(آیت 65){ اِنَّعِبَادِيْلَيْسَلَكَعَلَيْهِمْسُلْطٰنٌ …:} اللہ تعالیٰ نے اس سلسلۂ کلام کو سچے ایمان والوں کے اطمینان کے لیے اس بات پر ختم کیا کہ میرے خاص بندوں پر تو غالب نہیں آ سکے گا، کیونکہ انھوں نے اپنا سب کچھ اپنے رب کے سپرد کر دیا ہے اور رب تعالیٰ بہت کافی وکیل ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ حجر (۴۲، ۴۳) اور سورۂ نحل(۹۸ تا ۱۰۰)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
65۔ 1 بندوں کی نسبت اپنی طرف کی، بطور شرف اور اعزاز کے ہے، جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے خاص بندوں کو شیطان بہکانے میں ناکام رہتا ہے۔ 65۔ 2 یعنی جو صحیح معنوں میں اللہ کا بندہ بن جاتا ہے، اسی پر اعتماد اور توکل کرتا ہے تو اللہ بھی اس کا دوست اور کار ساز بن جاتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
65۔ جو میرے بندے ہیں ان پر قطعاً تیرا بس [84] نہیں چلے گا۔ اور (اے نبی! آپ کے لئے) آپ کے پروردگار کا کارساز [85] ہونا کافی ہے۔
[84] شیطان کا داؤ کن پر چلتا ہے؟
شیطان کا داؤ صرف ان لوگوں پر چلتا ہے جو ضعیف الاعتقاد اور پہلے ہی شیطانی عمل پر لیبک کہنے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں اور جن کے لیے حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کے کئی دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ ایک دروازے سے مقصد حل نہ ہو تو دوسرے دروازے پر چلے جاتے ہیں اور ان میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو محض ظاہری اسباب پر تکیہ کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگ فوراً شیطان کی چالوں میں پھنس جاتے ہیں۔ مگر جو لوگ صرف ایک اللہ پر نظر رکھتے اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں ان پر شیطان کا داؤ کارگر نہیں ہو سکتا۔ [85] یعنی جو لوگ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں تو اللہ بھی ان کے کام ایسے حیرت انگیز طریقوں سے سنوارتا اور سیدھے کر دیتا ہے جن کا انسان کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ بلکہ انسان خود بھی اللہ کی ایسی غیبی امداد پر حیران رہ جاتا ہے اور از راہ تشکر اللہ سے اس کی محبت اور اس پر بھروسہ پہلے سے بڑھ جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔