ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 61

وَ اِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ قَالَ ءَاَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِیۡنًا ﴿ۚ۶۱﴾
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، اس نے کہا کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تونے مٹی سے پیدا کیا۔ En
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ بولا کہ بھلا میں ایسے شخص کو سجدہ کرو جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے
En
جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجده کرو تو ابلیس کے سوا سب نے کیا، اس نے کہا کہ کیا میں اسے سجده کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 61) ➊ { وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ …:} مہائمی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس آیت میں اشارہ ہے کہ گزشتہ آیت میں مذکور کفار کی سرکشی کی اصل وجہ شیطان کی پیروی ہے، کیونکہ وہ بھی تکبر اور سرکشی ہی کی وجہ سے راندۂ درگاہ ہوا تھا، اس لیے آگے اس کے آدم علیہ السلام کو بہکانے کا ذکر فرمایا۔
➋ {فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِيْسَ …:} اس سجدے کی حقیقت اور ابلیس کے بہتر ہونے کے دعوے کے متعلق دیکھیے سورۂ بقرہ (۳۴)، سورۂ اعراف (۱۱) اور اس کے بعد کی آیات۔ { طِيْنًا } اصل میں{ مِنْ طِيْنٍ} تھا،{ مِنْ } حذف ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

61۔ اور (یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ: ”آدم کو سجدہ کرو“ تو ابلیس کے سوا سب فرشتوں نے اسے سجدہ کیا۔ کہنے لگا: کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ابلیس کی قدیمی دشمنی ٭٭
ابلیس کی قدیمی عداوت سے انسان کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام کا کھلا دشمن تھا، اس کی اولاد برابر اسی طرح تمہاری دشمن ہے، سجدے کا حکم سن کر سب فرشتوں نے تو سر جھکا دیا لیکن اس نے تکبر جتایا، اسے حقیر سمجھا اور صاف انکار کر دیا کہ ناممکن ہے کہ میرا سر کسی مٹی سے بنے ہوئے کے سامنے جھکے، «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» ۱؎ [7-الأعراف:12]‏‏‏‏ ’ میں اس سے کہیں افضل ہوں، میں آگ ہوں یہ خاک ہے۔ ‘
پھر اس کی ڈھٹائی دیکھیئے کہ اللہ جل و علی کے دربار میں گستاخانہ لہجے سے کہتا ہے کہ اچھا اسے اگر تو نے مجھ پر فضیلت دی تو کیا ہوا میں بھی اس کی اولاد کو برباد کر کے ہی چھوڑوں گا، سب کو اپنا تابعدار بنا لوں گا اور بہکا دوں گا، بس تھوڑے سے میرے پھندے سے چھوٹ جائیں گے، باقی سب کو غارت کر دوں گا۔