
75۔ اس صورت میں ہم آپ کو زندگی میں بھی دگنی سزا دیتے اور مرنے کے بعد بھی۔ پھر ہمارے مقابلہ میں آپ کوئی مددگار بھی نہ پاتے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔