ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 54

رَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِکُمۡ ؕ اِنۡ یَّشَاۡ یَرۡحَمۡکُمۡ اَوۡ اِنۡ یَّشَاۡ یُعَذِّبۡکُمۡ ؕ وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ وَکِیۡلًا ﴿۵۴﴾
تمھارا رب تمھیں زیادہ جاننے والا ہے، اگر وہ چاہے تو تم پر رحم کرے، یا اگر چاہے تو تمھیں عذاب دے اور ہم نے تجھے ان پر کوئی ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔ En
تمہارا پروردگار تم سے خوب واقف ہے۔ اگر چاہے تو تم پر رحم کرے یا اگر چاہے تو تمہیں عذاب دے۔ اور ہم نے تم کو ان پر داروغہ (بنا کر) نہیں بھیجا
En
تمہارا رب تم سے بہ نسبت تمہارے بہت زیاده جاننے واﻻ ہے، وه اگر چاہے تو تم پر رحم کردے یا اگر وه چاہے تمہیں عذاب دے۔ ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار ٹھہرا کر نہیں بھیجا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 54) ➊ {رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ…:} یعنی اللہ تعالیٰ کو تمھارے متعلق علم اس سے بھی کہیں زیادہ ہے جتنا خود تمھیں اپنے متعلق ہے، اب اگر وہ چاہے تو تمھاری نامناسب باتوں اور کاموں کے باوجود اپنے فضل سے تم پر رحم فرمائے، چاہے تو تمھارے گناہوں کی پاداش میں اپنے عدل کی بنا پر عذاب دے۔ وہ ہر چیز کا مالک ہے، اپنی ملکیت کے ساتھ جو چاہے کرے، نہ اس میں کوئی ظلم ہے اور نہ کسی کو اس سے پوچھنے کی جرأت ہے۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۲۳)۔
➋ { وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا: وَكِيْلًا } بمعنی {اَلْمَوْكُوْلُ إِلَيْهِ} ہے، یعنی جس کے سپرد کیا جائے، ذمہ دار بنایا جائے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہ لائیں تو آپ سے کوئی باز پرس نہیں، نہ آپ ان کے ذمہ دارہیں، آپ کا کام پیغام پہنچانا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

54۔ 1 اگر خطاب مشرکین سے ہو تو رحم کے معنی قبول اسلام کی توفیق کے ہونگے اور عذاب سے مراد شرک پر ہی موت ہے، جس پر وہ عذاب کے مستحق ہوں گے۔ اور اگر خطاب مومنین سے ہو تو رحم کے معنی ہوں گے کہ وہ کفار سے تمہاری حفاظت فرمائے گا اور عذاب کا مطلب ہے کفار کا مسلمانوں پر غلبہ و تسلط۔ 54۔ 2 کہ آپ انھیں ضرور کفر کی دلدل سے نکالیں یا ان کے کفر پر جمے رہنے پر آپ سے باز پرس ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

54۔ تمہارا پروردگار تمہارے حال سے خوب واقف ہے۔ وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور چاہے تو عذاب [66] دے۔ اور (اے نبی) ہم نے آپ کو ان کا وکیل بنا کر نہیں بھیجا۔
[66] کوئی شخص کسی کو نجات اخروی کی ضمانت نہیں دے سکتا:۔
ہم یوں تو کہہ سکتے ہیں جو اللہ کے فرمانبردار ہیں وہ جنت میں اور نافرمان دوزخ میں جائیں گے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں (معین) شخص جنت میں یا دوزخ میں جائے گا۔ نہ ہی اپنے متعلق کوئی شخص ایسا دعویٰ کر سکتا ہے اور نہ کوئی فرقہ یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ ضرور جنت میں جائے گا۔ اس لیے کہ ہر ایک کی حقیقت حال اور اس کا انجام صرف اللہ ہی کو معلوم ہے حتیٰ کہ نبی آخر الزمان بھی کسی کی ہدایت اور اخروی نجات کے ضامن نہیں ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ سیدنا خارجہ بن زید بن ثابت کہتے ہیں کہ ام العلاء ایک انصاری عورت تھی جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ مہاجرین قرعہ سے ہم انصار کو بانٹ دیئے گئے۔ ہمارے حصہ میں عثمان بن مظعونؓ آئے۔ ہم نے انھیں اپنے گھروں میں اتارا۔ پھر وہ ایسی بیماری میں مبتلا ہوئے جن میں ان کی وفات ہو گئی۔ جب انھیں غسل دیا اور کفن پہنایا گیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا ”اے ابو السائب (یہ عثمان بن مظعونؓ کی کنیت تھی) اللہ تم پر رحم کرے۔ میں یہ گواہی دیتی ہوں کہ اللہ نے تم کو عزت دی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا ” (ام العلاء) تجھے کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے اسے عزت دی؟“ میں نے کہا ”یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ آپ پر قربان ہو، پھر اللہ کس کو عزت دے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عثمان فوت ہو گیا اور اللہ کی قسم! میں اس کے حق میں بھلائی کی امید رکھتا ہوں اور اللہ کی قسم! میں حتمی طور پر یہ نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ ہو گا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں “ام العلاء کہنے لگیں کہ اللہ کی قسم! اس کے بعد میں کبھی کسی کی بزرگی بیان نہیں کروں گی۔ [بخاری، کتاب الجنائز، باب الدخول علی المیت بعد الموت]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

افضل الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام ٭٭
تمہارا رب تم سے بخوبی واقف ہے وہ ہدایت کے مستحق لوگوں کو بخوبی جانتا ہے۔ وہ جس پر چاہتا ہے رحم کرتا ہے، اپنی اطاعت کی توفیق دیتا ہے اور اپنی جانب جھکا لیتا ہے۔ اسی طرح جسے چاہے بداعمالی پر پکڑ لیتا ہے اور سزا دیتا ہے۔ ہم نے تجھے ان کا ذمہ دار نہیں بنایا تیرا کام ہوشیار کر دینا ہے تیری ماننے والے جنتی ہوں گے اور نہ ماننے والے دوزخی بنیں گے۔
زمین و آسمان کے تمام انسان جنات فرشتوں کا اسے علم ہے، ہر ایک کے مراتب کا اسے علم ہے، «تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّـهُ ۖ» ۱؎ [2-البقرة:253]‏‏‏‏ ’ ایک کو ایک پر فضیلت ہے، نبیوں میں بھی درجے ہیں، کوئی کلیم اللہ ہے، کوئی بلند درجہ ہے۔ ‘
ایک حدیث میں ہے کہ { نبیوں میں فضیلتیں قائم نہ کیا کرو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3414]‏‏‏‏
اس سے مطلب صرف تعصب اور نفس پرستی سے اپنے طور پر فضیلت قائم کرنا ہے نہ یہ کہ قرآن و حدیث سے ثابت شدہ فضیلت سے بھی انکار۔ جو فضیلت جس نبی کی از روئے دلیل ثابت ہو جائے گی اس کا ماننا واجب ہے۔
مانی ہوئی بات ہے کہ تمام انبیاء سے رسول افضل ہیں اور رسولوں میں پانچ اولو العزم رسول سب سے افضل ہیں جن کا نام سورۃ الاحزاب کی آیت میں ہے «وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ» [33-الأحزاب:7]‏‏‏‏ ’ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام۔ ‘
سورۃ شوریٰ کی آیت «شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهٖٓ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰٓى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ ۭ كَبُرَ عَلَي الْمُشْرِكِيْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَيْهِ ۭ اَللّٰهُ يَجْتَبِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يُّنِيْبُ» ۱؎ [42-الشورى:13]‏‏‏‏ میں بھی ان پانچوں کے نام موجود ہیں۔
جس طرح یہ سب چیزیں ساری امت مانتی ہے، اسی طرح بغیر اختلاف کے یہ بھی ثابت ہے کہ ان میں بھی سب سے افضل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پھر ابراہیم علیہ السلام، پھر موسیٰ علیہ السلام جیسا کہ مشہور ہے، ہم نے اس کے دلائل دوسری جگہ تفصیل سے بیان کئے ہیں «واللہ الموفق» ۔
پھر فرماتا ہے ہم نے داؤد پیغمبر علیہ السلام کو زبور دی۔ یہ بھی ان کی فضیلت اور شرف کی دلیل ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں داؤد علیہ السلام پر قرآن اتنا آسان کر دیا گیا تھا کہ جانور پر زین کسی جائے اتنی سی دیر میں آپ قرآن پڑھ لیا کرتے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3417]‏‏‏‏