ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 68

اَفَاَمِنۡتُمۡ اَنۡ یَّخۡسِفَ بِکُمۡ جَانِبَ الۡبَرِّ اَوۡ یُرۡسِلَ عَلَیۡکُمۡ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَکُمۡ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۶۸﴾
تو کیا تم بے خوف ہوگئے کہ وہ تمھیں خشکی کے کنارے دھنسا دے، یا تم پر کوئی پتھراؤ کرنے والی آندھی بھیج دے، پھر تم اپنے لیے کوئی کارساز نہ پاؤ۔ En
کیا تم (اس سے) بےخوف ہو کہ خدا تمہیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلادے۔ پھر تم اپنا کوئی نگہبان نہ پاؤ
En
تو کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ تمہیں خشکی کی طرف (لے جاکر زمین) میں دھنسا دے یا تم پر پتھروں کی آندھی بھیج دے۔ پھر تم اپنے لئے کسی نگہبان کو نہ پاسکو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 69،68){اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ …: خَسْفٌ } کا معنی زمین میں دھنسا دینا ہے۔ { جَانِبَ الْبَرِّ } خشکی کا کنارا، یہ اس لیے فرمایا کہ زمین میں پانی کا کنارا خشکی اور خشکی کا کنارا پانی ہے۔ { حَاصِبًا } سنگریزے اڑانے والی آندھی، یا وہ بادل جس سے اولے برسیں۔ { قَاصِفًا ضَرَبَ} سے اسم فاعل ہے، درختوں، کشتیوں اور ہر چیز کو توڑ دینے والی آندھی۔ {تَبِيْعًا } قرض یا انتقام کا مطالبہ کرنے والا جو پیچھا نہ چھوڑے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی نادانی اور کم عقلی بیان فرمائی ہے کہ تم جب خشکی پر پہنچ جاتے ہو تو اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت سے بے خوف ہو کر دوبارہ کفر و شرک میں مبتلا ہو جاتے ہو، کیا تمھیں اس بات کا کوئی خوف نہیں آ رہا کہ تمھیں اللہ تعالیٰ پانی میں ڈبو سکتا ہے تو خشک زمین میں بھی دھنسا سکتا ہے؟ اس کا حکم ہو تو پانی کی طرح زمین تمھیں نگل لے، یا وہ پتھر اڑا کر لانے والی تند و تیز آندھی بھیج کر تمھیں ہلاک کر دے، پھر تمھیں کوئی مددگار نہیں ملے گا۔ یا تمھیں یہ بھی خوف نہیں رہا کہ تمھیں اللہ کی طرف سے پھر کبھی سمندری سفر پیش آ جائے اور وہ تمھاری ناشکری کی سزا کے لیے ہر چیز کو توڑ دینے والی طوفانی ہوا کے ذریعے سے تمھیں غرق کر دے؟ پھر تمھیں کوئی ایسی ہستی نہیں ملے گی جو اللہ تعالیٰ سے انتقام کا مطالبہ اور پیچھا کرے۔ معلوم ہوا کہ انسان کو کسی آزمائش سے نجات کے بعد دوبارہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر اور دوبارہ گرفت سے بے پروا ہر گز نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ سراسر خسارے کی بات ہے، جیسا کہ فرمایا: «اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ» [الأعراف: ۹۹] پھر کیا وہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہو گئے ہیں، تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ ان آیات میں مذکور معنی اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر واضح فرمایا ہے، دیکھیے سبا (۹)، انعام (۶۵) اور سورۂ ملک (۱۶، ۱۷) { ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهٖ تَبِيْعًا } کی ہم معنی آیت سورۂ شمس (۱۴، ۱۵) میں دیکھیے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

68۔ 1 یعنی سمندر سے نکلنے کے بعد تم جو اللہ کو بھول جاتے ہو تو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ وہ خشکی میں بھی تمہاری گرفت کرسکتا ہے، تمہیں وہ زمین میں دھنسا سکتا ہے یا پتھروں کی بارش کر کے تمہیں ہلاک کرسکتا ہے، جس طرح بعض گزشتہ قوموں کو اس نے اس طرح ہلاک کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

68۔ کیا تم اس بات سے بے خوف ہو گئے ہو کہ وہ تمہیں خشکی پر ہی (زمین میں) دھنسا دے یا تم پر (ایسی آندھی) بھیج دے جس میں پتھر ہوں۔ پھر تمہیں اپنے لئے کوئی کارساز بھی نہ ملے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اظہار قدرت و اختیار ٭٭
رب العالمین لوگوں کو ڈرا رہا ہے کہ جو تری میں تمہیں ڈبو سکتا تھا، وہ خشکی میں دھنسانے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ پھر وہاں تو صرف اسی کو پکارنا اور یہاں اس کے ساتھ اوروں کو شریک کرنا یہ کس قدر ناانصافی ہے؟ «وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ» ۱؎ [11-هود:82]‏‏‏‏ ’ وہ تو تم پر پتھروں کی بارش بھی برسا کر ہلاک کر سکتا ہے ‘
جیسے لوطیوں پر ہوئی تھی، جس کا بیان خود قرآن میں کئی جگہ ہے۔ سورۂ تبارک میں فرمایا کہ «‏‏‏‏أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ * أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ» ۱؎ [67-الملك:16-17]‏‏‏‏ ’ کیا تمہیں اس اللہ کا ڈر نہیں جو آسمانوں میں ہے کہ کہیں وہ تمہیں زمین میں نہ دھنسا دے کہ یکایک زمین جنبش کرنے لگے۔ ‘
کیا تمہیں آسمانوں والے اللہ کا خوف نہیں کہ کہیں وہ تم پر پتھر نہ برسا دے؟ پھر جان لو کہ ڈرانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس وقت تم نہ اپنا مددگار پاؤ گے، نہ دستگیر، نہ وکیل، نہ کار ساز، نہ نگہبان، نہ پاسبان۔