ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 67

وَ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الۡبَحۡرِ ضَلَّ مَنۡ تَدۡعُوۡنَ اِلَّاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىکُمۡ اِلَی الۡبَرِّ اَعۡرَضۡتُمۡ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ کَفُوۡرًا ﴿۶۷﴾
اور جب تمھیں سمندر میں تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے سوا تم جنھیں پکارتے ہو گم ہوجاتے ہیں، پھر جب وہ تمھیں بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہمیشہ سے بہت ناشکرا ہے۔ En
اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے) تو جن کو تم پکارا کرتے ہو سب اس (پروردگار) کے سوا گم ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو (ڈوبنے سے) بچا کر خشکی پر لے جاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی ناشکرا
En
اور سمندروں میں مصیبت پہنچتے ہی جنہیں تم پکارتے تھے سب گم ہوجاتے ہیں صرف وہی اللہ باقی ره جاتا ہے۔ پھر جب وه تمہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو تم منھ پھیر لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 67) { وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ …:} زمانۂ جاہلیت اور زمانۂ نبوت کے کفار کی بت پرستی کے باوجود ان کی فطرت میں رکھی گئی توحید کا ذکر بطور دلیل ہو رہا ہے کہ جب سمندر میں طوفان آتا ہے تو پہاڑوں جیسی موجوں میں جہاز گھر جاتا ہے اور موت صاف نظر آنے لگتی ہے تو تم اپنے تمام خداؤں، داتاؤں، مشکل کشاؤں اور حاجت رواؤں کو بھول کر اپنی فطرت میں رکھی ہوئی توحید کی وجہ سے صرف ایک اللہ کو پکارتے ہو، پھر جب وہ تمھیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہو، جیسے اپنے رب سے تمھاری کوئی آشنائی ہی نہ تھی اور پھر اپنے خود ساختہ خداؤں کو پکارنے لگتے ہو اور انھی کا احسان ماننے لگتے ہو۔ کس قدر احسان ناشناسی اور ناشکری ہے اور حقیقت یہ ہے کہ مشرک انسان ہمیشہ سے بے حد ناشکرا رہا ہے۔ { الْاِنْسَانُ } میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے اس سے مراد کفار ہیں، کیونکہ مومن شکر گزار ہوتے ہیں، اگرچہ ان کی تعداد کم ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ قَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ» ‏‏‏‏ [سبا: ۱۳] اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے پورے شکر گزار ہیں۔ کفار کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر ذکر فرمایا ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۲۲، ۲۳)، عنکبوت (۶۵)، لقمان (۳۲) اور زمر (۸) یہ تو زمانۂ جاہلیت کے ان لوگوں کا حال تھا جو مشرک تھے اور اللہ اور رسول نے انھیں مشرک قرار دیا، حالانکہ وہ سخت مصیبت میں صرف اللہ کو پکارتے تھے، مگر ہمارے زمانے کے بعض مسلمان کہلانے والوں کا کمال یہ ہے کہ وہ سخت سے سخت مصیبت میں بھی اللہ کے ساتھ یا اللہ کے علاوہ دوسروں کو مدد کے لیے پکارنا نہیں بھولتے، پھر بھی نہ ان کی توحید میں کوئی خلل آتا ہے، نہ اسلام کا کچھ بگڑتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

67۔ 1 یہ مضموں پہلے بھی کئی جگہ گزر چکا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

67۔ اور جب سمندر میں تمہیں کوئی مصیبت آتی ہے تو اللہ کے سوا جس جس کو تم پکارا کرتے ہو وہ تمہیں بھول جاتے ہیں۔ پھر جب وہ تمہیں نجات [86] دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو تم (اس سے) منہ پھیر لیتے ہو۔ اور انسان تو ہے ہی ناشکرا۔
[86] گرداب میں صرف اللہ کو پکارنا:۔
شیطانی اغوا کی کیفیت بیان کرنے کے بعد پھر سے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید پر دلائل ذکر کیے جا رہے ہیں۔ مشرکین مکہ کی عادت تھی کہ جب ان کی کشتی گرداب میں پھنس جاتی یا سمندر کے طوفانی تھپیڑے کشتی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے اور کشتی والوں کو سب ظاہری اسباب ختم ہوتے نظر آنے لگتے تو اس وقت وہ صرف ایک اللہ کو پکارتے اور اپنے دوسرے سب معبودوں کو بھول جاتے تھے۔ اسی فطری داعیہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور مختار کل ہونے کے ثبوت پر پیش فرمایا ہے اور باقی معبودوں کی تردید کی ہے مگر آج کا مشرک اس دور کے مشرکوں سے اپنے شرک میں پختہ تر نظر آتا ہے وہ اس آڑے وقت میں بھی ”یا بہاول الحق، بیڑا بنے دھک“ (یعنی اے بہاول الحق! یہ کشتی پار لگا دو) کا نعرہ لگاتا ہے۔ ﴿قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ اَنّيٰ يُؤْفَكُوْنَ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سورۃ یونس کے حاشیہ نمبر 34 میں ملاحظہ فرمائیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مصیبت ختم ہوتے ہی شرک ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ بندے مصیبت کے وقت تو خلوص کے ساتھ اپنے پروردگار کی طرف جھکتے ہیں اور اس سے دلی دعائیں کرنے لگتے ہیں اور جہاں وہ مصیبت اللہ تعالیٰ نے ٹال دی تو یہ آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ فتح مکہ کے وقت جب کہ ابوجہل کے لڑکے سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ حبشہ جانے کے ارادے سے بھاگے اور کشتی میں بیٹھ کر چلے، اتفاقاً کشتی طوفان میں پھنس گئی، باد مخالف کے جھونکے اسے پتے کی طرح ہلانے لگے۔
اس وقت کشتی میں جتنے کفار تھے، سب ایک دوسرے سے کہنے لگے اس وقت سواۓ اللہ تعالیٰ کے اور کوئی کچھ کام نہیں آنے گا۔ اسی کو پکارو۔ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کے دل میں اسی وقت خیال آیا کہ جب تری میں صرف وہی کام کر سکتا ہے تو ظاہر ہے کہ خشکی میں بھی وہی کام آ سکتا ہے۔ اے اللہ میں نذر مانتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے اس آفت سے بچا لیا تو میں سیدھا جا کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دے دوں گا اور یقیناً وہ مجھ پر مہربانی اور رحم و کرم فرمائیں گے۔
چنانچہ سمندر سے پار ہوتے ہی وہ سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا، پھر تو اسلام کے پہلوان ثابت ہوئے۔ پس فرماتا ہے کہ سمندر کی اس مصیبت کے وقت تو اللہ کے سوا سب کو بھول جاتے ہو لیکن پھر اس کے ہٹتے ہی اللہ کی توحید ہٹا دیتے ہو اور دوسروں سے التجائیں کرنے لگتے ہو۔ انسان ہے ہی ایسا ناشکرا کہ نعمتوں کو بھلا بیٹھتا ہے بلکہ منکر ہو جاتا ہے ہاں جسے اللہ بچا لے اور توفیق خیر دے۔