تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس وقت کشتی میں جتنے کفار تھے، سب ایک دوسرے سے کہنے لگے اس وقت سواۓ اللہ تعالیٰ کے اور کوئی کچھ کام نہیں آنے گا۔ اسی کو پکارو۔ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کے دل میں اسی وقت خیال آیا کہ جب تری میں صرف وہی کام کر سکتا ہے تو ظاہر ہے کہ خشکی میں بھی وہی کام آ سکتا ہے۔ اے اللہ میں نذر مانتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے اس آفت سے بچا لیا تو میں سیدھا جا کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دے دوں گا اور یقیناً وہ مجھ پر مہربانی اور رحم و کرم فرمائیں گے۔
چنانچہ سمندر سے پار ہوتے ہی وہ سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا، پھر تو اسلام کے پہلوان ثابت ہوئے۔ پس فرماتا ہے کہ سمندر کی اس مصیبت کے وقت تو اللہ کے سوا سب کو بھول جاتے ہو لیکن پھر اس کے ہٹتے ہی اللہ کی توحید ہٹا دیتے ہو اور دوسروں سے التجائیں کرنے لگتے ہو۔ انسان ہے ہی ایسا ناشکرا کہ نعمتوں کو بھلا بیٹھتا ہے بلکہ منکر ہو جاتا ہے ہاں جسے اللہ بچا لے اور توفیق خیر دے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن رحمته الدالَّة على أنَّه وحده المعبود دون ما سواه أنَّهم إذا مسَّهم الضُّرُّ في البحر، فخافوا من الهلاك لتراكُم الأمواج؛ ضلَّ عنهم ما كانوا يدعون من دون الله في حال الرَّخاء من الأحياء والأموات، فكأنُّهم لم يكونوا يدعونهم في وقتٍ من الأوقات؛ لعلمهم أنَّهم ضعفاء عاجزون عن كشف الضُّرِّ، وصرخوا بدعوة فاطر الأرض والسماوات، الذي تستغيث به في شدائدها جميعُ المخلوقات، وأخلصوا له الدعاء والتضرُّع في هذه الحال، فلما كَشَفَ الله عنهم الضُّرَّ ونجَّاهم إلى البَرِّ؛ نسوا ما كانوا يدعون إليه من قبل، وأشركوا به مَنْ لا ينفع ولا يضرُّ ولا يعطي ولا يمنع، وأعرضوا عن الإخلاص لربِّهم ومليكهم.
وهذا من جهل الإنسان وكفرِهِ؛ فإنَّ الإنسان كفورٌ للنِّعم؛ إلاَّ مَن هدى الله فمنَّ عليه بالعقل السليم واهتدى إلى الصراط المستقيم؛ فإنَّه يعلم أنَّ الذي يكشف الشدائد، وينجِّي من الأهوال هو الذي يستحقُّ أن يُفْرَدَ، وتُخْلَصَ له سائر الأعمال في الشدَّة والرَّخاء واليُسر والعُسر، وأما من خُذِلَ ووُكِلَ إلى عقله الضعيف؛ فإنَّه لم يلحَظْ وقت الشدَّة إلاَّ مصلحته الحاضرة وإنجاءه في كلِّ تلك الحال، فلما حصلتْ له النجاةُ وزالت عنه المشقَّة؛ ظنَّ بجهله أنَّه قد أعجز الله، ولم يَخْطُرْ بقلبه شيء من العواقب الدنيويَّة فضلاً عن أمور الآخرة.